Image

’’اگر آپ نے روزہ رکھ کر روزے کو نہیں سمجھا تو روزہ توڑ نے کی کیفیت کا سن کر روزہ کو سمجھ لیں ۔ روزہ ناقابل شکست عزم کے سہارے رکھا جاتا ہے ۔بھوک، پیاس، اذیت، گرمی، خواہش، وقت کی طوالت جیسی مضبوط چیزیں روزہ کی حالت میں انسانی عزم کے سامنے پسپا ہوجاتی ہیں ۔ انسان ان چیزوں کے سامنے ڈٹارہتا ہے یہاں تک کہ افطارکاوقت آجائے یاپھرانسان کاجسم اس کاساتھ چھوڑ دے ۔‘‘ ’’یہی روزہ ہے ۔ عزم انسانی کا تعارف۔ ناقابل شکست عزم جو ہر منہ زورجذبے کو نکیل ڈال کر انسان کے قدموں میں لاڈالتا ہے ۔ یہ نہ ہو تو انسان جذبوں کا غلام بن کر شیطان کا بندہ بن جاتا ہے ۔جب ہوس کی بھوک، حرص کی تونس، لالچ کی پیاس ، حرام کی چاٹ، گناہ کی لذت، معصیت کا ذائقہ انسان کاروزہ اطاعت توڑ نا چاہیں یا پھر انسان کی عمر بھر کی ریاضت بہکی ہوئی نظروں ، ڈگمگاتے قدموں ، بے لگام خواہشوں اوربدلحاظ رویوں کی نذرہونے لگے تویہ عزم انسانی ہی ہے جو ان اٹھتے طوفانوں کو روک دیتا ہے ۔شیطان خواہش کے پھندوں میں اسے الجھاتا ہے مگر بندہ مومن پورا زور لگا کر خود کو ہر گرفت سے چھڑ ا لے جاتا ہے ۔نفس جذبات کے جال میں اسے جکڑ تا ہے ، مگر مومن کا عز م ؛صبرکی تلوار سے ہر جال کو کاٹ ڈالتا ہے ۔عزم انسانی ہی روزہ کی اساس ہے جس کا مظاہرہ ہم میں سے ہر شخص روزہ رکھ کر کرتا ہے ۔‘‘ ’ جس شخص نے اپنے روزے سے اپنے اندر یہ عزم زندگی بھر کے لیے پیدا کر لیا، اس کا روزہ لاریب اسے جنت تک لے جائے گا۔ جس نے یہ نہیں کیا وہ اگلے رمضان کا انتظار کرے ۔ کیونکہ اس نے ابھی تک روزہ رکھ کر اس چیز کو نہیں پایاجس کے لیے روزہ رکھوایا گیا تھا۔‘ Abu yahya کی کتاب ‘ رحمتوں کے سا ئے سے’ اقتباس


from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2qyttCi
via IFTTT

Advertisements

2 thoughts on “’’اگر آپ نے روزہ رکھ کر روزے کو نہیں سمجھا تو روزہ توڑ نے کی کیفیت کا سن کر روزہ کو سمجھ لیں ۔ روزہ ناقابل شکست عزم کے سہارے رکھا جاتا ہے ۔بھوک، پیاس، اذیت، گرمی، خواہش، وقت کی طوالت جیسی مضبوط چیزیں روزہ کی حالت میں انسانی عزم کے سامنے پسپا ہوجاتی ہیں ۔ انسان ان چیزوں کے سامنے ڈٹارہتا ہے یہاں تک کہ افطارکاوقت آجائے یاپھرانسان کاجسم اس کاساتھ چھوڑ دے ۔‘‘ ’’یہی روزہ ہے ۔ عزم انسانی کا تعارف۔ ناقابل شکست عزم جو ہر منہ زورجذبے کو نکیل ڈال کر انسان کے قدموں میں لاڈالتا ہے ۔ یہ نہ ہو تو انسان جذبوں کا غلام بن کر شیطان کا بندہ بن جاتا ہے ۔جب ہوس کی بھوک، حرص کی تونس، لالچ کی پیاس ، حرام کی چاٹ، گناہ کی لذت، معصیت کا ذائقہ انسان کاروزہ اطاعت توڑ نا چاہیں یا پھر انسان کی عمر بھر کی ریاضت بہکی ہوئی نظروں ، ڈگمگاتے قدموں ، بے لگام خواہشوں اوربدلحاظ رویوں کی نذرہونے لگے تویہ عزم انسانی ہی ہے جو ان اٹھتے طوفانوں کو روک دیتا ہے ۔شیطان خواہش کے پھندوں میں اسے الجھاتا ہے مگر بندہ مومن پورا زور لگا کر خود کو ہر گرفت سے چھڑ ا لے جاتا ہے ۔نفس جذبات کے جال میں اسے جکڑ تا ہے ، مگر مومن کا عز م ؛صبرکی تلوار سے ہر جال کو کاٹ ڈالتا ہے ۔عزم انسانی ہی روزہ کی اساس ہے جس کا مظاہرہ ہم میں سے ہر شخص روزہ رکھ کر کرتا ہے ۔‘‘ ’ جس شخص نے اپنے روزے سے اپنے اندر یہ عزم زندگی بھر کے لیے پیدا کر لیا، اس کا روزہ لاریب اسے جنت تک لے جائے گا۔ جس نے یہ نہیں کیا وہ اگلے رمضان کا انتظار کرے ۔ کیونکہ اس نے ابھی تک روزہ رکھ کر اس چیز کو نہیں پایاجس کے لیے روزہ رکھوایا گیا تھا۔‘ Abu yahya کی کتاب ‘ رحمتوں کے سا ئے سے’ اقتباس

  1. مومن کا عز م ؛صبرکی تلوار سے ہر جال کو کاٹ ڈالتا ہے ۔عزم انسانی ہی روزہ کی اساس ہے جس کا مظاہرہ ہم میں سے ہر شخص روزہ رکھ کر کرتا ہے ۔‘‘ ’ جس شخص نے اپنے روزے سے اپنے اندر یہ عزم زندگی بھر کے لیے پیدا کر لیا، اس کا روزہ لاریب اسے جنت تک لے جائے گا

    Could not be explained better…
    JazaakAllah for sharing, Sis…

    God bless you…💐

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s