تہذیب

آپ ’’باہر‘‘ سے سب کچھ درآمد کر سکتے ہیں سوائے تہذیب کے۔ یہ آپ کی اپنی ہی ہو تو اسے تہذیب کہیں گے ورنہ اس کا نام “تقلید” ہے۔

#تہذیب اپنی حقیقت میں ایک تخلیق ہے۔ لہٰذا اِس کی درآمد کبھی ممکن نہیں۔ ہاں جو چیز آپ درآمد کریں گے وہ اس تہذیب کی مصنوعات ہیں۔ آپ تہذیب نہیں لے سکتے؛ آپ کو صرف اُس کی پیداوار ملتی ہے۔ ۔

حامد کمال الدین

اردو استفادہ از #مالک_بن_نبی (الجزائر کے ایک عظیم مفکر)

Advertisements

One thought on “تہذیب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s