Image

Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

سلسلہ “فہم القرآن ”

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے…

(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا فرمائی ہے پس تم اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہارا دُشمن ہی جَڑ کٹا (بے نام و نشان ہے۔ )

سورة الكوثر

نبوّت کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے ، پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی ، مزاحمتوں کے پہاڑ راستے میں حائل تھے، مخالفت کا طوفان برپا تھا، اور حضورؐ اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور تک کہیں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے تھے، اُس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔ سُورۂ ضحٰی میں فرمایا ”اور یقینًا تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں وہ کچھ دے گا جس سے تم خوش ہو جاؤ گے“۔ اور الم نشرح میں فرمایا کہ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ”اور ہم نے تمہارا آوازہ (ذکر) بلند کردیا“۔ یعنی دشمن تمہیں ملک بھر میں بدنام کرتے پھر رہے ہیں مگر ہم نے تمہارا نام روشن کر نے اور تمہیں ناموَری عطا کرنے کا سامان کر دیا ہے۔ اور
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o
”پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، یقینًا تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے“۔ یعنی اِس وقت حالات کی سختیوں سے پریشان نہ ہو ، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں کا دور آنے ہی والا ہے۔

ایسے ہی حالات تھے جن میں سورة کوثر نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشنگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفّار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں اور اُن کی حیثیت ایک بے کس اور بے یار و مددگار انسان کی سی ہو گئی ہے۔ عِکْرِمَہ کی روایت ہے کہ جب حضورؐ نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے بَتِر محمدٌ مِنّا (ابن جریر) یعنی محمدؐ اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہو گئے ہیں جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقَّع یہی ہو کہ کچھ مدت بعد وہ سُوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مکّہ کے سردار عاص بن وائل سَہْمِی کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا:”اجی چھوڑو اُنہیں، وہ تو ایک ابتر (جڑکٹے) آدمی ہیں، ان کو کوئی اولادِ نرینہ نہیں، مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لیوا نہ ہو گا“۔
غرض اسی طرح کی کئی روایات ہیں …

لہذا انتہائی دل شکن حالات تھے جن میں سورة کوثر حضورؐ پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے تھے کہ آپ صرف اللہ ہی کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے عَلانیہ رد کر دیا تھا۔ اِسی وجہ سے پوری قوم میں جو مرتبہ و مقام آپ کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔ آپ کے چند مٹھی بھر ساتھی سب بے یار و مددگار تھے اور مارے کھدیڑے جا رہے تھے۔ اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے بجائے خوشیاں منائی جا رہی تھیں ، اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی تھیں جس نے اپنے تو اپنے، غیروں تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اِس مختصر ترین سورۃ کے ایک فقرے میں وہ خوشخبری دی جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا تو اِس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ تمہارے مخالف بے وقوف تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ تم برباد ہوگئے اور نبوت سے پہلے جو نعمتیں تمہیں حاصل تھیں وہ بھی تم سے چھن گئیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں بے انتہا خیر اور بے شمار نعمتوں سے نواز دیا ہے۔ اولاد نرینہ سے محروم ہو جانے کی بنا پر دشمن تو یہ سمجھتے تھے کہ آپؐ کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا ، لیکن اللہ نے صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں کی صورت میں آپؐ کو وہ روحانی اولاد عطا فرمائی جو قیامت تک تمام روئے زمین پر آپ کا نام روشن کرنے والی ہے، آپ کے ذکر کو بلند کیا اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔

مسند احمد میں ہے حضورؐ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ کو کچھ اُونگھ سی طاری ہوئی، پھر آپ نےمُسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورة نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورة کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے جنت میں عطا کی ہے …

کوثر کا لفظ یہاں جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس کا پورا مفہوم ہماری زبان تو درکنار، شاید دنیا کی کسی زبان میں بھی ایک لفظ سے ادا نہیں کیا جا سکے. اس کے لُغوی معنی تو بے انتہا کثرت کے ہیں، مگر جس موقع پر اِس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اُس میں محض کثرت کا نہیں بلکہ خیر اور بھلائی اور نعمتوں کی کثرت ، اور ایسی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے جو اِفراط اور فراوانی کی حد کو پہنچی ہوئی ہو، اور اُس سے مُراد کسی ایک خیر یا بھلائی یا نعمت کو نہیں بلکہ بے شمار بھلائیوں اور نعمتوں کی کثرت ہے۔

دنیاوی نعمتیں لوگوں نے دیکھ لیں کہ وہ کس فراوانی کے ساتھ اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائیں ان کے علاوہ کوثر سے مراد دو مزید ایسی نعمتیں بھی ہیں جو آخرت میں اللہ تعالیٰ آپؐ کو دینے والا ہے۔ اُن کو جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اُن کی خبر دی اور بتایا کہ کوثر سے مراد وہ بھی ہیں ۔ ایک حوضِ کوثر جو قیامت کے روز میدانِ حشر میں آپؐ کو ملے گا۔ دوسرے نہرِ کوثر جو جنت میں آپ ؐ کو عطا فرمائی جائے گی ۔ اِن دونوں کے متعلق اِس کثرت سے احادیث حضورؐ سے منقول ہوئی ہیں اور اتنے کثیر راویوں نے ان کو روایت کیا ہے کہ اُن کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔

