~ ایمان اور سکون ~ اعوذ باللہ من اشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایمان کے مختلف درجے ہیں، کیا ایمان کا سکون سے کوئی تعلق ہے؟ سکون کے بھی مختلف درجے ہیں تو کیا ایمان کے بغیر کوئی سکون پا سکتا ہے؟ یا کوئی ایسا شخص سکون پا سکتا ہے جس کا ایمان کمزور ہو؟ یہ بہت اچھا سوال ہے. اللہ تعالٰی نے فرمایا اﻟْﻔَرِﯾﻘَﯾْنِ أَﺣَقﱡ ﺑِﺎﻷَْﻣْنِ إِنْ ﮐُﻧْﺗُمْ ﺗَﻌْﻟَﻣُونَ… یہ ہے جواب، اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ کون ہے جو دونوں گروہوں میں سے، امن و سلامتی کا زیادہ حقدار ہے؟ دوسرے لفظوں میں ہاں لوگوں کو کبھی کبھار اسلام کے علاوہ چیزوں میں سکون ملتا ہے، لیکن وہ کون ہیں جن کے لیے پائیدار، زندگی بھر کے امن و سکون کا وعدہ ہے؟ یہ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور غلط کاموں و بد اعمالیوں سے ایمان کی حق تلفی نہیں کرتے. بدھ مت کے پیشوا چار گھنٹے ایک ہی حالت میں بیٹھے بغیر جنبش کیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں اور آپ انہیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ حالتِ سکون میں ہیں، کس قدر پرسکون ہیں یہ، لوگ پرسکون رہنے کے لیے یوگا کرتے ہیں، کچھ لوگ موسیقی سے تسکین حاصل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے، اگر آپ سکون کی بات کریں تو لوگ ساحلِ سمندر پر لہروں کو دیکھ کر بھی طمانیت محسوس کرتے ہیں. یہ چیزیں وقتی طور پر ہمارے جذبات کو آسودگی عطا کرتی ہیں. ہمارے خوف، شکوک و شبہات تھوڑی دیر کے لیے کہیں کھو جاتے ہیں اور آپ کا ذہن کہیں اور متوجہ ہو جاتا ہے. لوگ سکون کی خاطر زیادہ تر کیا کرتے ہیں؟ وہ حقیقت سے فرار چاہتے ہیں سو وہ اپنے آپ کو شراب میں ڈبو لیتے ہیں، کیوں؟ تاکہ وہ اپنے مسائل بھلا سکیں، بعض لوگ نشہ آور چیزیں و ادویات استعمال کرتے ہیں کہ ان کا ذہن ماؤف ہو جائے تو وہ اپنے مسائل کے متعلق سوچ ہی نہ سکیں. بہت سے لوگ ویڈیو گیمز و فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے وہ حقیقی زندگی سے کہیں دور نکل جاتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ فلم جلد ختم ہو اور جب ایک فلم ختم ہو جائے تو وہ کہتے ہیں کہ جلدی سے اگلی لگ جائے اور وہ یہ دیکھتے ہی اسی لیے رہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے تلخ حقائق سے فرار چاہتے ہیں. فرق یہ ہے کہ اگر آپ اہلِ ایمان میں سے ہیں تو آپ کو حقیقت سے فرار کی ضرورت نہیں، آپ حقیقت کا سامنا کر کے بھی پرسکون رہ سکتے ہیں، دوسری تمام چیزیں وقتی ہیں جن سے آپ پرسکون رہ سکیں، لوگ کیا کرتے ہیں، چھٹیاں گزارنے کہیں دور چلے جاتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں، ہم ایک جماعت میں جاتے ہیں اور اکٹھے دعا کرتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، یہ ہے ہمارا طریقہ، تو آپ مختلف چیزوں سے وقتی سکون حاصل کر سکتے ہیں مگر ایسا کچھ نہیں جو آپ کو اس دین جیسا سکون دے سکے. -استاد نعمان علی خان

