Reality

Advertisements

آج کی بات ۔۔۔۔ 19 جنوری 2018

~!~ آج کی بات ~!~
 جیسے جیسے زندگی گزرتی ہے ، زندگی گزارنے کا شعور آتا جاتا ہےتو زندگی کی کوالٹی بہتر ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو رہے ہوتے ہیں ۔
 لیکن اگر زندگی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعور نہ آ رہا ہو تو اس کا یقینی مطلب ہے کہ زندگی رکی ہوئی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لیے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔
اقتباس از قاسم علی شاہ

via Blogger http://ift.tt/2EWWBL7

معاشرے کا اعتبار

Image may contain: text

معاشرے کا اعتبار ختم نہ کیجیے
Abu yahya
 
سوشل میڈیا کو سماج کا عکس کہا جاسکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے برعکس اس میں ابلاغ کا عمل عام آدمی کررہا ہوتا ہے۔چاہے وہ فیس بک وغیرہ پر کوئی پوسٹ لکھے یا پھر لائک یا تبصرہ کے ذریعے سے اپنے خیالات کا اظہار کرے۔یہی معاملہ سوشل میڈیا کی دیگر سروسز ٹویٹر، وہاٹس ایپ، انسٹاگرام وغیرہ کا ہے۔
قصور سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی زینب کے اندوہناک قتل کے بعد سوشل میڈیا اور خاص کر فیس بک پر سماج کا جو عکس نظر آیا ہے ، اس کے بعض پہلو بہت مثبت ہیں، مگر بعض ایسے ہیں جن پر توجہ دلانا بہت ضروری ہے۔ان میں غالباً سب سے زیادہ اندوہناک پہلو معاشرے سے اعتباریت کے خاتمے کی لاشعوری کوشش ہے۔
جنسی زیادتی کے اس حادثے کے بعد لوگوں نے جس طرح اس موضوع کو زیر بحث بنایا اس سے گویا یہ نقشہ سامنے آیا کہ معاشرے کے ہر گھر میں بیٹیاں باپ سے، بہنیں بھائیوں سے ، بھانجیاں اور بھتیجیاں اپنے ماموں اور چچا جیسے قریبی رشتوں تک سے غیر محفوظ ہیں۔بعض گھرانوں میں ایسے انسانیت سوز واقعات یقیناپیش آئے ہوں گے ، لیکن یہ بیس کروڑ کی آبادی میں انتہائی قلیل تعداد کا معاملہ ہے۔
اسی طرح ایسے واقعات کی عملی مثالیں پیش کرتے ہوئے یا پھر فحاشی کو اس طرح کی چیزوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جو وڈیو اور تصویریں بے دھڑک عام کی گئیں ، ان کی اکثریت اتنی مکروہ تھی کہ کوئی شریف النفس آدمی دیکھنا بھی گورا نہ کرے۔ اس طرح کی بے ہودہ چیزیں شئیر کرتے وقت ان سے کہیں زیادہ بے ہودہ یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ’’میں یہ تصویریں شئیر کرنے پر معذرت چاہتا ہوں مگر۔۔۔‘‘۔لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی بے ہودگی پھیلانا اشاعت فاحشہ اور ایک گناہ کا کام ہے، چاہے اس کی کوئی بھی وجہ پیش کی جائے ۔
ہماری اس گفتگو کو مطلب یہ نہیں کہ غلطی کی نشان دہی نہ کی جائے یا صحیح رویے پر توجہ نہ دلائی جائے۔، اصلاح کا کام توازن چاہتا ہے۔ عدم توازن سے کبھی خیر پیدا نہیں ہوتا،بلکہ شر پیدا بڑھتا ہے۔اس معاملے قرآن مجید ہمارا بہترین رہنماہے۔
قرآن مجید تمام فواحش و منکرات کے سخت خلاف ہے۔ مگر ان کی اصلاح کے لیے وہ فواحش کی کوئی منظر کشی اور تفصیل نہیں کرتا۔اس نے جو کچھ مذمت کی وہ بھی اجمال میں کی ہے اور اس ضمن میں جوہدایات ہیں وہ بھی اجمال میں دی ہیں۔ اس کا اصل ہدف فرد پر باہر سے پہرے بٹھانے کے بجائے اندر سے اس کی سوچ کو بدلنا ہے۔ چنانچہ پورا قرآن اللہ تعالیٰ کے ہمہ وقت ساتھ ہوتے، سمیع، بصیر، علیم اور خبیر ہونے کے تصور سے بھرا ہوا ہے۔اسی طرح خدا کے حضور پیشی، ایک ایک عمل کے ریکارڈ کیے جانے اور ہر عمل کی جوابدہی کا تصور انسان میں وہ تقویٰ پیدا کرتا ہے جوانسان کو تنہائی میں بھی محتاط رہنے پر مجبورکرتا ہے۔
