غرباء ۔۔۔ انتیسویں قسط

غرباء (اجنبی )

قسط نمبر 29

نیوز چینلز پر جمہوریت زنده باد کے نعرے مارتے جلوس دکھائے جا رہے تھے. خولہ کے والد صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھے خاص خاص خبروں کا جائزه لے رہے تھے کہ اچانک خولہ سے ہوئی بہت پرانی بات چیت یاد آئی, جب اس نے اس جمہوریت کے موضوع پر ہی سب کو کسی کتاب کا ایک صفحہ پڑھ کر سنایا تھا. اس وقت انھوں نے کتنا ڈانتا تھا اسے. لیکن آج انھیں خولہ کی کہی باتوں کی صداقت سمجھ آ رہی تھی. پر کتنی عجیب بات تھی کہ انھیں آج بھی اس کتاب کا وه صفحہ ویسے ہی یاد تھا. جب الله دل کھول دے تو کیسی کیسی لمبی باتیں بھی زہن میں ره جاتی ہیں

  • جمہوریت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کی بحث بہت پرانی ہے.
    ایک فریق جمہوریت کو شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کفر کہتا ہے اور جمہوری عمل میں شرکت کو درست نہیں سمجھتا ، جبکہ دوسرے فریق میں سے بعض اس میں جزوی ترمیمات کر کے اسے اسلامی بنانے کے لئے کوشاں ہیں جبکہ بعض کے بقول تو اسلام نے ہی دنیا کو جمہوریت کی تعلیم دی ہے اور مغرب نے جمہوریت کا سبق مسلمانوں سے سیکھا ہے۔دونوں ہی جانب اہلِ علم موجود ہیں۔

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان فیصلہ کرنے میں دلائل سے زیادہ اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ قوم کے بڑے کس کے ساتھ ہیں۔ انسان کے سامنے جب کوئی دعوت پیش کی جاتی ہے تو اسکو قبول یا رد کرنے میں وہ اپنے بڑوں کی جانب دیکھتا ہے اور داعیوں کے سامنے جو اعتراض بار بار کیا جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ آپ زیادہ سمجھ دار ہیں یا بڑے ؟ اگر آپ حق بیان کر رہے ہیں تو ہمارے بڑوں نے اسکو کیوں اختیار نہ کیا؟ ۔۔۔
لیکن کیا حق اس وجہ سے رد کر دیا جائے کہ وہ معاشرے کے نامور افراد کی زبانوں سے جاری نہیں ہو؟ اور کیا شریعت اسلامیہ میں یہ کوئی معیار ہے کہ بڑوں اور چھوٹوں کی آراء جب مختلف ہو جائیں تو بڑوں کی بات ہی قابلِ اعتبار اور قابلِ عمل ہو گی؟

ہمارے نبی ﷺ پر بھی ایسے ہی اعتراضات ہوئے ، جیسا کہ قرآن میں آیا:

“وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو دونوں بستیوں (مکہ و طائف) میں کسی بڑی شخصیت پر کیوں نہ اتارا گیا”۔ ( الزخرف)

اور اللہ تعالٰی نے دوٹوک انداز میں انکو جواب دیا:

” کیا آپ کے رب کی رحمت کی تقسیم یہ(کافر) کرتے ہیں۔۔۔؟”( الزخرف)

کہ یہ فیصلہ کریں گے کہ اللہ کی رحمت کس کو دی جائے؟ وہ جس کو یہ بڑا سمجھتے ہیں یا وہ جس کو اللہ نے بڑا سمجھا اور بڑا بنانے کا فیصلہ کیا؟ ان کے نزدیک تو بڑا ہونے کا معیار دنیا کی چمک دمک ہے جبکہ اللہ کے نزدیک تو اسکا معیار ہی الگ ہے۔
انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ ان کی دعوت میں سب سے پہلے جس طبقے نے رکاوٹ کھڑی کی وہ قوم کے ‘بڑے’ ہی تھے۔ یہ بڑے ان انبیاء پر ایمان لانے والوں کو کبھی چھوٹا اور کم حیثیت کہتے اور کبھی پاگل اور بے وقوف۔ اگر نبی ﷺ کی سیرت ِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو چیز اپنے صحابہ کو سمجھائی وہ یہ تھی کہ حق و باطل کو پہچاننے کا معیار صرف عمر میں یا دنیاوی اعتبار سے چھوٹا بڑا ہونا نہیں بلکہ معیارِ حق شریعتِ محمدیہ ﷺ ہے۔

لہذا ہمارے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنم ہی معیارِ حق ہیں۔ اور کتنے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم ایسے تھے جن کو اللہ نے کم عمری میں علم کی دولت سے نوازا تھا اور اختلاف کی صور ت میں بڑی عمر کے صحابہ مسائل میں ان کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔
تو جمہوریت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں بھی ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کس کی رائے شریعت سے کتنی مطابقت رکھتی ہے لیکن اس میں ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کیونکہ دونوں ہی جانب مخلص اہل علم موجود ہیں اور ان سے خطا ہو سکتی ہے ۔ لیکن اس خطا کو بنیاد بنا کر ان کو لعن طعن کرنا قطعاً انصاف نہیں ۔ بس ادب سے ، علمی لحاظ سے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جائے کہ ان سے یہاں یہ غلطی ہو گئی ۔ بھلا کون مخلص اور علم رکھنے والا یہ چاہے گا کہ وہ غلط راستے پر چلے ۔ سو اس معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہیں اور اللہ سے دعا کرتےرہیں کہ وہ ہمیں درست راہ پر چلا دے۔

تو جمہوریت ہے کیا؟

جمہوریت کو رائج کرنے والے اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ایسا نظام ِ حکومت جس میں حاکمیت اعلی عوام کے پاس ہوتی ہے اور عوام ہی باالواسطہ یا بلا واسطہ طریقے سے حکومت چلاتے ہیں ۔ نظام میں عوام کی نمائیندگی نمایاں ہوتی ہے جو بالعموم کچھ عرصے کے بعد آزاد انتخابات کے ذریعے سے نمائندے چن کر کی جاتی ہے ۔ اور جمہوری نظام حکومت ایک ایسا نظام ہے جو اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ سازی کے اصولوں پر قائم ہو۔

