Image

سلسلہ “فہم القرآن “

سلسلہ “فہم القرآن “

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…

“اُنہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔ موسیٰؑ نے اُس سے کہا”کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟“ اُس نے جواب دیا”آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اُس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں۔“ موسیٰؑ نے کہا”اِن شاء اللّٰہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔“ اس نےکہا”اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں۔“

سورة الکہف صحیح بخاری میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی امت میں وعظ کیا لوگوں نے پوچھا کہ تمام آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسیٰ نے کہا میں ہوں اور یہ نہیں کہا کہ اللہ جاننے والا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار ہوئی اور وحی نازل کی کہ میرے بندوں میں ایک بندہ ہے جو مجمع البحرین میں ہے اور تم سے زیادہ جاننے والا ہے موسیٰ نے کہا اے اللہ! میں اس سے کس طرح مل سکتا ہوں؟ مجھے اس کا پتہ بتا، ارشاد ہوا کہ ایک مچھلی اپنی جھولی میں ڈال کر جاؤ جہاں وہ گم ہوجائے بس وہ اسی جگہ ہے حضرت موسیٰ نے ایسا ہی کیا اور اپنے خادم کو ہمراہ لے کر چلے اور ایک چٹان کے قریب پتھر پر سر رکھ کر سو گئے سفیان کہتے ہیں کہ قتادہ کی روایت میں ہے کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا جس کو چشمہ آب حیات کہتے تھے جس مردے پر اس کا پانی پڑ جاتا وہ زندہ ہوجاتا، لہذا اس مچھلی پر بھی اس کا پانی پڑا جو زندہ ہوگئی اور سمندر میں تڑپ کر چلی گئی حضرت موسیٰ سو کر اٹھے اور خادم کے ساتھ آگے بڑھ گئے کچھ دورچل کر کہا ہمارا کھانا لاؤ اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ ہم اپنی مطلوبہ جگہ سے آگے بڑھ آئے ہیں چنانچہ قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے خادم نے کہا کہ میں آپ سے کہنا بھول گیا تھا کہ پتھر کے نزدیک مچھلی دریا میں گم ہوگئی تھی اور جس جگہ وہ گزری وہاں طاق کا سا نشان بنایا تھا غرض لوٹ کر جب اس جگہ پہنچے تو ایک بزرگ کو دیکھا جو کپڑے اوڑھے ہوئے تھا تو حضرت موسیٰ نے سلام کیا بزرگ نے کہا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ آپ نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ ہو؟ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں! میں بنی اسرائیل کا موسیٰ ہوں پھر حضرت موسیٰ نے کہا کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ مجھے اپنا علم سکھا دیں؟ حضرت خضر نے کہا کہ اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جان سکتا ہوں اور مجھے جو علم دیا ہے اسے تم نہیں جان سکتے حضرت موسیٰ نے کہا میں تو ضرور آپ کے ساتھ رہوں گا آپ مجھے ضرور علم سکھا دیجئے، خضر نے کہا مگر میرے ساتھ تم اس شرط پر رہ سکتے ہو کہ جو کچھ کرتا رہوں تم ہرگز مت بولنا اور نہ پوچھنا تاوقتیکہ میں ہی تم کو نہ بتا دوں آخر حضرت موسیٰ اور خضر چل دیئے ایک دریا کے کنارے کنارے جا رہے تھے کہ ایک کشتی ملی ملاحوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا اور بلا کسی اجرت کے دونوں کو کشتی میں بٹھا لیا پھر ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ میں دریا سے پانی لیا حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے ہمارا اور تمہارا علم ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے جیسے پرندہ کے چونچ کا پانی، اس کے بعد حضرت خضر نے ایک جگہ سے کشتی کے ایک تختہ کو توڑ ڈالا حضرت موسیٰ کو بہت تعجب ہوا اور حضرت خضر سے کہنے لگے کہ ان بیچاروں نے تو ہم کو بلا اجرت کشتی میں بٹھایا ہے اور آپ نے اس کو توڑ ڈالا ہے یہ تو آپ نے سب کو غرق کرنے کا کام کیا ہے اچھا نہیں کیا، حضرت خضر نے کہا کہ میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام معذرت کرنے لگے کہ خطا ہو گئی بھولے سے پوچھ بیٹھا معاف فرمائیے اور سختی نہ کیئجے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں واقعی یہ پہلی غلطی بھول سے ہی تھی … پھر آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک لڑکے پر آئے جو لڑکوں سے کھیل رہا تھا، حضرت خضر نے اس کو پکڑ کر مار ڈالا اور اس کے سر کو تن سے جدا کردیا حضرت موسیٰ نے کہا تم نے اس کو بلا قصور کیوں مار ڈالا؟ حضرت خضر نے کہا دیکھو کہ میں نے تو تم سے کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ صبر نہیں کر سکوں گے حضرت موسیٰ نے کہا خیر اب کی مرتبہ اگر میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا پھر ایک گاؤں میں پہنچے وہاں کے لوگوں سے کھانا طلب کیا مگر گاؤں والوں نے مہمانی سے انکار کردیا اس گاؤں میں حضرت خضر نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی حضرت خضر نے اسے سیدھا کردیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ نے دیوار کو سیدھا کردیا حالانکہ انہوں نے ہمیں کھانا بھی نہیں کھلایا اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لیتے حضرت خضر نے اس مرتبہ حضرت موسیٰ سے فرمایا کہ بس اب تم مجھ سے علیحدہ ہو جاؤ کیونکہ تم میری باتوں پر صبر نہیں کر سکتے اور اب میں تم کو ان باتوں کی حقیقت بھی بتائے دیتا ہوں اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے ہیں کہ اچھا ہوتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے یا صبر کرتے تو ان دونوں کی اور بھی بہت سی باتیں ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے انجام سے حضرت خضر کو مطلع کر دیا تھا اور انہیں جو حکم ملا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس راز کا علم نہ تھا اس لئے بظاہر اسے خلاف سمجھ کر اس پر انکار کرتے تھے لہذا حضرت خضر نے اب اصل معاملہ سمجھا دیا ۔ فرمایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے میں تو یہ مصلحت تھی کہ اگر صحیح سالم ہوتی تو آگے چل کر ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر ایک اچھی کشتی کو ظلما چھین لیتا تھا ۔ جب اسے وہ ٹوٹی پھوٹی دیکھے گا تو چھوڑ دے گا اگر یہ ٹھیک ٹھاک اور ثابت ہوتی تو ساری کشتی ہی ان مسکینوں کے ہاتھ سے چھن جاتی اور ان کی روزی کمانے کا یہی ایک ذریعہ تھا جو بالکل جاتا رہتا ۔ مروی ہے کہ اس کشتی کے مالک چند یتیم بچے تھے ۔ اور اس نوجوان کا نام حیثور تھا ۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا ۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے ۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے حالانکہ اس کی زندگی ان کے لئے ہلاکت تھی ۔ پس انسان کو چاہے کہ اللہ کی قضا پر راضی رہے ۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں ۔ مومن جو کام اپنے لئے پسند کرتا ہے ، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لئے پسند فرماتا ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں وہ سراسر بہتری اور عمدگی والے ہی ہوتے ہیں ۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ ہم نے چاہا کہ اللہ انہیں ایسا بچہ دے جو بہت پرہیزگار ہو اور جس پر ماں باپ کو زیادہ پیار ہو ۔ یا یہ کہ جو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہو ۔ قرآن میں فرمایا گیا “تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو” اور اس دیوار کو درست کردینے میں مصلحت الہٰی یہ تھی کہ یہ اس شہر کے دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے انکا مال دفن تھا ۔ ٹھیک تفسیر تو یہی ہے گویہ بھی مروی ہے کہ وہ علمی خزانہ تھا ۔ بلکہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ جس خزانے کا ذکر کتاب اللہ میں ہے یہ خالص سونے کی تختیاں تھیں جن پر لکھا ہوا تھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر کا قائل ہو تے ہوئے اپنی جان کو محنت ومشقت میں ڈال رہا ہے اور رنج وغم برداشت کر رہا ہے ۔ تعجب ہے کہ جو جہنم کے عذابوں کا ماننے والا ہے پھر بھی ہنسی کھیل میں مشغول ہے ۔ تعجب ہے کہ موت کا یقین رکھتے ہوئے غفلت میں پڑا ہوا ہے ۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ یہ عبارت ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی لیکن اس میں ایک راوی بشر بن منذر ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ یہ مصیصہ کے قاضی تھے ان کی حدیث میں وہم ہے… حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ سونے کی تختی تھی جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد قریب قریب مندرجہ بالا نصحیتں اور آخر میں کلمہ طیبہ تھا ۔ “اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ .” اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی نیکیوں کی وجہ سے اس کے بال بچے بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی حاصل کرلیتے ہیں ۔ یہ باپ جس کی نیکی کی وجہ سے ان کی حفاظت ہوئی یہ ان بچوں کا ساتواں دادا تھا واللہ اعلم ۔ پھر حضرت خضرفرماتے ہیں کہ دراصل یہ تینوں باتیں جنہیں تم نے خطرناک سمجھیں سراسر رحمت تھیں ۔ کشتی والوں کو گو قدرے نقصان ہوا لیکن اس سے پوری کشتی بچ گئی ۔ بچے کے مرنے کی وجہ سے گو ماں باپ کو رنج ہوا لیکن ہمیشہ کے رنج اور عذاب الہٰی سے بچ گئے اور پھر نیک بدلہ ہاتھوں ہاتھ مل گیا ۔ اور یہاں اس نیک شخص کی اولاد کا بھلا ہوا ۔ یہ کام میں نے اپنی خوشی نہیں کئے بلکہ احکام الہٰی بجا لایا ۔ اس سے بعض لوگوں نے حضرت خضر کی نبوت پر استدلال کیا ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ رسول تھے ۔ ایک قول ہے کہ یہ فرشتے تھے لیکن اکثر بزرگوں کا فرمان ہے کہ یہ ولی اللہ تھے ۔ امام نو وی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب الاسماء میں لکھا ہے کہ یہ شہزادے تھے ۔ یہ اور ابن صلاح تو قائل ہیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے ۔ ….. مسند احمد میں ہے کہ حضرت خضر کو خضر اس لئے کہا گیا کہ وہ سفید رنگ سوکھی گھاس پر بیٹھ گئے تھے یہاں تک کہ اس کے نیچے سبزہ اگ آیا ۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مرادیہ ہو کہ آپ خشک زمین پر بیٹھ گئے تھے اور پھر وہ لہلہانے لگی ۔ بشکریہ: Nemrah Ahmed: Official

from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2sDhYv6

via IFTTT

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s