آج کی بات ۔۔۔ 21 مئی 2016

اس دنیا میں کامیاب زندگی کے دو اهم اصول ہیں۔۔۔۔۔
یا تو دوسروں کے لیے نفع بخش انسان بنئے،
یا دوسروں کے لیے بے مسلہ انسان بن جایئے-
اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کے یہی دو اصول ہیں،ان کے سوا کوئی تیسرا اصول نہیں-
اگر کوئی تیسرا اصول ہے تو وه ہلاکت ہے،نہ کہ کامیابی-

مولانا وحیدالدین خان
Advertisements

واہ محبت

محبت کرنے پر اپنا اختیار نہیں لیکن اُسے سمجھنے پر ہمارا مکمل اختیار ہے۔ خاموشی سے محبت کرتے رہیں۔۔۔خوشبو بکھیرتے رہیں۔۔۔خوشبو سمیٹتے رہیں۔۔۔تو معتبر رہتے ہیں۔اگر محبت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر کسی کام کے نہیں رہتے۔۔۔نہ اپنے اور نہ ہی محبوب کے۔

مغفرت کا مہینہ (استاد نعمان علی خان) حصہ دوم

اللہ نے فرمایا کہ اس نے ہم پر روزے فرض کیے تاکہ ہم خود کی حفاظت کر سکیں. اس کا کیا مطلب ہے؟
 ہم انسانوں کو کسی فیلڈ میں بہتر بننے کے لیے ٹریننگ کرنی پڑتی ہے، خاص طور پر فزیکل ٹریننگ. مثال کے طور پر، اگر کوئی فوج میں جانا چاہتا ہے تو پہلے اُسے اس کی ٹریننگ لینی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں اس کا جسم اس ٹریننگ کا عادی ہونے لگ جاتا ہے. پہلے وہ سب انہیں مشکل لگتا ہے، مگر پھر آسان ہوتا چلا جاتا ہے حتٰی کے آپ کے لیے وہ مشق آسان ہوجاتی ہے. اور ٹریننگ کے دوران چیزیں بہت آسان ہوتی ہیں. جب آپ ان میں بہتر ہوجاتے ہیں تب ہی اصل مقصد کی طرف بھیجا جاتا ہے آپ کو.
 یہی چیز روزوں کے ساتھ ہے. روزے کی حالت میں آپ مسلسل ایک احساس سے گزر رہے ہوتے ہیں، پیاس سے، اور بھوک سے! آپ کا گلا خشک ہورہا ہوتا ہے، آپ کو پانی کی طلب ہوتی ہے. مگر آپ خود پر قابو رکھتے ہیں. آپ کے اندر مسلسل ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے، آپ کا جسم کمزور ہوتا چلا جاتا ہے، آپ کا پیٹ، گلا، کہتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرلو. پر آپ سارا دن اس جنگ سے گزرتے ہیں یہ سوچ کر کہ آپ اللہ کی نافرمانی نہیں کریں گے “کیونکہ میرا دل اللہ کا طابع ہے اور مجھے نہیں پرواہ اگر میرے جسم کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو، میں ہار نہیں مانوں گا.” آپ اپنے دل کو ٹرین کرتے ہیں اپنے جسم کو کنٹرول کرنے کے لیے!
 اور روزے کے بعد، آپ کا دل آپ کے جسم کو کنٹرول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے. کیونکہ اب آپ وہ سب نہیں کھائیں گے جو آپ چاہتے ہیں، ان جگہوں پہ نہیں جائیں گے جہاں جانا چاہتے ہیں، ان سب چیزوں کو نہیں دیکھیں گے جنہیں دیکھنا چاہتے ہیں. کیونکہ، آپ نے اپنے جسم کو شکست دے دی ہے اور اپنے دل کو مضبوط کرلیا ہے.
 اور تقویٰ کہاں ہوتا ہے؟
 ان ذلک من تقوی القلوب
 ہمارے دل میں! 
 جب آپ اپنے جسم کو کمزور کرتے ہیں اور دل کو طاقت عطا کردیتے ہیں تو آپ خود کو غلط کاموں سے دور رہنے میں ٹرین کرچکے ہوتے ہیں. 
