نو جوان۔۔ قیمتی سرمایہ (خطبہ جمعہ مسجد نبوی)

نوجوانوں کی صلاحیتیں عظیم ترین ذخیرہ اور بہترین خزانہ ہیں، ان کی رہنمائی کے ذریعے ہمہ قسم کی کامیابیاں حاصل ہو سکتی ہیں، نو عمری کا مرحلہ لڑکپن، صغر سنی اور نا تجربہ کاری سے کنایہ ہے، اس مرحلے میں انسان کی قوتِ ادراک کمزور اور فکر و سوچ ناقص ہوتی ہے، صغر سنی میں انسان دوسروں سے متاثر اور مرعوب ہونے کا رسیا ہوتا ہے

جس وقت بھی نو عمر لڑکوں یا لڑکیوں کو کوئی بھی مثالی شخصیت نظر آئے تو اسی کی طرف میلان کر لیتے ہیں، اسی کی صفات اپنا کر اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ویسے ہی کام کرتے ہیں، عام طور پر اسی کا ذکر زبان زد عام ہوتا ہے، اسی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں، اسی کے گن گاتے ہیں اور اپنی شکل و صورت اسی جیسی بناتے ہیں، اپنی چال ڈھال اور لباس اسی جیسا اپناتے ہیں، نو عمر اپنی سوچ اور رویے میں اسی کو آئیڈیل سمجھتے ہیں۔

کچھ لوگ درندہ صفت اور چیر پھاڑ کر دینے والے بھیڑیے اور شکاری پرندے کی طرح اچکنے والے ہوتے ہیں، انہیں انتظار ہوتا ہے کہ کب سرپرست کی توجہ ہٹے اور پدری شفقت رکھنے والا باپ اپنے بچوں سے غافل ہو اور ہم معصوموں کو اچک لیں۔

جو شخص اپنی اولاد کو لہو و لعب اور گناہوں کے لیے کھلا چھوڑ دے کہ پر فتن زمین پر ٹامک ٹوئیاں ماریں، لوگوں کی بھیڑ میں گھسیں، جسے چاہیں مرضی سے دوست بنائیں، ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہ ہو، بلا روک ٹوک گھر سے باہر رات گزاریں، بغیر کسی وجہ کے گھر سے دور رہیں، تو اس نے اپنی اولاد پر بہت ظلم کیا۔

سرپرست اور والدین! عبرت حاصل کریں، اور اپنی اولاد کا خصوصی خیال رکھیں، آپ کے آس پاس گھومنے پھرنے والے لوگوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی دھوکا دہی سے بچیں یہ مکر و فریب کے ساتھ نظریات کو زہر آلود کرتے ہیں اور نو عمر لڑکوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے چنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔

بچے جب لڑکپن سے بلوغت کو پہنچنے لگیں تو انہیں خصوصی وقت دیں، ان کا پہلے سے زیادہ خیال رکھیں، آپ کی اولاد آپ کی اسی وقت بنے گی جب تک آپ ان کے لیے الفت، پیار، نرمی، محبت، شفقت، اور خیر خواہی والا معاملہ اپنائیں گے، اور اگر آپ حقارت، ہتک عزت اور اہانت کریں گے تو وہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر دشمن کی جھولی میں جا بیٹھے گی۔ لہذا ان کی بات غور سے سنو، اگر تم سے کچھ پوچھیں تو انہیں بتلاؤ، اگر کچھ سیکھنا چاہیں تو انہیں سکھاؤ، اور جب تم سے مشورہ مانگیں تو ان کے سامنے اپنی زندگی کے تجربات رکھو، لہذا ہر سوال پر طیش مت کھاؤ، اور تشنگی باقی مت رہنے دو، کبھی بھی آگ بگولا ، اور اتنا سخت مزاج مت بنو کہ ہر وقت غیض و غضب سے بھرے رہو۔

