Mohabbat


زندگی کے تپتے ہوئے ریگزار میں محبّت گویا ایک نخلستان سے کم نہیں۔۔۔
محبّت کے سامنے نا ممکن و محال کچھ نہیں۔۔۔
محبّت پھیلے تو پوری کائنات سمٹے تو ایک قطرہ خون۔۔۔
در حقیقت محبّت ، آرزوئے قرب حسن کا نام ہے – ہم ہمہ وقت جس کے قریب رہنا چاہتے ہیں ، وہی محبوب ہے۔۔۔
محبوب ہر حال میں حسین ہوتا ہے۔۔کیونکہ حسن تو دیکھنے والے کا اپنا انداز نظر ہے۔۔
ہم جس ذات کی بقا کے لیے اپنی ذات کی فنا تک گوارا کرتے ہیں وہی محبوب ہے۔۔۔
محبّت اشتھائے نفس اور تسکین وجود کا نام نہیں۔۔۔
اہل ہوس کی سائیکی اور ہے ، اور اہل دل کا انداز فکر اور۔۔۔
محبّت دو روحوں کی نہ ختم ہونے والی باہمی پرواز ہے۔۔۔

واصف علی واصف

Advertisements

Meri duniya



دنیا کتنی چھوٹی ہے نا ۔۔۔
“تم“ پہ آ کے رُک سی گئی ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Duniya Kitni choti Si Hai Na

Tum Pe Aakey Ruk Si Gayi Hai

Raabta

نہیں ہوتا کبھی جو رابطہ اس سے مرا محسن
میں خود میں ڈوب جاتا ہوں، وہ مجھ کو مجھ میں ملتا ہے

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

Nahin Hota Kabhi Jo Rabta Us Se Mera MOHSIN
Main Khud Main Doob Jata Hoon, Woh Mujh Ko Mujh Main Milta Hai

Kashish


بعض لوگ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتے ہیں کہ دِل آپ ہی آپ اُن کی طرف کھنچتا ہے اور پھر وہ اتنے عزیز ہو جاتے ہیں کہ کہیں بھی رہیں، مُحبّت میں کمی نہیں آتی کیونکہ اُن کی ہر ادا دِل پر نقش ہو چُکی ہوتی ہے۔۔۔۔!

از نگہت عبدللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روٹھنے نہ دینا

Dua ki qubooliyat


میرا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہماری دعا قبول ہو جائے تو ہمیں اس بات پر خوشی نہیں یوتی کہ دعا قبول ہوگئی اور خوشی نہ ہو تو۔ احساس شکر گزاری پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ الٹا ہمیں یہ غم لگ جاتا یے کہ قبولیت کے اس لمحے میں ہم نے کچھ اور کیوں نہ مانگ لیا۔

(اقتباس: ممتاز مفتی کی کتاب ” لبیک” سے)