Image

سلسلہ “فہم القرآن” 

سلسلہ “فہم القرآن ”
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…
اور ذرا   اِ ن سے  اُس بستی کا حال  بھی پوچھو  جو سمندر کے کنارے واقع تھی  اِنہیں  یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سَبْت (ہفتہ)کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں  سبت ہی کے دن اُبھر  اُبھر  کر سطح پر اُن  کے سامنے آتی تھیں اور سَبْت کے سوا باقی  دنوں  میں  نہیں آتی تھیں ۔  یہ  اس لیےہوتا تھا کہ ہم ان کی نافر مانیوں  کی وجہ سے ان کو آزمائش  میں ڈال رہے تھے۔
سورة الاعراف
”سبت“ ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں۔ یہ دن بنی اسرائیل کے لیے مقدس قرار دیاگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نےاسے اپنے اور اولادِ اسرائیل کے درمیان پشت در پشت تک دائمی عہد کا نشان قرار دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ اس روز کوئی دنیوی کام نہ کیا جائے، گھروں میں آگ تک نہ جلائی جائے، جانوروں اور لونڈی غلاموں تک سے کوئی خدمت نہ لی جائے اورانہیں حکم ملا کہ اس دن شکار نہ کھیلیں ، مچھلی نہ پکڑیں ۔اس کے علاوہ جو شخص اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرے اسے قتل کر دیا جائے۔( لیکن بنی اسرائیل نے آگے چل کر اس قانون کی علانیہ خلاف ورزی شروع کر دی۔ ) ادھر مچھلیوں کی بحکم الٰہی یہ حالت ہوئی کہ ہفتے والے دن تو چڑھی چلی آتیں کھلم کھلا ہاتھ لگتیں تیرتی پھرتیں سب طرف سے سمٹ کر آ جاتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی بلکہ تلاش پر بھی ہاتھ نہ لگتی ۔  
“یہ  اس لیےہوتا تھا کہ ہم ان کی نافر مانیوں  کی وجہ سے ان کو آزمائش  میں ڈال رہے تھے۔”
 یہ  آزمائش تھی کہ مچھلیاں ہیں تو شکار منع اور شکار جائز ہے تو مچھلیاں ندارد۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی آزمائش کے لیے جو طریقے اختیار فرماتا ہے ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب کسی شخص یا گروہ کے اندر فرماں برداری سے انحراف اور نا فرمانی کی جانب میلان بڑھنے لگتا ہے تو اس کے سامنے نا فرمانی کے مواقع کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے تاکہ اس کے وہ میلانات جو اندر چھپے ہوئے ہیں کھل کر پوری طرح نمایاں ہو جائیں اور جن جرائم سے وہ اپنے دامن کو خود داغ دار کرنا چاہتا ہے ان سے وہ صرف اس لیے باز نہ رہ جائے کہ ان کے ارتکاب کے مواقع اُسے نہ مل رہے ہوں۔
ایک مدت تک تو یہ لوگ خاموش رہے اور شکار کرنے سے رکے رہے۔ بعد ازاں ان میں سے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ہفتہ والے دن مچھلی کو پکڑ لیا اور پھندے میں پھانس کر ڈوری کو کنارے پر کسی چیز سے باندھ دیا اتوار والے دن جا کر نکال لایا اور پکا کر کھائی۔ لوگوں نے خوشبو پا کر پوچھا تو اس نے کہا میں نے تو آج اتوار کو شکار کیا ہے آخر یہ راز کھلا تو اور لوگوں نے بھی اس حیلہ کو پسند کیا اور اس طرح وہ سب مچھلیوں کا شکار کرنے لگے پھر تو بعض نے دریا کے آس پاس گڑھے کھود لئے ہفتہ والے دن جب مچھلیاں اس میں آ جاتیں تو اسے بند کر دیتے اور اتوار والے دن پکڑ لاتے کچھ لوگ جو ان میں نیک دل اور سچے مسلمان تھے وہ انہیں روکتے اور منع کرتے رہے لیکن ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہم ہفتہ کو شکار ہی نہیں کھیلتے ہم تو اتوار والے دن پکڑتے ہیں.
 “اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے“ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ”ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں۔“ آخر کار جب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو بُرائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو  ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ پوری سر کشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤذلیل اور خوار۔”
سورة الاعراف
