Image

فہم قرآن

سلسلہ “فہم القرآن ”
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…
واقعہ اصحاب الفیل:
حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن میں ابرہتہ الاشرم گورنر تھا اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا (عبادت گھر) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کی بجائے عبادت اور حج عمرہ کے لئے ادھر آیا کریں۔محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اُس نے شاہِ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے اِس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ  رہوں ۔گا یہ بات اہل مکہ اور دیگر قبائل عرب کے لئے سخت ناگوار تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص ابرہہ کے بنائے ہوئے عبادت خانے کو غلاظت سے پلید کر دیا،اور ایک روایت کے مطابق ایک شخص نے آگ لگا دی … اِن میں سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابلِ تعجب  امر نہیں ہے ، کیونکہ ابرھہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں اس پر کسی عرب، یا قریشی کا ، یا چند قریشی نوجوانوں کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کر دینا یا اس میں آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرھہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اُسے مکّہ پر چڑھائی کرنے کا بہانا مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہلِ عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں مقصد حاصل کر لے۔ بہر حال دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو،  اس واقعہ کی اطلاع اس کو کر دی گئی کہ کسی نے اس طرح گرجا کو ناپاک کر دیا یا جلا دیا …جس پر اس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کا عزم کر لیا اور ایک لشکر جرار لے کر مکے روانہ ہوا …
محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مکے کے قریب پہنچ کر ابرہہ کے لشکر نے قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لئے جن میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کے بھی دو سو اونٹ تھے . اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکّہ بھیجا اور اس کے ذریعہ سے اہلِ مکّہ کو یہ پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں ، بلکہ اِس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔ اگر تم نہ لڑو تو میں تمہاری جان و مال سے کوئی تعرُّض نہ کروں گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہلِ مکّہ اگر بات کرنا چاہیں تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکّے کے سب سے بڑے سردار اُس وقت عبد المطلب تھے۔ ایلچی نے ان سے مل کر ابرھہ کا پیغام پہنچایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں۔ وہ اس پر راضی ہو گئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اِس قدر وجیہ اور شاندار شخص تھے کہ اُن کو دیکھ کر ابرھہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اُتر کر ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرھہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں بہت متأثر ہوا  تھا، مگر آپ کی اِس بات نے آپ کو میری نظر  سے گرا دیا  کہ آپ  اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دینِ آبائی کا مرجع ہے ، اِس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا میں تو  صرف اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور اُنہی کے بارے میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ رہا یہ گھر، تو اِس کا ایک ربّ ہے، وہ اِس کی حفاظت خود کر لے گا۔ ابرھہ نے جواب دیا وہ اس  کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا آپ جانیں اور وہ جانے۔ یہ کہہ کر وہ ابرھہ کے پاس  سے اُٹھ آئے اور اُس نے اُن کے اونٹ واپس کر دیے۔
ابنِ عباس ؓ کی روایت  اِس سے مختلف ہے۔ اُس میں اونٹوں کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ہے…عبد بن حُمَید، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُوْیَہ، حاکم، ابو نُعَیم اور بَیْہَقی نے اُن سے جو روایات نقل کی ہیں اُن میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابرھہ الصِّفَاح کے مقام پر پہنچا (جو عَرَفات اور طائف کے پہاڑوں کے درمیان حدودِ حَرَم کے قریب واقع ہے) تو عبد المطّلب خود اُس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے، ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جاتے۔ اس نے کہا کہ میں سنا ہے  یہ گھر امن کا گھر ہے، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ عبد المطلب نے کہا یہ اللہ کا گھر ہے ، آج تک اُس نے کسی کو اِس پر مسلّط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرھہ نے جواب دیا  ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں گے۔ عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں ہم سے لے لیں اور واپس چلے جائیں ۔ مگر ابرھہ نے انکار کر دیا اور عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ  کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔
دونوں روایتوں کے اِس اختلاف کو اگر ہم اپنے جگہ رہنے دیں اور کسی  کو کسی پر ترجیح نہ دیں، تو اِن میں سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہر حال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکّہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اتنی بڑی  فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابلِ فہم بات ہے کہ قریش نے اُس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ 
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ابرھہ کی لشکر گاہ سے واپس آکر عبد المطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں  میں چلے جائیں  تاکہ ان کا قتلِ عام نہ ہو جائے ۔ پھر وہ اور قریش کے چند سردار حَرَم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کُنڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اُس کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ اُس وقت خانۂ کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت موجود تھے، مگر یہ لوگ اُس نازک گھڑی میں اُن سب کو  بھول گئے اور انہوں نے صرف اللہ کے آگے دستِ سوال پھیلایا۔ اُن کی جو دعائیں تاریخوں میں منقول ہوئی ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں عبد المطّلب کے جو  دعائیہ اشعار نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں:
خدایا: بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے ، تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما

کل اُن کی صلیب اور اُن کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں غالب نہ آنے پائے

اگر تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تُو چاہے کر

صلیب کی آل اور اس کے پرستاروں کے مقابلے میں آج اپنی آل کی مدد فرما

اے میرے ربّ تیرے سوا میں اُن کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے میرے ربّ ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر

اِس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے ۔ اپنی بستی کو تباہ کرنے سے ان کو روک
یہ دعائیں مانگ کر عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے ، اور دوسرے روز ابرھہ مکّے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر اُس کا خاص ہاتھی محمود ، جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تَبَر مارے گئے، آنکَسوں سے کَچوکے دیے گئے، یہاں تک کہ اسے زخمی کر دیا گیا ، مگر وہ نہ ہلا۔ اُسے جنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکّے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ 

 جب یہ لشکر وادی محسر کے پاس پہنچا تو اللہ تعالٰی نے پرندوں کے غول بھیج دیئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں جو چنے یا مسور کے برابر تھیں، جس فوجی کے بھی یہ کنکری لگتی وہ پگھل جاتا اور اس کا گوشت جھڑ جاتا۔ خود ابرہہ کا بھی صنعاء پہنچتے پہنچتے یہی انجام ہوا۔ اسطرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی…جس سال یہ واقعہ پیش آیا، اہلِ عرب اُسے عامُ الفِیل (ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں…واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا ۔ مکّے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہلِ عرب اِس بات کے قائل تھے کہ ابرھہ کے اِس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی تھی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد  کے لیے دعائیں مانگی تھیں۔ اور چند سال تک قریش کے لوگ اِس واقعہ سے اس قدر متأثر  رہے تھے کہ اُنہوں نے  اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔اس لیے سورۂ فیل میں تفصیلات بیان نہیں کی گئیں بلکہ صرف اس واقعے کو یاد دلانا کافی تھا ، تاکہ قریش کے لوگ خصوصًا ، اور اہلِ عرب عمومًا، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہےہیں وہ آخر اِس کے سوا اور کیا  ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے ۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اِس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے اُنہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔

منقول

Advertisements
Image

کچھ دل سے ۔۔۔ تدبر القرآن سورۃ البقرہ نعمان علی خان حصہ-44

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-43
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (26) 
اس آیت کے درمیانی حصہ پہ غور کریں . وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُون
“اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں”.
 میری ذاتی رائے ہے کہ یہاں کفر سے “کفرانِ نعمت” مراد ہے، یعنی وہ لوگ جو ناشکرے تھے، وہ لوگ جو حقائق کو دیکھ کر بھی شکر گزار نہیں ہوتے کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے اپنی روٹین سے ہٹ کر مثال دی ہے.
قرآن پاک کی بہترین مثال سورۃ النور میں ہے:
﴿ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾
اس ساری آیت کے آخر میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ
“اللہ تعالٰی لوگوں کے فائدے کے لیے مثالیں دیتے ہیں”.
 اور پھر اللہ تعالٰی مزید گہری، پرسوچ مثالوں کا اضافہ کرتے ہیں. 
وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اللہ تعالٰی پہلے ہی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں. 
اللہ تعالٰی کو تو کسی مثال کی ضرورت نہیں، ضرورت تو ہمیں ہے. اللہ تعالٰی کو عام انسانوں کی سطح پر آ کر مثال دینی پڑ رہی ہے. تا کہ لوگ بہ آسانی بات سمجھ سکیں. اسی وجہ سے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں : 
اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
اللہ تعالٰی نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کو سمجھ سکیں.
 اللہ نے اس کتاب کو ہم سب کے لیے قابل فہم بنایا ہے. زیرِ مطالعہ آیت میں بھی اللہ تعالٰی نے بات سمجھانے کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جو ہمارے لئے مفید ترین ہے. اب کچھ لوگ ہیں کہ پھر بھی شکر گزار نہیں ہوتے اور اللہ تعالٰی کو شکایتی نظروں سے دیکھ رہے ہیں. اس سبق کو پڑھتے ہوئے شکایتی انداز اپنا رہے ہیں. 
ایسی صورت حال میں پھر ان سے بڑھ کر ناشکرا کون ہے؟ 
مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا
اللہ تعالٰی کا اس کو بطور مثال بیان کرنے سے کیا مقصود ہے؟ 
عربی کے طلباء غور کریں کہ اس ترجمے میں عموماً ایک غلطی کی جاتی ہے. “ھذا مثلاً ” کا ترجمہ “ھذا المثل” کی طرح کر دیا جاتا ہے. دونوں میں بہت فرق ہے. اگر خیال نہ رکھا جائے تو ترجمہ بدل جاتا ہے. 
طلبہ اپنے استاد کے پاس آکر سوال کر سکتے ہیں،”سر! یہاں اس مثال سے کیا مراد ہے؟“. یہ ایک جائز سوال ہے. مؤمن ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں. ماذا اراد اللہ بھذا المثل؟؟ سوال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ تب ہے جب آپ کا سوالیہ انداز تضحیک آمیز ہو. آپ اپنے استاد سے غلط انداز میں بات کریں. جب آپ کا مقصد تنقید برائے تنقید ہو. مثلاً 
اس طرح کے نکتہ کو بطور مثال کیوں بیان کیا گیا ہے؟ 
اس مثال کی یہاں کیا ضرورت تھی؟
اس کا یہاں کیا مقصد ہے؟ یہاں مسئلہ “رویے” کا ہے. ہمارے مذہب میں سوال کرنا منع نہیں ہے. اپنے انداز کو بہتر رکھتے ہوئے آپ کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں. قرآن پاک بہت خاص ہے نہ صرف کلام میں بلکہ طرزِ کلام میں بھی. آپ محض سلام نہیں کہہ سکتے، ساتھ میں مسکرانا بھی ہے، اگر آپ غصیلی آواز میں سخت انداز سے “السلام علیکم” کہہ رہے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہ ہوا. اسی طرح اگر کسی نے حال پوچھا ہے تو جواباً بُرا سا منہ بنا کر “الحمدللہ” کہنا، کہیں سے بھی شکر گزاری نہیں کہلاتا. بھئ آپ نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ذرا خوشی سے کیجئے. سلام کرتے ہوئے آپ دوسرے کو باور کرواتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ “حالتِ امن” میں ہوں. آپ کے ساتھ میرے سب معاملات درست ہیں. سلامتی ہو آپ پر. یہ ہے السلام علیکم کی اصل روح. لیکن اگر آپ کرخت لہجے میں سلام کہہ کر دروازہ پار کر گئے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہیں. گفتگو اور اندازِگفتگو دونوں لازم و ملزوم ہیں. جب ان اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی شخص آپ کے پاس آتا ہے، کہ میں اس مثال کو سمجھ نہیں پا رہا،براہِ مہربانی مجھے ذرا اس کا مطلب سمجھا دیجیے. تو یہ ایک اچھا مثبت انداز ہے. 
تو منفی انداز کون سا ہے؟ جب سوال کرنے والا آکر کہے کہ اس مثال سے اللہ کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے یہ نکتہ کیوں اٹھایا ہے؟ 
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
“اس سے وہ بہت سوں کو بھٹکاتا ہے اور اسی سے وہ بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے”.
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اس طرح کے “طرزِکلام” سے بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. 
ایک اور نکتہءنظر یہ ہے کہ “اس مثال” یا “اس کتاب” یعنی قرآن پاک سے اللہ تعالٰی بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. جتنا وہ لوگ جتنا قرآن پڑھتے جاتے ہیں اُتنا ہی اُن کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. اس کی کیا وجہ ہے؟ اسکی وجہ ان لوگوں کا غلط طرزِعمل ہے.
اور بہت سے لوگوں کو وہ اس سے ہدایت دیتا ہے. یعنی اسی قرآن کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو ہدایت مل رہی ہے،اور بہت سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں. یہ سب کس پر منحصر ہے؟ فرق کس چیز کا ہے؟ سارا فرق آپکی نظر کا ہے، اس عدسے کا ہے، جس سے آپ قرآن کو دیکھتے ہیں. سبحان اللہ.
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

