Image

حاصل قرآن

حاصل قرآن

رمضان قرآن مجید کا مہینہ ہے۔ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا، تدبر کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنا اور اس کے ساتھ ذہنی اعتکاف کرنا اس ماہ کی بہترین عبادات ہیں۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت میں گفتگو کرنے کی ایک فکری اور قلبی واردات ہوتی ہے۔ قرآن مجید کو جب خالی الذہن ہوکر صرف اس کی بات سمجھنے کے لیے پڑھا جاتا ہے تو دو باتیں روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہیں۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ قرآن مجید کی مرکزی دعوت یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات، احساسات، محبت، عبادت، نصرت، اطاعت، حمیت اور حمایت کا اصل مرکز صرف اللہ تعالیٰ کو بنالے۔قرآن صرف ایک خدا کی عبادت ہی کی بات نہیں کرتا بلکہ اسے فرد کی زندگی کا مرکزی خیال بنادیتا ہے۔یہی قرآن کی بنیادی دعوت ہے۔ قرآن مجید کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ قرآن مجید اپنی دعوت کے لیے جو دلائل دیتا ہے وہ اول تا آخر عقلی دلائل ہیں۔جذباتی دلیل تو دور کی بات ہے، قرآن جذباتی اسلوب میں بھی کم ہی گفتگو کرتا ہے۔جذباتی دلائل اگر قرآن نے نقل کیے ہیں تو وہ کفار کے ہیں۔ مثلاً کفار یہ کہتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادا اور بزرگوں کو اس دین شرک پر پایا ہے۔ یہ غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ آبا ء واجداد کی تقلید کی یہ دلیل اتنی وزنی ہے کہ کسی بھی عقلی بات کو اڑاکر رکھ سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سرتا سر ایک جذباتی دلیل ہے جس کی علم کی دنیا میں کوئی وقعت نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی جذباتی انداز فکر آج ہمارے ہا ں مقبولیت کا معیار ہے۔ مخلوق کے بجائے ایک خالق کو محبت اور عبادت کا مرکز ہونا چاہیے ، یہی قرآن مجید کی دعوت ہے۔ جذبابیت کے بجائے معقولیت کو حق و باطل کا معیار ہونا چاہیے، یہی قرآن مجید کا استدلال ہے۔ یہی اس فقیر کے زندگی بھر کے فہم قرآن کا خلاصہ ہے۔

Abu yahya

from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2s3ITn0

via IFTTT

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s