وظیفے کا کرشمہ


وظیفے کا کرشمہ
 (فرح رضوان)
body,html { overflow-y: hidden; overflow-x: hidden;}


رضیہ بھی ہر روز کی جھک جھک سے تنگ آ چکی تھی۔ اس لیے اپنی بہن کی بات کو بہت دھیان سے سن رہی تھی۔ رضیہ کے میاں کا غصّہ اس سے چھپا ہوا نہیں تھا۔ وہ گھٹی گھٹی رہتی اور بچے سہمے رہتے تھے۔ وہ میاں کے لیے طرح طرح کے کھانے بناتی، وقت پر اسکے کپڑے تیار رکھتی، اس کے رشتے داروں کی خوب خاطر مدارات کرتی، لیکن میاں کی بد مزاجی میں کمی نہ آتی۔ اور گونگی تو وہ بھی نہ تھی۔ سو اس اکثر ظلم کے خلاف بول اٹھتی، اور یوں جھگڑے کی ایک نہ ختم ہونے والی ابتدا ہوجاتی۔ جاننے والوں میں کوئی کہتا کہ نظر لگ گئی ہے۔ کوئی کہتا یہ تو جادو یا بندش کا معا ملہ لگتا ہے۔ انہی خدشات کو ذہن میں رکھ کر اس کی بہن کسی خاتون کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے رضیہ کو اس کے پاس چلنے پر اکسا رہی تھی-
 
’’بجو! ایمان سے وہ کوئی جعلی پیر نہیں، ایک پیسہ نہیں لیتی، جب سے ہمارے محلے میں آئی ہے کتنے گھروں کے جھگڑے ختم ہو گئے ہیں، بڑی اللہ والی عورت ہے بڑے زبردست وظیفے بتاتی ہے۔‘‘
 