via Blogger http://ift.tt/2rjwQiB

تدبر القرآن سورۃ البقرہ نعمان علی خان حصہ-44

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-44
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 
إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (26) 
اس آیت کے درمیانی حصہ پہ غور کریں . وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُون
“اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں”.
 میری ذاتی رائے ہے کہ یہاں کفر سے “کفرانِ نعمت” مراد ہے، یعنی وہ لوگ جو ناشکرے تھے، وہ لوگ جو حقائق کو دیکھ کر بھی شکر گزار نہیں ہوتے کہ کس طرح اللہ تعالٰی نے اپنی روٹین سے ہٹ کر مثال دی ہے.
قرآن پاک کی بہترین مثال سورۃ النور میں ہے:
﴿ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴾
اس ساری آیت کے آخر میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں :
وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ
“اللہ تعالٰی لوگوں کے فائدے کے لیے مثالیں دیتے ہیں”.
 اور پھر اللہ تعالٰی مزید گہری، پرسوچ مثالوں کا اضافہ کرتے ہیں. 
وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اللہ تعالٰی پہلے ہی ہر چیز کے بارے میں جانتے ہیں. 
اللہ تعالٰی کو تو کسی مثال کی ضرورت نہیں، ضرورت تو ہمیں ہے. اللہ تعالٰی کو عام انسانوں کی سطح پر آ کر مثال دینی پڑ رہی ہے. تا کہ لوگ بہ آسانی بات سمجھ سکیں. اسی وجہ سے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں : 
اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
اللہ تعالٰی نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کو سمجھ سکیں.
 اللہ نے اس کتاب کو ہم سب کے لیے قابل فہم بنایا ہے. زیرِ مطالعہ آیت میں بھی اللہ تعالٰی نے بات سمجھانے کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا ہے جو ہمارے لئے مفید ترین ہے. اب کچھ لوگ ہیں کہ پھر بھی شکر گزار نہیں ہوتے اور اللہ تعالٰی کو شکایتی نظروں سے دیکھ رہے ہیں. اس سبق کو پڑھتے ہوئے شکایتی انداز اپنا رہے ہیں. 
ایسی صورت حال میں پھر ان سے بڑھ کر ناشکرا کون ہے؟ 
مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا
اللہ تعالٰی کا اس کو بطور مثال بیان کرنے سے کیا مقصود ہے؟ 
عربی کے طلباء غور کریں کہ اس ترجمے میں عموماً ایک غلطی کی جاتی ہے. “ھذا مثلاً ” کا ترجمہ “ھذا المثل” کی طرح کر دیا جاتا ہے. دونوں میں بہت فرق ہے. اگر خیال نہ رکھا جائے تو ترجمہ بدل جاتا ہے. 
طلبہ اپنے استاد کے پاس آکر سوال کر سکتے ہیں،”سر! یہاں اس مثال سے کیا مراد ہے؟“. یہ ایک جائز سوال ہے. مؤمن ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں. ماذا اراد اللہ بھذا المثل؟؟ سوال کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ تب ہے جب آپ کا سوالیہ انداز تضحیک آمیز ہو. آپ اپنے استاد سے غلط انداز میں بات کریں. جب آپ کا مقصد تنقید برائے تنقید ہو. مثلاً 
