تہذیب

آپ ’’باہر‘‘ سے سب کچھ درآمد کر سکتے ہیں سوائے تہذیب کے۔ یہ آپ کی اپنی ہی ہو تو اسے تہذیب کہیں گے ورنہ اس کا نام “تقلید” ہے۔ #تہذیب اپنی حقیقت میں ایک تخلیق ہے۔ لہٰذا اِس کی درآمد کبھی ممکن نہیں۔ ہاں جو چیز آپ درآمد کریں گے وہ اس تہذیب کی مصنوعات […]

کچھ دل سے ۔۔۔ خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است

خوش ترین زندگى، زندگى با قناعت است تحریر: احسن بیان آج کسی وجہ سے باہر کھانا کھانے کا اتفاق ہوا، ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دیا۔ کھانے کے دوران ایک مزدور بھی سامنے میز پر آن وارد ہوا اور ایک خالی پلیٹ اور ایک روتی منگوائی، کھانے کے دوران میری توجہ […]

رمضان سپیشل۔۔۔ گل نو خیز اختر 

آج سے چند روز بعد سارا نظام بدل جائے گا۔دوکانوں پر چپس ‘ بسکٹ ‘ ڈبل روٹی‘ انڈے اور بوتلیں سامنے رکھی ہوں گی لیکن سگریٹ چھپا دیے جائیں گے گویا روزہ صرف سگریٹ سے ہی ٹوٹتا ہے۔سارا دن ٹی وی پر مشروبات کے فرحت بخش اشتہارات چلیں گے اورروزہ داروں کا صبر آزمائیں گے۔بڑے […]

نو سال پہلے کا رمضان تھا۔ سحری کے بعد میں ساڑھے نو، دس بجے تک آرام سے سوتی تھی۔ میاں آفس چلے جاتے تھے، انکے علاوہ کوئی تھا نہیں اسلئے کوئی ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے جلدی جاگنا ضروری نہیں تھا۔ میری سہیلی نے بتایا کہ صبح سات سے دس بجے تک دورہ قرآن لائیو آتا ہے، لیکن اس کا بیشتر حصہ میری نیند کی نظر ہو جاتا تھا اور جاگ کر تھوڑا سا سن لیتی تھی۔ سننے میں بھی اپنی کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ وجہ یہی ہوتی تھی کہ وہ پھر ذکر کرے گی، پوچھے گی تو میں کہہ سکوں کہ ہاں، تھوڑا سا سنا تھا۔ استاذہ سورہ نحل تک پہنچ چکی تھیں۔ میں حسبِ عادت لیکچر کا آخری حصہ سن رہی تھی جب انہوں نے سورہ کی آیت 66 کا ترجمہ کیا: “تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے۔” پھر اسکی مختصر سی تشریح کرنے لگیں کہ کیسے ایک چوپائے کے جسم کے اندر سے خوش ذائقہ دودھ ہمیں ملتا ہے جس میں کبھی گوبر کی بو نہیں، خون کا ہلکا سا رنگ بھی نہیں۔ کیسی اللہ کی قدرت ہے؟! انکے بتانے کا انداز ایسا تھا کہ سوچ کو ایک نیا ہی زاویہ ملا۔ اسکے بعد کے تمام لیکچرز میں شوق سے سنتی اور آنے والا ہر رمضان دورہ قرآن کا انتظار بھی ہوتا۔ یہ سب آپکو اسلئے بتا رہی ہوں کہ ابھی رمضان میں آپکی نظر ایسے لوگوں پر پڑے گی جنہیں آپ “رمضانی مسلمان” کہتے ہیں۔ انکا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے کم عبادت کر رہے ہیں، اور آپ کے گمان کے مطابق بس ایک ماہ ہی انکی نمازیں اور قرآن چلنا ہے۔ تو بتاؤں کیا؟ ہو سکتا ہے آپکا گمان غلط ثابت ہو جائے، ہو سکتا ہے اللہ کسی ایک پیار سے بلانے والے کے توسط سے اس بندے کو ہدایت کی نئی راہ دکھا دیں، ہو سکتا ہے ایک آیت اسکی زندگی بدل دے، ہو سکتا ہے یوں بے دلی سے کی ہوئی عبادت اسے اتنا لطف دے کہ وہ پلٹ آئے۔ بہت کچھ ہو سکتا ہے جو آپ نہیں جانتے۔ دوسری طرف، اگر آپ دین کی طرف مائل نہیں اور کوئی آپکو دین کی بات بتا رہا ہے تو سن لیں، عمل کی ناقص سی کوشش بھی کر لیں، کبھی اللہ والوں کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں، انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں۔ کیا پتہ اس کے کہنے پر، اسی کی خوشی کی خاطر کی گئی کوئی عبادت آپکو ایسی حلاوت دے جس سے آپ کبھی آشنا ہی نہیں تھے۔ اس رمضان میں اپنے لئے نئے اہداف سیٹ‌ کریں۔ آئیں ہم سب خود کو پہلے سے بہتر مسلمان، پہلے سے اچھا انسان بنائیں۔ تحریر: نیر تاباں

from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2rPlkv6 via IFTTT