نو سال پہلے کا رمضان تھا۔ سحری کے بعد میں ساڑھے نو، دس بجے تک آرام سے سوتی تھی۔ میاں آفس چلے جاتے تھے، انکے علاوہ کوئی تھا نہیں اسلئے کوئی ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے جلدی جاگنا ضروری نہیں تھا۔ میری سہیلی نے بتایا کہ صبح سات سے دس بجے تک دورہ قرآن لائیو آتا ہے، لیکن اس کا بیشتر حصہ میری نیند کی نظر ہو جاتا تھا اور جاگ کر تھوڑا سا سن لیتی تھی۔ سننے میں بھی اپنی کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ وجہ یہی ہوتی تھی کہ وہ پھر ذکر کرے گی، پوچھے گی تو میں کہہ سکوں کہ ہاں، تھوڑا سا سنا تھا۔ استاذہ سورہ نحل تک پہنچ چکی تھیں۔ میں حسبِ عادت لیکچر کا آخری حصہ سن رہی تھی جب انہوں نے سورہ کی آیت 66 کا ترجمہ کیا: “تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے۔” پھر اسکی مختصر سی تشریح کرنے لگیں کہ کیسے ایک چوپائے کے جسم کے اندر سے خوش ذائقہ دودھ ہمیں ملتا ہے جس میں کبھی گوبر کی بو نہیں، خون کا ہلکا سا رنگ بھی نہیں۔ کیسی اللہ کی قدرت ہے؟! انکے بتانے کا انداز ایسا تھا کہ سوچ کو ایک نیا ہی زاویہ ملا۔ اسکے بعد کے تمام لیکچرز میں شوق سے سنتی اور آنے والا ہر رمضان دورہ قرآن کا انتظار بھی ہوتا۔ یہ سب آپکو اسلئے بتا رہی ہوں کہ ابھی رمضان میں آپکی نظر ایسے لوگوں پر پڑے گی جنہیں آپ “رمضانی مسلمان” کہتے ہیں۔ انکا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے کم عبادت کر رہے ہیں، اور آپ کے گمان کے مطابق بس ایک ماہ ہی انکی نمازیں اور قرآن چلنا ہے۔ تو بتاؤں کیا؟ ہو سکتا ہے آپکا گمان غلط ثابت ہو جائے، ہو سکتا ہے اللہ کسی ایک پیار سے بلانے والے کے توسط سے اس بندے کو ہدایت کی نئی راہ دکھا دیں، ہو سکتا ہے ایک آیت اسکی زندگی بدل دے، ہو سکتا ہے یوں بے دلی سے کی ہوئی عبادت اسے اتنا لطف دے کہ وہ پلٹ آئے۔ بہت کچھ ہو سکتا ہے جو آپ نہیں جانتے۔ دوسری طرف، اگر آپ دین کی طرف مائل نہیں اور کوئی آپکو دین کی بات بتا رہا ہے تو سن لیں، عمل کی ناقص سی کوشش بھی کر لیں، کبھی اللہ والوں کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں، انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں۔ کیا پتہ اس کے کہنے پر، اسی کی خوشی کی خاطر کی گئی کوئی عبادت آپکو ایسی حلاوت دے جس سے آپ کبھی آشنا ہی نہیں تھے۔ اس رمضان میں اپنے لئے نئے اہداف سیٹ‌ کریں۔ آئیں ہم سب خود کو پہلے سے بہتر مسلمان، پہلے سے اچھا انسان بنائیں۔ تحریر: نیر تاباں


