کچھ دل سے ۔۔۔ تدبر القرآن …. سورۃ البقرہ ….. نعمان علی خان …. حصہ- 45

تدبر القرآن
 سورۃ البقرہ
 نعمان علی خان 
 حصہ-45
فإذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم 
اگر آپ درست اور مثبت رویہ اپنائیں گے تو قرآن آپ کو ہدایت دے گا، دوسری صورت میں جب آپ اسے سرسری سا پڑھتے ہیں تو یہ کبھی بھی آپکی رہنمائی نہیں کرے گا. اب لوگوں کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ جب ہمارا بھٹکنا اور ہدایت یافتہ ہونا پہلے سے طے شدہ ہے تو پھر ہماری کیا حیثیت ہے؟ ہمارا تو کوئی قصور نہیں. اللہ رب العزت خود اس بات کی وضاحت فرماتے ہیں کہ کون کون سے لوگ قرآن کی رہنمائی کے مستحق نہیں. اللہ نے خود ان لوگوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا ہے. حالانکہ یہ کتاب تو “کتاب ہدایت” ہے، تو پھر کون سے بد قسمت لوگ ہیں جو اس سے بھٹکتے ہیں؟ 
وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ 
اللہ تعالٰی نے “وما یضل بہ احدا” نہیں کہا.(اور وہ نہیں بھٹکاتا کسی ایک کو)
آیت نمبر 26 میں کسی مستثنٰی کا ذکر نہیں ہے. یہ اوپن اینڈڈ ہے. اللہ نے کسی خاص انسان یا مخلوق کا نام نہیں لیا. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ کسی کو بھی نہیں بھٹکاتا سوائے فاسقوں کے. سوائے ان لوگوں کے جن کی کرپشن واضح ہو چکی ہے. 
فسق عربی زبان میں اس پھل کو کہتے ہیں جو خراب ہو جائے، جس کا چھلکا بھربھرا ہو کر تحلیل ہونا شروع ہو جائے. جیسے مالٹا یا کیلا پرانا ہونے پر گھلنے لگتا ہے اور پھل کا اندرونی مواد باہر آنا شروع ہو جاتا ہے. یہ ہے فسق. فسق التفاحہ یعنی سیب خراب ہو رہا ہے اس کا اندرونی مواد باہر نکلنا شروع ہے. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جن کی خرابی ان کے اندر تک محدود نہ رہے بلکہ باہر آنا شروع ہوجائے، تو ایسے لوگ، اللہ کی رہنمائی کے مستحق نہیں ہیں. ان کی خرابی ان کے اوپر حاوی ہو گئ ہے. ان کی خرابی ان کے باطن تک محدود نہیں رہی. بلکہ ان کی بیرونی سطح بھی گند سے لبریز ہو گئ ہے.
اگلی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ درحقیقت “فاسقین” کون ہیں؟ یہاں ہمیں” قرآن اور قرآنی زبان” کا “عام روزمرہ اور فقہاء کی زبان” سے فرق سمجھنا ضروری ہے. مسلم فقہاء کی زبان میں فاسق گناہ گار کو کہتے ہیں. 
_وہ شخص جو عموماً نماز نہیں پڑھتا وہ فاسق ہے. 
_ایسا شخص جو اپنی والدہ کے ساتھ احسن سلوک نہیں کرتا وہ بھی فاسق ہے. 
_وہ شخص بھی فاسق ہے، جو بیوی کے مہر اور دوسرے حقوق کو ایک لمبے عرصے تک مؤخر کئے رکھتا ہے. 
– یا پھر اسی طرح کے اور گناہوں کا مرتکب انسان عام زبان میں فاسق کہلاتا ہے. 
اب براہ مہربانی آپ قرآنی اسلوب سمجھنے کی کوشش کریں . اگر ہم یہ لفظ اپنی روز مرہ زندگی میں ایک دوسرے کے لئے استعمال کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب قرآن میں یہ لفظ آئے، تو آپ کہیں کہ چونکہ میرا کزن بھی “ایک فاسق” ہے، اس لیے وہ بھی کبھی ہدایت نہیں پاسکتا. خدارا احتیاط کریں . قرآن پاک میں فاسق کا انتہائی درجہ بیان ہوا ہے. فسق کے درجات ہیں، اور قرآن انتہائی درجے کا ذکر کر رہا ہے. اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کوئی بھی عام شخص جو کسی بُرے عمل میں ملوث ہو، وہ فسق کی کٹیگری میں نہیں آتا. ایسا شخص فقہاء کی نظر میں تو فاسق ہو سکتا ہے، لیکن قرآن کی نظر میں نہیں. غور کریں کہ اللہ تعالٰی نے فاسق کو کیسے بیان کیا ہے؟ فاسق کون ہیں؟ ان کا طرزِ عمل کیا ہے؟ 
اللہ تعالٰی کا بیان حیران کن ہے.
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27)
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
نقض کا مطلب ہے حلل العقدہ. گرہ کھولنا. 
گرہ باندھنے کے لیے کافی کوشش کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اس میں مقصدیت ہوتی ہے. لیکن اس کو کھولنا یا توڑنا بہت آسان ہے. گرہ کھولنا یا توڑنا ایک تخریبی عمل ہے. 