عزیز نوجوان بہن بھائیو! جو نوجوان سن رہے ہیں، اگر آپ کا روزہ ہے اور آپ سارا دن گھر میں رہ کر فلمیں دیکھ رہے ہیں، تو آپ روزہ نہیں رکھ رہے! کیونکہ آپ کا دل تو تب بھی غلط کاموں کے لیے جھک رہا ہے. روزے کی تمام مشق تو یہ ہوتی ہے کہ آپ کو مسلسل یاد رہے، کہ جس طرح میں اپنے پیٹ سے جنگ کر رہا ہوں، جس طرح گلے سے جنگ کر رہا ہوں، ایسے ہی مجھے اپنی آنکھوں سے بھی جنگ کرنی ہے. اپنی زبان سے جنگ کرنی ہے. اپنی خواہشات سے لڑنا ہے، ہارمونز کو شکست دینی ہے. اب میں حالتِ جنگ میں ہوں. مگر ہم روزے کو صرف بھوک اور پیاس سے دور رہنا ہی سمجھتے ہیں..جبکہ یہ ہر بری چیز سے دور رہنا ہے. 
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
 تاکہ تم پرہیزگار بن سکو(اپنی حفاظت کر سکو).
 اگر ہم یہ یاد نہیں رکھیں گے، تو ہم بھی بنی اسرائیل جیسے بن جائیں گے! وہ بھی روزے رکھتے تھے، مگر ان میں کس بات کی کمی تھی؟ “ان میں تقویٰ نہیں تھا” 
اگر آپ یہ ہی بھول جائیں گے کہ آپ پر روزے کیوں فرض کیے گئے ہیں تو پھر آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو بنی اسرائیل نے کیا.
 اللہ نے آپ سے فرمایا:
 كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ
 خاص طور پر تم پر فرض کیے، اب تمہاری باری ہے. میں اب تم پہ روزے فرض کر رہا ہوں جو پہلے میں نے ان پر کیے تھے. انہوں نے اس کا فائدہ حاصل نہیں کیا، ان میں تقویٰ نہیں آیا. امید ہے تم میں آجائے…!
 کیا ہے وہ پہلی چیز جو لوگوں کے ذہن میں آتی ہے روزے کا سن کر؟ “انہیں افطاری کا خیال آتا ہے” جبکہ روزے تو آپ کہ اصل زندگی کے لیے ٹریننگ ہوتی ہے. اور یاد رکھیں، ٹریننگ آسان ہوتی ہے، اور کیا اللہ شیطان کو بھی قید نہیں کرلیتا؟ 
ہاں! کرلیتا ہے. وہ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہوتا ہے. تاکہ آپ کا دل میدان جنگ میں بہتر طریقے سے ٹرین ہوسکے. اور جیسے ہی رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے، اگلے ہی لمحے شیطان قید سے آزاد ہوجاتا ہے. اور جنگ شروع ہوجاتی ہے. اور پھر وہ مہینے بھر کی ٹریننگ کام آتی ہے..! پر اگر آپ نے خود کو صحیح سے ٹرین نہ کیا ہوگا تو… کچھ نہ ہوگا!
 اگر کسی نوجوان کو آرمی میں جانا ہو تو پہلے اسے فزیکل ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے. تب اسے دیوار سے کودنا ہوتا ہے، یا دیوار پہ چڑھ کر دوسری طرف جانا ہوتا ہے. اب دو لوگوں نے ملٹری میں حصہ لیا، ایک نوجوان دیوار سے کودا، جبکہ دوسرا نیچے سے ہی دوسری طرف چلا گیا. دونوں ہی دوسری طرف پہنچ گئے. اور یہ مشق آپ کو دس دفعہ کرنی پڑتی ہے. اب جب وہ میدان جنگ میں ہونگے اور انہیں دیوار کی دوسری طرف جانا ہوگا(کود کر) تو کون آسانی سے چلا جائے گا اور کون فیل ہوجائے گا؟ ظاہر ہے جس نے صحیح سے دیوار پہ چڑھ کر تربیت لی تھی. ویسے تو وہ دونوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم دونوں دوسری طرف پہنچ گئے تھے. پر نہیں! آپ روزہ رکھیں گے، اور آپ کا بھائی رکھے گا، مگر آپ کی کیفیت ایک جیسی نہ ہوگی. جس شخص نے صحیح سے تربیت لی تھی، اس کا رزلٹ میدان جنگ میں اس شخص سے مختلف تھا جو آسانی سے نیچے سے ہی دیوار کی دوسری طرف چلا جاتا تھا، اس نے صحیح سے تربیت ہی نہیں لی تھی.
