کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے

 ابرِ کرم

خدا پاک کا ہم پہ احساں ہوا ہے
کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے
اداسی، غموں کو سبھی کے مٹانے
محبت کے نغمے سبھی کو سنانے
ہر اک دل میں جوشِ مسرت جگانے
خوشی اور مسرت کا ساماں ہوا ہے
کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے

چمن پہ ہے آئی نئی تازگی اب
کہ دھرتی کی پوری ہوئی تشنگی اب
ہے منظر پہ چھائی نئی روشنی اب

ہر اک دل جو شاداں و فرحاں ہوا ہے

کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے

ہر اک چیز دُھل کے نکھر سی گئی ہے
کہ دھرتی کی قسمت سنور سی گئی ہے
کہ ٹھہری اداسی بکھر سی گئی ہے

ہر اک غم کا جیسے یہ درماں ہوا ہے

کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے

دعا ہے یہ میری سدا مسکرائیں
دعا ہے سبھی اپنی منزل کو پائیں
ہو مشکل مقابل، مگر مسکرائیں

نہ پورا کوئی جن کا ارماں ہوا ہے

کہ ابرِ کرم اب مہرباں ہوا ہے

سیما آفتاب

Now, You can also Comment by your Facebook account Below.

Advertisements

آج کی بات ۔۔۔۔ 25 جون 2016

گناہ کے وقت، جو شخص اللہ سے حیاء کر لے
 روزِ ملاقات، اللہ اسکو سزا دینے سے حیاء فرمائےگا
 (ابن قیم) ۔
 بس تھوڑی سی ہمت!

Now, You can also Comment by your Facebook account Below.

دجال اور سورۂ کہف

دجال اور سورۂ کہف


ہمارے ہاں بعض روایات میں آنے والے فضائل کی بنا پر ہر جمعہ کے روز سورۂ کہف پڑھنا بہت سے لوگوں کا معمول ہے۔ متعدد روایات میں اس سورت کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ جمعے کے دن اس سورت کی تلاوت اگلے جمعے تک ایک نور کا سبب بن جاتی ہے۔ امام البانی نے صحیح الترغیب و الترھیب (736) میں ان روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔ جبکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں یہ روایت کیا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی (بعض روایتوں کے مطابق آخری) دس آیات حفظ کرنے والا فتنۂ دجال سے بچالیا جاتا ہے۔

فتنۂ دجال کیا ہے یہ اپنی جگہ خود ایک تفصیلی بحث ہے۔ اس بارے میں اہل علم کی تین آرا ہیں۔ ایک وہ جو سب سے زیادہ مقبول ہے کہ قیامت سے قبل ایک غیر معمولی قوتوں کے حامل شخص کا ظہور ہوگا جو ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ دوسری رائے جو بہت کم قبول کی گئی ہے کہ دجال کے بارے میں قرآن مجید کچھ نہیں کہتا اور جو کچھ آیا ہے وہ ناقابل یقین روایات پر مبنی ہے، اس لیے غلط ہے۔ جبکہ تیسری رائے یہ ہے کہ دجال کے حوالے سے جو کچھ تفصیلات احادیث میں آئی ہیں، ان کی بنا پر یہ خبر ہے تو صحیح مگر اس میں تمثیل کے اصول پر ایک فرد کے بجائے ایک فتنہ کی خبر ہے جو دجل و فریب پر مبنی ایک تہذیب، نظام اور فکر و فلسفہ کی شکل میں ظہور کرے گا۔ اور کل انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس سے ہر نماز کے بعد رسول اللہ نے اللہ کی پناہ مانگی ہے اور متعدد طریقوں سے نہ صرف اس فتنے پر متنبہ کیا ہے بلکہ اس سے بچنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک دجال دھوکہ اور دجل و فریب پر مبنی وہ مادی تہذیب ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نفی کرکے زندگی کے حقائق کو سمجھا جاتا ہے۔ اس تہذیب کی صرف ایک آنکھ ہے جو مادیت کو دیکھتی ہے، مگر روحانی اور غیبی حقائق کی منکر ہے۔ یہ اسباب تک محدود ہے اور مسبب الاسباب کی منکر ہے۔ یہ عقلیت کی اسیر ہے اور رسالت کی منکر ہے۔ اس نے موجودہ مادی دنیا کے اسرار و رموز سے تو خوب پردے اٹھائے مگر آنے والی آخرت کی دنیا کو دیکھنے سے قطعاً عاجز ہے۔ مادیت اور اسباب میں اس نے غیر معمولی ترقی کی اور انسانی قوت کو اتنا بڑھادیا کہ انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس نے دنیا کو اتنا حسین بنادیا ہے کہ لوگ خدا کی کسی جنت کے طلبگار نہیں رہے۔ یہ دنیا ہی ان کی جنت اور یہی ان کی جہنم ہے۔ شاعر کے الفاظ مستعار لیں تو آج کی دنیا کے متعلق کہا جاسکتا ہے:

تیرا ملنا ترا نہیں ملنا
اور جنت کیااور جہنم کیا

اس کے ساتھ تباہ کن ہتھیاروں، سود پر مبنی عالمی مالیاتی نظام، فحاشی پر مبنی گلوبل میڈیا وغیرہ کے ساتھ اس نے پچھلے چار ہزار برس سے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اور نبیوں کی قائم کردہ تہذیب کی بنیادیں ہلاکر رکھدی ہیں۔ انسانی جان کی حرمت سے لے کر عفت و عصمت جیسے بنیادی تصورات اس کی نذر ہوچکے ہیں۔ ایمان اور آخرت کے بجائے ہوس زر اور دنیا پرستی آج سب سے بڑی قدر بن چکے ہیں۔ لوگ جنت کو بھول کر دنیا کی جنت کے خواہشمند اور جہنم کو بھول کر دنیا کی محرومی سے لرزاں رہتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ہر حد کو عبور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی اس دجالیت کی سب سے بڑی دین ہے۔

یہ وہ تیسری رائے ہے جسے اب سب سے زیادہ قبول حاصل ہورہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ دوسری رائے کے حامل ہیں کہ دجال ایک فرد کا نام ہے، ان کی اکثریت بھی اس بات کی قائل ہوچکی ہے کہ دجال کی قوت اصل میں یہی مادی تہذیب اور نظام ہے نہ کہ اسے کوئی مافوق الفطری قوتیں حاصل ہوں گی۔ اس پس منظر میں جب سورۂ کہف کے بیان کردہ فضائل اور اس سورت کے مضامین کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت ہر اعتبار سے فتنۂ دجال سے تحفظ اور اس کی پھیلائی ہوئی گمراہی سے بچنے کا ایک نور ہے۔

