آج کی بات۔۔۔ 30 اکتوبر 2014

برے کام اس لیے برے نہیں ہوتے کہ وہ منع ہوتے ہیں۔۔ بلکہ اس لیے کہ ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے!!
Advertisements

طوفان اور مزار


طوفان اور مزار
 (نوٹ یہ مضمون 2010 کے طوفان کے موقع پر لکھا گیا تھا)

بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا پیٹ (Phet) نامی طوفان 6 جون کی رات سندھ کے ساحلی شہر بھنبھور سے ٹکراکر ختم ہوگیا۔ ابتدا میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ طوفان کراچی اور اس کے مضافات سے ٹکرائے گا۔ تاہم مسقط اور گوادر میں تباہی مچانے والا یہ طوفان جو ابتدا میں کیٹگری 3 کا ایک طوفان تھا، پہلے کیٹگری 1 کے ہلکے طوفان میں بدلا اور پھر ہوا کا رخ آخری وقت میں بدلنے کے باعث کراچی سے ٹکرائے بغیر گزر گیا۔ کراچی شہر پر اس کا اثر صرف اتنا ہوا کہ طوفان سے قبل یہاں وقفے وقفے سے تیز بارش ہوئی۔ تاہم طوفان اس شہر سے کنارہ کرکے گزر گیا اور اس کا زیادہ تر نزلہ حیدرآباد اور اندرونِ سندھ کے دیگر شہروں پر گرا۔

شہر کراچی جو اس طرح کی کسی ناگہانی کو جھیلنے کے لیے آخری درجہ میں ایک ناتواں شہر ہے، تمام تر توقعات کے برخلاف حیرت انگیز طور پر اس پوری آفت سے محفوظ رہا۔ گرچہ تھوڑی بہت بارش بھی اس شہر میں نو انسانی جانوں کا نقصان کرگئی لیکن اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر یہ شہر طوفان کا براہِ راست نشانہ بن جاتا تو یہاں کس درجے کی تباہی آتی۔

کراچی ایک ساحلی شہر ہونے کے باوجود اکثر طوفانوں سے بچا رہتا ہے۔ عوام الناس میں اس حوالے سے یہ چیز مشہور ہے کہ اس شہر کے تمام ساحلی علاقوں پر بعض بزرگوں کے مزارات ہیں جو اس شہر کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ تصورات ایک ایسی قوم میں پھیلے ہوئے ہیں جو حاملِ قرآنِ عظیم ہے۔ قرآنِ مجید اس یاددہانی سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ کے سوا انسانوں کا نہ کوئی مددگار ہے اور نہ کوئی اور حامی و ناصر اور محافظ۔ اس کا کوئی نیک بندہ کبھی اپنے آپ کو اس حیثیت میں پیش نہیں کرسکتا۔ یہ صرف شیطان ہے جو لوگوں کے ذہن میں مشرکانہ اوہام پیدا کرتا رہتا ہے۔

حالیہ طوفان پیٹ نے قرآنِ مجید کی اس بات کو ایک عجیب انداز سے ثابت کیا ہے۔ کراچی کے متعلق چونکہ ابتدا سے یہ بات معلوم تھی کہ یہ شہر اس طوفان کا متوقع نشانہ بنے گا، اس لیے یہاں رہنے والے صلحا اللہ تعالیٰ سے مسلسل عافیت کی دعا کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی اور نسبتاً کم اور خوشگوار بارش کے ساتھ یہ معاملہ ٹل گیا۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی ہوا۔ ساحلِ سمندر پر واقع ایک معروف بزرگ کے مزار کے احاطے میں واقع لنگر خانے کی دیوار گرگئی جس کے نتیجے میں 9 زائرین زخمی ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاموش پیغام تھا۔ وہ یہ کہ انسانوں کی پناہ اور عافیت صرف ایک ہستی کے ہاتھ میں ہے، وہ تنہا اللہ کی اپنی ذات ہے۔ اس کے علاوہ کوئی انسان اپنا تحفظ کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا تو دوسروں کی کیا حفاظت کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسانوں کا ایک ہی حامی و ناصر ہے۔ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے اور ہر کسی کو زندگی دیتا ہے۔ وہ ہر کسی کا سہارا ہے اور ہر شے کو تھامے ہوئے ہے۔ ہر چیز اس کی ملکیت ہے اور اسے ہر چیز کا مکمل علم رہتا ہے۔ تمام طاقت اور اقتدار کا مالک۔ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ مخلوق کی حفاظت سے لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں تھکتا۔ مخلوق تمام تر اس کی محتاج ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے کسی فیصلے میں مداخلت کرسکے۔ اس کے حضور اپنی بات پیش کرنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ عاجزی، پستی اور اس کی بڑائی کا اعتراف۔