جی ہاں ایک ایسا نطام جس میں حاکمیتِ اعلٰی اللہ کی بجائے عوام کی ملکیت ہو (نعوذ باللہ)۔ اور حکومت عوام کے ذریعے منتخب کی جائے ، علم و تقویٰ کے اعتبار سے فرق ہونے کے باوجود بھی سب کی(یعنی ایک عالم اور جاہل کی ، ایک فاسق اور ایک پابندِ شرع کی) رائے اس میں برابر ہو۔ اس سب میں وحی کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ جس کو انسانی عقل صحیح سمجھے وہ صحیح چاہے وہ قرآن و حدیث کے مخالف ہو اور جس کو غلط سمجھے وہ غلط چاہے وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہو۔ یعنی یہ اس نظام میں قرآن و حدیث اس لئے قابل عمل نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کا فرمان ہے بلکہ انسان نے اس کو اس قابل سمجھا کہ اس پر عمل کیا جا سکتا ہے تو پھر اس کو قانون بنایا جا سکتا ہے۔ سو اس نظام میں انسانی عقل اور خواہشات کو قرآن و سنت (وحی) پر بھی بالا دستی حاصل ہے(نعوذ باللہ)۔

جمہوریت کے قائل بہت سے حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ جیسا کہ شریعت بھی شورائی نظام کے تحت خلیفہ منتخب کرتی ہے اور جمہوریت بھی کچھ ایسی ہی ہے تو دونوں ایک ہی چیز ہیں۔جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ ہم اس جمہوریت کے ذریعے ہی اسلام نافذ کریں گے ، کیونکہ اور کوئی راستہ ہی نہیں۔ اور اس کے لئے مختلف وجوہات پیش کرتے ہیں۔لیکن یہ فرضی تصور بس کتابوں تک ہی محدود ہے اور تاحال دنیا میں کہیں ظہور پذیر نہیں ہوا۔
جمہوریت کو اسلامی بنانا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے بت خانے کو اسلامی بت خانے اور شراب خانے کو اسلامی شراب خانہ میں تبدیل کرنا۔
اسلام میں لفظ شریعت جس معنی میں استعمال ہوتا ہے جمہوریت میں یہی معنی لفظ آئین کے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ یہ عمل شریعت کے مطابق ہے اور یہ اس کے خلاف ۔ بالکل اسی طرح جمہوریت میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ عمل ملک کے آئین کے مطابق ہے اور یہ اس کے خلاف ۔ سو اس آئین کی مخالفت کرنے والے کو جیسے ایک کافر ملک میں سخت سے سخت ترین سزا دی جاتی اسی طرح ایک اسلامی ملک میں بھی اسی کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جاتا ہے جس میں جمہوریت نافذ ہے۔
غرض یہ کہ یہ دونوں نظام بالکل ایک دوسرے کے مخالف ہیں ۔ اور جگہ جگہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔ اگر جمہوریت میں کسی اسلامی قانون کو جگہ دے بھی جائے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسکو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مان کر جگہ دی گئی ۔ بلکہ اسکو انسانوں کی عقلوں کی اجازت ملنے پر جگہ دی گئی۔(نعوذ باللہ)۔

اور ووٹ کی حیثیت بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ۔ اسلام میں تو مشورہ ایک رائے ہوتا ہے جس کو تسلیم بھی کیا جاسکتا ہے اور نہیں بھی، جبکہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام میں جن لوگوں سے مشورہ کا کہا گیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ نے مشورہ اور رائے کی صلاحیت سے نوازا ہے ۔ جبکہ جمہوریت میں ووٹ کا حق ہر ایک کو حاصل ہے ۔ مطلب کہ ایک عالم با عمل ، متقی ، پر ہیزگار ، سچا، سنت مطہرہ پر عمل کرنے والا اور ایک جاہل ، زانی ،مرتد ، جھوٹا ، زندیق ، کافر ۔۔۔ دونوں برابر ہیں ، اور ان دونوں کی آراء کا وزن ایک ہی ہے۔

اس ابلیسی جمہوری نظام میں مسلمانوں کو پھنسانے والے کوئی عام ذہن نہیں تھے بلکہ وہ ایسے مکار تھے ، جن کے دماغ میں شیطانیت بجلی بن کر دوڑتی تھی ، سو انہوں نے اسلام کی اصطلاحات ، اسلامی عقائد اور مسلمانوں کے مزاج کا بھرپور مطالعہ کیا ۔ اس کے بعد اس جمہوریت کے لئے ایسی اصطلاحات رائج کیں جو ظاہراً اسلام سے متصادم نظر نہیں آتیں۔اور وہ بہت حد تک اس میں کامیاب رہے اور عوام تو عوام ، بہت سے علماء بھی اس دھوکے سے بچ نہ پائے۔ جہاں جہاں اسلام اور جمہوریت میں لفظی یا ظاہری مماثلت تھی وہاں اسلام کو اپنایاگیا اور جہاں دونوں میں تضاد تھا وہاں مکمل پینترا بدلا گیا اور ایسی اصطلاحات استعمال کی گئیں جن میں ظاہراً اسلامی اصولوں سے کوئی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوری ملکوں کے اداروں کے لوگ جہاں ایک طرف یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ چیزیں اسلام میں حرام ہیں وہیں جب ان حرام چیزوں کو یہ نظام دفاع فراہم کرتا ہے تو یہ ان کا دفاع یہ کہتے ہوئے کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کی مخالفت آئین کی مخالفت ہے، جو کہ قطعاً برداشت نہیں کی جاسکی۔ اور اس کے لئے پھر وہ کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔

پس سوچئے اور بار بار سوچئے ۔ کہ کیسے شیطان کے پیروکاروں نے ہمارے اذہان کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے اور ہمیں معلوم ہی نہیں ۔ اور یہ کہ ہم نے اپنا وزن کس کے پلڑے میں ڈالا ہوا ہے؟ اللہ اور اس کے مطیع بندوں کے؟ یا شیطان اور اس کے چیلوں کے؟ سوچئے!!! *

اس پر سونے پہ سہاگہ یہ میڈیا اسلان دشمن عناصر کے سیسے کنٹرول میں تھا کہ فرعون کے جادو گروں کی طرح آنکھوں کا دھوکہ.

مسلم ممالک میں جمہوریت پروموٹ کرنے میں اسکا سب سے بڑا کردار تھا. سچ کو جھوٹ , اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں ماہر.

سلیمان صاحب (خولہ کے والد ) نے رموٹ پکڑا اور چینل تبدیل کیا.

آنکھیں نم تھیں. یقیناً بیٹی کی شدت سے یاد آئی تھی.

اسی لمحے انعم صاحبہ کمرے میں داخل ہوئیں. ہاتھ میں دو کپ گرما گرم چائے کے اٹھا رکھے تھے.

اتنے میں میز پر پڑے فون کی بیپ سنائی دی.
وٹس ایپ پر کوئی میسج آیا تھا.

سلیمان صاحب نے سیل فون اٹھایا اور میسج پڑھتے ہی مسکرا دیے.

“آه خولہ..”, فون رکھتے ہوے چائے کا کپ پکڑا جو انعم صاحبہ نے دو سنکڈ پہلے ہی میز پر رکھا تھا.
وه بھی ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھیں.