سورۂ کہف کی ابتدائی اور آخری آیات
سورۂ کہف کے مضامین کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے عمومی طریقے کے مطابق اس سورت کی ایک تمہید ہے اور آخر میں خاتمۂ سورت کی آیات ہیں۔ اس تمہید اور خاتمے میں دین کی بنیادی دعوت یعنی توحید، آخرت کی سزا و جزا اور رسالت کا اثبات کیا گیا ہے۔ ساتھ میں دونوں جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنی بے وقعت ہے۔ تمہید میں ارشاد ہوا:
’’جو کچھ اس زمین میں ہے اسے ہم نے دھرتی کی رونق بنایا ہے تاکہ تمھیں آزمائیں کہ تم میں سے کون (اس رونق کو مقصد زیست بنانے کے بجائے) اچھے کام کرتا ہے۔ اور (رہی یہ رونق تو عنقریب) جو کچھ اس پر ہے ہم اسے ایک صاف میدان بنادیں گے۔‘‘، (آیت 7-8)
خاتمے میں ارشاد ہوا:
’’اے نبی ان سے کہو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون لوگ رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کاوش دنیا کی زندگی میں کھوکر رہ گئی اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ کوئی بہت اچھا کام کررہے ہیں۔‘‘

یہ آیات پڑھیے اور بار بار پڑھیے۔ کس لب و لہجے میں دنیا پرستی پر شدید تنقید ہورہی ہے اور اس کی بے وقعتی واضح کی جارہی ہے۔ ابتدا اور آخر کی یہی وہ آیات ہیں جن کے یاد کرنے پر صحیح مسلم کی روایت میں فتنۂ دجال سے بچائے جانے کی بشارت دی گئی ہے۔ یہ روایت اگر ٹھیک ہے تو بلاشبہ ان آیات کو حفظ جاں بنانے والا فتنۂ دجال سے محفوظ رہے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ دجال کا وہ دوسرا مفہوم ٹھیک مانا جائے جس کے تحت فتنۂ دجالیت مادی تہذیب کا وہ غلبہ ہے جو ہر خاص و عام کو جنت و جہنم سے بے نیاز کرکے دنیا کے پانے اور کھونے میں مگن کردے گا۔

سورۂ کہف کے مضامین کا ایک جائزہ
تمہید و خاتمہ کے علاوہ اس سورت میں مجموعی طور پر چار واقعات بیان ہوئے ہیں اور ساتھ ہی قرآن مجید کے طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبصرے بھی کیے گئے ہیں۔
پہلا واقعہ اصحابِ کہف کا ہے۔
دوسرا واقعہ دو آدمیوں کی ایک تمثیل ہے۔
تیسرا واقعۂ موسیٰ و خضر ہے اور
چوتھا ذوالقرنین بادشاہ کا قصہ ہے۔

ظاہر ہے میں اس مختصر مضمون میں آیات و واقعات کی تفصیل نہیں کرسکتا۔ میں صرف یہ بتاؤں گا کہ کس طرح ان چاروں واقعات میں اللہ تعالیٰ نے بڑے نمایاں طریقے پر یہ واضح کیا ہے کہ گرچہ یہ دنیا عالم اسباب ہے جس میں اللہ تعالیٰ پردۂ غیب میں رہتے ہیں، لیکن یہ کارخانۂ اسباب اسی کی مرضی و منشا کے مطابق چلتا ہے۔ جس میں خدا کو بھول کر جینے کا انجام بدترین تباہی ہے اور اسے یاد رکھنے کا نتیجہ ابدی کامیابی ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں وہ شدید غلطی پر ہیں اور اس سورت میں اسی غلطی سے لوگوں کو نکلنے کا درس دیا گیا ہے۔ اب آیئے ایک ایک کرکے ان واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اصحابِ کہف کا واقعہ
سب سے پہلے اس سورت میں کچھ نوجوانوں کا واقعہ بیان ہوا ہے جو روم کی بت پرست حکومت کے شہری تھے۔ مگر حضرت عیسیٰ کے مخلص پیروکاروں کی دعوت توحید پر ایمان لاکر شرک سے تائب ہوگئے تھے۔ انھیں یہ اندیشہ تھا کہ بت پرست حکومت کو جب یہ پتہ چلے گا تو وہ انھیں سنگسار کردیں گے یا بالجبر دوبارہ بت پرست بنادیں گے۔ رومی سلطنت اتنی بڑی اور اتنی طاقتور تھی کہ اس سے بچ کر بھاگنا بظاہر ناممکن تھا۔ مگر وہ اللہ پر بھروسہ کرکے ایک غار میں جاچھپے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ کرم کیا کہ انھیں ایک مدت کے لیے سلادیا۔ ایک صدی سے زیادہ کے اس عرصے میں دنیا بدل کر کچھ سے کچھ ہوگئی۔ قسطنطین نامی مشہور رومی حکمران نے عیسائیت قبول کرلی اور یوں ہر طرف مسیحیت کا غلبہ ہوگیا۔ مگر اس زمانے میں حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیمات میں طرح طرح کی تحریفات اور بدعات کا آغاز ہوچکا تھا۔ چنانچہ ایک بحث یہ چھڑگئی تھی کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی کس طرح ممکن ہے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے یہ خصوصی اہتمام کیا کہ سوئے ہوئے ان اصحاب کہف کو جگادیا۔ وہ یہ سمجھے کہ وہ ایک دن سوئے ہیں چنانچہ وہ ڈرتے ڈرتے کھانے کی تلاش میں شہر گئے۔ مگر جب کھانا لینے والے نے دکاندار کو پیسے دینا چاہے تو دکاندار نے اسے پکڑلیا۔ کیونکہ جو سکہ اس نے دیا تھا وہ بہت پرانا تھا۔ تحقیق ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ تو پرانے زمانے کے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے عرصے تک سوتے رہے اور ان کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ ان کا دوبارہ اٹھنا گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حیات بعد از ممات کی بحث میں ایک فیصلہ کن رہنمائی تھی۔ یہ واقعہ دو بڑے اہم اسباق اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر خارج میں بدترین ماحول ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتے ہیں اور اس میں وہ اسباب کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ ماورائے اسباب بھی اپنے بندوں کی مدد کرسکتے ہیں کیونکہ انھوں نے یہ دنیا اسباب کے اصول پر بنائی تو ضرور ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں۔ اس سے زیادہ بڑا اور اہم سبق یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل زندگی نہیں بلکہ وہ زندگی موت کے بعد شروع ہوگی جب سارے مردے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اصحاب کہف کا واقعہ اس بات پر یقین کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ چنانچہ تہذیب جدید کے اسباب اور دنیا کی رنگینیوں میں کھوکر خدا اور آخرت کوبھول جانے کا رویہ قطعاً درست نہیں۔ بلکہ ہر مشکل کو جھیل کر خدا پر بھروسہ کرکے اس کی پسند کی زندگی گزارنا ہی اصل مقصود ہے۔ تیسرا یہ کہ اسباب کی وجہ سے خدا کو مائنس نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ وہ تو اسباب سے بلند تر ہے اور بار بار مداخلت کرکے یہ بتاتا رہتا ہے کہ یہاں اسباب سے بلند تر ایک ہستی موجود ہے۔