ابرام کیا ہے؟ پرانے زمانے میں جزیرۂ عرب میں تعمیر کا کام اینٹ اور سیمنٹ سے نہیں ہوتا تھا. بلکہ لکڑی کے دو تنوں کو °90 درجے کے زاویے سے ملا کر رسی لپیٹ کر آپس میں باندھ دیا جاتا تھا. اس طرح چیزوں کو باندھنا ابرام کہلاتا تھا. اور نقض الابرام کا مطلب ہے رسی کو کھول کر لکڑیوں کو الگ کر دینا. یہ ہے ینقضون کا تصور.
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ 
وہ لوگ جو اللہ سے باندھے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں. 
اللہ کے ساتھ وعدے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ اللہ کے ساتھ کسی چیز میں بندھے ہوئے ہیں. آپ کسی چیز کے ذریعے اللہ سے منسلک ہیں. کسی کے ساتھ بندھنے کیلئے کیا چیز ضروری ہے؟ رسی.. جی ہاں دو چیزوں کو جوڑنے کے لئے رسی استعمال کی جاتی ہے. قرآن میں بھی یہی ہے. 
وعتصمو بحبل اللہ 
اس جگہ اللہ کی رسی سے کیا مراد ہے؟ قرآن یعنی اللہ تعالٰی کے الفاظ. ہم اللہ تعالٰی کے ساتھ اللہ کے الفاظ کے ذریعے منسلک ہیں، یہی ہمارا اللہ کے ساتھ عہد ہے. 
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے، 
“ھو حبل اللہ المتین”
یہ قرآن اللہ کی پھیلی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے. ایک سرا ہم نے تھاما ہوا ہے اور دوسرا اللہ کے پاس ہے. یہ ہمیں براہ راست اللہ سے جوڑ رہا ہے. اللہ سے تعلق توڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ سے کئے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال رہے ہیں. 
یہ لوگ تعلق کب توڑتے ہیں؟
مِن بَعْدِ مِيثَاقِه
 اس کی پختگی کے بعد.
گرہ لگانے کے بعد گرہ کو مضبوط کرنے کے لیے رسی کے سروں کو پکڑ کر مخالف سمت میں کھینچا جاتا ہے. یہ میثاق کہلاتا ہے. 
وثق/واثق :عربی زبان میں اعتماد کےلیے استعمال ہوتا ہے. کسی چیز کے بارے میں “مطلق یقین“. اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ یہ فاسق لوگ اللہ سے کیے گئے عہد کو، اس کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں. اللہ سے کیا گیا عہد کوئی کمزور تعلق نہ تھا. کہ سرے کھینچنے سے ٹوٹ جائے. بلکہ یہ مضبوط تعلق تھا. جس کو توڑنے کے لئے کوشش کرنی پڑی. 
دوبارہ لفظ “فاسق” کی طرف آجائیے. فسق کیا ہے؟ جب کرپشن یا اخلاقی بگاڑ اتنا زیادہ ہو جائے کہ وہ پھٹ کر باہر نکل آئے. 
یہ فاسقین کس سے اپنا تعلق توڑ رہے ہیں؟ دوسرا فریق کون ہے؟ دوسرا فریق اللہ رب العزت ہے. یہ اللہ کے ساتھ اپنی رسی کو کاٹ رہے ہیں، وہ اللہ کے ساتھ باندھی ہوئی گرہیں کھول رہے ہیں. دوسرے الفاظ میں یہ لوگ اللہ سے اپنے رابطے منقطع کر رہے ہیں. 
اب آیت کا اگلا حصے میں کیا کہا گیا ہے :
وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ
پہلے انھوں نے گرہ کھولی بعد میں رسی کو بالکل ہی کاٹ دیا ہے، یعنی ہر تعلق ختم کر دیا ہے. 
جس چیز کو اللہ نے جوڑ کر رکھنے کا حکم دیا ہے وہ لوگ اس کو کاٹ رہے ہیں. 
یوصل لفظ صلہ سے ہے، یعنی رابطہ، تعلق. 
مفسرین کی اکثریت اس پر متفق ہے، اور آیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی تصدیق ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ نے دو اہم رشتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے. 
ایک رشتہ، انسان کا اللہ کے ساتھ ہے. 
اور دوسرا رشتہ دوسرے انسانوں کے ساتھ. اس میں انسان کا اپنی والدہ کے ساتھ تعلق بھی شامل ہے. جو انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل سے ہی شروع ہو جاتا ہے. یعنی اس تعلق کے بغیر آپ کا اس دنیا میں وجود ناممکن تھا. 
اللہ کے ساتھ آپ کا تعلق کیسے اور کب شروع ہوتا ہے؟ جب اللہ تعالٰی آپ کے اندر روح پھونکتے ہیں. 