محبت بھرے کلمات دل صاف کر دیتے ہیں، حکمت بھری باتوں سے تسلی ملتی ہے، اور صاحب عقل کے لیے عقلمند ی پر مبنی بات چیت ہی کافی ہے۔

ہر بندے کے ذمے دی جانے والی رعایا کے بارے میں اللہ تعالی پوچھے گا کہ ان کا حق ادا کیا یا زیادتی کرتا رہا؟! چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی تمام ذمہ داران سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔ان کے حقوق ادا کیے یا ضائع کیے؟ یہاں تک کہ ہر آدمی سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جائے گا) ابن حبان

اقتباس از خطبہ جمعہ مسجد نبوی 30 دسمبر 2016

via Blogger http://ift.tt/2iPkwRV

اللہ الرحمٰن الرحیم

شیطان کا ایک بہت عجب جال ہوتا ہے ۔۔۔ کہ اللہ ہم سے ناراض ہو گیا ہے ۔۔
اور کسی بھی بےجا خوف کے تحت وہ ہمیں اللہ سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔
اور وہ ہمارا اللہ جس نے بارہا کہا میرا رحم میرے غضب پر غالب ہے ۔۔ جس نے
قرآن کریم میں 113 سورتوں میں اپنی صفت رحمٰن و رحیم بتائی ۔۔ اور فقط ایک
سورہ جس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے نہیں تو اسکا نام ہی سورۃ
التوبہ ہے ۔۔ جس میں معبودِ حقیقی کا مخفی پیغام ہے اے میرے عبد توبہ کر
اور میں تجھے گلے لگانے کو تیار ہوں۔ 
ویسے جس کے دل میں یہ خوف ہے
کہ اللہ اس سے ناراض ہے اس سے اللہ بھلا کیسے ناراض ہوسکتا ہے ۔۔ یہ تو بس
تب تک ایک شیطانی جال ہے اگر یہ آپکو اللہ کی رحمت سے ہٹا کر اسکے غضب میں
ہی مبتلا رکھے، جب تک یہ خوف انسان کو اللہ سے دور رکھے اور جسے وہ سچے
اشکِ ندامت بہا کر یہ کہہ کر توڑنا ہے کہ میرا گناہ میری رب کی رحمت و
مغفرت سے بڑا نہیں ۔۔ وہ معاف کرنے والا ہے وہ مجھے معاف کر دے ۔۔ مجھے
توفیق دے میں اسی کی رضا میں جیوں مروں اٹھوں ۔۔ اسکے لیے اسی کی توفیق سے
گناہ سے بچوں اسکے لیے نیک اعمال کروں ۔۔ اسے راضی کروں ۔۔ اسکی محبت کی
ٹھنڈک اس کے چین کا نور میرے دل میں ایسا ہو جیسے سخت جون جولائی کے مہیںوں
میں کسی کو ٹھنڈا میٹھا پانی پی کر قرار آجاۓ ۔۔ جیسے کوئی جل رہا ہو اور
ٹھنڈی بارش کی پھوار میں نہا جائے ۔۔ جیسے کوئی تنہا صحرا میں بلکتا ہو تو وہ
اسکے جھلستے سر پر کسی سایہ دارابرِ رحمت سا ہو ۔۔ شاید ناراض ہونا چاہے
تو وہ ان سے ہو جنہیں وہ اپنی ذات سے غافل کر دیتا ہے ۔۔ جنہیں اس احساس سے
بھی محروم کر دیتا ہے کہ کوئی ہے ۔ ۔ جس نے انہیں پیدا کیا جس کے وہ بال بال
مقروض ہیں ۔۔ مگر سچ کہوں بے پرواہ وہ ان سے بھی نہیں ہوتا جو اس سے
بےپرواہ ہو چلے ۔۔ ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کر سکتا مگر نبھاہ رہا ہے
کیوںکہ اس سے بڑھ کر باوفا کوئی نہیں کیوںکہ اس سے بڑھ کر صبور کوئی نہیں وہ
