Image

Self Reminder

Image may contain: text

Advertisements

انسان۔۔۔ قرآن کے آئینے میں

No automatic alt text available.

انسان ۔۔۔ قرآن کے آئینے میں ۔۔۔ تحریر: ندرت کار

دسویں صفت: وسوسے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿قُل أَعوذُ بِرَ‌بِّ النّاسِ ١ مَلِكِ النّاسِ ٢ إِلـٰهِ النّاسِ ٣ مِن شَرِّ‌ الوَسواسِ الخَنّاسِ ٤ الَّذى يُوَسوِسُ فى صُدورِ‌ النّاسِ ٥ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ ٦ ﴾… سورة الناس

“آپ کہہ دیجئے کہ میں لوگوں کے ربّ کی پناہ میں آتا ہوں ، لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی (پناہ میں ) وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کی برائی سے جو لوگوں کے سینوں (دلوں ) میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جو جنوں میں سے ہے اور انسانوں میں سے”

اور اس کا ارشاد ہے:
﴿وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسـٰنَ وَنَعلَمُ ما تُوَسوِسُ بِهِ نَفسُهُ ۖ وَنَحنُ أَقرَ‌بُ إِلَيهِ مِن حَبلِ الوَر‌يدِ ١٦ ﴾… سورة ق
“اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو وسوسہ تک اس کے دل میں گزرتا ہے ہم اسے بھی خوب جانتے ہیں اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الشيطان جاثم علی قلب ابن ادم فإذا ذکر الله تعالیٰ خنس وإذا غفل وسوس»
“شیطان ابن آدم کے دل پر بیٹھا رہتا ہے۔ جب وہ اللہ کاذکر کرتا ہے تو وہ (شیطان) پیچھے ہٹ جاتاہے اور جب (یادِالٰہی سے) غافل ہوجاتاہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے”

شیطانِ لعین چھپ کر اور پوشیدہ طور پر وسوسہ ڈالتا ہے اوریہ معرکہ انسان اور شیطان کے درمیان برابر جاری ہے اوریہ معرکہ آدم اور ابلیس کے درمیان، پہلے اس وقت ہوا جب اس نے ان کے اور ان کی بیوی کے دل میں وسوسہ پیدا کیا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَوَسوَسَ لَهُمَا الشَّيطـٰنُ لِيُبدِىَ لَهُما ما وۥرِ‌ىَ عَنهُما مِن سَوء‌ٰتِهِما وَقالَ ما نَهىٰكُما رَ‌بُّكُما عَن هـٰذِهِ الشَّجَرَ‌ةِ إِلّا أَن تَكونا مَلَكَينِ أَو تَكونا مِنَ الخـٰلِدينَ ٢٠ ﴾… سورة الاعراف

“اور شیطان نے دونوں کو وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی پوشیدہ شرمگاہیں ان کے لئے ظاہر کردے اور کہا کہ تمہیں تمہارے ربّ نے اس درخت سے اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہوجاؤ یا (جنت میں ) ہمیشہ کے نہ ہوجاؤ”

یہ وسوسہ جس طر ح شیاطین و جنات کی طرف سے ہوتا ہے ایسے ہی ان انسانوں کی طرف سے بھی ہوتا ہے جو برے اور شریر ساتھی ہوتے ہیں اور یہ شیطان کے وسوسے سے سخت ہوتا ہے۔ ان میں چغل خور، عیب جو، شرپسند، فساد پرور، بدعات اور نفسانیت کے پرستار شامل ہیں ۔ یہ ایک دوسرے کو خوشنما اور پرفریب باتوں کی تلقین کرتے رہتے ہیں ۔ یہ معرکہ شیاطین اور صالحین و موٴمنین کے درمیان برابر جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِنَّ الشَّيـٰطينَ لَيوحونَ إِلىٰ أَولِيائِهِم لِيُجـٰدِلوكُم ۖ وَإِن أَطَعتُموهُم إِنَّكُم لَمُشرِ‌كونَ ١٢١ ﴾… سورة الانعام

“بے شک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وسوسہ ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو یقینا تم مشرک ہوگے”

شیطان انسان کو دھوکہ دینے کے لئے ان کے سامنے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں سے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ثُمَّ لَءاتِيَنَّهُم مِن بَينِ أَيديهِم وَمِن خَلفِهِم وَعَن أَيمـٰنِهِم وَعَن شَمائِلِهِم ۖ وَلا تَجِدُ أَكثَرَ‌هُم شـٰكِر‌ينَ ١٧ ﴾… سورة الاعراف
“پھر میں ان کے پاس ان کے سامنے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے زیادہ تر کو شکرگزار نہیں پائے گا”

لیکن ان کا غلبہ اور اقتدار انہی پر ہوتا ہے جو اس کی اطاعت کرتے اور اسے دوست بناتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّهُ لَيسَ لَهُ سُلطـٰنٌ عَلَى الَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ٩٩ إِنَّما سُلطـٰنُهُ عَلَى الَّذينَ يَتَوَلَّونَهُ وَالَّذينَ هُم بِهِ مُشرِ‌كونَ ١٠٠ ﴾… سورة النحل
“بے شک ان لوگوں پر اس (شیطان) کا کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور اپنے ربّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اس کا قابو تو انہی پر ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور جو اس (اللہ) کے ساتھ شرک کرتے ہیں “

اللہ تعالیٰ انسان کے نفس کے وسوسے کو بھی جانتا ہے اور اس پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔ وہ پوشیدہ و ظاہر کو یکساں جانتا ہے۔ لہٰذا انسان کو شیاطین کے وسوسے سے ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ اس کے جال اور پھندے ہیں جس سے وہ اس کو شکار کر لیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔
موٴمن کو چاہئے کہ اس کے وسوسے اور اس کی انگیخت سے پناہ مانگتا رہے کیونکہ شیطان کمزور اور چور ہے اور وہ لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ان کے پاس سے فرار ہوجاتا ہے۔ وہ ان سے دوررہتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ
“شیطان حضرت عمر بن خطاب کے نزدیک نہیں جاتا اور اگر وہ کسی وادی میں چل رہے ہوتے ہیں تو شیطان دوسری وادی کی راہ اختیار کرلیتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ کے ذکر سے غافل رہتا ہے، شیطان اس کے نزدیک ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ رہتا ہے” …
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ‌ الرَّ‌حمـٰنِ نُقَيِّض لَهُ شَيطـٰنًا فَهُوَ لَهُ قَر‌ينٌ ٣٦ وَإِنَّهُم لَيَصُدّونَهُم عَنِ السَّبيلِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ ٣٧ ﴾… سورة الزخرف
“اور جو اللہ کی یاد سے غافل ہوجائے، ہم اس کے لئے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور وہ اسے (سیدھے) راستے سے روکتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت یافتہ ہیں “