پیغام قرآن

#پیغام_قرآن

Quran Lesson – Surah Maryam 19, Verse 4-6, Part 16

اور (زکریا نے) کہا: میرے پروردگار! میری ہڈیاں بوسیدہ ہوچکیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال سفید ہوگئے، تاہم اے میرے پروردگار! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔ میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں (کی برائیوں سے) ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی جناب سے مجھے ایک وارث عطا فرما۔ جو میرے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے پروردگار ! اسے پسندیدہ انسان بنانا۔

#Quran #DailyQuran #Darussalam

Advertisements

سلام صبح

اپنے خوابوں پر ان کو پورا ہونے کے وقت کی وجہ سے سمجھوتہ کبھی نہ کریں، وقت تو بہر حال گزر جائے گا۔

دوڑ بے منزل

دوڑ بے منزل
مولانا وحیدالدین خان

ہر آدمی بے تکان بول رہا ہے- ہر آدمی آخری حد تک اپنی ضرورتوں کو بڑهائے هوئے ہے- ہر آدمی لا محدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتا ہے- ہر آدمی چاہتا ہے کہ عیش اور راحت کی تمام چیزیں وه اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لیے اکهٹا کر لے- یہ مادیت کی طرف مجنونانہ دوڑ ہے، مگر نتیجہ کیا نکل رہا ہے —- ہر آدمی اس احساس میں جیتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں هوئیں- جو فل فل مینٹ وه چاہتا تها، وه اس کو حاصل نہ کر سکا- ہر عورت اور مرد اسی محرومی کے احساس میں جیتے ہیں- اسی حال میں ان کے رات اور دن گزرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تمناوں کا گهروندا حالات کے طوفان سے ٹکرا کر بکهر جاتا ہے- اور اگر حالات اس کو نہ توڑیں تو موت ہر حال میں اپنے وقت پر آتی ہے اور ہر ایک کو مجبور کرتی ہے کہ وه موت کے بے رحم فیصلے کو قبول کرے، جس طرح اس سے پہلے اس دنیا میں آنے والے تمام لوگ موت کے فیصلے کو مجبورانہ طور پر قبول کر چکے ہیں-

لوگ موت سے پہلے کی عارضی زندگی کا سامان درست کرنے میں لگے هوئے ہیں، حالانکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا جائے- موت سے پہلے کی زندگی، امتحان کی زندگی ہے- اس بنا پر یہ خدا کی ذمے داری ہے کہ وه ہر ایک کے لئے وه سامان فراهم کرے،جس کے ذریعے وه اپنا امتحان دے سکے-مگر جہاں تک موت کے بعد کی زندگی کا معاملہ ہے،اس کی ذمے داری خدا نے نہیں لی ہے-موت کے بعد کی زندگی میں سارا معاملہ آدمی کی اپنے عمل پر منحصر ہے-

موجوده زندگی کا اصول یہ ہے کہ کچهہ نہ کرو، تب بهی تم کو ضرورت کا سامان یک طرفہ طور پر فراهم کیا جائے گا- مگر اگلی زندگی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے- اگلی زندگی کا اصول ہے —- جیسا بونا، ویسا کاٹنا- مگر عجیب بات ہے کہ لوگ موجوده زندگی کے لیے تو خوب دوڑ دهوپ کر رہے ہیں، لیکن اگلی زندگی کے معاملے کو وه سر تا سر بهولے هوئے ہیں- موجوده زندگی میں آج کی کمی، کل کے دن زیاده عمل کر کے پوری کر لی جاتی ہے، لیکن اگلی زندگی میں کسی عورت اور مرد کے لیے یہ موقع نہ هو گا کہ وه اپنے ماضی کی کمیوں کی دوباره تلافی کر سکے-