یہ قرآن مجید کے زیر تربیت وہ انسان ہیں جن کو مرد وزن کے اختلاط کے موقع پر کچھ آداب یہ کہہ کر سکھائے گئے ہیں کہ پاکیزگی کے جس راستے کے تم مسافر ہو اس میں صنف مخالف کے حوالے سے کوئی ناپاکی نہ پیدا ہونے پائے ۔ چنانچہ پہلے مردوں کو سکھایا گیا کہ وہ صنف مخالف کی موجودگی میں اپنی نگاہوں کو آوارہ نہ ہونے دیں اور حفظ فروج (شرمگاہوں کی حفاظت )سے کام لیں۔ حفظ فروج قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب اپنی جنسی جذبات پر ایسے قابو رکھنا ہے کہ انسان کا ظاہر اور اس کا باطن ننگے پن سے محفوظ رہے۔
مردوں کی تربیت کے بعد ٹھیک یہی بات عورتوں سے کہی گئی ہے۔ البتہ پھر ان کو یہ اضافی تلقین کی گئی ہے کہ دوچیزیں جو ان کی نسوانیت کااظہار کرتی ہیں یعنی ان کا سینہ اور ان کی زینت؛ اس کو وہ ڈھانک کررکھیں۔ زینتوں میں بھی یہ استثنا دے دیا گیا کہ قریبی محرم رشتہ داروں کے معاملے زینتیں ظاہر کی جاسکتی ہے۔مگر اس دائرے سے باہر اصرار یہ ہے کہ پاؤں کی پازیب بھی یہ آواز بلند کرنے کی کوشش کرے کہ میں عورت ہوں تو حکم ہے کہ اس کی آوازبند کردو۔
یہ معمول کے حالات میں سورہ نور میں دیے گئے احکام کا خلاصہ ہے۔ جبکہ سورہ احزاب میں یہ بتایاگیا ہے کہ حالات اگر غیر معمولی ہیں اوراوباشوں نے شریف خواتین کو نشانہ بنالیا ہے تو پھر معاشرتی سطح پر اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جاسکتا ہے اور قانونی سطح پر بھی سخت ترین سزاؤں کا نفاذ کیا جاسکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مجرموں کو بری طرح قتل کیا جاسکتا ہے ۔
یہ اس حوالے سے قرآن مجید کے احکام کا پس منظر اور ان کا خلاصہ ہے۔ تاہم قرآن مجید نے کسی طور بھی معاشرے سے اعتبار یت کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔نہ فواحش کے مسئلے کو لوگوں کے سر پر سوار ہونے دیا۔ اس کا سارا زور مادی اور حیوانی وجود کے بے لگام تقاضوں کو خدا کے قرب کے احساس اور انسان کی روحانیت بیدار کرکے ایک توازن میں رکھنے پر ہے۔
آج بھی کرنے کا یہی کام ہے۔ ایک متوازن طریقے پر لوگوں کی حیوانیت کو روحانیت اور قرب خد اکے احساس کی لگامیں ڈالی جائیں ۔ نگاہ اور صنفی تقاضوں پر ضبط کے پہرے بٹھانے کی تلقین کی جائے۔ خواتین کو اپنی نسوانیت کی بے محل نمائش پر متنبہ کیا جائے۔قوانین اور عدالتی نظام کو درست کیا جائے اور ایسے مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ لیکن معاشرے سے اعتباریت کا خاتمہ نہ کیا جائے۔ یہ تاثرنہ دیا جائے کہ ہر مرد ایک حیوان ہے جسے عورت نظر آجائے تو وہ انسانیت بھول کر ایک جانور کی طرح اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔
انسانیت اور رشتوں کی اعتباریت کسی معاشرے کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ ہمارے پاس یہ اثاثہ ابھی تک موجود ہے۔ اسے لوگوں کے جذبات کے وقتی ابال کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