باغ والے کا واقعہ
یہ واقعہ، جیسا کہ پیچھے بیان ہوا ایک تمثیل ہے۔ یہ تمثیل دراصل ان دو گروہوں کی ہے جن کا ذکر اصحاب کہف کے واقعے کے فوراً بعد آیت نمبر 27 تا 31 میں ہوا ہے۔ پہلا گروہ ان غریب، کمزور اور زیادہ تر اصحاب کہف کی طرح نوجوان صحابۂ کرام کا تھا جن کا کل سرمایہ یاد الٰہی تھی۔ دوسری طرف دنیا کی زیب و زینت پر مرمٹنے والے وہ کفار مکہ تھے جو اللہ کو بھول کر، خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے بے اعتدالی کی زندگی گزاررہے تھے۔
آیت 32 سے یہ تمثیل شروع ہوتی ہے۔ اس میں دو گروہوں کی نمائندگی دو افراد کرتے ہیں۔ پہلا فرد سرسبز و شاداب انگور کے دو باغوں کا مالک ہے۔ باغ بھی ایسے کہ ان کے تمام اطراف کھجور کے درخت لگے ہوئے ہیں اور دونوں باغوں کے بیچ میں کھیتی جسے سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہر رواں پانی کی نہر موجود تھی۔ ایک ایسے موقع پر جب اس کے باغ خوب پھل پھول رہے اور پیداوار سے لدے ہوئے تھے اس کی ملاقات اپنے ایک غریب ہم نشین سے ہوئی۔ قرآن نے یہ بیان تو نہیں کیا مگر قرائن سے لگتا ہے کہ اس غریب نے اسے آخرت کی زندگی پر ایمان کی دعوت دی۔ جواب میں اس نے کبر و نخوت کے ساتھ اس ہم نشین پر اپنے مال و دولت، مقام و مرتبے اور اس پر اپنی برتری کا اظہار کیا۔ پھر وہ اسے لے کر اپنے باغ میں گیا اور بڑے فخر و اعتماد سے بولا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی ویران بھی ہوگا یا کبھی قیامت آئے گی۔ اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو اسے اپنے رب کی طرف سے وہاں بھی بہتر مقام ہی ملے گا۔ ہم نشین نے اسے اس کے کفر و غرور پر کچھ تنبیہ کی اور کچھ سمجھایا۔ اسے بتایا کہ صحیح رویہ یہ ہے کہ انسان نعمت و انعام کی حالت کو عطیہ الٰہی سمجھ کر اس کا شکر گزار بنے، نہ کہ اسے اپنی قوت و صلاحیت کا نتیجہ سمجھ کر تکبر میں مبتلا ہوجائے۔ مگر اس نے نہ سنا نہ سمجھا۔ آخر ایک روز اس کا باغ کسی آندھی اور بگولے کی نذر ہوگیا۔ یوں اس کے حصے میں پچھتاووں کے سوا کچھ نہیں آیا۔
ایک دفعہ پھر اس تمثیل میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کی کامیابی کوئی کامیابی نہیں۔ یہ کسی لمحے بھی خاک میں مل سکتی ہے۔ وگرنہ آخرکار موت نے خود انسان کو خاک میں ملادینا ہے۔ اس کے دھوکے میں آکر خدا کی یاد اور اس کی ملاقات کو فراموش کردینا اور دنیا کی حقیر پونجی پر تکبر کرنا سرتاسر نادانی ہے۔ اسی حقیقت کو اس تمثیل کے فوراً بعد ان الفاظ میں کھول کر بیان کیا گیا ہے:
’’ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ مال اور بیٹے ت دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پرودگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں۔‘‘، (سورۂ کہف، آیت 44-46)

