ذرا سوچئیے


  • گلی میں کوڑا کرکٹ پڑا ہے تو حکومت صاف کرے
  • سٹریٹ لائٹ خراب ہوگئی ہے تو حکومت ٹھیک کرے
  • گٹر بند ہوگیا ہے تو حکومت کھلوائے
  • ہم نے اپنی دکان کا سامان سڑک پر دور تک پھیلا کر یہ گلہ کرنا ہے کہ حکومت ناجائز تجاوزات ختم نہیں کرواتی رستے تنگ ہوگئے ہیں
  • ہم نے سارا دن دفتر میں بیٹھ کر گپیں مارنی ہیں اور گلہ کرنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام نہیں ہوتا اور حکومت سوئی ہوئی ہے
  • ہم نے اپنی مرضی سے چیزوں کی قیمت بڑھا کر اور دو نمبر چیزیں بیج کر کہنا ہے کہ مہنگائی بہت ہوگئی ہے حکومت کچھ نہیں کر رہی
  • ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ہمیں اپنے کام کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے کچھ دے دلا کر ہمارا کام جلدی ہوجائے اور پھر گلہ کرنا ہے کہ یہاں کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا
  • ہم غلط جگہ پر رکشہ ، گاڑی یا وین کھڑی کرکے سڑک بند کردیتے ہیں اور چالان ہونے پر کہتے ہیں کہ یہ حکومت تو غریبوں کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔
کیا ہمارا کوئی فرض نہیں ، کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ، کیا یہ سب کچھ حکومت کے ذمہ ہے ۔ ہم چاہے کریں ، جیسے مرضی رہیں
افسوس کے ہم خود کچھ کرنے کو تیارنہیں اور برا حکومت کو کہتے ہیں
Advertisements

امید

“اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمار اندر باہر خشک ہوتا ہے۔ اور ہمہیں ذندگی میں کوئ کشش کوئی رنگینی محسوس نہیں ہوتی۔۔۔باہر کا موسم اچھا بھی ہو تو ھمارے من کی ویرانی اور پیاس ہمیں بیرونی فضا سے محظوظ ہونے نہیں دیتی۔۔۔مگر۔۔۔۔پھر ایک وقت آتا جب ایک چھوٹی سی بات،ایک چھوٹی سی ُامید،ایک اچھوتا سا خوشی کا َننھا سا احساس ہمارے اندر جل تھل کر دیتا ہے۔۔۔اور ہمارا تن من سیراب ہو جاتا ہے، اور ھمارے اندر اُمید کی ایک بے ساختہ خوشی کی پھوار برسنے لگتی ہے۔۔۔۔اور اس ُپھوار میں بھیگ کر ہماری روح تک سرشار ھو جاتی ہے۔۔۔۔من کی یہ حسین اور دل فریب جل تھل دراصل اس بیرونی خوشی کی امید کا نتیجہ ھوتا ہے، جو نامحسوس طریقے سے ہمارے اندر ُسرایت کر جاتی ہے۔۔۔اور ہمارے اندر کی ساری کثافت دھو کر ہر طرف خوشی اور اُمید کا سبزہ کھلا دیتی ہے،اور ہم خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں جتنا باہر کی فضا بارش کے بعد اپنے آپ کو محسوس کرتی ہے۔”
-Wajeeha Sehar –