“کیا ہوا..
خولہ کی کوئی خبر آئی ہے؟”، آنکھوں میں چمک لیے خولہ کی والده سلیمان صاحب سے مخاطب تھیں.

“تمہاری بیٹی کو وہاں بیٹھے بیٹھے بھی چین نہیں..
دعوت و تبلیغ کے بھی انوکھے انداز !!”, سلیمان صاحب نے ہنستے ہوے فون انعم کو تھمایا اور خود چائے کے گھونٹ بھرنے لگے.

خولہ کی والده نے میسج پڑھا تو مسکرا دیں.

ایک کارٹونش تصویر تھی جس میں کسی دریا پر سے جاتی ایک درخت کی لٹکتی شاخ پر سانپ لپٹا ہوا تھا اور منہ میں دریا سے شکار کی مجھلی دبوچے مسکرا رہا تھا.

تصویر کے ساتھ میڈیا کی چالیں بےنقاب کرنے کو ایک مزاحیہ تحریر درج تھی:

🔴 آج کا میڈیا 🔴

سنو سنو!!!!
آج کی تازه خبر !!!!!

ایک مظلوم مچھلی (مسلم قوم) ڈوبنے کو تھی کہ بروقت ہمارے بہادر سپاہی “سانپ” (امریکہ ) نے اپنی جان پرکھیل کر ننھی جان کو موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا. ایسی بہادری اور رحمدلی کی مثال رقم ہوتے دیکھ کر ہمارے کیمره مین تک رو پڑے. حاضرین و ناظرین سے ہمارے اس ہیرو کے لیے تالیوں کی درخواست.

  • جائے وقوعہ سے براه راست رپورٹنگ کرتے “آپکا برین واشر”

خولہ نے استخاره کرنے پر دل پر سکون اترتا محسوس کیا. پر پھر بھی اس رشتے کے لیے حامی بھرنے کو جھجکتی رہی. آخر کار ایک دن پریشان حال میں قرآن اٹھایا تو الله کی ڈانٹ پلاتی کچھ آیات سامنے آئیں, جن میں نعمت کی ناشکری کا ذکر تھا. اس کے بعد الله سے معافیاں مانگتی دادا اور بھائی جان سے مشوره کر کے ام خدیجہ کو اپنی مرضی بتا دی.

الله سے ڈھیروں دعائیں کی کہ الله سنت کے مطابق سادگی سے شادی کی دعا کی تھی ہمیشہ. وه خواب پورا کر دے. آخر کار اب یہ دعا قبول ہونے پر آ گئی تھی.
اگلے دن اسکا نکاح تھا. اور ابھی وه ام خدیجہ کے پاس بیٹھی تھی. جو اسے مسرقبل کی ازدواجی زندگی کی کامیاب بنانے کے لیے اپنے تجربے سے سیکھی ٹپس بتا رہی تھی.

“دیکھو خولہ !!
تم ایک مجاہد کی دلہن بننے جا رہی ہو تو تمہیں اس کی زندگی سے جڑی چیزوں سے ہی مثال دے کر سمجھاتی ہوں.

خولہ, مرد جو ہوتا ہے ناں, ایک وحشی گھوڑے کی طرح ہوتا ہے. غصہ آ جائے تو گھر میں ہنگامہ کر دے.
اگر تم گھر میں سکون چاہتی ہو تو خولہ اس پر کبھی حکم چلانے کی کوشش نہ کرنا. کیونکہ وه محکوم بن کر رہنے کے لیے بنا ہی نہیں.
ہاں یہ کرو, کہ سائے کی طرح ہر دم اسکے ساتھ رہو. اسکی ضرورتوں کا خیال رکھو. اسکی خدمت میں کوئی کمی نہ کرو. اسکی پسند نا پسند کا خیال کرو. اسکے والدین سے اسے دور نہ کرو, بلکہ ان سے جوڑ کر رکھو. وه اسکی جنت ہیں. اسے جنت سے کٹوا کر جہنم کی جانب مت دھکیلنا. اور سب سے بڑی بات; اسکی عزت کرنا.
پھر دیکھنا وه کیسے سیدھے گھوڑے کی طرح تمہارے اشاروں پر چلے گا.

اگر اس طریقے پر نہیں چلو گی خولہ, تو کبھی اسکے دل میں جگہ نہیں بنا سکو گی.”

“آپکی بات گره سے باندھ لی اماں جی”, خولہ نے اپنی سہیلی کو چھیڑتے معصوم بننے کی کوشش کی.

اگلے ہی لمحے دونوں بےاختیار ہنس دیں.

باہر فضا میں طیاروں کے اڑنے کی آواز پھر سے بڑھنے لگی تھی. پتا نہیں کس دن ان سے جان چھوٹنی تھی. خولہ لیکن بے پرواه , شہادت کی منتظر, موت سے نڈر ان کا اثر قبول کیے بنا زبان پر ذکر دھرانے لگی. زہن میں آنے والے کل کے دن کی کاروائی چل رہی تھی. وه واقعی مجاہد کی دلہن بننے جا رہی تھی. سبحان الله, کیا رحمت برسی تھی اس پر اسکے رب کی. اس فتح اور کامیابی پر وه کتنے ہی دن سے شکر بجا لا رہی تھی. جیسے الله نے اپنے نبیؐ کو فتح مکہ پر شکر بجا لانے کی تاکید کی تھی:

“جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے. اور (اے نبیؐ) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں. تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے”

(سورة النصر)

یعنی جب بھی کامیابی ہو تو پھر ہمارا ایسا ہی طرز عمل ہونا چاہیے ناں کہ سب الله نے کیا, اسکی توفیق سے ہوا, ورنہ میں تو کچھ بھی نہیں.

“پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے”

(45:36)

تو بس شکر میں حمد و ثناء جاری ہونی چاہیے, نہ کہ قارون کی طرح میں, میں کرتے رہیں. کہ میں نے کیا, میری اپنی زہانت کی وجہ سے ہوا وغیره وغیره.