قصۂ موسیٰ و خضر
کفار مکہ کو کچھ تنبیہات کے بعد اگلا واقعہ حضرت موسیٰ کا بیان ہوا ہے۔ یہ غالباً اُس زمانے کا ذکر ہے جب ان کی قوم فرعون کی غلامی میں بدترین مظالم کا شکار تھی۔ ایمان لانے والے ستائے جارہے تھے اور فرعون اور اس کے ظالم ساتھی ہر طرح کی دنیوی فراخی اور کامیابی حاصل کیے ہوئے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایک سفر پر بھیجا۔ ان کے ساتھ ان کے ایک نائب یوشع بن نون بھی تھے جو ان کے بعد ان کے خلیفہ اور پیغمبر بنے۔ ان کی ملاقات اللہ کے ایک خصوصی بندے جن کا نام خضر بیان کیا جاتا ہے سے ہوئی۔ ان کے ساتھ حضرت موسیٰ کا سفر شروع ہوا تو تین واقعات پے در پے ایسے پیش آئے جن کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں تھی۔ پہلا یہ کہ حضرت خضر انھیں لے کر ایک کشتی پر سوار ہوئے اور اس کشتی میں بلا وجہ سوراخ کردیا۔ کسی کو یوں مالی نقصان پہنچانا ایک بڑی معیوب حرکت تھی۔ اس سے زیادہ معیوب حرکت انھوں نے آگے چل کر یوں کی کہ ایک لڑکے کو بلا وجہ مار ڈالا۔ اچھوں کے ساتھ برا کرنے کے بعد انھوں نے تیسرا کام یہ کیا کہ بروں کے ساتھ بڑی بھلائی کردی۔ وہ اس طرح کہ ایک بستی والوں نے انھیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا جو کہ انہتائی معیوب بات تھی، مگر انھوں نے ان لوگوں کے ایک مکان کی گرتی ہوئی دیوار کو بغیر کسی معاوضے کے ٹھیک کردیا۔
بعد میں حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو بتایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوا۔ حقیقت یہ تھی کہ کشتی دو یتیموں کی تھی۔ آگے ایک بادشاہ تمام لوگوں کی کشتیاں چھین رہا تھا۔ مگر ان کی کشتی میں ایک عیب دیکھ کر اس نے ان بچوں کو چھوڑ دیا۔ یوں یہ چھوٹی تکلیف بہت بڑی محرومی سے بچنے کا سبب بن گئی۔ وہ بچہ جو قتل کیا گیااس کے آثار یہ تھے کہ اس نے خود بھی کفر و سرکشی میں مبتلا ہونا تھا اور اپنے والدین کو بھی مبتلا کردینا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس برے بچے کے بدلے میں انھیں ایک بہتر، نیک و صالح بیٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ تقدیر الٰہی میں چونکہ ان کے لیے ایک ہی بیٹا تھا اس لیے پہلے کو لے کر دوسرا بیٹا دیا گیا۔ رہی وہ بستی تو احسان اس بستی والوں پر نہیں بلکہ اس نیک شخص کے یتیم بچوں پر کیا گیا جو اپنا تحفظ خود نہیں کرسکتے تھے۔ ان کے گھر میں ایک خزانہ تھا جو دیوار گرنے کی شکل میں ظاہر ہوجاتا اور دوسرے لوگ اسے لے جاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کیا کہ ان کی جوانی تک یہ خزانہ محفوظ کردیا گیا۔
اس قصے میں بنیادی پیغام یہ ہے کہ یہ دنیا بناکر اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔ اسباب کی ڈور ہی سے سہی مگر اسے کنٹرول وہی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی اچھے شخص کے ساتھ کوئی برائی کا معاملہ کسی ناگہانی کی شکل میں پیش آئے تو اسے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی۔ اور اسی طرح اگر وہ کسی برے کے ساتھ اچھا ہوتا ہوا دیکھے تب بھی یہ اعتماد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھلائی اصل میں کسی نیک بندے کے لیے ہی ہے۔
آج کے اس دور میں جب ہر شخص اسباب کو اپنا خدا اور دنیا کو اپنا مقصد حیات بنا بیٹھا ہے، ایسے بندۂ مومن کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ظاہری حالات سے مایوس اور دلبرداشتہ ہوجائے۔ مومن کا توکل ہمیشہ اللہ پر ہی رہتا ہے۔ وہ اسباب سے اوپر اٹھ کر مسبب الاسباب میں جیتا ہے۔ چنانچہ وہ ہر چیز کے پیچھے خیر ہی دیکھتا ہے چاہے بظاہر اسے اس میں کوئی چیز بری نظر آرہی ہو۔ چنانچہ خدا پر توکل، بھروسہ، اس سے حسن ظن اور ہر حال میں خدا کی بندگی و عبادت بندۂ مومن کاہمہ وقتی کام ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا غیب میں رہتے ہوئے بھی اپنے بندوں کا ساتھ دیتا ہے۔ چاہے بظاہر معاملات کتنے ہی برے ہوں، خدا صالحین کو کبھی نہیں چھوڑتا۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ پہلے واقعہ میں ہم نے دیکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ صالحین کی مدد کرنے کے لیے اسباب کے خلاف بھی معاملات کرتے ہیں۔ مگر چونکہ یہ دنیا عالم آزمائش ہے اس لیے ایسا بہت کم ہی کیا جاتا ہے۔ اس واقعے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ زیادہ تر بندوں کی مدد اسباب میں رہتے ہوئے ہی کرتے ہیں، گو بظاہر یہ اسباب عارضی طور پر ان کے خلاف ہوں، لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے معاملات کا فیصلہ آخرکار نیک بندوں کے حق میں ہوتا ہے۔

قصۂ ذوالقرنین
اس سورت کے دوسرے واقعے میں ہم نے ان کفار کا معاملہ دیکھا تھا جو مال و اسباب پاکر تکبر اور غفلت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اپنے مقام و مرتبے کو اپنے عمل کا نتیجہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اس سورت میں بیان کردہ چوتھا واقعہ وہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زمانۂ قدیم کا ایک بادشاہ جو اپنے زمانے کی تمام متمدن دنیا کا حکمران تھا کس طرح اسباب پاکر مغرور نہیں ہوا بلکہ اس نے توکل، رحم، ایمان اور انسانی ہمدردی کے ان جذبات کا قدم قدم پر ثبوت دیا جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہیں۔ یہ واقعہ قدیم فارس کے حکمران سائرس اعظم کا ہے جسے قرآن مجید میں ذوالقرنین کہا گیا ہے۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نہ صرف بادشاہی دی تھی بلکہ عالم اسباب میں اس کے زمانے میں جو کچھ بھی قوت و طاقت کے اسباب موجود تھے، سب اسے عطا کیے گئے تھے۔ اس واقعے میں اس کی تین عظیم فوجی مہموں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں وہ مشرق، مغرب اور شمال میں متمدن دنیا کی آخری سمت تک فتوحات کرتا چلا گیا تھا۔ ہر مہم کے آغاز پر بطور خاص اس چیز کا ذکر ہے کہ اس نے اس مہم کے اسباب مہیا کیے۔ یہ اس چیز کا بیان ہے کہ اسباب کا اہتمام کرنا برا ہے، نہ بادشاہی اور ملک و دولت بری چیز ہیں۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اس نے اس اسباب وقوت کا وہ استعمال کیا جو اللہ تعالیٰ کو عین مطلوب تھا۔ پھر خاص طور پر اس کی تیسری مہم کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج و ماجوج کے ستائے ہوئے لوگوں نے جب اس سے درخواست کی کہ ہم سے کچھ ٹیکس لے لو اور ہمارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان ایک رکاوٹ تعمیر کردو تو اس نے ایک فاتح ہونے کے باوجود کسی قسم کا ٹیکس نہیں لیا بلکہ اپنے خزانے سے خرچ کرکے ان کے لیے ایک زبردست دیوار بنادی۔ یہ ایک پہاڑی درہ تھا جس کو اس نے لوہے کے تختوں سے پہاڑ کی بلندی تک بند کردیا۔ پھر اسے مضبوط کرنے کے لیے لوہے کو آگ میں دہکاکر پگھلا ہوا تانبا اس پر انڈیل دیا گیا۔ تاکہ نہ یاجوج ماجوج اسے چڑھ کر عبور کرسکیں نہ اس میں نقب لگاسکیں۔ مگر اس کے ایمان کا عالم یہ تھا کہ یہ اہتمام کرکے بھی اس نے کہا کہ یہ میرے رب کی رحمت سے ہوا ہے۔ گویا اس نے کام کا کوئی کریڈٹ خود نہیں لیا۔
اس واقعے میں یہ اسباق ہیں کہ مال و اسباب اگر کسی کو ملے ہیں تو اسے انھیں عطیہ الٰہی سمجھ کر رب کی رضا اور خلق کی بھلائی کے کاموں میں لگانا چاہیے۔ نہ کہ اپنی بڑائی اور فخر کے اظہار میں اس کو خرچ کرے۔ بلکہ جتنا زیادہ انعام عطا ہوا ہو اتنی ہی عاجزی سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ مال ایک حدیث کے مطابق اس امت کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ چنانچہ دنیا پرستی کے اس دور میں درحقیقت مال ایک عظیم فتنہ بن گیا ہے۔ مگر سورۂ کہف ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب انسان ذوالقرنین کی روش پر چلتا ہے تو وہ بڑے سے بڑا بادشاہ بن کر بھی وہ رویہ اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتا ہے اور جس کے نتیجے میں انسان اس عزت کا مستحق بن جاتا ہے کہ آخری وحی میں قیامت تک کے لیے اس کا ذکر محفوظ کردیا جائے۔

جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِ آزار نہیں، باعثِ رحمت بن کر رہیے۔

Now, You can also Comment by your Facebook account Below.

مقبول دعا- مولانا وحیدالدین خان

مقبول دعا 
حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے،نہ کہ محض زبانی الفاظ سے-یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبهی محروم نہیں هوتا-مگر مانگنا صرف کچهہ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں-مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل هو گئی هو-ایک شخص زبان سے کہہ رہا هو : خدایا !مجهے اپنا بنا کے، مگر عملا وه اپنی ذات کا بنا رہے،تو یہ اس بار کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں،اس کو جو چیز ملی هوئی ہے،وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تهی،خواه زبان سے اس نے جو لفظ بهی ادا کئے هوں-
ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاته میں انگاره رکهہ دے- خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیاده مہربان ہے-یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وه آپ کو قساوت دے دے،آپ خدا کہ یاد مانگیں اور وه آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے،آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے،آپ کیفیت سے بهری هوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے دے-آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی میں بهٹکتا چهوڑ دے-
آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ هونا،اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابهی تک اس کو مانگا ہی نہیں-اگر آپ کو دوده خریدنا هو اور آپ چهلنی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بهی آپ خالی ہاته واپس آئیں گے-اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے هوں،مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ هو تو یہ کہنا صحیح هو گا کہ نہ آپ نے مانگا تها اور نہ آپ کو ملا،جو مانگے وه کبهی پائے بغیر نہیں رہتا-یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وه کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا هو تو وه اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکهے-وه کہے کہ خدایا،میں نے تجهہ سے ایک چیز مانگی تهی مگر تو نے مجهے وه چیز نہ دی-بخدا،یہ ناممکن ہے،یہ ناممکن ہے،یہ ناممکن ہے-کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے خزانوں کے ساته آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے—–“کون ہے جو مجهہ سے مانگے،تاکہ میں اس دوں”مگر جنهیں لینا ہے وه اس سے غافل بنے هوئے هوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور-

کتاب معرفت
مولانا وحیدالدین خان

Now, You can also Comment by your Facebook account Below.

قرآن کہانی حضرت آدم علیہ السلام

قرآن کہانی حضرت آدم علیہ السلام – علی منیر فاروقی –

 

الحمد للّٰہ و کفی والسلام علی محمد مصطفی ۖ۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ہم انسانوں کو طرح طرح سے راہ ہدایت بخشی۔ کبھی ہمیں دلائل سے قائل کیا ہے، توکبھی ہمارے جذبات کو جھنجھوڑا گیا ہے، کبھی چشمِ تصور میں بہشت و دوزخ کے مناظر لائے جاتے ہیں تو کبھی افلاک پر غور کر کے “پا جا سراغِ زندگی” کی دعوت دی جاتی ہے۔

راہ ہدایت کا ایک رستہ قصص القرآن سے بھی ہو کر گزرتا ہے، جس میں مختلف انبیا کرام اور پیغمبروں کے حالاتِ زندگی بیان کر کے ہمارے لیے روشن مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ بہ حیثیت مسلمان ہمارا ایمان اس بات پر ہونا چاہئے کہ قرآن کے اندر کوئی فضول لایعنی لاحاصل بات موجود نہیں۔ انہ لقول فصل وما ھو بالھزل۔ چناں چہ قصص القرآن میں موجود قصے بھی ہماری ہدایت کا موجب ہیں ۔

یہ قصص القرآن صرف وقت گزاری یا معلومات عامہ کے حصول کے لئے نہ پڑھے جائیں اور نہ ہی بچوں میں مذہب سے دل چسپی کی خاطر بلکہ ان میں ہدایت کے لیے بے پناہ راستے بھی پنہاں ہیں۔

تو آئیے اللہ کے بابرکت نام سے آج ہم ان قصص کو تدبر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یاد رہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ قصص ہمارے لیے نئے نہیں لیکن ہمارا مقصد صرف ان میں پوشیدہ حکمت ،دانائی اور ہدایت کے پہلو تلاش کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ قصص القرآن میں بیان کردہ پہلا قصہ نوع انسان کی پہلی کڑی ہے یعنی ہمارے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام کے حالات زندگی۔

اللہ تعالی نے اس دنیا میں سب سے پہلے جنات کو آباد کیا مگر ان کی سرکشی اور فساد کے باعث فرشتوں کی افواج بھیج کر انہیں سمندر برد کر دیا اور اس طرح زمین کے اصل حق دار یعنی حضرت انسان کے آباد ہونے کی راہ ہموار ہوئی ۔ قرآن کریم میں اللہ عز وجل اس قصے کی ابتدا اپنے اور فرشتوں کے مابین ہونے والے ایک مکالمے سے کرتے ہیں، جب وہ اعلان کرتے ہیں: “میں زمین میں اپنا خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں“۔ فرشتے جواب میں فرماتے ہیں: “کیا تو زمین میں ایسا نائب بنانا چاہتا ہے جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالاںکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔” جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا: ” میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” پھر کھنکھناتی مٹی سے ایک پتلا بنایا جاتا ہے اور فرشتوں کو اس بات کا بھی حکم دیا جاتا ہے: “جب میں اسے مکمل کر لوں اور سنوار لوں اور اس میں روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا۔

