ٹائم زون

ٹائم زون
٭ کینیا کا وقت نائیجیریا سے 2 گھنٹے آگے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نائیجیریا ‘سست رفتار‘ ہے اور کینیا ‘تیز رفتار‘۔۔ دونوں ممالک اپنے اپنے ٹائم زون کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔
٭ کوئی شخص بڑی عمرتک غیر شادی شدہ ہے اور کسی نے شادی کرلی اور دس سال تک صاحب اولاد ہونے کا منتظر رہا، اور دوسری طرف کوئی شخص شادی کے ایک سال بعد ہی اولاد کا حامل بن گیا۔۔
٭ کسی نے بائیس سال کی عمر میں گریجویشن کیا اور پانچ سال ایک اچھی ملازمت کے حصول میں لگا دیے، اور دوسری طرف ایک شخص ستائیس سال کی عمر میں گرھویشن کیا اور فوری طور پر اسے ایک اچھا ملازمت بھی مل گئی۔

٭ کوئی پچیس سال کی عمر میں ایک کمپنی کا CEO  بن گیا اور پچاس سال کی عمر میں وفات پا گیا اور دوسری طرف دوسرا شخص پچاس سال کی عمر میں اس عہدے پر پہنچا اور نوے سال عمر پائی۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے ٹائم زون کے حساب سے کام کرتا ہے ۔ ہر کام کے تکمیل کی اپنی رفتار ہوتی ہے ۔۔۔ اپنے ٹائم زون کے مطابق
آپ کے ساتھی، دوست یا آپ سے عمر میں چھوٹے لوگ بظاہر آپ سے آگے ہو سکتے ہیں،
ان سے بدگمان نہ ہوں، وہ ان کا ‘ٹائم زون’ ہے اور آپ اپنے ‘ٹائم زون’ میں ہیں،
ڈٹے رہیں، ثابت قدم رہیں اور خود سے مخلص رہیں۔ یہ سب چیزیں مل کر آپ کی بہتری میں معاون ثابت ہونگی۔
آپ ‘لیٹ‘ نہیں ہیں ۔۔ آپ بالکل وقت پر ہیں۔
(مجھے کوشش کے با وجود ‘ٹائم زون’ کا اردو متبادل لفظ نہیں مل سکا اگر کوئی بتا سکے تو مہربانی ہوگی)
Advertisements

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (سورہ الشعراء)
یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے. اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہےکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ جب وہ مجھے بیماری دیتا ہےتو وہی شفا دیتا ہے. بلکہ یہ کہا کہ جب “میں “بیمار پڑتا ہوں تو وہ شفا دیتا ہے. یعنی بیماری کے عمل کو اپنی جانب منسوب کیا اور شفا کو خدا سے منسوب کیا. یہی پیغمبروں کی خدا سے محبت اور ادب ہے جسے ہمیں ماننا ضروری ہے.
بیماری کا اذن یعنی اجازت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے لیکن بیماری کا سبب یا تو ہماری اپنی کوئی کوتاہی ہوتی یا خدا کی جانب سے آزمائش یا دونوں۔ جیسے سگریٹ پینے پر ہارٹ اٹیک کا ہونا ہماری اپنی کوتاہی ہے، حضرت ایوب علیہ السلام کا بیماری میں مبتلا ہونا آزمائش ہے وغیرہ۔ چونکہ ہم متعین طور پر نہیں جانتے کہ بیماری ہماری کسی کوتاہی کی بنا پر ہے یا خدا کی جانب سے ، اس لیے اس کی نسبت اپنی ہی جانب کرکے اپنی کوتاہی تلاش کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ہی درست رویہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد عقیل

سہولت یا ضرورت؟

 ضرورت ایجاد کی ماں کہلاتی ہے
مگر جب یہی ضرورت جو کہ سہولت کے لئے ایجاد کی گئی ہو اتنی ضروری ہو جائے کہ انسان حد سے گزر جائے تو اس سے بڑا وبال بھی کوئی نہیں ہوتا۔
اور ویسے بھی ہر چیز توازن میں ہو تو اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے جہاں توازن بگڑے مسلئے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کہ آج کل ہم ہر طرف موبائل فون کا رونا سنتے رہتے ہیں۔

ریت سے بُت نہ بنا

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتّھر لا دوں​

میں تیرے سامنے انبار لگا دوں لیکن​
کون سے رنگ کا پتّھر تیرے کام آئے گا؟​
سرخ پتّھر جسے دل کہتی دنیا

یا وہ پتّھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتّھر

جس میں صدیوں کے تحیّر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتّھر کی ضرورت ہو گی؟
جس پہ حق بات بھی پتّھر کی طرح گرتی ہے
اِک وہ پتّھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید
اس کے مَرمَر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتّھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے
جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتّھر ہیں
جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتّھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتّھر
میرا الہام، تیرا ذہنِ رَسیا بھی پتّھر
اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتّھر ہے
ہاتھ پتّھر ہیں تیرے ۔۔۔۔ میری زباں پتّھر ہے
ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد ندیم قاسمی​