خولہ کمرے میں بیٹھی اپنے شوہر کے انتظار میں تھی. آخر کار ایک مجاہد کی زوجہ کہلانے کا اعزاز مل ہی گیا تھا. اسے پتا تھا اس اعزاز کے ساتھ مشکلات کا سمندر بھی ہمراه ملا تھا. لیکن وه تو اپنے بہادر نبیؐ کی بہادر امتی تھی ناں, تو گھبراہٹ کیسی. اس راه پر اٹھے تھے تو یہ سب سوچ کے ہی اٹھے تھے. بلکہ یہاں تو یہ حال تھا کہ

  • تیری راه میں زخم کھانا تو سعادت ہے میری

میرے رب یہ زندگی میری امانت ہے تیری *

نکاح بالکل سادگی سے ہوا تھا. پاکستان کی جہالت والی کوئی حرکت نہیں, کوئی بارات سسٹم نہیں, کوئی جہیز وھیز نہیں. کوئی ہندؤں کی طرح مہندیاں اور ڈھولکیاں نہیں. کوئی میوزک سسٹم نہیں. کوئی مخلوط محفلیں نہیں.
الله کی نافرمانی کا ایک کام بھی نہیں. (ایسا کیوں تھا کہ اپنی خوشی کے موقوں پر لوگ خدا کو بھول جاتے تھے, ظاہر ہے پھر خدا بھی انکو بھول جاتا ہو گا تبھی تو انکی شادیوں میں برکت نہیں رہی. کچھ ہی عرصے میں اتنے خوبصورت رشتے کا اختتام یا تو طلاق پر ہوتا تھا, یا ایک دوسرے سے ایسے خائف اور متنفر ہو جاتے تھے کہ ایک دوسرے کا ذکر بھی برا لگنے لگتا تھا. یہاں تک کہ ایک ہی گھر میں زوجین بن کر نہیں بہن بھائی بن کر ره رہے ہوں جیسے.
شادی کا مقصد ہی فوت کر دیا تھا. محبت, پیار کا یہ رشتہ نفرت اور اکتاہٹ کا ریلیشن بن گیا تھا. جسکا نتیجہ یہ ہوا کے گرل فرینڈ, بوائے فرینڈ کی رومانوی کہانیاں زیاده اٹریکٹو دکھنے اور بننے لگیں, اور دین کی نظر میں رومانس کی اصل داستان نکاح ایک کڑوا گھونٹ لگنے لگا. ایک قید دکھنے لگی. بوجھ لگنے لگا.

الله کے دین کے ساتھ ہم نے کیا کیا. ایک تو پہلے ہی یہ کباڑا کیا. اوپر سے شادی جیسے حلال رستے کو اتنا مشکل اور مہنگا بنا دیا, کہ نہیں تعلیم مکمل کرو گے تو شادی ہو گی, پی ایچ ڈی اور فلانی فلانی ڈگری لو گے تو ہی شادی کریں گے. بلکہ تب بھی نہیں کریں گے. تب کریں گے جب تم فلاں ہائی فائی پوسٹ کی نوکری حاصل کر لوگے.

ساتھ ہی ساتھ انکو مخلوط تعلیمی اداروں میں جھونک دیا. کو-ایجوکیشن !! , ساتھ گھروں, خاندانوں میں بھی شرعی پردے پھینکے کوڑے دان میں. اور رج کے سجائیں مخلوط محفلیں – مکسڈ گیدرنگز.
ساتھ واحیات ٹی-وی ڈراموں اور فلموں نے شہوت کی حس کو اور زیاده ہوا دی.
نتیجہ, بچے بچیاں نہ چاہتے ہوئے بھی زنا میں پڑ گئے.
یہاں تک کہ کئی دین دار نوجوان بھی.
وجہ ؟؟؟
نکاخ جو کہ حلال رستہ ہے , اسے اتنا مشکل بنانا کہ جیسے کوئی کے-ٹو سر کر کے, یا ھمالیہ کراس کر کے ہی یہ میڈل ملے گا یا یہ کے سو دفعہ مر کے زنده باقی ره گئے تو یہ اعزاز نصیب ہو گا.

{تب تک فلمیں دیکھیں اور فونوں پہ دوستیاں لگائیں.}

نتیجتاً حرام رستہ انتہائی آسان اور دو قدم پر دکھنے لگا. تو بس پھر کیا تھا. شیطان تو بہکانے کو ویسے ہی کھلا پھرتا ہے. زنا عام ہونے لگی. گھر گھر اس مرض میں مبتلا ہونے لگا.
لیکن والدین. انکو تو کوئی ہوش ہی نہیں. جی بچہ گیا ہی یونیورسٹی. بڑا شریف بیٹا ہے ہمارا.
بیٹی.. بیٹی کو پڑھا لکھا رہے ہیں. یونیورسٹی میں ٹاپ کرتی ہے..

اچھا صحیح.. یونیورسٹی میں گئے ہیں کبھی؟ کبھی جھانک کے دیکھیں فری ٹائم میں کیا ہوتا ہے. کتنے کپلز عام گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے یورپ یا امریکہ آ گئے ہوں.
اچھا اس یونیورسٹی میں بھیجا ہے؟؟
بہت اچھے..
اب تو خوب شرافت میں اضافہ ہو گا. کیونکہ آپکا بیٹا/بیٹی تو فرشتہ ہیں. انسانوں جیسی تو کوئی کوالٹی ملی ہی نہیں انکو. جنسی اعتبار سے کمزور ہیں اس لیے انکو کیا لگے ساتھ مخالف جنس کا انسان بیٹھا ہے, یا کوئی گدھا یا دیوار, اینٹیں, پودے.. اسکا بھلا ان سب سے کیا لینا دینا. وه تو روبوٹ کی طرح آئے گا, کتابیں گھول کے پیے گا اور گھر کی راه لے گا.
پھر ایک دن یہ ان ہونی ہو جائے گی کہ آپکو یاد آ جائے گا کہ اسکی شادی کرنی ہے, تو آپ پوچھیں گے کہ بیٹا کس سے کرنی ہے, چچا زاد اے یا موموں زاد سے, اور وه جواب دے گا کہ کسی سے بھی کر دیں (بلکہ اب کسی سے بھی کر دیں, کیا فرق پڑتا ہے ), اور آپ خوش ہوتے پھریں گے کہ میری اولاد کتنی فرمانبردار ہے. واه واه کیا عقل پائی آپ نے. امت ڈوبی ہی آپکی اس ناقص عقل کی وجہ سے.

اپنی اولاد کی اپنی مرضی سے شادیاں کرا کے آپکا کیا ملے گا؟؟
زندگی انھوں نے گزارنی ہے یا آپ نے؟؟ ساری عمر انکی چھوٹی چھوٹی سے بڑی بڑی ناجائز خواہشات مانتے رہے, آج انکی زندگی کا سب سے بڑی خوشی کا دن آیا تو انکی جائز خواہش پر اپنی مرضی چکا کر ہمیشہ کے لیے اس کھلتے پھول کو مرجھا دیا؟؟
یہ کس قسم کی والدینی محبت تھی؟؟
سراسر ظلم و زیادتی !!
اور کوئی بے چاره دل کی بات کہ ہی دے تو نافرمان, احسان فراموش, بدتمیز !!