تو انکو بھی بےبہا دے رہا ہے جو اس کا شریک اسی کی مخلوق کو ٹھہراتے ہیں۔۔
اس پرتہمت لگاتے ہیں اسی کا کھا کر پہن کر اسی کی زمین پر چل کر اسی کے
آسمان کی چادر تلے اسی پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔۔ وہ تو سب کو دیئےہی دیئے جا
رہا ہے ۔۔ بے بہا دیئے جا رہا ہے ۔۔ 
تو الحمد للہ اللہ ہم سے ناراض
نہیں ۔۔ مگر ہاں اسکو راضی کرنا ایک الگ معاملہ ہے ۔۔ شاید ایک مسلمان کو
خوف ہوتا ہے اللہ ناراض نہ ہو جائے اور مومن کو یہ فکر رہتی ہے کہ اللہ کو
راضی کیسے کرنا ہے ۔۔۔ جو کہ بلاشبہ عطا ہے ۔۔ کہ اللہ انکو ہی اپنے سے
راضی ہونے کی لگن دیتا ہے جو اسے اچھے لگتے ہیں ۔۔ اور بھلا کون ہے وہ
تخلیق کار جسے اپنی ہی تخلیق بری لگے اور اللہ بے انتہا خوش ہوتا ہے بندے
کے اپنے پاس پلٹ آنے کے لیۓ۔ بندے سے اللہ سے بڑھ کر کوئی پیار نہیں کر
سکتا اور بندہ کیسا بندہ ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر سب سے پیار کرتا ہے۔۔ جانے
کیوں ہم نے اللہ کو ایک عذاب دینے والی ہستی ناراض رہنے والی ہستی سمجھ لیا
ہے حالانکہ وہ تو ہم سے ہماری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ بلکہ اسی
نے تو ہمیں ماں بھی دی الحمد للہ رب العالمین۔ 
ہاں بس اسکے پیار کا
طریقہ الگ ہے ۔۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا مگر اپنے
تجسس اور شوق میں وہ نادانی میں آگ پکڑنے لگا یے تو ماں کیسے بھی کر کے
اسکو آگ سے بچاتی ہے کبھی آگ اس سے دور کرتی ہے کبھی اسکو آگ سے دور کر
دیتی ہے کبھی کسی اورکھلونے سے بہلا لیتی ہے ۔۔ اگر بچہ پھر بھی بضد ہو تو
اسے ڈانٹنے یا مارنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ کیوں؟ کیوںکہ وہ جانتی ہے کہ
بچہ نادانی میں جو خواہش کر رہا ہے وہ خواہش اسے جلا دے گی ۔۔ تو ہمارے
پیارے سے اللہ پاک ۔۔ جنہوں نے خود ہمیں اتنے پیار سے اپنے لیۓ بنایا کیا
وہ ہماری خواہش کو اہم نہیں جانیں گے؟ مگر ہم اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے
شوق کے ہاتھوں جس شے کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ دراصل اسکی ہمارے حق میں
اور ہمارے حق میں اسکی اصل ماہیت سے نا آشنا ہوتے ہیں مگر ہمارا اللہ علیم
و حکیم آشنا ہے ۔۔ تو جیسے بچہ جب برا محسوس کرتا ہے کہ اسکی ماں نے اسکو
آگ سے دور کر دیا ۔۔ اسی طرح نادان انسان اللہ کی حکمت بھی نہیں سمجھ پاتا
۔۔ اور شکوے شکایات کا ایک دفتر کھول دیتا ہے ۔۔ اب بھلا کوئی بچہ آپ کے پاس
منہ بسور کر آئے اور کہے میری ماما نے مجھے آگ پکڑنے پر ایک تھپڑ رسید
فرمانے کی دھمکی ارشاد فرمائی ہے۔۔ تو آپ اس نادان کو کیسے دیکھیں گے۔۔
یقیناۤ مسکراتے ہوئے ۔۔ اور پھر سمجھاتے ہوۓ کہیں گے کہ بیٹا اس میں آپکی