اللہ کے نیک بندے اس بات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ہر مشکل میں اللہ کی طرف گڑگڑاکر رجوع کرتے ہیں۔ اس کے حضور عاجزی اور منت سماجت کے ساتھ فریاد کرتے ہیں۔ خدا کی رحمت ایسے ہی بندوں کی طرف متوجہ ہوتی اور ان کی سمت بڑھنے والے ہر طوفان کا رُخ موڑ دیتی ہے۔ چاہے یہ طوفان ان کی اجتماعی زندگی میں آرہا ہو یا ان کی انفرادی زندگی میں۔

اس کے برعکس جو لوگ غیر اللہ میں جیتے ہیں، وہ سرابوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ ان کے حصے میں صحرا کی پیاس کے سوا کچھ نہیں آیا۔
 
ابو یحیٰیٰ

عالم اور اعتماد


عالم اور اعتماد
 ( Abu Yahya ابویحییٰ)

ایک عالم اور محقق وہ شخص ہوتا ہے جو علم کی روایت کے تمام پہلوؤں سے واقف ہوتا ہے اور پھر کسی معاملے میں اپنے فہم کے مطابق ایک رائے قائم کرتا ہے۔ عالم کا علم اور تحقیق اسے اس بات کا حقدار بناتے ہیں کہ وہ اپنی بات پورے اعتماد کے ساتھ بیان کرے اور دوسرے اہل علم کی غلطی کو واضح کرے ۔ یہ ایک عالم کا حق ہے جو اس سے چھینا نہیں جا سکتا۔ مگر اس سے جو توقع کی جا سکتی ہے وہ  یہ کہ وہ کسی دوسرے کے نیت پر حملہ نہ کرے ، ان کا تمسخر نہ اڑائے اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اس کی غلطی اگر اس پر واضح کر دی جائے تو وہ اپنی رائے سے رجوع کر لے گا۔ معاملات اگر یوں رہیں تو کبھی تعصب پھیلے گا نہ فرقہ واریت وجود میں آئے گی۔

خرابی اس وقت ہوتی ہے جب وہ لوگ کسی معاشرے میں عالم بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں جو علم کے صرف ایک پہلو سے واقف ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے علاوہ کسی اور نقطہ نظر کو سنجیدگی اور کھلے دل سے پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ درحقیقت جن بزرگوں کے نام پر وہ کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کی علمی وراثت اور استدلال سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔

ایسے لوگ عملی زندگی میں اتر کر کبھی کسی دوسرے کانقطہ نظر نہیں سمجھ سکتے ۔ اگر کبھی دوسروں کی بات سننا بھی پڑے تو ہمدردری سے سمجھنا تو دور کی بات ہے وہ سنتے ہوئے بھی بات کا جواب سوچتے رہتے ہیں ۔ یہی یکطرفہ علم بلکہ کم ترین علم کے حاملین پھر فروعی اور جزوی اختلاف کی بنیاد پر دوسرے اہل علم کی نیت بلکہ ایمان کا فیصلہ کر دیتے ہیں ۔

یہی پہلے اور دوسرے گرہ کا حقیقی فرق ہے ۔ پہلا گروہ صاحبان علم کا ہوتا ہے جو علم کی پوری روایت سے واقف ہوتے ہیں ۔ دوسرا گروہ علم کی روایت سے تو کیا اپنے بزرگوں کی علمی روایت سے بھی واقف نہیں ہوتا۔ پہلا گروہ اگر پورے اعتماد سے کسی چیز کی تردید کر رہا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے ان کی علم اور تحقیق ہوتی ہے ۔ دوسرا گروہ جب پورے اعتماد سے کسی کی تردید کرتا ہے تو اس کے پیچھے گروہی عصبیت کارفرما ہوتی ہے ۔ پہلا گروہ ایک نئی اور مختلف بات کو بھی ہمیشہ توجہ سے سنتا ہے کہ وہ پہلے ہی علم کی روایت میں بہت سے نئی اور مختلف باتوں سے واقف ہوتا ہے ۔ دوسرا گروہ ایک نئی اور مختلف بات سنتے ہی متوحش ہوجا تا ہے کہ اس نے ساری زندگی اپنے نقطہ نظر کے علاوہ کوئی دوسری بات سنی ہی نہیں ہوتی۔