یہ خود کو عقلمند کہتے تھے؟؟ خود کو بڑا کہتے تھے؟؟
پتا نہیں الله کے نبیؐ اور صحابہ (رض) ان کے بیچ ہوتے تو یہ لوگ کیا ادھم مچاتے. اپنی حرکتوں سے تو بڑے قد کے چھوٹے بچے دکھتے تھے.

*

نکاح سے پہلے خولہ کے گھر پر اسکی سہیلیوں نے عورتوں کی ہی الگ سے چھوٹی سے محفل جما کر, مل کر خوشگوار (فواحش نہیں) نغمے ضرور گائے اور اسطرح خوب ہلہ غلہ کیا کہ اس چیز کی تو دین اجازت دیتا تھا, بلکہ اس کی تو حوصلہ افزائی کی گئی تھی.

آج خولہ بےانتہا خوش تھی. لیکن اس وقت بھی اسکے دل میں الله اور اسکے رسولؐ سے بڑھ کر کوئی محبت نہ تھی. اسے سمجھ آ گئی تھی کہ انسان کی روح میں وه جو اک خلا ہوتا ہے, جسے وه انسانوں اور چیزوں کی محبت سے بھرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے, وه صرف الله اور رسولؐ کی محبت سے ہی بھر سکتا ہے. اگر کسی اور محبت سے بھرنے کی کوشش کریں گے تو وه خلا اور بڑھتا چلا جائے گا.
ہاں محبت کریں, لیکن اس محبت کو اپنی کمزوری نہ بنائیں, جینے کی وجہ نہ بنائیں, سانس یا آکسیجن نہ بنائیں.
وه تو الله اور رسولؐ کی محبت کو بنانا ہے.

یہ سب سمجھ جانے پر خولہ کو اب ابن تیمیہ والی جنت مل گئی تھی. وه جو دل کی جنت تھی.
اب کوئی ساتھ ہو نہ ہو, الله ہو تو بس سب کچھ مل گیا تھا. یہ سمجھ آ جانے پر اب پہلی دفعہ اسکا دل یوں پرسکون ہوا تھا کہ برسوں کی تھکان اتر گئی تھی.

اس لمحے خولہ کو مریم بہت یاد آئی. اس کے زریعے ہی تو اسے یہ رستہ ملا تھا. مریم سے آخری دفعہ پاکستان سے عثمان کی طرف آنے سے پہلے بات ہوئی تھی. بہت مشکل سے. تھوڑی سی.
مریم نے بتایا تھا کہ کہ کشمیر کے حالات مزید خراب ہو گئے تھے. وہاں کے انٹرنیٹ کنکشن بھی بند کر دیے گئے تھے. ابھی وه ایک دوست کے گھر تھی جسجا لینڈ لائن تھا (لینڈ لائنز آن تھے), وہاں سے بات کر رہی تھی.

خولہ نے پھر اسے اپنے حالات نہیں بتائے. کہ اسکے پہلے ہی اتنے مسئلے تھے, تو کیا پریشان کرتی. یہ تو خودغرضی سی ہوتی.
عبدالله کا پتا چلا کہ فل حال اب مجاہدین کے ساتھ ہی رہتا تھا. گھر نہیں آتا تھا. کیونکہ کہ اسکا گھر آنا گھر والوں کو مشکل میں ڈال سکتا تھا. انڈین آرمی کشمیری مجاہدین کو ڈھونڈنے میں پاگل ہوئی ہوئی تھی.
خولہ کے دل سے دعا نکلی تھی کہ وه جہاں بھی رہے الله کی حاظت میں رہے. خوش رہے دونوں جہانوں میں.
کیا ہوا کہ اسکے دل کی تمنا پوری نہیں ہوئی. یہ تو اس رب کی مرضی تھی. اسکے فیصلے تھے. اور خولہ نے صحابہ کی طرح سر جھکانا سیکھ لیا تھا. سر تسلیم خم کرنا. الله نے اس سے اپنی خوشی, اپنے دل کی قربانی مانگی تھی. تو پیارے رب کو کیسے انکار کرتی. اپنی محبت کو الله کے لیے, اس کے آگے ہی ذبح کر دیا. خولہ نے بھی دکھا دیا کہ اس نے یہ رستہ الله کے لیے چوز کیا تھا, مریم یا عبدالله کے لیے نہیں کہ وه نہ ملیں تو رستہ بھی چھوڑ دیا.
الله کی محبتوں کے تو پھر ایسے ہی امتحان ہوا کرتے ہیں.
سخت..
اپنا دل باہر نکال کر رکھ دینے والے.

لیکن پھر اعزاز بھی اس ہی قدر بڑا ہی ملتا ہے. وه رب آپکا زمین سے اٹھا کر آسمان پر چڑھا دیتا ہے.
ایک ہوتا ہے دنیا والوں کا آسمان پر چڑھانا.
اور ایک ہوتا ہے الله کا آسمان پر چڑھانا.
پھر خود سوچ لیں جسکو وه رب آسمانوں پر اٹھائے وه کیسی ہواؤں میں اڑے گا.

اب آپ پر ہے کہ آپ کس کی نظر میں اٹھنا چاہتے ہیں.
دنیا کی.. یا الله کی !!

خولہ کو الله نے آج اپنے سوا ہر محبت سے بےنیاز کر دیا تھا. جس بےنیازی کی تلاش میں وه اتنا عرصہ گھلتی رہی, وه اسے الله کی خاطر ہر رشتہ, ہر محبت قربان کر دینے کے بعد مل گئی تھی.

اب اس نے سوچا تھا وه کبھی اپنی خاطر محبت نہیں کرے گی. صرف الله کی خاطر ہی محبت کرے گی. اپنے شوہر کو بھی الله کے لیے بہت محبت دے گی.
کیوں.. کیونکہ وه اسکے لیے اس کے رب کی پسند تھی. اس نے ہی رشتہ کروایا تھا اور نکاح بھی. تو وه بھی اب اس رب کی ہی خاطر اپنی سب محبتیں اپنے زوج پر لٹائے گی. کہ اس سے وه الله خوش ہو گا جسکے دیدار کا شرف حاصل کرنے کو وه اپنی آرام ده , پرکشش زندگی کو ٹھوکر مار آئی تھی.