from Facebook
via IFTTT

Advertisements

4 thoughts on “~ ایمان اور سکون ~ اعوذ باللہ من اشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایمان کے مختلف درجے ہیں، کیا ایمان کا سکون سے کوئی تعلق ہے؟ سکون کے بھی مختلف درجے ہیں تو کیا ایمان کے بغیر کوئی سکون پا سکتا ہے؟ یا کوئی ایسا شخص سکون پا سکتا ہے جس کا ایمان کمزور ہو؟ یہ بہت اچھا سوال ہے. اللہ تعالٰی نے فرمایا اﻟْﻔَرِﯾﻘَﯾْنِ أَﺣَقﱡ ﺑِﺎﻷَْﻣْنِ إِنْ ﮐُﻧْﺗُمْ ﺗَﻌْﻟَﻣُونَ… یہ ہے جواب، اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ کون ہے جو دونوں گروہوں میں سے، امن و سلامتی کا زیادہ حقدار ہے؟ دوسرے لفظوں میں ہاں لوگوں کو کبھی کبھار اسلام کے علاوہ چیزوں میں سکون ملتا ہے، لیکن وہ کون ہیں جن کے لیے پائیدار، زندگی بھر کے امن و سکون کا وعدہ ہے؟ یہ وہ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور غلط کاموں و بد اعمالیوں سے ایمان کی حق تلفی نہیں کرتے. بدھ مت کے پیشوا چار گھنٹے ایک ہی حالت میں بیٹھے بغیر جنبش کیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں اور آپ انہیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ حالتِ سکون میں ہیں، کس قدر پرسکون ہیں یہ، لوگ پرسکون رہنے کے لیے یوگا کرتے ہیں، کچھ لوگ موسیقی سے تسکین حاصل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے، اگر آپ سکون کی بات کریں تو لوگ ساحلِ سمندر پر لہروں کو دیکھ کر بھی طمانیت محسوس کرتے ہیں. یہ چیزیں وقتی طور پر ہمارے جذبات کو آسودگی عطا کرتی ہیں. ہمارے خوف، شکوک و شبہات تھوڑی دیر کے لیے کہیں کھو جاتے ہیں اور آپ کا ذہن کہیں اور متوجہ ہو جاتا ہے. لوگ سکون کی خاطر زیادہ تر کیا کرتے ہیں؟ وہ حقیقت سے فرار چاہتے ہیں سو وہ اپنے آپ کو شراب میں ڈبو لیتے ہیں، کیوں؟ تاکہ وہ اپنے مسائل بھلا سکیں، بعض لوگ نشہ آور چیزیں و ادویات استعمال کرتے ہیں کہ ان کا ذہن ماؤف ہو جائے تو وہ اپنے مسائل کے متعلق سوچ ہی نہ سکیں. بہت سے لوگ ویڈیو گیمز و فلموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے وہ حقیقی زندگی سے کہیں دور نکل جاتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ فلم جلد ختم ہو اور جب ایک فلم ختم ہو جائے تو وہ کہتے ہیں کہ جلدی سے اگلی لگ جائے اور وہ یہ دیکھتے ہی اسی لیے رہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے تلخ حقائق سے فرار چاہتے ہیں. فرق یہ ہے کہ اگر آپ اہلِ ایمان میں سے ہیں تو آپ کو حقیقت سے فرار کی ضرورت نہیں، آپ حقیقت کا سامنا کر کے بھی پرسکون رہ سکتے ہیں، دوسری تمام چیزیں وقتی ہیں جن سے آپ پرسکون رہ سکیں، لوگ کیا کرتے ہیں، چھٹیاں گزارنے کہیں دور چلے جاتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں، ہم ایک جماعت میں جاتے ہیں اور اکٹھے دعا کرتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، یہ ہے ہمارا طریقہ، تو آپ مختلف چیزوں سے وقتی سکون حاصل کر سکتے ہیں مگر ایسا کچھ نہیں جو آپ کو اس دین جیسا سکون دے سکے. -استاد نعمان علی خان

  1. That’s true….beyond doubt.

    Eemaan is about 3 dajaat / manifestations. First (stopping an evil by force)….. Second (stopping an evil by talk)….. Last and weakest (considering bad things, bad at heart)….

    Sakoon is about the state of heart…. The tranquil.. The poise… The grounded condition of the whole body, thoughts, acts and harmony in between and amongst….

    Eemaan is achieved through amaanat and diyaanat….

    Sakoon is is achieved through zikr of Allah….

    Liked by 2 people

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s