اس محبت کے بدلے میں کیا نذر دوں


سوچا تھا کچھ اپنے الفاظ میں اپنے عزیز دوستوں کا شکریہ ادا کروں مگر ہمیشہ کی طرح الفاظ گم ہو گئے اور ساحر لدھیانوی کی یہ نظم مجھے اپنے حسبِ حال لگی تو سب کی نذر

آپ کیا جانیں مجھ کو سمجھتے ہیں کیا
میں تو کچھ بھی نہیں
اس قدر پیار ،اتنی بڑی بھیڑ کا میں، میں رکھوں گا کہاں؟
اس قدر پیار رکھنے کے قابل، نہیں میرا دل ،میری جاں
مجھ کو اتنی محبت نہ دو دوستو
سوچ لو دوستو!

پیار اک شخص کا بھی اگر مل سکے
تو بڑی چیز ہے زندگی کے لیے
آدمی کو مگر یہ بھی ملتا نہیں، یہ بھی ملتا نہیں
مجھ کو اتنی محبت ملی آپ سے
یہ میرا حق نہیں میری تقدیر ہے
میں زمانے کی نظروں میں کچھ بھی نہ تھا
میری آنکھوں میں اب تک وہ تصویر ہے
اس محبت کے بدلے میں کیا نذر دوں
میں تو کچھ بھی نہیں

عزتیں، شہرتیں، چاہتیں، الفتیں
کوئی بھی چیز دنیا میں رہتی نہیں
آج میں ہوں جہاں کل کوئی اور تھا
یہ بھی اک دور ہے، وہ بھی اک دور تھا
آج اتنی محبت نہ دو دوستو
کہ میرے کل کی خاطر نہ کچھ بھی رہے
آج کا پیار تھوڑا بچا کر رکھو
میرے کل کے لیے
کل جو گمنام ہے، کل جو سنسان ہے
کل جو انجان ہے، کل جو ویران ہے

ساحر لدھیانوی

 
دعاؤں کی طلبگار 🙂

via Blogger http://ift.tt/2kKRkMW

سکھ سندیسہ (میرے الفاظ)

~!~ سکھ سندیسہ ~!~
جب ڈھیر اداسی گھیرے تو، اک سکھ سندیسہ آئے
مشکل سے جب میں تھک جاؤں، کچھ غیب سے حل ہو جائے
میرے گمان سے پرے کہیں سے ،حوصلہ یوں مل جائے
جیسے کہ گھور اندھیرے میں، کوئی آس کا دیپ جلائے
میری آس کو نہ وہ ٹوٹنے دے جو ہے اس جگ کا والی
میری ہر دم وہ امداد کرے، اس کی ہر شان نرالی
سیما آفتاب :)

via Blogger http://ift.tt/2kEnMk2

آج کی بات ۔۔۔ 28 جنوری 2017

آج کی بات
انسانی معاشروں کو تمام جنگوں او ربیماریو ں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا 
جتنا نقصان ان کے اس رویے نے انہیں پہنچایا ہے کہ
 وہ اپنے پاس موجود
نعمتوں کونعمت نہیں سمجھتے
 بلکہ دوسروں کے پاس موجود نعمتوں کو نعمت سمجھتے
ہیں ۔

via Blogger http://ift.tt/2kxxzsE