  • ‏زندگی میری فقط تیری رضا کے واسطے
    اور جان دے دوں میرے پیارے خدا تیرے لئے
    اے خدا تیرے لیے بس اے خدا تیرے لئے

‏مال اور نہ جاہ , بس رب کی محبت چاہیے
حُب دنیا راہ سے ہٹ, مجھ کو جنت چاہیے

اجنبی سارے جہاں میں بن گیا تیرے لئے
اے خدا تیرے لئے، بس اےخدا تیرے لئے

‏دل شہادت کی تمنا میں تڑپتا ہے میرا
جنتوں کی چاہ میں بس جی مچلتا ہے میرا
باندھ کے سر پہ کفن چل پڑا تیرے لئے
اے خدا تیرے لئے بس اےخدا تیرے لئے

‏گونتنامو کے اسیروں نے پکارا ہے مجھے
ہاں فلوجہ کے شہیدوں نے پکارا ہے مجھے
کہہ کے لیبک صدا پر چل پڑا تیرے لیے
اے خدا تیرے لئے بس اے خدا تیرے لئے

‏جب تیرا ہو خوف دل میں تو کسی سے کیا ڈروں؟
خود سے تو کچھ بھی نہیں، اک تیری نصرت سے لڑوں
کر کے بس تجھ پہ بھروسا ڈٹ گیا تیرے لئے

‏تیری راہ میں زخم کھانا تو سعادت ہےمیری
میرے رب یہ زندگی میری, امانت ہے تیری
نام پر تیرے لٹانے, چل پڑا تیرے لئے
اے خدا تیرے لئے, بس اے خدا تیرےلئے

‏اب قدم رکنے نہ دیں میرے, صدائے انفرو
سر بکف ہو کر لڑوں جب تک رگوں میں ہےلہو
ایک اک خواہش کو قرباں کرچکا تیرےلئے
اے خدا تیرے لیے, بس اے خدا تیرے لئے *


” اچھے بھائیو اور بہنو ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے ۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری تمام کوششیں قبول فرمائے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں علمِ مفید عطا کرے ۔

اللہھم انا نسئلک علما نافعا ونعوذبک من علم لا ینفع ۔”

شیخ انور العولکی بیان شروع کر چکے تھے. سعد اپن لیپ ٹاپ رکھے, ائیر فون لگائے خولہ کا بتایا, شیخ کا انگریزی لیکچر

Battle of hearts and minds

(دل و دماغ کی جنگ)

سن رہا تھا. پچھلے دنوں جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے دوباره شروع کیا.

شیخ بتا رہے تھے کہ طاغوت کو اس بات کی کتنی فکر ہے کہ مسلمانوں کےاذہان اور ان کے خیالات کو وہ اپنے قابو میں لے سکے.
امریکی ڈیفینس ڈیپارٹمنت نے اپنی رپورٹ میں خود کہا کہ امریکہ ایک ایسی جنگ میں مصروف ہے جو کہ ہتھیار اور افکار دونوں کی جنگ ہے ۔ ایک ایسی جنگ کہ جس میں مکمل فتح اسی صورت میں حاصل ہو گی جب شدت پسند نظریات اور افکار کو ان کے اپنے ہی چاہنے والوں اور اپنانے والوں (یعنی مسلمانوں) کی نظروں میں گرا دیا جائے ۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، ہر دور میں اہل حق موجود رہے ہیں اور وہ بھی جو خود بھی سیدھے رستے سے بھٹک جاتے ہے اور لوگوں کی بھی بھٹکاتے ہیں۔ لیکن اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ طاغوت خود اسلام کو بدل دینا چاہتا ہے ۔ بغیر شرم اور ہچکچاہٹ کے وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم نہ صرف مسلم معاشروں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں بلکہ ان کے دین کو بھی بدل دینا چاہتے ہیں.
خود کہہ رہے ہیں کہ کم از کم دو درجن ملکوں میں ہم نے خاموشی سے اسلامی ٹی وی شوز ، ریڈیو اور مسلمانوں کے سکولوں کے نصاب کے لئے فنڈ دئے ہیں ۔۔۔ موڈریٹ(معتدل) اسلام کو فروغ دینے کے لئے ۔

وہ ماڈرن(نئے) اسلام کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور اس کے لئے لاکھوں, کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ کیا ایسے باتوں پرایک مسلمان کو غصہ نہیں آنا چاہئے؟ کہ کافر کھلے عام یہ کہہ رہے ہوں کہ ہم تمہارے دین کو ہی بدل دینا چاہتے ہیں۔ تم کیسے ہمت کر سکتے ہو؟ کہ تم ہمیں بتاؤ کہ اسلام کیا ہے اور کیا نہیں، جبکہ تم خود کافر ہو!!!

شیخ کہہ رہے تھے کہ رینڈ کارپوریشن ایک ایسا ادارہ ہے جو کہ بغیر منافع کے کام کرتا ہے اور اس کے سولہ سو ملازم ہیں. یہ ادارہ امریکی دفاعی محکمے کو اپنی تحقیات فراہم کرتا ہے اور پینٹاگون سے منسلک ہے۔۔۔
اس نے اس موضوع پرایک سے زیادہ رپورٹس شائع کی ہیں اور میں ان میں سے ایک پر بات کرو ں گا۔

اس رپورٹ میں جس کا عنوان”شہری جمہوری اسلام ” ہے جس کو شیرل برناڈ نے پیش کیا ہے، جو کہ ایک یہودی عورت ہے اور ایک مرتد سے شادی شدہ ہے۔ اس سے زیادہ برا اور کیا ہو سکتا ہے! اس کا خاوند زلمائی خلیل زاد ایک مرتد ہے جو کہ بہت اونچےامریکی منصب پر رہ چکا ہے ۔ وہ اقوام متحدہ کا ایک جگہ سفیر بھی رہ چکا ہے اور افغانستان اور عراق میں بھی سفیر رہ چکا ہے.
تو وہ اب کافی حساس معاملات میں اس کو شامل کر رہے ہیں۔

سو یہ شیرل برنارڈ اس کی بیوی ہے اور اس نے اپنی یہ رپورٹ شائع کی ہے ۔جس کا عنوان ہے:

“Civil Democratic Islam”

تو عنوان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیسا اسلام چاہتے ہیں! کس طرح کا اسلام ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں! اور اس کے لئے اپنی فوجیں تک بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اپنی مرضی کا اسلام اپنانے پر بزور قوت مجبور کر سکیں۔

شیرل یہ مشورہ دیتی ہے کہ ان موڈریٹ(معتدل) مسلمانوں کے کاموں کی اشاعت اور فروغ کے لئے ان کی مالی معاونت کی جائے۔

لیکن ۔۔۔ یہ موڈریٹ یعنی معتدل مسلمان ان کے مطابق ہیں کون؟؟؟
تو جی ہاں, انہوں نے اس کے لئے باقاعدہ ایک لسٹ دی ہے جو کہ یہ بتاتی ہے کہ کون موڈریٹ مسلم ہے اور کون نہیں!
ذرا دیکھئے انہوں نے اس کے لئے کتنی تفصیلی محنت کی ہے ۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ ان کے مطابق موڈریٹ مسلمان کون ہے؟

