ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

پلیٹ میں تین چیزیں نظر آرہی ہیں،
غور سے دیکھیں اور انکے نام کمنٹ میں لکھ دیں.
 
پہلی نظر میں ذہن میں یہی آئے گا کہ پلیٹ پر انڈے اور آلو چیپس ہیں..لیکن حقیقت میں:
انڈے کی زردی (آڑو) ھے.
انڈے کی سفیدی (دہی) ھے.
آلو کے چپس (سیب کے سلائس) ھے.

لہذا ظاھری شکل اور خبر پر بلاتحقیق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اسکی
تحقیق ضروری ھے، جس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں 
{ يٰأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ آمَنُوۤاْ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ أَن
تُصِيبُواْ قَوْمَا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ
نَادِمِينَ}.الحجرات:6

مومنو! اگر کوئی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے
تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔
پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے.

اس پوسٹ کے ساتھ سوال
کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کون تحقیق اور سوچ سمجھ کے جواب دیتا ھے اور کون
جلدی بازی میں کوئی فیصلہ صادر کرتا ھے.!
لہذا اس پوسٹ کا مقصد کوئی
گیم یا ٹائم پاس نھیں بلکہ ایک مثال کیساتھ اہم پوائنٹ کی وضاحت مقصود تھا،
کیونکہ بلاتحقیق کسی پر رائے قائم کرنے والی بیماری آج کل بھت عام ھوچکی
ھے..

بشکریہ: اردو دعوۃ

via Blogger http://ift.tt/2fHptdy

کچن باغیچہ

ہمارا کچن باغیچہ
بہت عرصے سے کئی جگہ سننے اور دیکھنے کے بعد ہمیں بھی شوق ہوا ‘کچن گارڈننگ” کا تو ہم نے بھی سوچا تجربہ کرکے دیکھتے ہیں۔ تقریباً چھ آٹھ مہینے کی کوشش کے بعد ہمارا باغیچہ کچھ ایسا ہے۔
گملے میں عجوہ کھجور کا باغ 🙂
گاجر (مرحلہ وار)
ادرک
لہسن
پیاز اور لیموں
ہری مرچ
ٹماٹر
گھیگوار (ایلو ویرا)
کینو
پیاز (پانی میں اگانے کا تجربہ)
تو کیسا لگا آپ کو ہمارا کچن باغیچہ؟؟
 
 
 
 
 
 
 
 

via Blogger http://ift.tt/2gReOlF

آج کی بات ۔۔۔۔ 28 نومبر 2016

 آج کی بات
عام لوگ جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے بھی شامل ہیں آئے دن کچھ ایسے عمل کرتے
رہتے ہیں جو گناہ ہیں لیکن اُنہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ گناہوں کے مرتکب
ہو رہے ہیں
اِن عوامِل کو ایک اہلِ عِلم نے آسان زبان میں لکھا ہے تاکہ عوام کی سمجھ میں آ جائیں اور وہ اِن گناہوں سے بچ سکیں
1 ۔ ریا کاری ۔ عبادت یا نیکی کرتے ہوئے دِکھانا ۔ آج کل کئی لوگوں کا
معمول بن گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کیلئے جاتے ہیں تو احرام پہنے اور حرم
شریف کے اندر تصاویر کھینچ کر عزیز و اقارب کو بھیجتے ہیں اور کچھ لوگ
انہیں سوشل میڈیا جیسے فیس بُک پر لگا دیتے ہیں
2 ۔ بد گمانی ۔ کسی کیلئے غلط خیال دل میں لانا
3 ۔ دھوکہ ۔ عیب چھُپا کر مال بیچنا ۔ یا بیچتے ہوئے عیب دار مال کا عیب نہ دکھانا
4 ۔ ٹوہ میں رہنا ۔ دوسرے کی سرگرمی پر نظر رکھنا
5 ۔ غیبت ۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا (خواہ وہ برائی اُس میں موجود ہو)
6 ۔ طعنہ دینا ۔ احسان کر کے جتانا
7 ۔ تکبّر ۔ اپنے آپ کو بڑا یا بہتر سمجھنا (کئی بڑے نمازی اور خیرات کرنے
والے اپنے نوکروں یا حاجت مندوں کو سامنے کھڑا رکھتے یا زمین پر بٹھاتے ہیں
جبکہ خود صوفہ پر بیٹھے ہوتے ہیں)
8 ۔ چُغلی ۔ ایک کی بات کسی دوسرے سے بیان کرنا
9 ۔ سازش ۔ دوسرے کے خلاف کوئی منصوبہ بنانا یا کسی کو منصوبہ بنانے کی ترغیب دینا
10 ۔ اسراف ۔ ضرورت سے زیادہ خرچ یا استعمال کرنا ۔ جیسے گلاس بھر کر پانی لینا لیکن سارا نہ پینا اور چھوڑ دینا
11 ۔ حسد ۔ کسی کی خوشی یا ترقی سے بُرا محسوس کرنا
12 ۔ کانا پھُوسی ۔ محفل میں کھُلی بات کرنے کی بجائے کسی ایک کے کان میں کہنا