اس طرح کے نکتہ کو بطور مثال کیوں بیان کیا گیا ہے؟ 
اس مثال کی یہاں کیا ضرورت تھی؟
اس کا یہاں کیا مقصد ہے؟ یہاں مسئلہ “رویے” کا ہے. ہمارے مذہب میں سوال کرنا منع نہیں ہے. اپنے انداز کو بہتر رکھتے ہوئے آپ کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں. قرآن پاک بہت خاص ہے نہ صرف کلام میں بلکہ طرزِ کلام میں بھی. آپ محض سلام نہیں کہہ سکتے، ساتھ میں مسکرانا بھی ہے، اگر آپ غصیلی آواز میں سخت انداز سے “السلام علیکم” کہہ رہے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہ ہوا. اسی طرح اگر کسی نے حال پوچھا ہے تو جواباً بُرا سا منہ بنا کر “الحمدللہ” کہنا، کہیں سے بھی شکر گزاری نہیں کہلاتا. بھئ آپ نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے ذرا خوشی سے کیجئے. سلام کرتے ہوئے آپ دوسرے کو باور کرواتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ “حالتِ امن” میں ہوں. آپ کے ساتھ میرے سب معاملات درست ہیں. سلامتی ہو آپ پر. یہ ہے السلام علیکم کی اصل روح. لیکن اگر آپ کرخت لہجے میں سلام کہہ کر دروازہ پار کر گئے ہیں، تو یہ کہیں سے بھی سلامتی کا پیغام نہیں. گفتگو اور اندازِگفتگو دونوں لازم و ملزوم ہیں. جب ان اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کوئی شخص آپ کے پاس آتا ہے، کہ میں اس مثال کو سمجھ نہیں پا رہا،براہِ مہربانی مجھے ذرا اس کا مطلب سمجھا دیجیے. تو یہ ایک اچھا مثبت انداز ہے. 
تو منفی انداز کون سا ہے؟ جب سوال کرنے والا آکر کہے کہ اس مثال سے اللہ کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے یہ نکتہ کیوں اٹھایا ہے؟ 
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
“اس سے وہ بہت سوں کو بھٹکاتا ہے اور اسی سے وہ بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے”.
ایک رائے یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اس طرح کے “طرزِکلام” سے بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. 
ایک اور نکتہءنظر یہ ہے کہ “اس مثال” یا “اس کتاب” یعنی قرآن پاک سے اللہ تعالٰی بہت سوں کو بھٹکاتا ہے. جتنا وہ لوگ جتنا قرآن پڑھتے جاتے ہیں اُتنا ہی اُن کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. اس کی کیا وجہ ہے؟ اسکی وجہ ان لوگوں کا غلط طرزِعمل ہے.
اور بہت سے لوگوں کو وہ اس سے ہدایت دیتا ہے. یعنی اسی قرآن کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو ہدایت مل رہی ہے،اور بہت سے لوگ گمراہ ہو رہے ہیں. یہ سب کس پر منحصر ہے؟ فرق کس چیز کا ہے؟ سارا فرق آپکی نظر کا ہے، اس عدسے کا ہے، جس سے آپ قرآن کو دیکھتے ہیں. سبحان اللہ.
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں