گناہ، تعصبات اور تاویلیں 

گناہ، تعصبات اور تاویلیں 

Abu yahya
گنا ہوں میں مبتلا رہنے کا ایک اور بہت اہم سبب گروہی تعصبات اور مذہبی تاویلات ہیں ۔ امتوں کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ابتداء میں ہر امت میں بیشتر لوگ انتہائی نیک اور صالح ہوتے ہیں ۔ لیکن رفتہ رفتہ جب ان پر زوال آتا ہے تو وہ اصل مذہبی تعلیم یعنی ایمان و اخلاق اور آسمانی شریعت کو فراموش کر دیتے ہیں ۔ ان کی جگہ فرقہ واریت، گروہی تعصب، جزوی چیزوں کو اہمیت دینے اور تاویلات کے راستے سے ناجائز اور حرام چیزوں کو حلال بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ ان سب سے بڑ ھ کر وہ سچائی کو جھٹلانے لگتے ہیں اور اصلاح کرنے والوں کے دشمن بن جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑ ا جرم ہے ۔

اس کی سب سے نمایاں مثال بنی اسرائیل ہیں ۔ وہ ایسی ہی چیزوں کا شکار ہوئے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اصلاح کے لیے اپنے نبیوں کو مبعوث کیا تو وہ اپنے آپ کو درست کرنے کے بجائے ان کے دشمن بن گئے ۔ جس کے بعد یہ سانحہ وجود میں آیا کہ انبیا کی نام لیوا امت نے نبیوں کو جھٹلانے اور ان کو قتل کر دینے جیسے بدترین جرائم کا ارتکاب کرڈالا۔

اس کی ایک مثال حضرت سلیمان کے بعد ان میں پھیلنے والے شرک کی ہے ۔ جب بعل نامی بت کی پرستش ان کے ہاں عام ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس جیسے جلیل القدر نبی کو مبعوث کیا۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ سدھرتے ، انھوں نے ان کے قتل کی کوششیں شروع کر دیں ۔ چنانچہ انھیں ملک چھوڑ کر جانا پڑ ا۔

اس کے بعد ایک زمانہ وہ آیا جب یہ لوگ بدترین اخلاقی انحطاط میں مبتلا ہوگئے ۔ جس کے نتیجے میں ان پر غلامی کی سزا مسلط کر دی گئی۔ ساتھ میں ان کی اصلاح کے لیے حضرت یرمیاہ کو مبعوث کیا گیا مگر انھوں نے اس عظیم نبی کی دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے انھیں کنویں میں لٹکادیا اور سیاسی آزادی اور قوم پرستی کے جنون میں بخت نصر کے خلاف بغاوت کر دی۔ جس کے بعد وہ عذابِ الٰہی بن کر ان پر نازل ہو گیا۔

یہی معاملہ سیدنا عیسیٰ کے ساتھ ہوا۔ ان کے زمانے میں بھی بنی اسرائیل بدترین اخلاقی زوال کا شکار تھے مگر ساتھ ہی یہ امیدیں بھی لگائے بیٹھے تھے کہ ان میں مسیح موعود آئے گا اور ان کو رومیوں کی غلامی سے نجات دلا کر اقتدار ان کی جھولی میں ڈال دے گا۔ مسیح واقعی آبھی گئے ، مگر آ کر انھوں نے سیاسی جدوجہد کرنے اور رومیوں کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے یہودی علما کے تعصبات، فرقہ بندی اور ظاہر پرستی پر شدید تنقید کی۔ چنانچہ وہ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بچالیا۔ بنی اسرائیل نے رومیوں کے خلاف بغاوت کر دی اور اس دفعہ ٹائٹس رومی ان پر عذابِ الٰہی بن کر نازل ہو گیا۔