اس مٹی کے بارے میں بھی ایک نہایت حسین روایت ملتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس سے مروّی ہے کہ جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کا فیصلہ کیا تو فرشتوں کو حکم ہوا کہ زمین سے مٹی لاؤ۔ پہلے حضرت جبریل علیہ السلام پھر حضرت میکائیل علیہ السلام گئے مگر زمین ان سے کہتی ہے میں اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ تو مجھ میں سے کچھ کم کرے یا مجھے نقصان پہنچائے۔ دونوں آکر اللہ پاک کو بتاتے ہیں۔ آخر میں حضرت عزرائیل جاتے ہیں اور زمین کی اسی بات کا جواب کچھ یوں دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس کا دیئے ہوئے حکم کی بجا آوری نہ کروں۔ پھر مختلف رنگوں کی مٹی لا کر حاضر کرتے ہیں۔ اس مختلف رنگ کی مٹی سے ہماری تخلیق در اصل ذات پات اور رنگ و قوم کے بنائے ہوئے اصولوں کی سخت نفی کرتی ہے اور اس بات کی کھلی گواہی دیتی ہے کہ ان اکرمکم عند اللّٰہ اتقاکم (اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین تقوی والے ہیں)نہ کہ عجمی یا عربی۔

چند روایات میں آیا ہے کہ وہ پتلا کافی عرصے تک بے جان پڑا رہا ۔ ابلیس جب وہاں سے گزرتا تھا تو اس سے مخاطب ہو کر کہتا کہ تم ایک عظیم کام کے لئے پیدا کیے گئے ہو۔ پھر جب مصور کائنات انسان کا ہیولہ مکمل کر لیتے ہیں اور خاک کے پتلے میں روح ڈال دی جاتی ہے تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مکمل ہوتی ہے۔ چند روایات میں آتا ہے کہ جب آپ کے اندر روح پھونکی گئی تو آپ کو ہوش آتے ہی اک چھینک آئی۔ فرشتوں نے آپ سے کہا کہ کہو الحمدللہ اور آپ کے الحمدللہ کے جواب میں اللہ عز وجل فرماتے ہیں کہ تم پر اللہ کا رحم ہوا۔ پھر آپ کو حکم ہوا کہ جا کر فرشتوں سے ملو۔ فرشتوں نے آپ کو دیکھ کر السلام و علیکم کہا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے آدم یہ آج سے تمہارے تسلیمات ہیں۔ یوں دو اہم سبق بنی نوع انسان کو آفرینش پر ہی سکھا دیے جاتے ہیں ایک یہ کہ جیسے ابتدا میں ہی ایک ناخوش گوار کیفیت کا سامنا کرنا پڑا چھینک کی صورت میں اسی طرح تمہاری زندگی میں ہر قسم کے مصائب آئیں گے جس کے جواب میں صبر کے ساتھ اللہ کی ثنا اور شکرگزاری کی روش اختیار کرنی ہے۔ اسی طرح یہ بھی سکھایا گیا کہ باقی نوع کے ساتھ کیسا تعلق رکھنا ہے، یہ شروع میں ہی بتا دیا گیا کہ اے بنی آدم تم امن و سلامتی پھیلانے کے لئے بھیجے گئے ہو اس لیے تمہارے ابتدائی کلمات ہمیشہ سلام پر مبنی ہونے چاہئیں۔

اس کے بعد اللہ تعالی حضرت آدم کو اشیا کے نام سکھاتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے انہیں حاضر کر کے فرشتوں سے ان اشیا کا نام پوچھتے ہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے رب تو پاک ہے اس بارے میں ہمارا علم کچھ نہیں۔ ہمیں تو بس اتنا ہی معلوم ہے جتنا علم تو نے ہمیں عطا کیا ہے ۔ پھر حضرت آدم سے پوچھا جاتا ہے تو وہ جھٹ نام بتا دیتے ہیں اب باری تعالیٰ فرشتوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ پھر سب کو حکم ہوتا ہے کہ آدم کے سامنے سجدے میں گر پڑو اور تمام فرشتے سجدے میں گر پڑتے ہیں سوائے ابلیس کے۔ ابلیس کے بارے میں ہم واقف ہیں کہ یہ دراصل جنات میں سے تھا، جو اپنے زہد و عبادت کی بنیاد پر اعزازی طور پر فرشتوں والے کام پر فائز ہو گیا تھا ۔

اس باغی حرکت پر اللہ تعالیٰ جلال میں ابلیس سے دریافت کرتے ہیں کہ تمہیں یہ سجدہ نہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ تو وہ ملعون کہنے لگا کہ میں اس انسان سے بہتر ہوں اے رب تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس انسان کو مٹی سے۔لمحہ بھر کا تکبر وہ بھی خالق کائنات کے سامنے اس کے تمام کیے کرائے پر پانی پھیر گیا اور وہ رذیل اپنے منصب سے فارغ اور دربار سے نکال دیا گیا۔ باری تعالیٰ کا حکم ہوا: “توُ اتر یہاں سے تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے یہاں پس باہر نکل تو ذلیل ہے” تو وہ ملعون روز قیامت تک کی مہلت یعنی زندگی مانگتا ہے، جو اسے دے دی جاتی ہے پھر اپنی مہلت مانگنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “چوں کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

یوں شیطان دربار سے نکالا جاتا ہے اور ادھر حق تعالی حضرت آدم کی نسل سے تمام آنے والی بنی نوع انسان کی ارواح کو جمع کر کے عہد لیتے ہیں کہ “کیا میں تمہارا رب نہیں” ہم سب نے اس سوال کا جواب یک زبان ہو کر دیا تھا: “کیوں نہیں اے رب ہم اس بات پر گواہ ہیں۔“اس وقت حضرت آدم تمام انسانوں کو دیکھتے ہیں، انہیں آنے والے انبیا کی ارواح الگ سے چمکتی ہوئی دکھائی دییتی ہیں مگر آپ کو اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں اپنے رنگ روپ اور نسب میں سب الگ ہیں۔ وہ باری تعالیٰ سے دریافت کرتے ہیں کہ اے اللہ! تو نے ان سب کو یکساں کیوں نہیں بنایا؟ جواب آتا ہے کہ “کیوں کہ مجھے اپنے بندوں کی طرف سے شکر گزاری بہت عزیز ہے“۔

