سلسلہ “فہم القرآن “

سلسلہ “فہم القرآن “

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…

“ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا” سورة الکھف : 95-

94 یہ تفصیل و تفسیر سورة الکھف کی آیات ٨٣ سے ٩٩ تک دی جا رہی ہے … ذوالقرنین کے بارے میں وہب کہتے ہیں یہ بادشاہ تھے چونکہ ان کے سر کے دونوں طرف تانبا رہتا تھا اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا گیا بعض کا قول ہے کہ فی الواقع اس کے سر کے دونوں طرف کچھ سنیگ سے تھے ۔ حضرت علی (رضی الله عنہ) فرماتے ہیں اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کے نیک بندے تھے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا یہ لوگ مخالف ہوگئے اور ان کے سر کے ایک جانب اس قدر مارا کہ یہ شہید ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا قوم نے پھر سر کے دوسری طرف اسی قدر مارا جس سے یہ پھر مر گئے اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا جاتا ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ مشرق سے مغرب کی طرف سیاحت کر آئے تھے اس لیے انہیں ذوالقرنین کہا گیا ہے ۔الله نے انھیں بڑی سلطنت دے رکھی تھی ۔ ساتھ ہی قوت لشکر آلات حرب سب کچھ ہی دے رکھا تھا ۔ مشرق سے مغرب تک اس کی سلطنت تھی عرب عجم سب اس کے ماتحت تھے ۔ ہر چیز کا اسے علم دے رکھا تھا ۔ زمین کے ادنی اعلیٰ نشانات بتلا دیے تھے ۔ تمام زبانیں جانتے تھے ۔ جس قوم سے لڑائی ہوتی اس کی زبان بول لیتے تھے ان کو وہ ہر چیز دی گئی تھی اس سے بھی مراد صرف اسی قدر ہے کہ بادشاہوں کے ہاں عموما جو ہوتا ہے وہ سب اس کے پاس بھی تھا اسی طرح حضرت ذوالقرنین کو اللہ نے تمام راستے اور ذرائع مہیا کر دیے تھے کہ وہ اپنی فتوحات کو وسعت دیتے جائیں اور زمین سرکشوں اور کافروں سے خالی کراتے جائیں اور اس کی توحید کے ساتھ موحدین کی بادشاہت دنیا پر پھیلائیں اور اللہ والوں کی حکومت جمائیں ان کاموں میں جن اسباب کی ضرورت پڑتی ہے وہ سب رب عزوجل نے حضرت ذوالقرنین کو دے رکھے تھے واللہ اعلم ۔ ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے زمین کی ایک سمت یعنی مغربی جانب کوچ کر دیا ۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے ۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گے ۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے ۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے ۔ حضرت ذوالقرنین پہنچ گئے ۔الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے ۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہوگا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے ۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا ذوالقرنین مغرب سے واپس مشرق کی طرف چلے ۔ راستے میں جو قومیں ملتیں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید کی انہیں دعوت دیتے ۔ اگر وہ قبول کر لیتے تو بہت اچھا ورنہ ان سے لڑائی ہوتی اور اللہ کے اور اللہ کے فضل سے وہ لوگ ہارتے، آپ انہیں اپنا ماتحت کر کے وہاں کے مال ومویشی اور خادم وغیرہ لے کر آگے کو چلتے ۔ بنی اسرائیلی خبروں میں ہے کہ یہ ایک ہزار چھ سو سال تک زندہ رہے ۔ اور برابر زمین پر دین الہٰی کی تبلیغ میں رہے ساتھ ہی بادشاہت بھی پھیلتی رہے ۔ جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں ۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظرنہ آئی ۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی ۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہوجایا کرتے تھے ۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے ، ایک بجھالیتے ۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے ۔ پھر الله فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کی اس کے ساتھیوں کی کوئی حرکت کوئی گفتار اور رفتار ہم پر پوشیدہ نہ تھی ۔ گو اس کا لاؤ لشکر بہت تھا زمین کے ہر حصے پر پھیلا ہوا تھا لیکن ہمارا علم زمین وآسمان پر حاوی ہے ۔ ہم سے کوئی چیز مخفی نہیں ۔ اپنے شرقی سفر کو ختم کرکے پھر ذوالقرنین وہیں مشرق کی طرف ایک راہ چلے دیکھا کہ دو پہاڑ ہیں جو ملے ہوئے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک گھاٹی ہے جہاں سے یاجوج ماجوج نکل کر ترکوں پر تباہی ڈالا کرتے ہیں انہیں قتل کرتے ہیں کھیت باغات تباہ کرتے ہیں بال بچوں کو بھی ہلاک کر تے ہیں اور سخت فساد بربا کرتے رہتے ہیں ۔ یہ قوم یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہے، انہیں بوجہ ان کے فساد اور شرارت کے انسانوں کی اور آبادی کے پس پشت پہاڑوں کی آڑ میں چھوڑ دیا گیا تھا…. ان پہاڑوں کے درے میں ذوالقرنین نے انسانوں کی ایک آبادی پائی جو دنیا اور لوگوں سے دوری کی وجہ سے اور ان کی اپنی مخصوص زبان کے اوروں کی بات بھی تقریبا نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کی قوت وطاقت عقل وہنر کو دیکھ کر درخواست کی کہ اگر آپ رضامند ہوں تو ہم آپ کے لئے بہت سا مال جمع کردیں اور آپ ان پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی کو کسی مضبوط دیوار سے بند کردیں تاکہ ہم ان فسادیوں کی روزمرہ کی ان تکالیف سے بچ جائیں ۔ اس کے جواب میں حضرت ذوالقرنین نے فرمایا مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں اللہ کا دیا سب کچھ میرے پاس موجود ہے اور وہ تمہارے مال سے بہت بہتر ہے ۔ یہی جواب حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ملکہ سبا کے قاصدوں کو دیا گیا تھا ۔ ذوالقرنین نے اپنے اس جواب کے بعد فرمایا کہ ہاں تم اپنی قوت وطاقت اور کام کاج سے میرا ساتھ دو تو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہوں ۔ ذوالقرنین فرماتے ہیں کہ لوہے کے ٹکڑے اینٹوں کی طرح کے میرے پاس لاؤ ۔ جب یہ ٹکڑے جمع ہوگئے تو آپ نے دیوار بنانی شروع کرا دی اور وہ لمبائی چوڑائی میں اتنی ہو گئی کہ تمام جگہ گھر گئی اور پہاڑ کی چوٹی کے برابر پہنچ گئی ۔ اس کے طول وعرض اور موٹائی کی ناپ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں ۔ جب یہ دیوار بالکل بن گئی تو حکم دیا کہ اب اس کے چاروں طر ف آگ بھڑکاؤ جب وہ لوہے کی دیوار بالکل انگارے جیسی سرخ ہوگئی تو حکم دیا کہ اب پگھلا ہوا تانبا لاؤ اور ہر طرف سے اس کے اوپر بہا دو چنانچہ یہ بھی کیا گیا پس ٹھنڈی ہو کر یہ دیوار بہت مضبوط اور پختہ ہوگئی اور دیکھنے میں ایسی معلوم ہونے لگی جیسے کوئی دھاری دار چادر ہو ۔ خلیفہ واثق نے اپنے زمانے میں اپنے امیروں کو ایک وافر لشکر اور بہت ساسامان دے کر روانہ کیا تھا کہ وہ اس دیوار کی خبر لائیں یہ لشکر دوسال سے زیادہ سفر میں رہا اور ملک در ملک پھرتا ہوا آخر اس دیوار تک پہنچا دیکھا کہ لوہے اور تانبے کی دیوار ہے اس میں ایک بہت بڑا نہایت پختہ عظیم الشان دروازہ بھی اسی کا ہے جس پر منوں کے وزنی قفل لگے ہوئے ہیں اور جو مال مسالہ دیوار کا بچا ہوا ہے وہ وہیں پر ایک برج میں رکھا ہوا ہے جہاں پہرہ چوکی مقرر ہے ۔ دیوار بیحد بلند ہے کتنی ہی کوشش کی جائے لیکن اس پر چڑھنا ناممکن ہے اس سے ملا ہوا پہاڑیوں کا سلسلہ دونوں طرف برابر چلا گیا ہے اور بھی بہت سے عجائب وغرائب امور دیکھے جو انہوں نے واپس آکر خلیفہ کی خدمت میں عرض کئے۔ اس دیوار پر نہ تو چڑھنے کی طاقت یاجوج ماجوج کو ہے ، نہ وہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں کہ وہاں سے نکل آئیں ۔ ۔ اس دیوار کو بنا کر ذوالقرنین اطمینان کا سانس لیتے ہیں اور اللہ کا شکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے ان شریروں کی شرارت سے مخلوق کو اب امن دے دیا ہاں جب اللہ کا وعدہ آجائے گا تو اس کا ڈھیر ہو جائے گا ۔ یہ زمین دوز ہوجائے گی ۔ مضبوطی کچھ کام نہ آئے گی ۔ پس قریب بہ قیامت یہ دیوارپاش پاش ہو جائے گی اور ان کے نکلنے کا راستہ بن جائے گا ۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں ، قیامت کا آنا یقینی ہے ۔ اس دیوار کے ٹوٹتے ہی یہ لوگ نکل پڑیں گے اور لوگوں میں گھس جائیں گے اپنوں بیگانوں کی تمیز اٹھ جائے گی ۔اور یہ قوم ہر طرف پھیل جائے گی اور فساد برپا کرے گی۔ یہ واقعہ دجال کے آجانے کے بعد قیامت کے قیام سے پہلے ہوگا… اس کے بعد صور پھونکا جائے گا اور سب جمع ہوجائیں گے ۔ یاجوج ماجوج آہنی دیوار ٹوٹنے کے بعد ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے، جب ان کی پہلی جماعت بحیرہٴ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی، جب دوسری جماعت گزریے گی تو وہ کہے گی: ”یہاں کبھی پانی تھا“ یاجوج ماجوج کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور مسلمان بڑی تکلیف میں ہوں گے، کھانے کی قلّت کا یہ عالم ہوگا کہ بیل کا سر سو دینار سے بھی قیمتی اور بہتر سمجھا جائے گا، حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کے لئے بددُعا کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک بیماری پیدا کردیں گے جس سے سارے مرجائیں گے، اور زمین بدبودار تعفن سے بھر جائے گی، حضرت عیسیٰ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ بڑی بڑی گردنوں والے پرندے بھیجیں گے جو ان کو اُٹھاکر جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھینک دیں گے، پھر موسلا دھار بارش ہوگی جو ہر جگہ ہوگی کوئی مکان یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر یہ بارش نہ پہنچے، وہ بارش پوری زمین دھوکر صاف و شفاف کردے گی اور بدبو ختم ہوجائے گی… یاجوج ماجوج کے بارے میں حدیث ہے حضرت ابو سعید الخدریؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) پکاریں گے : ’اے آدم ! ‘ تو وہ جواب دیں گے : ’ میں حاضر ہوں تیرا حکم بجالانے کے لئے اور تمام تر خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے ‘۔ پھر آدم علیہ السلام کو حکم دیا جائے گا : ’ آگ میں بھیجے جانے والوں کو نکالو ‘۔ وہ کہیں گے: ’ آگ میں بھیجے جانے والے کون ہیں؟‘ جواب ملے گا : ’ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے‘۔ (دوزخ میں جائیں گے اورایک جنت میں)تب پھر ( ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﺐ ہر بچہ غم سے بوڑھا ہوجائے گا اور ہر حا ملہ عورت اپنا حمل گرادیگی اور یوں لگے گا جیسے کہ لوگ نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے مگر اللہ کا عذاب ہی شدید ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا : ’ اے اللہ کے رسول ﷺہم میں سے وہ ایک کون ہوگا ؟ ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ خوش ہوجاؤتم میں سے ایک ﺟﻨﺘﯽ ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار ہوں گے۔۔ ‘‘ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﺣﺼﮧ ﮨﻮ ﮔﮯ ، ﺗﻮ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﯽ ، ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﮨﻮ ﮔﮯ ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﮨﻞ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﻧﺼﻒ ﺣﺼﮧ ﮨﻮ ﮔﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﻧﺼﻒ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﻒ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮒ ‏) ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺗﮑﺒﯿﺮ ﮐﮩﯽ ، ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﯿﺎﮦ ﺑﺎﻝ ﺳﻔﯿﺪ ﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﺑﺎﻝ ﺳﯿﺎﮦ ﺑﯿﻞ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ۔ (صحیح بخاری۳۳۴۸۔ صحیح مسلم ۲۲۲) یاجوج ماجوج ﮐﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺯﺧﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻧﺴﺒﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔یعنی ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺩﻭﺯﺥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﯾﺎﺟﻮﺝ ﻭ ﻣﺎﺟﻮﺝ ﮐﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔ بشکریہ: Nemrah Ahmed: Official

from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2qScyQi

via IFTTT

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s