پھر اللہ نے فرمایا:
اَیَّاماً مَعْدُودَاتٍ ۔۔۔۔۔
 چند دن ہیں گنتی کے. 
 جس آیت کے متعلق میں ابھی آپ سے گفتگو کر رہا تھا وہ رمضان کے بارے میں نہیں تھی. مَعْدُودَاتٍ.کو عربی میں جمعو قلہ کہتے ہیں جس کا معنی ہے “نو یا اس سے کم“. جس کا مطلب ہے کہ یہ آیت پرانے روزوں کے بارے میں تھی (جو رمضان سے پہلے ہوا کرتے تھے). اللہ نے فرمایا میں نے تم پر روزے فرض کیے جیسے تم سے پہلی قوم پر کیے تھے، یعنی، یہودیوں کہ طرح، انہی دنوں میں جن دنوں میں وہ روزہ رکھتے تھے.
 فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
 اگر تم میں سے کوئی بیمار ہے یا سفر میں ہے تو وہ تعداد پوری کرے دوسرے دنوں میں
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ
 اور ان لوگوں پر جو نہ طاقت رکھتے ہوں روزے کی، تو فدیہ ہے کھانا کھلانا ایک مسکین کو.
 رمضان سے قبل کی بات ہورہی ہے یہاں، کہ اگر آپ روزہ نہیں رکھ سکتے تو ان کی تعداد پوری کرنے کے دو طریقے تھے.
 1- یا تو بعد میں رکھ لیں
 2- یا مسکین کو کھانا کھلادیں (یہ یاد رکھیں کہ ابھی پرانے روزوں کے متعلق ہی بات ہورہی تھی)
 اور پھر اللہ نے فرمایا:
 فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
 پھر جو شخص کرے گا اپنی خوشی سے کوئی نیکی تو یہ بہتر ہے اسی کے لیے. اور یہ کہ روزہ رکھو تم بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم سمجھو.
 اگر تم روزہ رکھتے ہو وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی مسکین کو کھلانے یا روزہ رکھنے میں، روزہ رکھ لینا بہتر ہے پر دونوں طریقے موجود تھے) اور اب اگلی آیت میں اللہ رمضان کے بارے میں فرماتے ہیں. اور قرآن میں صرف یہی ایک آیت ہے رمضان کے بارے میں.
 شَهْرُ رَمَضَانَ 
 “رمضان کا مہینہ”
 میں نے آپ سے کہا تھا کہ رمضان کا سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں کیا آتا ہے؟ “افطاری کا.” یہ بھی نہیں تو “روزے” کا خیال آتا ہے، یا یہ خیال آتا ہے کہ “اس دفعہ تو رمضان بہت گرمی میں آرہا ہے”. اس طرح کے خیالات آتے ہیں ہم سب کے ذہن میں. پر اللہ نے فرمایا کہ رمضان کا سنتے ہی جو پہلا خیال ہمارے ذہن میں آنا چاہیے وہ یہ ہے
(رمضان کے مہینے کا ذکر ہوا اور اس کے فوراً بعد اللہ نے فرمایا): 
الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ 
 “وہ (مہینہ) ہے نازل کیا گیا جس میں قرآن “
 اللہ نے فوراً روزوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ فرمایا یہ تو وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا. جو چیز رمضان کو خاص بناتی ہے وہ روزے نہیں ہیں،
بلکہ “قرآن” ہے.