from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2rPlkv6
via IFTTT

Advertisements

2 thoughts on “نو سال پہلے کا رمضان تھا۔ سحری کے بعد میں ساڑھے نو، دس بجے تک آرام سے سوتی تھی۔ میاں آفس چلے جاتے تھے، انکے علاوہ کوئی تھا نہیں اسلئے کوئی ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے جلدی جاگنا ضروری نہیں تھا۔ میری سہیلی نے بتایا کہ صبح سات سے دس بجے تک دورہ قرآن لائیو آتا ہے، لیکن اس کا بیشتر حصہ میری نیند کی نظر ہو جاتا تھا اور جاگ کر تھوڑا سا سن لیتی تھی۔ سننے میں بھی اپنی کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ وجہ یہی ہوتی تھی کہ وہ پھر ذکر کرے گی، پوچھے گی تو میں کہہ سکوں کہ ہاں، تھوڑا سا سنا تھا۔ استاذہ سورہ نحل تک پہنچ چکی تھیں۔ میں حسبِ عادت لیکچر کا آخری حصہ سن رہی تھی جب انہوں نے سورہ کی آیت 66 کا ترجمہ کیا: “تمہارے لیے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے سہتا پچتا ہے۔” پھر اسکی مختصر سی تشریح کرنے لگیں کہ کیسے ایک چوپائے کے جسم کے اندر سے خوش ذائقہ دودھ ہمیں ملتا ہے جس میں کبھی گوبر کی بو نہیں، خون کا ہلکا سا رنگ بھی نہیں۔ کیسی اللہ کی قدرت ہے؟! انکے بتانے کا انداز ایسا تھا کہ سوچ کو ایک نیا ہی زاویہ ملا۔ اسکے بعد کے تمام لیکچرز میں شوق سے سنتی اور آنے والا ہر رمضان دورہ قرآن کا انتظار بھی ہوتا۔ یہ سب آپکو اسلئے بتا رہی ہوں کہ ابھی رمضان میں آپکی نظر ایسے لوگوں پر پڑے گی جنہیں آپ “رمضانی مسلمان” کہتے ہیں۔ انکا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ وہ آپ سے کم عبادت کر رہے ہیں، اور آپ کے گمان کے مطابق بس ایک ماہ ہی انکی نمازیں اور قرآن چلنا ہے۔ تو بتاؤں کیا؟ ہو سکتا ہے آپکا گمان غلط ثابت ہو جائے، ہو سکتا ہے اللہ کسی ایک پیار سے بلانے والے کے توسط سے اس بندے کو ہدایت کی نئی راہ دکھا دیں، ہو سکتا ہے ایک آیت اسکی زندگی بدل دے، ہو سکتا ہے یوں بے دلی سے کی ہوئی عبادت اسے اتنا لطف دے کہ وہ پلٹ آئے۔ بہت کچھ ہو سکتا ہے جو آپ نہیں جانتے۔ دوسری طرف، اگر آپ دین کی طرف مائل نہیں اور کوئی آپکو دین کی بات بتا رہا ہے تو سن لیں، عمل کی ناقص سی کوشش بھی کر لیں، کبھی اللہ والوں کو تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں، انہیں اپنا خیر خواہ سمجھیں۔ کیا پتہ اس کے کہنے پر، اسی کی خوشی کی خاطر کی گئی کوئی عبادت آپکو ایسی حلاوت دے جس سے آپ کبھی آشنا ہی نہیں تھے۔ اس رمضان میں اپنے لئے نئے اہداف سیٹ‌ کریں۔ آئیں ہم سب خود کو پہلے سے بہتر مسلمان، پہلے سے اچھا انسان بنائیں۔ تحریر: نیر تاباں

  1. ہو سکتا ہے آپکا گمان غلط ثابت ہو جائے، ہو سکتا ہے اللہ کسی ایک پیار سے بلانے والے کے توسط سے اس بندے کو ہدایت کی نئی راہ دکھا دیں، ہو سکتا ہے ایک آیت اسکی زندگی بدل دے، ہو سکتا ہے یوں بے دلی سے کی ہوئی عبادت اسے اتنا لطف دے کہ وہ پلٹ آئے۔ بہت کچھ ہو سکتا ہے

    Couldn’t be said better….

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s