اللہ تعالٰی سے رشتہ ختم کرنے والے لوگ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بھی تعلق توڑنا شروع ہو جاتے ہیں. ایسے لوگ اپنے والدین، شریک زندگی، بچوں، ساتھیوں، اور ہمسایوں کے حقوق پورے نہیں کرتے. وہ چیزیں جو اکٹھے رہنے کے لئے، ہم آہنگی کے لیے ضروری تھیں، یہ لوگ انہیں کاٹنا شروع ہو گئے ہیں. جبکہ اُن سب کو تو اللہ نے ملا کر رکھنے کا حکم دیا ہے. 
وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ 
والدہ سے متعلقہ رشتوں کو ہمارے مذہب میں اولین ترجیح دی جاتی ہے. درحقیقت تمام نسلِ انسانی ایک دوسرے کے ساتھ ممتا کے رشتہ سے جڑی ہوئی ہے. سارے انسان حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے باعث آپس میں رشتہ دار ہیں. 
آپ اپنی صورتحال دیکھئے! صرف چند رشتے ایسے ہیں جو آپکی مرضی کے مطابق ہیں. جیسے شادی. جبکہ خاندانی نظام میں باقی رشتے آپ کا ذاتی انتخاب نہیں. آپ، اپنی والدہ خود منتخب نہیں کر سکتے. اپنے بچوں کا انتخاب خود نہیں کر سکتے. اپنے بہن بھائیوں کا انتخاب آپ کی مرضی سے نہیں ہے. یہ سارے رشتے آپ کے لیے اللہ تعالٰی کا انتخاب ہیں. اللہ تعالٰی ہی ہمیں ان رشتوں کے ساتھ جُڑے رہنے کا حکم دے رہے ہیں. یہ سارے رشتے اللہ کا انتخاب تھے. ہمارے پاس ان کو توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں. ان کو ہر حال میں بچانا ہے. قطع نظر اس بات کے، کہ کوئی ان رشتوں کو توڑنے کی جتنی مرضی باتیں کرتا رہے. جیسے پاکستانی مائیں اکثر غصے میں کہتی رہتی ہیں، “تم آج کے بعد میرے بیٹے نہیں ہو. تم میرے لئے مر چکے ہو”. ماں جو بھی کہتی رہے، وہ پھر بھی اس کا بیٹا ہے اور رہے گا. اور زندہ سلامت بھی ہے،ماں کے کہنے سے مر نہیں گیا. محض کسی کے کہنے سے ایسے تعلق ختم نہیں ہو جاتے. اسی طرح اگر آپ اپنے بھائی سے ناراضی میں کہہ دیں،” آج سے تم میرے بھائی نہیں ہو، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں”. یہ تعلق آپ کے ایسے اعلانات سے ٹوٹنے والا نہیں. وہ آپ کا بھائی ہے اور رہے گا. 
معاملات کب خراب ہونا شروع ہوتے ہیں؟
جب آپ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو توڑتے ہیں. اس کے بعد پھر آپ اپنے خونی رشتہ داروں سے بھی تعلقات ختم کرتے جاتے ہیں. وہ چیزیں جو اللہ تعالٰی کے ساتھ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ ہمارے تعلق کو مضبوط بناتی تھیں. وہی ختم کر دی گئی ہیں. یہ قطع رحمی کرنے والے لوگ ہی کرپٹ ترین ہیں. ایسے لوگ نہ صرف اللہ کی رضا کے خلاف کام کرتے ہیں بلکہ دوسرے انسانوں کی بھی دل آزاری کا باعث ہیں. یہ کہلاتے ہیں فاسقین. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ کی کتاب سے کبھی ہدایت نہیں ملنے والی. فاسقین کی تعریف بہت گہرا مفہوم رکھتی ہے. 
وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27
جب آپ اللہ تعالٰی اور اللہ کی مخلوق سے قطع تعلقی کر لیتے ہیں تو پھر پیچھے کیا بچتا ہے؟ 
وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ
پھر یہ لوگ زمین میں فساد پھیلانے کا باعث بنتے ہیں.
دنیا کے مختلف معاشروں میں خاندانی نظام کو دیکھیں . لوگ اپنے والدین کا خیال رکھتے تھے، اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دینے کے لیے ایک دوسرے کی طرف آتے جاتے تھے، اپنے بچوں کی طرح دوسروں کے بچوں کا خیال رکھا جاتا تھا. کیا آج بھی ہم ایسی ہی دنیا میں جی رہے ہیں؟؟؟ نہیں ، باکل نہیں، یہ تو پرانے وقتوں کے قصے ہیں. اب آپ کا بچہ ابھی فرنٹ پورچ میں ہوتا ہے کہ آپ مسلسل اس پر نظر رکھتے ہیں کہ کہیں ہمسایوں میں سے کوئی شخص بچے کو گھور تو نہیں رہا، 
اس کی نیت کیا ہے؟
جاری ہے ۔۔۔۔ 

تبصرے میں اپنی رائے کا اظہار کریں

via Blogger http://ift.tt/2svew6b

Advertisements

One thought on “کچھ دل سے ۔۔۔ تدبر القرآن …. سورۃ البقرہ ….. نعمان علی خان …. حصہ- 45

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s