مذہبی تعصب میں لوگ اپنے خول میں بند ہوکر نہ صرف سچائی کو جھٹلاتے ہیں بلکہ تاویل کی خنجر سے حرام کو حلال بھی کر لیتے ہیں ۔ ایمان و عمل کی ہر غلاظت تاویل کے راستے ان کے ہاں آموجود ہوتی ہے ۔ دین کے بنیادی مطالبات کہیں پیچھے جاپڑ تے ہیں اور جزوی اور فروعی چیزیں عین ایمان قرار پاتی ہیں ۔

اس عمل کی بھی سب سے نمایاں مثال بنی اسرائیل ہی ہیں جنھوں نے کھانے سے قبل ہاتھ دھونے کو ایمان کا معیار بنادیا تھا مگر حرام خوری، سود کھانے اور اپنے لوگوں پر ظلم و ستم کو معمولی باتیں سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے تاویل سے یومِ سبت کی حرمت کو پامال کرڈالا جو عبادت اور اللہ سے خصوصی تعلق پیدا کرنے کا دن تھا۔

مگر تاویل سے حرام کو حلال بنانے کا سب سے بڑ ا کارنامہ عیسائیوں نے سرانجام دیا جنھوں نے اللہ کو ایک جانتے ہوئے بھی تاویل کے ذریعے سے انسانی تاریخ کے بدترین شرک کو جنم دیا جب معاذاللہ انھوں نے اللہ کی بیوی اور بیٹے کو گھڑ کر ان کی عبادت شروع کر دی۔ عملی طور پر ایسا ہی شرمناک معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے کفار کا بھی تھا۔ وہ عرب کے مذہبی پیشوا اور کعبہ کے متولی تھے ۔ مگر ان کی قیادت بدترین اخلاقی رویوں اور شرک میں مبتلا تھی۔ انھوں نے نہ صرف تعصب کی بنا پر نبی آخر الزماں کی دعوت کو جھٹلایا بلکہ تاویل کے ذریعے ایسا عجیب و غریب کام کیا جو شاید ان کے سوا کسی نے کبھی نہیں کیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے حرم کے گرد مرد و زن کے برہنہ طواف کے طریقے کو ایک مقدس عمل کے طور پر رواج دیا اور اسے اللہ کا ایک حکم بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

بدقسمتی سے مسلمان بھی آج انھی سابقہ امتوں کے طریقوں پر چل رہے ہیں ۔ فرقہ واریت، گروہی تعصب آج بھی سچائی کا واحد معیار ہے ۔ دین کی دعوت پر سیاست اور نفرت کی سوچ غالب آ چکی ہے ۔ جس کے بعد اصلاح کے لیے اٹھنے والوں کے خلاف وہی کچھ کیا جاتا ہے جو بنی اسرائیل اپنے مصلحین کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ الزام، بہتان، جھوٹا پروپیگنڈا، حتیٰ کہ اہل علم کا قتل اور انھیں ملک سے نکال دینا بدقسمتی سے اب مسلمانوں کی مذہبیت کا عام چلن بن گیا ہے ۔

ایسے میں اگر کوئی بندۂ مؤمن خدا کی بارگاہ میں سرخرو ہونا چاہتا ہے تو اسے ہر قسم کے مذہبی تعصبات سے بلند ہوکر توبہ کا رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ وگرنہ وہ اپنی نگا ہوں میں تو ایک مرد صالح ہو گا، مگر اس کے ساتھ اس کی زبان سے صالحین کے خلاف وہی کچھ نکل رہا ہو گا جو کفار اپنے زمانے کے انبیا کے بارے میں کہا کرتے تھے اور اس کا عمل بھی کچھ اس سے مختلف نہ ہو گا جو بنی اسرائیل کا اپنے انبیا کے خلاف ہوا کرتا تھا۔

مذہبی تعصب سے توبہ کرنا سب سے بڑ ی توبہ ہے ۔ کیونکہ اس کے بعد انسان پر ہر سچائی اور خدا کی بارگاہ میں سرخروئی کا دروازہ ابدی طور پر کھل جاتا ہے ۔

Advertisements

One thought on “گناہ، تعصبات اور تاویلیں 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s