جنت میں کچھ عرصہ قیام کے بعد حضرت آدم کو ایک خلش محسوس ہونے لگتی ہے۔ فرشتے تو ہر دم رب کی ثنا میں مشغول ہوتے ہیں اب آپ کیا کریں۔ ایک علم الاسما آپ کو عطا ہو چکا مگر اس علم کے بابت تو فرشتے کچھ نہیں جانتے ۔ کس سے گفت گو کریں کہاں قرار پائیں۔ ایک دن جب سو کر اٹھتے ہیں تو اپنے سامنے ایک اپنی ہم نوع عورت کو پاتے ہیں جو ان کی پسلی سے پیدا شدہ تھی۔ پوچھتے ہیں تم کون ہو ، تو وہ کہنے لگیں: “عورت”۔ پھر پوچھا کہ تمہاری تخلیق کا کیا مقصد ہے؟ تو کہنے لگیں: “تاکہ تم میرے اندر قرار پاؤ” اب فرشتے حضرت آدم سے پوچھتے ہیں کہ اے آدم اس عورت کا نام کیا ہے تو آپ کہتے ہیں حوا (لغوی معنی جاںدار) پوچھا: “کیوں” تو کہنے لگے کیوںکہ یہ ایک جاںدار شے سے تخلیق ہوئی۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ مرد و عورت کے جوڑے کی تخلیق کا مقصد آپس میں امن و آشتی کے ساتھ ایک دوسرے کے اندر سکون اور قرار پانا ہے، یہ نہیں کہ ہر دم طاقت کے حصول کی کشمکش میں آپس میں لڑتے رہیں۔

پھر آپ دونوں کو حکم ہوتا ہے کہ جنت میں چین و امن کے ساتھ رہو مگر ہاں! یہ خیال رہے کہ “اس درخت“کے پاس کبھی مت جانا ،وہ کون سا درخت تھا؟ کوئی اسے خوشۂ گندم بتاتا ہے تو کوئی اسے سیب کا درخت کہتا ہے۔ تشبیہات بھی الگ الگ ہیں کسی کی رائے میں وہ درد و تکلیف کا درخت تھا تو کوئی اسے جاودانی حیات کا پھل بتاتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم صرف گمان ہی کر سکتے ہیں ۔ قرآن میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ وہ درخت بالکل اہم نہ تھا بلکہ رب کا حکم اہم تھا۔ قرآن کریم میں اس درخت کے بارے میں الفاظ اس قدر مبہم ہیں کہ لگتا ہے جیسے اللہ تعالی نے کسی بھی درخت کی طرف اشارہ کر کے حضرت آدم کو کہا کہ بس اس درخت کا پھل نہیں کھانا باقی جو چاہے کھاؤ پیو۔ مگر انسان کا فطری تجسس اور شیطان کا بار بار بہکاوا انہیں اس درخت کی طرف مائل کرتا ہے ۔

ابلیس بڑے ناصحانہ انداز میں ان دونوں کو سمجھاتا ہے کہ میں تمہارا دوست ہوں اور تم کو اس درخت سے اس لئے روکا جا رہا ہے کہ کہیں تم ہمیشہ یہاں رہنے والے نہ بن جا ؤ۔ آخر کار بشری تقاضوں کے آگے مجبور ہمارے یہ دونوں جد امجد اس درخت کا پھل کھا لیتے ہیں ۔حکم ہوتا ہے کہ اتر جا ؤتم سب کے سب یہاں سے ،جا ؤدنیا میں رہو وہاں تمہارا ٹھکانہ اور طعام و قیام ہو گا اور تم وہیں رہو گے ایک دوسرے کے دشمن بن کر (انسان اور شیطان)۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ سے یہ خطا ہوئی تو اللہ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ آدم سے اس کی خلعت اور آرائش واپس لے لو چناںچہ آپ کے سر سے تاج اور دیگر آرائشیں اتارلی جاتی ہیں تو آپ رو رو کر چلاتے جاتے ہیں “معافی” ،”معافی”۔ ندا آتی ہے کہ اے آدم! کیا مجھ سے بھاگ رہے ہو ؟ تو آپ فرماتے ہیں: ” نہیں اے رب! مگر آپ سے شرم آ رہی ہے۔

دنیا میں آکر ایک عرصہ سخت ندامت کی حالت میں روتے ہوئے گزارتے ہیں پھر رحمان کی رحمانیت جوش میں آتی ہے اور آپ کو پہلے علم کی طرح ایک اور علم دیا جاتا ہے۔ پہلا علم دنیاوی علوم کے سرچشمے یعنی عقل و خرد کا ملا اور دوسرا پہلی وحی کی صورت میں آخروی نجات کا۔ اس اولین وحی سے آپ کو توبہ کا سلیقہ اور اس کے الفاظ سکھائے جاتے ہیں اور معاف کر دیا جاتا ہے اور پھر ایک شفیق استاد کی مانند بڑی محبت سے حضرت آدم کو سمجھایا جاتا ہے کہ تمہارا گھر فی الحال یہی ہے،یہیں تمہارا عارضی قیام ہے، مجھے یاد رکھنا اور جب جب میری جانب سے میرے رسول تمہارے پاس ہدایت لے کر آئیں تو ان کی اتباع کرنا ۔ تم ایسا کرو گے تو نہ تمہیں کوئی غم ہو گا نہ کوئی ملال تم واپس اپنے اصلی گھر اور مقام یعنی جنت کو حاصل کر لو گے۔

اب ہم حضرت آدم کے رویے کا تقابل ابلیس سے کریں تو عبد الرحمان اور شیطان کا فرق صاف واضح ہو جائے گا۔ ایک غلطی حضرت آدم و حوا سے ہوئی اور ایک ابلیس سے تو دونوں کے درمیان فرق کیا تھا؟ فرق یہ تھا کہ حضرت آدم نے فوری رجوع کیا ،رو رو کہ معافی مانگی اور اپنی حرکت پر سخت ندامت کا اظہار کیا جب کہ ابلیس ڈھٹائی کے ساتھ اپنی حرکت پرنہ صرف ڈٹا بلکہ اپنے تکبر کی توجیح بھی پیش کرنے لگا، اور جب اسے یقین ہو گیا کہ میں تا قیامت ملعون ہو گیا ہوں تو پھر بجائے معافی مانگنے کے الٹا اللہ کو اپنی گمراہی کا موجب ٹھہرانے لگا: “چوں کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔” تو یوں ہمیں معلوم ہوا کہ رحمان کے بندے گناہوں کے بعد ایک داغ ندامت اپنے سینے سجاتے ہیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے دوبارہ اللہ کا قرب چاہتے ہیں اس کے برخلاف ابلیس کی سنت، انا پرستی، گھمنڈ اور میں نا مانوں کی تکرار ہے۔

اس قصے پر اگر غور کریں تو بہت سی الجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں،یہ حضرت انسان جو اس بات پر قادر ہے کہ اللہ کی زمین پر کشت و خون کا بازار گرم کر دے ،بھوک اور بیماری کے سودے کرے ، حیوانیت پر آئے تو اس حد تک کہ اپنی بیٹی کو بازار میں بیچ آئے، اس انسان سے دنیا میں خلافت کا کام کس طرح لیا جائے گا؟ اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو فرشتوں کی جھجھک بلا وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ مگر اللہ کی حکمت دو چیزوں سے عیاں ہوتی ہے۔ پہلی حکمت اس سجدے میں پوشیدہ ہے جو فرشتوں سے کروایا گیا۔ ایک طرف تو اس خاکی پتلے کے اندر چھپی نورانی روح کے تقدس کی طرف نشان دہی کی جاتی ہے تو دوسرا یہ بتایا جاتا ہے کہ جہاں اس کے اندر شر کی پیروی کرنے اور فساد کی قوت ہے وہیں اس انسان میں لامتناہی محبت ،رحم و ایثار کا جذبہ بھی موجود ہے۔ فرشتے اور ان سے جڑی ہدایت اور پاک اعمال کرنے کی قوتیں اور اسی طرح ابلیس سے جڑی شیطانی اعمال کرنے کی قوتیں، دونوں انسان کے تابع کر دی گئی ہیں اور اسے یہ بتا دیا گیا ہے کہ یہ دو راستے ہیں اور تم بیچ میں کھڑے ہو اب ان دونوں میں سے جو راستہ چاہو اپنا لو، اما شاکر واما کفورا تمہارے اعمال تمہارا فیصلہ کریں گے۔ ابلیس کے رستے پر چلے تو ملعون ہو جاؤ گے اور میرے رستے پر چلے تو پھر اس سجدے کا حق ادا کر کے اشرف المخلوقات بن پا ؤگے۔

اور پھر اس بنی نوع انسان کو نام دینے کی طاقت دی گئی یعنی علم عطا ہوا وہ بھی ایک ایسا علم جو انسان کو باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے جس کے ذریعے انسان اپنی تحقیق ‘ تعلیم اور تجربہ نسل در نسل آگے بڑھاتا ہے ۔ میرا آج کی تاریخ میں ہزاروں سال پرانے اس قصے کو بیان کرنا اس علم اور اس کی طاقت کا واضح ثبوت ہے اور نہ صرف اسے نام دینے اور گویائی کی قوت ملی بلکہ ساتھ ساتھ اسے عقل سلیم اور ذہانت بھی عطا ہوئی جو حضرت حوا کے نام دینے والے واقعے سے واضح ہے۔ وہ اپنے بُرے اور بھلے کا نہ صرف فیصلہ کر سکتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس بات کا علم نسل در نسل بھی منتقل کر سکتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ اللہ رب العزت کو معلوم تھا کہ ہمارے جد امجد اس درخت کا پھل ضرور کھائیں گے۔ چوںکہ بارگاہ رب سے یہ اعلان تو پہلے ہی ہو چکا تھا کہ میں “زمین“میں اپنا نائب بنانے جا رہا ہوں ،یہ تھوڑی کہا گیا تھا کہ میں “جنت” میں اپنا نائب بنا رہا ہوں۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر درخت سے کیوں روکا؟ اور صرف ایک پھل کھانے پر جنت سے کیوں نکالا؟ یہ دراصل انسان کی تخلیق اور تکمیل کا آخری مرحلہ تھا، یہ وہ پہلا از خود فیصلہ تھا جو انسان نے کیا ۔ یہ اس بات کی نشان دہی تھی کہ اب یہ خاکی مخلوق تیار ہے کہ اپنی امتحان گاہ میں بھیج دی جائے اور ایک مقررہ وقت تک اپنے علم الاسما کو استعمال کرتے ہوئے اپنا ذہنی علمی اور عمرانی ارتقاء کرے اور ساتھ ساتھ علم وحی کی متلاشی رہے اور جب بھی رسول اور پیغمبر بارگاہ ربانی سے ہدایات لے کر آئیں یہ انسان ان کی تصدیق کر کے اپنے لیے نجات کی راہ ہموار کرے۔

یوں انسان کو علم کا ہتھیار دے کر بھیجا اور ساتھ ساتھ اس کی نجات سے جڑی تین باتیں اس کے اندر سختی سے بٹھا دی گئیں۔ اول یہ کہ جنت میں وقت گزارنے کا موقع دے کر اس کے دل میں لاشعوری طور پر اس کی محبت بھر دی گئی اور یہ بتا دیا گیا کہ یہی تمہارا اصل مقام ہے لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم اور پھر یہ جو نکالے جانے کے باعث تم اسفل سافلین ہو گئے ہو تو اپنے اعمال اور اٹھان سے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ بحال کرو اور اپنا اصل مقام دوبارہ تلاش کرو ،یہی تمہارا امتحان ہے۔ پھر شیطان کی وجہ سے اس مقام کا چھننا اس کے اندر اس بات کو بٹھا گیا کہ شیطان میرا کھلا دشمن ہے جس کی چال سے مجھے ہر دم ہوشیار رہنا پڑے گا اور آخر میں یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ یہ سفر یقینا بہت لمبا اور مشکل ہو گا، تکلیف بھی ملے گی مشکلات بھی آئیں گی بشری کمزوری کے باعث گناہ بھی سرزد ہوں گے ایسے میں کیا کرنا ہے؟ ایسے میں سارا غرور و تکبر ایک طرف رکھ کر صدق دل سے اللہ سے معافی مانگنی ہے اور رجوع کرنا ہے ۔ اللہ ہم سب کو ان نصیحتوں پر عمل کرنے توفیق دے ۔ آمین

اشتراک بذریعہ: الف کتاب

Now, You can also Comment by your Facebook account Below.