اور آخر کار اگلے دن دونوں وہاں پہنچ گئیں۔ رضیہ کو زیادہ نہیں بتانا پڑا۔ خاتون خود ہی آگے سے آگے بولے جا رہی تھیں۔ وہ اندر ہی اندر”باجی” کی پہنچ کی قائل ہو چکی تھی، لیکن یہ کیا ! باجی نے اس کا کیس ہاتھ میں لینے سے صاف انکار کر دیا۔ پھر دوسری خاتون کو بلانے کا اشارہ کیا۔ رضیہ نے بہت کوشش کی لیکن وہ نہ پیسے لے کر مانی نہ منت سماجت پر۔ اس کا کہنا تھا کہ وظیفہ بہت کٹھن ہے۔ تین ماہ میں ایک دن بھی کسی عمل میں کمی ہوگئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ رضیہ نے بڑے بُرے دن دیکھے تھے، وہ وہیں کونے میں دبک کر باقی عورتوں کے جانے کا انتظار کرتی رہی۔ جب سب چلی گئیں ، تو باجی نے اسے خود ہی بلا کر سمجھایا کہ دیکھو بی بی تمہارے میاں جس قدر جلال میں آ جاتے ہیں ان کے علاج کے لیے وظیفہ بھی بہت ہی جلالی کرنا ہوگا اور اس کے لیے تم کو بہت مشقت کرنی ہو گی۔ کچھ احتیاط تو شروع کے نوے دن کرنی ہے باقی تاحیات کرنی ہوں گی۔ رضیہ نے رو رو کر ان سے پکّا وعدہ کیا کہ آپ جیسا کہیں گی میں بالکل ویسی ہی پابندی کروں گی۔ عہد و پیمان کے مکمل ہونے کے بعد باجی نے کچھ ڈبّے کھول کر مختلف سفوف نکال کر رضیہ کو تھماتے ہوئے ان کے استعمال کا طریقہ بتانا شروع کیا۔ طویل فہرست تھی جو اسے یاد رکھنے کے لیے لکھنی پڑی- وہ گھر لوٹی تو اس نے بہت سوچ بچار کر یہ فیصلہ کیا کہ وظیفہ فوری شروع نہ کیا جائے، کیونکہ اس کے لیے جو شرطیں لازمی پوری کرنی تھیں ان کو پورا کرنے میں تقریباً ہفتہ درکار ہوگا۔ ہر وہ کپڑا جو اس نے یا بچوں نے ایک بار بھی پہنا ہو ان کو دھو کر رکھنا تھا ، گھر کے در و دیوار کا ہر کپڑا جو دھل سکے اسے دھونا تھا۔ سو پہلے روز، تین دن کا کھانا اکھٹا بنا کر رکھا، پھر ساری الماریاں اس بہانے صاف ہوگئیں، کچھ غریبوں کا بھی بھلا ہوگیا کہ فالتو کپڑے انھیں دے ڈالے۔ یہاں تک کہ سردیوں میں تین تین ماہ متواتر پہنے جانے والے کوٹ جو گزشتہ تین سال سے ڈرائی کلین نہیں ہو پائے تھے ان کے بھی دن پھر گئے۔ اگلا مرحلہ درو دیوار تھے۔ برسوں بعد آج گھر کے پردوں کو کھڑکیوں سے جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ اگلی باری اندھیری اور نمی والی جگہوں کی تھی جہاں کچھ سفوف چھپا کر رکھنے تھے۔ یوں وظیفہ شروع کرنے کا دن آ پہنچا۔ اس کا دل سوال کیے جا رہا تھا کہ اتنی جان مارنے کے بعد بھی کچھ نہ ہوا تو؟ لیکن آج سے اس کے منفی سوچنے، کُڑھنے اور غصّہ کرنے وغیرہ سب پر اگلے تین ماہ کے لیے سخت پابندی تھی، اور ان سب سے نجات کے لیے اسے کثرت سے الحمد للّہ کا ورد کرنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ورد کرتے کرتے خود بخود اسے زندگی میں ان گنت مثبت باتیں بھی نظر آنی شروع ہو گئیں اور وہ اپنی ناشکری پر استغفار کے ساتھ ہی ان نعمتوں پر شکر کرنے کی عادی ہوتی گئی۔
دوسرے اوراد بھی پڑھنے میں تو آسان ہی تھے لیکن ان کے انتظامات بہت تھے، صبح والا وظیفہ رات کو پہنے ہوئے کپڑوں میں نہیں پڑھا جانا تھا، اب لازمی اسے بچوں کو ڈراپ کرنے سے پہلے حلیہ ٹھیک کرنا پڑتا، دوپہر والے کے لیے تو بہت کوشش کرنی پڑتی، اس کے لیے رضیہ نے حل یہ نکالا کہ وہ ناشتے کے فوراً بعد نہ صرف کھانا بناتی بلکہ ساتھ ہی موم بتی بھی جلا کر رکھتی تاکہ کچے گوشت اور مصالحوں اور سبزیوں اور دالوں کی بو اس کے محنت سے صاف کیے پردوں اور الماریوں میں نہ جذ ب ہو سکے، ورنہ اسے دوبارہ اسی مشقت سے گزرنا پڑتا، لیکن اب وہ پہلے والی آزادی کہاں تھی، اب تو کھانا پکانے کے بعد لازمی اسے نہا دھو کر کپڑے تبدیل کرنے پڑتے، ابھی شروع ہی کے دن تھے کہ کسی بات پر میاں صاحب غضب ناک ہو اٹھے۔ رضیہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹنے کو تھا کہ اسے باجی کی دی ہوئی نصیحت اور پڑھی ہوئی دارچینی یاد آگئی۔ اس نے جھٹ سے دارچینی کا ٹکڑا دانتوں کے بیچ رکھا اور، جتنی زور سے شوہر پر غصہ آیا اتنی زور سے اسے دباتی گئی یہاں تک کہ سخت مرچیں لگنے پر اسے پانی پینا پڑا، پانی پی کر رہا سہا غصہ بھی ٹھنڈا ہو گیا، اور ہر بار یہی ہوتا، حتٰی کہ یہ کرامت بھی ظاہر ہو گئی کہ میاں صاحب نے خود ہی اپنے رویے پر ندامت کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ دن گزرتے رہے اور ہر دن دوسرے سے بہتر ہوتا چلا گیا، گھر کے ہر فرد میں اور ماحول میں کئی مثبت تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہو گیں تھیں، تین ماہ گزرنے تک حالات مثالی ہو گئے تھے۔
رضیہ باجی کا شکریہ ادا کرنے پہنچی تو وہ اس کی روداد سن کر بہت خوش ہوئیں اور مسکرا کر کہنے لگیں کہ بیٹی! تم جیسی نادان بچیوں کو اللہ تعالیٰ جعلی عاملوں سے محفوظ رکھے۔ تمھارے گھر کا تمام بگاڑ تمھارے ناقص ٹائم مینجمنٹ اور سخت لاپرواہی کی وجہ سے تھا۔ بس ان کمزور پہلووں کو درست کرتے ہی ماشاللہ زندگی خوشگوار ہو گئی۔ جب تم پہلی بار میرے پاس آئی تھیں، مجھے اسی وقت تمہارا سٹیٹ آف مائنڈ سمجھ آ گیا تھا کہ اگر میں تم کو براہ راست یہ کہہ کر روانہ کردوں کہ بی بی جاؤ اپنا دھیان رکھو تو تم کبھی سمجھ نہ پاتی کیونکہ دو اسکول جانے والے بچوں کے ساتھ یہ ہو نہیں سکتا تھا۔ کسی بھی دوست رشتے دار نے کھلے یا ڈھکے چھپے تمہاری توجہ اس طرف نہ دلائی۔ بعض اوقات انسان اپنی عادتوں کا اسیر ہو جاتا ہے ۔ یہی تمھارے میاں اور تمہارے ساتھ ہوا۔ گھر گرہستی کے کاموں میں تم خود فراموشی کا شکار ہوتی چلی گئیں، میاں غیر شعوری طور پر عادی تو ہوتے گئے، لیکن لا شعوری طور پر راضی نہ ہو سکے۔ میں نے تمہیں غصّہ نہ کرنے کی سخت تاکید اس لیے کی تھی کہ مسلسل کُڑھتے رہنے کی وجہ سے جسم سے ایسے مادوں کا اخراج شروع ہو جاتا ہے جن کی بو نہانے کے باوجود بھی ختم نہیں ہو پاتی۔ جو سفید سفوف میں نے تمہیں دیا تھا وہ کوئی کرشماتی چیز نہیں تھا بلکہ سادہ سا پھٹکری کا پاؤڈر تھا جو کہ بہترین antiperspirant ہوتا ہے۔ کچھ تو مردوں کو تعریف کرنے کا سلیقہ نہیں آتا اورجب بیوی خود سلیقے سے نہ رہے، بچوں اور گھر کو سلیقے سے نہ رکھے تو وہ غصّہ بھی کرتے ہیں۔ وہ نہ خود وجہ سمجھ پاتے ہیں نہ سمجھا پاتے ہیں۔ بس بات بات پر الجھنے لگتے ہیں، جب تم نے ان سب باتوں پر توجہ دی تو حالات سدھر گئے-

سچ کہو کہ اگر میں تم سے کہتی کہ بیٹا جب میاں کو غصّہ آیا کرے تو تم ہر صورت خاموش رہا کرو تو کیا یہ بات تم خود نہیں جانتی تھیں۔ رضیہ جو حیرانی سے اب تک سب کچھ سن رہی تھی ندامت سے گردن ہلاتی ہوئی بولی کہ باجی ہر جھگڑے کے بعد میں خود کو کوستی کہ کاش میں چپ رہ جاتی تو بات ہی نہ بڑھتی لیکن جب وہ غلط الزام لگانے شروع کر دیتے تب تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باجی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا کہ رضیہ تمہارا ایمان کیا کہتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ غلط ہو سکتے تھے؟ رضیہ نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو وہ بولیں کہ ایک بار ایک آدمی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کسی بات پر بحث کرنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، وہ آدمی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتا رہا اور وہ خاموشی سے سنتے رہے جبکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے، لیکن جیسے ہی اس شخص سے تنگ آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے میں وہاں سے اٹھ کر جانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے لپکے اور ناراضگی کی وجہ دریافت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تم جب تک خاموش رہے تمہاری جانب سے ایک فرشتہ اس شخص کو جواب دے رہا تھا لیکن جب تم نے جواب دیا تو وہاں شیطان آگیا۔ پھر باجی ہنستے ہوئے بولیں کہ اب سے غصہ آئے تو دار چینی چبا کر منہ بند رکھو گی یا اس یقین سے کہ ایک فرشتہ تمہاری جانب سے جواب دینے پر متعین ہے اور وہ اس وقت تک جواب دیتا رہے گا جب تک تم خاموش رہوگی۔ رضیہ بھی ہنسنے لگی کہ باجی میں تو سمجھی تھی کہ دارچینی پر آپ نے زبردست عمل کیا ہوا ہے، واقعی میرے خاموشی اختیار کرنے سے حیرت انگیز طور پر یہ ہونے لگا کہ کچھ دیر غصّہ کرنے کے بعد یا کچھ دن کے بعد میاں صاحب وہی کہتے یا کرتے جو میں چاہ رہی ہوتی، پھر ساتھ ہی ایک سوال اور داغ دیا، باجی! اس بات کا تو مجھے احساس ہو رہا ہے کہ تین ماہ کا وقت میری عادتوں اور روٹین کو پکا کرنے کے لیے ضروری تھا لیکن گھر میں خوشبو اور میرے پاس سے خوشبو کا تعلق بھی وظیفے سے نہیں؟ باجی نے شفقت سے کہا کہ رضیہ! تھوڑا سا ذہن پر زور دو تو یہ بات سمجھ آجائے گی کہ خواتین کو نامحرم کے سامنے زینت اور تیز مہک سے کیوں روکا گیا ہے ، اور شوہر کے لیے اسی اہتمام کا کس قدر ثواب ہے- ہم بچپن سے پڑھتے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے، نوجوانی میں علم ہوتا ہے کہ نکاح کے ذریعے آدھا دین محفوظ ہو جاتا ہے، لیکن شادی کو دو سال نہیں گزرتے کہ سارے سبق محو ہو جاتے ہیں، کبھی نہ بھولنا کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو محبت سے دیکھتے ہیں تو اللہ ان کو رحمت سے دیکھتا ہے، اور رب کی اس نظر رحمت کے لیے عورت کو اپنی محنت، حکمت و اخلاق، صبر، درگزر اور مستقل مزاجی سے ماحول بنانا پڑ تا ہے-

ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ بہت سی مسلمان خواتین تو غیر مسلم سوسائٹی میں اپنا آپ منوانے کے لیے ان میں اتنا رچ بس جاتی ہیں کہ، پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ مسلمان ہیں ، اورجن کے پہناوے سے ان کے مسلمان ہونے کا پتہ چلتا ہے ان میں اکثر ایسی خواتین ہوتی ہیں جو باہر جاتے ہوئے ستر پوشی کا تو خیال رکھتی ہیں مگر personal hygiene and appearance کو یکسر فراموش کر دیتی ہیں۔ کاش وہ جان سکیں کہ بحیثیت مسلمان وہ اپنے ہر عمل سے یا تو ایک غیر مسلم کو دعوت دین دے رہی ہوتی ہیں یا اسے دین سے متنفر کرنے کی مرتکب ہو رہی ہوتی ہیں۔ جب وہ اسکول سے واپسی پر سودا لینے جاتی ہے، جب وہ کسی غیر مسلم پڑوسن یا اس کے بچے کو اپنی کار میں لفٹ دیتی ہے، اور کار کے اندر بکھری چیزیں اور خاتون سے اٹھتے ہوئے ناپسندیدہ بھپکے اے سی یا ہیٹنگ کی وجہ سے بند گاڑی میں گردش کرتی ہوا، ہر سانس کے ساتھ ان کے حلق میں پھنس جاتے ہیں تو ان تک کیا پیغام پہنچتا ہوگا۔ ۔ ۔ وہ اہم مشن جو ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اسے کتنا نقصان پہنچتا ہے، کاش ہم سمجھ پائیں۔ ہمیں تو ہر کام احسن طریقے سے کرنے کا حکم ہے، تو اب کوئی دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے، وہ تو نیت جانتا ہے، اور اعمال فرشتے لکھ رہے ہیں۔

 



 

Advertisements

دعا کی سائنس

دُعا خدا اور بندے کے درمیان مکالمہ کی ایک صورت ہے۔ دعا کے دوران خدا اور بندے کے درمیان قربت کی ایسی صورت پیدا ہوتی ہے جہاں بندہ اپنے دل کا حال بارگاہِ ایزدی میں پیش کردیتا ہے۔   ماہرین نفسیات و سماجیات  اور سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی میں بڑی گہری قوتیں پنہاں ہیں۔ ان سے نہ صرف سہارا‘‘ امید اور رفاقت کا احساس ملتا ہے بلکہ امراض کا حیرت انگیز تدارک اور مرض کی صورت میں معجزانہ شفاءبھی حاصل ہوتی ہے۔ دعا ذہنی و جسمانی صحت کو بہتر کرنے میں اہم کردار  اداکرسکتی ہے۔ 

بنیادی وجہ

ہم بولتے بہت ہیں لیکن سوچتے کم ہیں، ہم دوسروں کو تو بتاتے ہیں لیکن خود کو نہیں سمجھاتے، ہم دوسروں کو یاد دلاتے ہیں لیکن خود بھول جاتے ہیں، ہم اچھی باتوں کو دوسروں کے ساتھ شئیر کرتے ہیں مگر اپنے ساتھ شئیر کرنے کی کوشش نہیں کرتے، ہم دوسروں کا احتساب کرنا چاہے ہیں مگر اپنا احتساب نہیں کر پاتے، ہم دوسروں کی لاکھوں گز زمین پر انہیں برائی کے بجائے بھلائی کی فصل کی کاشت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اپنی دو گز زمین پر وہ فصل کاشت نہیں کرنا چاہتے۔ یہی ہماری خرابی کی بنیادی وجہ ہے۔

تحریر: ابو یحییٰ

خوشیاں

ﭘﻨﮑﮭﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ، ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﺲ ﺍﺳﮯ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﮑﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﮑﯿﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺳﺎﮐﻦ ﻭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﺑﺲ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺂﺧﺬ ﮐﻮ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﮑﺮ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑکھﯿﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