اس بیان سے معلوم ہوا کہ اس بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الہٰی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کر تے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں  کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو بر داشت نہ کر سکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم  کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا  کر کے خدا کے سامنے اپنی براءت کا ثبوت پیش  کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ اِن تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی  معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی براءت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا ۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں  ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے۔
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کے مبتلائے عذاب ہونے کی اور تیسرے گروہ کے نجات پانے کی تصریح کی ہے، لیکن دوسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے لہٰذا اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے تھا یا مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے ۔ پھر ایک روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ وہ پہلے اس بات کے  قائل تھے کہ دوسرا گروہ مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے تھا ، بعد میں ان کے شاگرد عِکرِمہ نے ان کو مطمئن کر دیا کہ دوسرا گروہ نجات پانے والوں میں شامل تھا ۔ لیکن قرآن کے بیان پر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس  کا پہلا خیلا ہی صحیح تھا۔ ظاہر ہے کہ کسی بستی پر خدا کا عذاب آنے  کی صورت میں تمام بستی دو ہی گروہوں  میں تقسیم ہو سکتی ہے، ایک وہ جو عذاب میں مبتلا ہو اور دوسرا وہ جو بچا لیا جائے۔ اب اگر قرآن کی تصریح کے مطابق بچنے والا گروہ صرف تیسرا تھا، تو لا محالہ پہلے اور دوسرے دونوں گروہ نہ بچنے والوں میں شامل ہوں گے۔ اسی کی تائید مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّکُمْ کے فقرے سے بھی ہوتی ہے جس کی توثیق کے بعد کے فقرے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمادی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام ِ الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابلِ مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہو سکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اُسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کےلیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہاتھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ  وَاتَّقُوْ ا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ ا لَّذَینَ ظَلَمُوْ ا مِنْکُمْ خَآصَّةً(ڈرو اُس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتا نہیں ہوں گے جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو)۔ اور اس کی تشریح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان اللہ لا یعذب العامة بعمل الخاصة حتٰی یرو االمنکربین ظھر ا ینھم وھم قادرون علیٰ ان ینکروہ فلا ینکروہ فاذا فعلوا ذٰلک عذب اللہ الخاصة و العامة، یعنی ”اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہو جائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے بُرے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ِ ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے“۔
 مزید برآں جو آیات اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی پر خدا کا عذاب دو قسطوں میں نازل ہوا تھا۔ پہلی قسط وہ جسے عذاب بئیس (سخت عذاب)فرمایا گیا ہے ، اور دوسری قسط وہ جس میں نافرمانی پر اصرار کرنے والوں کو بندر بنا دیا گیا ۔ ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ پہلی قسط کے عذاب میں پہلے دونوں گروہ شامل تھے، اور دوسری قسط کا عذاب صرف پہلے گروہ کو دیا گیا تھا،  واللہ اعلم بالصواب۔ اِن اصبتُ فمن اللہ وان اخطَئْتُ فمن نفسی، واللہ غفورٌ رحیم۔

اس کے علاوہ ان کے بندر بنائے جانے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جسمانی ہیئت بگاڑ کر بندروں کی سی کر دی گئی تھی اور بعض اس کے یہ معنی لیتے ہیں کہ ان میں بندروں کی سی صفات  پیدا ہو گئی تھیں۔ لیکن قرآن کے الفاظ اور اندازِ بیان سے ایسا  ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسخ اخلاقی  نہیں بلکہ  جسمانی تھا۔ میرے نزدیک قرینِ قیاس یہ ہے کہ ان کے دماغ بعینہ ااسی حال پر رہنے دیے گئے ہوں گے جس میں وہ پہلے تھے اور جسم مسخ ہو کر بندروں کے سے ہو گئے ہوں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s