آسماں کی رفعتوں سے

آسماں کی رفعتوں سے طرزِ یاری سیکھ لو
سر اُٹھا کرچلنے والو، خاکساری سیکھ لو

پیش خیمہ ہے تنزل کا تکبر اور غرور
مرتبہ چاہو تو پہلے اِنکساری سیکھ لو


خود بدل جائے گا نفرت کی فضائوں کا مزاج
پیار کی خوشبو لُٹاؤ مشکباری سیکھ لو

چُن لو قرطاس و قلم یا تیغ کرلو انتخاب
کوئی فن اپنائو لیکن شاہکاری سیکھ لو

پھر تمہارے پاؤں چھونے خود بلندی آئے گی
سب دلوں پہ راج کرکے تاجداری سیکھ لو
عشق کا میدان آساں تو نہیں ہے محترم
عشق کرنا ہی اگر ہے غم شعاری سیکھ لو
 
جس شجر کی چھائوں ہو ماجدؔ زمانے کے لیے
کیسے ہوگی اس شجر کی آبیاری سیکھ لو 

ماجدؔ دیوبندی

ايک چھوٹا سا پیغام

ايک چھوٹا سا پیغام ۔۔۔
آج کل آم ، جامن ، خوبانی ، آلو بخارا ، خربوزے، تربوز اور اسی طرح کے مختلف دوسرے پھلوں کا موسم ہے ۔ ميری آپ سے درخواست ہے کہ ان کے بیج یا گھٹلیاں مت پھينکیں بلکہ انہيں اچھی طرح دھو کر ايک پلاسٹک لفافے ميں ڈال کر باہر جاتے وقت اپنے ساتھ رکھ لیں ۔ يا گاڑی ميں رکھ ديں تو راستے ميں چلتے ہوئے يا گاڑی میں سڑک پر سے گزرتے ہوۓ کچی خالی جگہوں پر وہ بيج يا گھٹلياں لفافے سے نکال کر وقفے وقفے سے پھينکتے جائيں ۔
مون سون کا موسم آنے والا ہے تو ان کے بڑھنے میں آسانی ہو جاۓ گی ۔ اگر اس طريقے سے ہم میں سے ہر ايک ، ایک درخت بھی اگانے ميں کامیاب ہو جاۓ تو سمجھيے مقصد پورا ہو گيا۔
سوچيے ۔ ان گرميوں يا آنے والی گرميوں میں آپ کے ہاتھ سے کوئی درخت لگے گا.
يہ صرف ايک وقتی خیال نہيں ہے ۔ دنيا کے بہت سے دوسرے علاقوں ميں اس مشن کا آغاز کئی دہائيوں سے ہو چکا ہے اور بہت سے لوگوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی ليا ہے ۔
کتنا اچھا ہو اگر ہم بھی اپنے حصے کا کام کرتے چليں اور ایک ایک درخت اپنے ہاتھ سے اس طرح لگاتے جائيں تاکہ یہ درخت ماحول و آب و ہوا کو معتدل بنانے ميں مدد کر سکيں ۔ اور ہماری آنے والی نسل کو درختوں کی چھاؤں مل سکے ۔
کيا آپ اس پيغام کو اپنے گروپس اور پیجز يا اپنی وال پر شيئر کر سکتے ہيں ؟
بہت شکریہ!
 ( انگلش پوسٹ کا ترجمہ)