بہتری ہے ۔۔ اب اللہ کے فیصلوں پر اگر کوئی آپ کو بہتری کا پہلو دکھائے تو وہ
یقیناۤ آپ سے مخلص ہے مگر اگر کوئئ آپ کو آپکی ہی ماں کے خلاف اکسائے یا
بھڑکائے تو ذرا اسکے اخلاص کے حوالے سے سوچ لیجیے
۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ
اللہ کسی شے کو بس ذرا لے کر دیکھتا ہے کہ کیا اسکا بندہ اللہ کہ اللہ
جانتا ہے یا اپنی خواہش کو معبود مانتا ہے سو بس آزماتا ہے سو اگر سرخروئی
عطا ہو تو اللہ دہ جہاں میں صلہ بڑھا کر عطا کرتا ہے مگر اللہ وہی کرتا ہے
جس میں اسے اپنے بندے کی سب سے زیادہ خیر نظر آتی ہے ۔۔
اللہ پاک ہے
.. بلاشبہ بہت رحمن غفور الرحیم ہے. اور وہ صرف اپنے بندے کی نیت دیکھتا
ہے. وہ سینوں کے بھید دلوں کی حقیقت نیتوں کا حال سب جانتا ہے. وہ ہماری
توبہ کی حقیقت کو بھی جانچتا ہے. وہی پاک ہے وہی پاک کر سکتا ہے. ہم بس
اللہ کو سچے دل سے خود سپردگی دیں اور اسے کہیں وہ ہم پر قابض ہے وہی ہم پر
قابض رہے.. پل بھر کو بھی ظالم نفس کے حوالے نہ کرے. وہ اور صرف وہی
ہماری شکستہ سامانیوں کے باوجود.. ہماری کوتاہیوں زیادتیوں کے باوجود ..
صرف ایک سچے رجوع پر ہمیں گلے لگانے کو تیار ہے.
ہاں اسکی عظمت بے
نیازی کا خوف ہونا بھی چاہیے. مگر اگر ہم اسکی رضا میں تحلیل ہو جائیں تو
ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم اسکے خوف سے اس سے دور ہوجائیں
وہ ایک واحد
ذات وہ ہے جہاں ہمیں کسی ریجیکشن کا خوف نہیں. وہ جس نے ہمیں بنایا ہے
ہماری شخصی کمزوریوں سے آگاہ. . صرف ہمارے سچ سے ہمارے سچے ہونے کا منتظر
..کہ اسے جھوٹ فریب دھوکہ منافقت پسند نہیں .. کہ اس میں اسکا نہیں ..
ہمارا نقصان ہے… اللہ ہمیں اپنے احسان شناسی سے مالامال کر دے اپنی
محبتوں کے حصار میں ہمیں اور مضبوطی سے تھام لے اللھم آمین!
تحریر: حیا ایشم

via Blogger http://ift.tt/2iwJyFP

آج کی بات ۔۔۔ 29 دسمبر 2016

آج کی بات
آدمی کی چھ غلطیاں :
1- یہ غلط فہی کہ دوسروں کو کچلے بغیر ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا.
2- ایسی باتوں کے بارے میں فکر اور پریشانی کی عادت جنہیں نا تو بدلا جاسکتا ہےاور نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے.
3- یہ خیال کہ جو کام ہم نہیں کر سکے وہ نا ممکن ہے.
4- معمولی اختلافِ رائے پر اڑ جانے کی عادت.
5- ذہنی ترقی اور نفاست کے لیے کوشش نہ کرنا اور کتابوں کے مطالعے اور دنیاوی مشاہدے کی عادت نہ ڈالنا.
6- دوسروں پر زور دینا کہ جس بات کو ہم صحیح سمجھتے ہیں وہ بھی اُسے صحیح
سمجھیں اور جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں وہ بھی ویسی ہی زندگی گزاریں.

کوشش کریں کہ ان غلطیوں سے بچا جاۓ

via Blogger http://ift.tt/2iI1YqJ