پہلا گروہ بھی گرچہ اپنی رائے کے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے ، مگر جانتا ہے کہ اس کی رائے غلط ہو سکتی ہے ۔ جبکہ دوسرا گروہ اپنی رائے کو آخری حق سمجھ کر دفاع کرتا ہے ۔ پہلا گروہ انسانی علم اور فہم کی محدودیت کا شکار ہوکر غلطی کرسکتا ہے ، مگر واضح دلیل آنے پر اپنی رائے سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔ دوسرا گروہ خود کو نبی اور رسول کے مقام پر سمجھتا ہے اور اپنے فہم کو وحی الٰہی خیال کر کے کسی ترمیم و تبدیلی کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا دیتا ہے ۔

ایک عام آدمی کے سامنے دونوں گروہوں کے لوگ بظاہر دین کے نمائندوں کے طور پر آتے ہیں ۔ مگر یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دو طرح کے لوگوں میں فرق کرنا سیکھے ۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لہجے کے اعتماد سے دھوکہ نہ کھائے ۔ بلند و بالا دعووں سے مرعوب نہ ہو۔ وہ سوال کرے اور جواب چاہے ۔ وہ دریافت کرے اور دلیل مانگے ۔ علما کو انسان سمجھے ، نبی نہ بنائے ۔

اس دنیا میں عالم اور عامی دونوں امتحان میں ہیں ۔ عالم کا امتحان یہ ہے کہ علم کے تمام پہلوؤں سے ابتدائی واقفیت سے قبل کلام نہ کرے اور غلطی واضح ہوجانے پر اپنی رائے سے رجوع  کر لے ۔ عامی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دونوں فریقوں میں فرق کرنا سیکھے اور علما کو نبی اور ان کی آراء کو ایمانیات نہ بنائے ۔ وہ دوسرے اہل علم کو بدنام کرنے کی مہم نہ چلائے ۔

علم روشنی ہے جو نظر آ جاتا ہے ۔ شرط یہ ہے کہ تعصبات کی عینک اتار کر دیکھا جائے ۔

اب سمجھ میں آتا ہے


اب سمجھ میں آتا ہے

پیار کی کہانی میں
کس جگہ ٹھہرنا تھا؟
کس سے بات کرنا تھی؟
کس کے ساتھ چلنا تھا؟
کون سے وہ وعدے تھے
جن پہ جان دینا تھی؟
کس جگہ بکھرنا تھا؟
کس جگہ مکرنا تھا؟
کس نے اس کہانی میں
کتنی دور چلنا تھا؟
کس نے چڑھتے سورج کے
ساتھ ساتھ ڈھلنا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اُس نے جو کہا تھا سب
ہم نے جو سنا تھا تب
کس طرح ہلے تھے لب
کس طرح کٹی تھی شب
ہم نے ان سنی کر دی
بات جو ضروری تھی
کس قدرمکمل اور
کس قدر ادھوری تھی
وہ جو اک اشارہ تھا
ذکر جو ہمارا تھا
وہ جو اک کنایہ تھا
جو سمجھ نہ آیا تھا
اب سمجھ میں آتا ہے

جان کے ہی دشمن تھے
جان سے جو پیارے تھے
ہم جہاں پہ جیتے تھے
اصل میں تو ہارے تھے
راہ جس کو سمجھے ہم
راستہ نہیں تھا وہ
واسطہ دیا جس کو
واسطہ نہیں تھا وہ
کس نے رد کیا ہم کو؟
کس نے کیوں بلایا تھا؟
جس کو اتنا سمجھے ہم
کیوں سمجھ نہ آیا تھا؟
اب سمجھ میں آتا ہے

اب سمجھ میں آیا جب
زندگی اکارت ہے
دیر سے سمجھ آئی
ایسی اک بجھارت ہے
زندگی کے بھیدوں کو
ہم نے اب سمجھنا تھا
تب سمجھ بھی آتی تو
ہم نے کب سمجھنا تھا
آنکھ جب پگھل جائے
اور شام ڈھل جائے
زندگی کی مٹھی سے
ریت جب نکل جائے
بھید اپنے جیون کا
تب سمجھ میں آتا ہے
سب سمجھ میں آتا ہے

رضی الدین رضی

سچ

سچ تین مرحلوں سے گزرتا ھے۔

پہلے مرحلے میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ھے،
دوسرے مرحلے اسکی متشدد طریقے سے مخالفت کی جاتی ھے،
اور تیسرے مرحلے میں اسے یوں تسلیم کر لیا جاتا ھے،جیسے اس سچائی کو کبھی ثبوت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