🔴 “رینڈ پبلیکیشن کی جانب سے پیش کئے گئے موڈریٹ (معتدل) مسلمان کے اوصاف”: 🔴

⬅ (نمبر ایک) جمہوریت:

تو ایک موڈریٹ مسلمان وہ ہے جو کہ جمہوریت اور جمہوری نظام میں یقین رکھتا ہو!
اب ایسے مسلمان ہیں جو کہ جمہوریت کو قبول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلامی شوریٰ کا نظام جمہوریت جیسا ہی ہے تو ہم اس کے لئے جمہوریت کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں، جب کہ اصل میں ہم شوریٰ پر یقین رکھتے ہیں ۔ اور یہ کہ یہ مغرب کو اچھا لگتا ہے کہ ہم جمہوریت کی بات کریں کیونکہ وہ شوریٰ کے اسلامی تصور کو نہیں سمجھتے۔

میں آپکو بتا رہا ہوں کہ کچھ مسلمان کیا یقین رکھتے ہیں اور کچھ مسلمان کیا کہتے ہیں۔ اور وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مسلمان دنیا میں موجود آمریت کو مغرب کی مدد سے بدل سکتے ہیں اگر وہ خود کو ایسا پیش کریں کہ وہ جمہوریت چاہتے ہیں اور یہاں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ، اول، جمہوریت اسلامی نہیں ہے، جمہوریت ایک نظام ہے اور اسلام نے ہمیں بالکل مختلف نظام عطا کیا ہے۔ اور بہت کم ہیں جو کہ اسلامی ریاست اور شوریٰ کے نظام پر یقین رکھتے ہیں. اوراس کو وہی کہتے ہیں جو وہ اصل میں ہے۔۔۔ نہ کہ جمہوریت۔

دوم ، یہ چال ان لوگوں پر نہیں چل سکتی جو کہ رینڈ میں ہیں کیونکہ انہوں نے تفصیلاً بتا دیا ہے کہ وہ ایک موڈریٹ مسلمان سے کیا کچھ چاہتے ہیں۔

سوم، سو وہ خود کہتے ہیں کہ جمہوریت کی وہی یقین دہانی مطلوب ہے جس کو آزاد خیال مغربی معاشرے میں جانا جاتا ہے۔ مطلب کہ مجھے وہ جمہوریت مت بتاؤ جو کہ میں اسلامی نقطۂ نظر سے سمجھتا ہوں ۔ نہیں! یہ کافی نہیں! جو ہم چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسی جمہوریت کی یقین دہانی کرائی جائے جس کو آزاد خیال مغربی معاشرے میں سمجھا اورتسلیم کیا جاتا ہے۔
اور وہ مزید کہتے ہیں کہ جمہوریت کی حمایت کا مطلب ہے ۔۔۔ اسلامی ریاست کے تصور کی مخالفت!
سو ایک موڈریٹ مسلمان وہ ہے جو جمہوریت میں یقین رکھتا ہو جو کہ اسلامی ریاست کے مخالف ہے۔
اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ایک گروہ کو خود کو جمہوری کہلوانے کے لئے ، حکومت کے قیام کے لئے خود کو الیکشن کا حامی قرار دینا ، جیسا کی مصر کے اخوان کا معاملہ ہے ، کافی نہیں۔

⬅ (نمبر دو ) قانون کے غیر فرقہ وارانہ ذرائع کو قبول کرنا:

مطلب کہ آپ اپنی مرضی سے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنائیں گے اور وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ وہ لکیر جو موڈریٹ اور بنیاد پرست مسلمان کے درمیان فرق کرتی ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کو لاگو کیا جائے یا نہیں؟

سو ان کے نزدیک ہر وہ مسلمان جو کہ شریعت کا نفاذ چاہتا ہے انتہا پسند ہے اور معتدل مسلمان وہ ہے جو کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کو بخوشی قبول کر لے ، چاہے وہ فرانسیسی قانون ہو ، برطانوی یا کوئی بھی اور ۔۔۔سوائے اللہ کے قانون کے۔

⬅ (نمبر تین) عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا احترام:

اب ہم عورتوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں ، لیکن ان کے کے معیار کے مطابق نہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک اسلامی ریاست جو کہ حجاب کو لازم قرار دیتی ہے وہ انتہا پسند ہے ۔اور اگر وہ نصرانیوں اور یہودیوں سے جذیہ لے تو یہ انتہا پسند ہے۔

⬅ (نمبر چار) دہشت گردی اور ناجائز تشدد کی مخالفت:

تو ایک مسلمان جو کہ اپنی زمینوں کی حفاظت کرتا ہے ، جو قبضے کو نہیں مانتا ، جو اسلامی قوانین کے تحت زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ایک انتہا پسند ہے۔
اور موڈریٹ مسلمان وہ ہے جو امریکہ کو دعوت دے کہ وہ آئے اور اس کی زمین پر قبضہ کرے ۔وہ خوشی سے انسانی قوانین کو اپنائے اور جس میں نہ کوئی غیرت ہو اور نہ وقار کہ وہ اس حملے سے اپنا دفاع کر سکے۔

سو آپ دیکھ لیجئے کہ ان کے نزدیک جو موڈریٹ مسلم ہے ، حقیقت میں وہ غیر مسلم ہے! کیونکہ یہ چار باتیں جو انہوں نے پیش کی ہیں یہ کفر ہیں نہ کہ اسلام! سو اب میں اسکو موڈریت مسلم نہیں کہوں گا بلکہ اسکے لئے زیاہ مناسب اصطلاح رینڈ مسلم ہے۔

اس کے بعد ان کے پاس ایک سوالنامہ بھی ہے کہ جس کو وہ ایک مسلمان کو دیں اور وہ اس کا جواب دے اور پھر وہ کوئی فیصلہ کریں گے کہ وہ ایک انتہا پسند مسلم ہے یا ایک موڈریٹ مسلم۔ اور سبحان اللہ! آپ انکا مسلمانوں کی جانب تکبر دیکھ پائیں گے ، یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کو جانچ رہے ہیں اور اسکا امتحان لے رہے ہیں اور پھر ہمیں اس کے نمبر دے رہے ہیں۔

🔴 سوالنامہ یہ ہے: 🔴

⬅ کیا ایک گروہ یا فرد تشدد کی حمایت کرتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس نے ماضی میں کبھی اس کی حمایت کی؟

تو یہ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اگر آپ ابھی تشدد کی بات کرتے ہیں۔ اگر آپ کا ماضی میں تشدد سے کوئی واسطہ رہا ہے تو آپ کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔(اور تشدد سے کیا مراد ہے وہ آپ جانتے ہیں۔)

⬅ اگلا سوال، کیا یہ جمہوریت کی حمایت کرتا ہے ، اگر ہاں تو کیا یہ جمہوریت کی وسیع طور پر انفرادی حقوق کی اصطلاح میں وضاحت کرتا ہے؟

⬅ اگلا سوال، کیا یہ عالمی طور پر پہچانے جانے والے انسانی حقوق کی حمایت کرتا ہے؟

⬅ اگلا سوال، کیا یہ کسی کو استثنیٰ دیتا ہے؟ مثلاً مذہبی آزادی کے معاملے میں۔۔

تواگر آپ مرتدین پر شرعی حدود نافذ کرتے ہیں تو آپ انتہا پسند ہیں!