via Blogger http://ift.tt/2gyLKLc

تدبرِ قرآن- سورہ بقرۃ (استاد نعمان علی خان) حصہ- 19

تدبر قرآن (سورہ بقرہ) حصہ 19
بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اس مثال آپ کو ایسے سمجھائی جا سکتی ہے کہ یہ دو مختلف تصویریں ہیں. ایک تصویر مختصر ہو گی اور دوسری تفصیل سے. میں پہلے ایک تصویر کے بارے میں مختصراً آپ کو بتاؤں گا آپ کو بس تصور کرنا ہے کہ الله پاک نے کیسے اس کا نقشہ کھینچا ہے پھر ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے. تو الله پاک فرماتے ہیں

مَثَلُهُمْ كَمَثَل


الله پاک فرماتے ہیں کہ آیت نمبر ۱۶ میں جن کا ذکر ہے

 أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾
 جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور ان کی تجارت کا انہیں کوئی فائدہ بھی نہ ہوا اور اصل میں انہیں ہدایت حاصل کرنے میں دلچسپی تھی بھی نہیں.
 ان کے پاس جو بھی ہدایت بچی تھی اس سے انہیں کوئی لگاؤ تھا ہی نہیں اس لیے تو سستے داموں بیچ ڈالی. اللہ پاک یہاں ان ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہیں.
عربی زبان کی وسعت کی وجہ سے جہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ مَثَلُھُم الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا “ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آگ جلانے کی کوشش کرے”. مگر قرآن پاک میں ایسے نہیں کہا گیا. قرآن پاک میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

مثل کا لفظ دو بار استعمال کیا گیا اور اس میں ایک اور لفظ جوڑ دیا گیا کَ.
تکنیکی باریکی میں جائے بغیر اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کو درپیش مسئلے کا ایک بہت چھوٹا حصہ اس تصویر میں دکھایا جا رہا ہے. اگر یہ تصویر منافقین کے کردار یا ان کافروں کے کردار کو مکمک طور پر پیش کرتی تو پھر لفظ مَثََلُھُم کے بعد سیدھا ان الفاظ کا استعمال ہوتا الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا. مگر چونکہ یہاں دونوں کلموں کے درمیان  فاصلہ ہے تو آپ کو اس پہیلی کے ایک چھوٹے سے حصے کی ہی سمجھ آئے گی. اب یہاں پہیلی کے ایک ہی حصے کا تذکرہ الله پاک نے کیوں فرمایا؟ کیونکہ پہیلی کے باقی حصے الله پاک آپ کو قرآن پاک کے مختلف حصوں میں پیش کریں گے. بس آپ کو تصویر کو مکمل کرنے کے لیے پزل کے باقی حصوں کی تلاش جاری رکھنی ہے. یہاں ان الفاظ میں صرف ایک جھلک ہی ہمیں دکھائی گئی ہے کہ
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا.

کہتے ہیں کہ عرب لفظ ” مَثَلِ ” کا استعمال کسی عام مثال کے لیے نہیں کرتے تھے. وہ لفظ  ” مَثَلِ ” کا استعمال تب کرتے تھے جب کسی عجیب و غریب چیز کی مثال دینا مقصود ہو. تو جب لفظ  “مَثَلِ” کا استعمال ہو تو آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ آگے کوئی عجیب حقیقت آشکار ہونے جا رہی ہے. کسی عام چیز کی بات نہیں ہو رہی، اگر کسی عام  چیز کا  ذکر ہوتا تو اس کے لیے حرف  ” كَ ” تشبیہہ دینے کے لیے استعمال ہوتا، لیکن اگر کوئی مختلف سی، عجیب چیز ہو تو  تشبیہہ دینے کے لیے لفظ  ” مَثَلِ ” کا استعمال کیا جاتا. عرب کسی عام سادہ چیز کے لیے لفظ  ” مَثَلِ ” کا استعمال نہیں کرتے تھے. اب قرآن کی اس آیت کے پیشِ نظر آپ سب  تصور کریں اور اپنے ذہن میں منظر کشی کریں ،

 الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا

تو ان کی مثال اس ایک شخص کی سی جس نے آگ جلانے کی کوشش کی. عرب میں یہ تصور اور منظر کشی نہایت عام تھی کہ ایک انسان رات کی تاریکی میں صحرا کے وسط میں بھٹک رہا ہے ، وہ صحیح راستے کی تلاش میں ہے لیکن گھپ اندھیرا ہے اور اسے سیدھا راستہ مل ہی نہیں رہا تو وہ ایک جگہ رکتا ہے تاکہ آگ جلا سکے اور کم ازکم اس تاریکی سے تو نجات پا لے ، اب اس تاریک صحرا کے وسط میں ایک شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے ، اور ابھی اس نے آگ روشن نہیں کی ، اگر کہا جاتا ” اَوْقَدَ نَارًا ”  تو اس کے معنی ہیں اس نے آگ جلائی ، لیکن اسْتَوْقَدَ نَارًا کے معنی ہیں اس نے آگ جلانے کی کوشش کی ، تو وہ شخص بھرپور کوشش کر رہا ہے آگ جلانے کی . صحرا میں رات کا اندھیرا چھایا ہے، شدید سردی ہے. اور جانوروں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں. یعنی وہ شخص خطرے میں ہے اور اس تاریکی میں صحرا میں رات بسر کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے تو اپنی حفاظت کے لیے  آگ جلانا ناگزیر ہے ، ہو سکتا ہے آگ کی روشنی سے جانور گھبرا کر دور بھاگ جائیں، اور ویسے بھی آگ کی حدت کے بغیر سردی سے ہی مر جانے  کا خطرہ ہے، تو وہ شخص آگ جلانے کی کوشش کرتا ہے اور آگے ہی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ

 ” فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ”

اور جب آگ نے اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا

یعنی آگ جل اٹھی اور چاروں طرف روشنی پھیل گئی. جب صرف آگ روشن ہو تو کہا جاتا ہے نارا، لیکن جب آگ بھڑک کر الاؤ کی شکل اختیار کر لے تو اسے ضَؤ کہا جاتا ہے، یعنی ایسا عظیم الاؤ جس کے شعلے آسمانوں سے باتیں کریں تو اس بندے کی لگائی گئی چنگاری سے عظیم الاؤ بھڑک اٹھا اور اس کے گردوپیش کو روشن کر دیا، ‘ “مَا حَوْلَهُ “.
   ضَاءَ عربی میں ضَؤ سے نکلا ہے جا کے معنی روشنی کے ہیں، اردو بولنے والوں میں ضیاء نام بہت عام ہے، جس کے معنی روشنی کے ہیں .  لیکن ضَؤ اور نور میں بہت فرق ہے، ضَؤ ایسی روشنی ہے جس میں حدت یا گرمی  ہوتی ہے، اور نور وہ ہے جس میں گرمی نہیں ہوتی اور نور منعکس شدہ روشنی کو کہا جا سکتا ہے. دوسرے لفظوں میں صبح صادق کے وقت جو آپ روشنی آسمان پر دیکھتے ہیں وہ ضَؤ نہیں بلکہ نور ہوتا ہے ، کہ اس وقت آپ سورج کی روشنی براہ راست نہیں دیکھتے ، آپ سورج کی روشنی آسمان پر منعکس ہوتے دیکھتے ہیں، تو اسے نور کہا جاتا ہے لیکن جب سورج طلوع ہو جائے اور اس کی روشنی حدت پکڑ لے تو اسے ضَؤ کہتے ہیں اور اس روشنی میں حدت بھی ہوتی ہے. تو یہ ہے سورج کی روشنی.


 هُوَ الَّذِى جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً
وہی ہے جس نے سورج کو ضیاء( روشنی) اور چاند کو نور کا ذریعہ بنایا، کیونکہ چاند سورج کی ہی روشنی منعکس کرتا ہے ، اسی لیے چاند کی روشنی کو پرنور کہا جاتا ہے.

-نعمان علی خان

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

via Blogger http://ift.tt/2gmQIvy

جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے

نبی آتے رہے آخر میں نبیوں کے امام آئے
وہ دنیا میں خدا کا آخری لے کر پیام آئے
جھکانے آئے بندوں کی جبیں اللہ کے در پر
سکھانے آدمی کو آدمی کا احترام آئے
وہ آئے جب تو عظمت بڑھ گئی دنیا میں انساں کی
وہ آئے جب تو انساں کو فرشتوں کے سلام ائے
پرِ پرواز بخشے اس نے ایسے آدمیت کو
ملائک رہ گئے پیچھے کچھ ایسے بھی مقام آئے
وہ آئے جب تو دنیا اس طرح سے جگمگا اٹھی
کہ خورشید درخشاں جس طرح بالائے بام آئے
خدا شاہد یہ ان کے فیضِ صحبت کا نتیجہ تھا
شہنشاہ گر پڑے قدموں میں جب ان کے غلام آئے
وہ ہیں بے شک بشر لیکن تشہد میں ،اذانوں میں
جہاں دیکھو خدا کے نام کے بعد ان کا نام ائے
بروزِ حشر امیںؔ جب نفسانفسی کا سماں ہوگا 
وہاں وہ کام آئیں گے جہاں کوئی نہ کام آئے
صلی اللہ علیہ وسلم

via Blogger http://ift.tt/2faKPmj

آج کی بات ۔۔۔ 17 نومبر 2016

~!~ آج کی بات ~!~

سوچ, لہجہ اور الفاظ میں سے اگر کوئی ایک  بھی نا مناسب ہو تو آپ اپنی بات کی اہمیت کھو دیتے ہیں.
لیکن اگر سوچ پاکیزہ ہو, لہجہ نرم ہو اور الفاظ دل میں اترنے والے ہوں تو کوئی آپ کی بات کو رد نہیں کر سکتا.

via Blogger http://ift.tt/2fzmGqr