⬅ کیا وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ تبدیلی مذہب ایک فر د کا حق ہے؟

تو اگر ایک مسلمان ایک یہودی ، عیسائی بننا چاہے یا گائے ، بندر یا سانپ کی پوجا کرنا چاہے تو اس کو یہ حق حاصل ہے! اگر ایک مسلمان جس کو اللہ نے سیدھا راستہ دکھایا اور اسلام سے عزت بخشی ، اللہ کو جانا اور نبی ﷺ کی اطاعت کی ، اگر ایسا شخص جس کو اللہ نے نعمت سے نوازا ، اگر وہ ایک گائے کی پوجا کرنا چاہے تو اس کو اسکا پورا حق حاصل ہے!

⬅ کیا وہ یقین رکھتا ہے کہ ریاست کوجرائم کے لئے شریعت کی حدود کا نفاذ کرنا چاہئے؟

مطلب یہ کہ کوئی حدود نہیں ہونی چاہئیں!

⬅ اور کیا وہ یقین رکھتا ہے کہ غیر شرعی اختیارات بھی ہونے چائیں؟

سبحان اللہ! ہم یہاں کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا سبزی کے بازار میں ہم آلو پیاز خرید رہے ہیں؟ تم کونسے غیر شرعی اختیارات کی بات کر رہے ہو؟ دنیا کی کوئی بھی ریاست قانون کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں دیتی۔ ہر معاملے میں صرف ایک ہی قانون ہوا کرتا ہے۔ اور یہاں ہم سے وہ چاہتے ہیں کہ اختیار موجود ہو، مطلب کہ آپ عدالت میں جائیں اور آپ کو اختیار دے دیا جائے کہ آپ کونسا قانون اختیار کرنا چاہتے ہیں!!!

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

نہیں، اے محمد ؐ !تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اِختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسُوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ (النساء)

کوئی بھی مسلمان اس وقت تک حقیقی مسلمان نہیں جب تک وہ اللہ کے قانون کو قبول نہ کر لے۔

جاری ھے

Advertisements

علم کوشیطان کا ہتھیاربنانے سے بچیں

علم کوشیطان کا ہتھیاربنانے سے بچیں
اسرا میگ:اگست 2017 
” حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ” میں نے کہا۔
“تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟” حضرت نے جواب دیا
“جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے سامنے کھڑا ہوگیا؟”
” دو ہدایات پر عمل کرو،پہلی یہ کہ جو کچھ علم حاصل کرو، اس کی تمام اچھائیوں کو من جانب اللہ سمجھو۔ ہر اچھی کوٹ، آرٹیکل یا کتاب لکھو تو اس کے اچھے پہلووں کو من جانب اللہ سمجھو۔اس کا سارا کریڈٹ خدا کے اکاؤنٹ میں ڈال دو۔ اس سے ملنے والی تعریفوں پر یوں سمجھو کہ لوگ تمہاری نہیں بلکہ اس خدا کی توفیق کی تعریف کررہے ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ۔”
” بہت عمدہ بات کہی آپ نے حضرت!، دوسری ہدایت کیا ہے؟”
” دوسری ہدایت یہ کہ جب کسی کو علم سکھاؤ تو استاد نہیں طالب علم بن کر سکھاؤ۔ اس کو سمجھانے کی بجائے اس سے طالب علم بن کر سوال کرو۔ اس کے سوالوں کے جواب ایک طالب علم کی حیثیت سے دو۔ اپنی کم علمی اور غلطیوں کا کھل کر اعتراف کرو۔ اس طرح تم خود کو عالم نہیں طالب علم سمجھو گے اور تکبر پیدا نہیں ہوگا۔
” بہت شکریہ حضرت! آپ نے بہت اچھے طریقے سے بات کو سمجھایا۔”
“یاد رکھو ! علم وہ ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال خود کو ہی ہلاک کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ شیطان سب سے آسانی سے عالموں ہی کو پھانستا ہے۔ پہلے اسے یہ یقین دلاتا ہے تم تو عالم ہو، تمہیں سب پتا ہے۔ جب سب پتا ہے تو یہ کل کے بچے تمہارے سامنے کیا بیچتے ہیں؟ اس کے بعد لوگوں کو حقیر دکھاتا ہے ۔، لوگوں کے لائکس اور واہ واہ کو استعمال کرکے انسان میں تکبر ، غرور اور انا کو مضبوط کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان خود کو عقل کل سمجھنے لگ جاتا ہے۔ پھر اپنی اور دنیا والوں کی نظر میں عالم اور متقی نظر آتا ہے، لیکن خدا کی کتاب میں اسے “ابوجہل” لکھ دیا جاتااور فرشتوں کی محفل میں اسے شیطان کا ساتھی گردانا جاتا ہے اور اسے خبر تک نہیں ہوتی۔”

via Blogger http://ift.tt/2gro15w

پیغام حدیث

#پیغام_حدیث

Daily Hadith | Traveler’s Prayer

سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی سواری پر رات کی نماز سفر کی حالت میں پڑھتے تھے اور اس کی پرواہ انہیں بالکل نہ ہوتی کہ سواری کا رخ کس طرف ہے۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے جس طرف سواری کا رخ ہوتا اور اس پر وتر بھی پڑھتے مگر یہ کہ فرض نماز سواری پر نہ پڑھتے۔

[Sahih Al-Bukhari, Shortening the Prayers (At-Taqseer), Hadith: 1098]

پیغام قرآن

#پیغام_قرآن

Quran’s Lesson – Surah Al-Isra 17, Verse 5-6, Part 15

پھر جب ہمارا پہلا وعدہ آگیا تو اے بنی اسرائیل ! ہم نے تمہارے مقابلے میں اپنے بڑے جنگ جو بندے لاکھڑے کئے جو تمہارے شہروں کے اندر گھس (کر دور تک پھیل) گئے۔ یہ (اللہ کا) وعدہ تھا جسے پورا ہونا ہی تھا۔ پھر ہم نے ان (فاتحین) پر تمہیں غلبہ کا موقع دیا، مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور نفری میں بہت زیادہ بڑھا دیا۔