حوضِ کوثر کے متعلق حضور ؐ نے جو کچھ فرمایا ان میں سے چند ایک بیان کی جا رہیں
(۱) یہ حوض قیامت کے روز آپؐ کو عطا ہو گا اور اُس سخت وقت میں ، جبکہ ہر ایک العَطَش العَطَش کر رہا ہو گا، آپؐ کی امت آپ کے پاس اُس پر حاضر ہو گی اور اس سے سیراب ہو گی۔ آپ اس پر سب سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور اُس کے وسط میں تشریف فرما ہوں گے۔ آپ کا ارشاد ہے ” وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز وارد ہو گی“۔ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ، ابوداؤد، کتاب السّنہ)۔ ” میں تم سب سے پہلے پہنچا ہوا ہوں گا“۔ (بخاری، کتاب الرّقاق اور کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الفضائل اور کتاب الطہارۃ۔ ابن ماجہ ، کتاب المناسک اور کتاب الزہد، مُسند احمد، مرویّاتِ عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عباس ؓ و ابوہریرہؓ)۔
” میں تم سے آگے پہنچنے والا ہوں، اور تم پر گواہی دوں گا اور خدا کی قسم میں اپنے حوض کو اِس وقت دیکھ رہا ہوں“۔ (بخاری ، کتاب الخبائز، کتاب المَغازی، کتاب الرّقاق)۔انصار کو مخاطب کرتے ہوئے ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا ” میں قیامت کے روز حوض کے وسط کے پاس ہوں گا“ (مسلم، کتاب الفضائل)۔ حضرت ابو بَرْزہؓ اسلمی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے حوض کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں، چار نہیں، پانچ نہیں، بار بار سنا ہے، جو اُس کو جھٹلائے اللہ اسے اس کا پانی پینا نصیب نہ کرے(ابوداؤد، کتاب السنّہ)۔

(٢) اس کی کیفیت حضورؐ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا پانی دودھ سے اور بعض روایات میں ہے چاندی سے اور بعض میں برف سے) زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، اس کی تہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہو گی، اس پر اتنے کوزے رکھے ہوں گے جتنے آسمان میں تارے ہیں۔ جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ پھر کبھی سیراب نہ ہو گا۔ یہ باتیں تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ بکثرت احادیث میں منقول ہوئی ہیں (بخاری، کتاب الرّقاق، مسلم، کتاب الطہارت و کتاب الفضائل۔ مُسند احمد، مرویات ابن مسعودؓ، ابن عمر ؓ، و عبداللہ ؓ بن عَمْرو بن العاص۔ ترمذی، ابواب صفتہ القیامہ۔ ابن ماجہ، کتاب الزھد۔ ابوداؤد، طَیالِسی، حدیث ۹۹۵ و ۲۱۳۵)۔

(٣) اس کے بارے میں حضورؐ نے بار بار اپنے زمانے کے لوگوں کو خبردار کیا کہ میرے بعد تم میں سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں گے ان کو اُس حوض سے ہٹا دیا جائے گا اور اس پر اُنہیں نہ آنے دیا جائے گا۔ میں کہوں گا کہ یہ میرے اصحاب ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا ہے۔ پھر میں بھی اُن کو دفع کروں گا (پرے کروں گا) اور کہوں گا کہ دور ہو۔ یہ مضمون بھی بکثرت روایات میں بیان ہوا ہے

جنت میں کوثر نامی جو نہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی جائے گی اس کا ذکر بھی بکثرت روایات میں آیا ہے۔ حضرت انسؓ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جن میں وہ فرمانے ہیں ( اور بعض روایات میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی حیثیت سے بیان کرتے ہیں) کہ معراج کے موقع پر حضورؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی اور اس موقع پر آپؐ نے ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر اندر سے ترشے ہوئے موتیوں یا ہیروں کے تُبّے بنے ہوئے تھے۔ اس کی تہ کی مٹی مشکِ اَذْفَر کی تھی۔ حضور ؐ نے جبریل ؑ سے، یا اُس فرشتے سے جس نے آپ کو سیر کرائی تھی، پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا یہ نہر کوثر ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے (مُسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابوداؤد طیالسی، ابن جریر)

ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کےکنارے سونے کے ہیں، وہ موتیوں اور ہیروں پر بہہ رہی ہے( یعنی کنکریوں کی جگہ اس کی تہ میں یہ جواہر پڑے ہوئے ہیں)، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اس کاپانی دودھ سے (یا برف سے) زیادہ سفید ہے، برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے (مُسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم، دارِمی، ابوداؤد طَیالِسی، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُوْیَہ، ابن ابی شَیْبَہ)۔

بشکریہ: Nemrah Ahmed: Official
from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2rOnQSM
via IFTTT

Advertisements

2 thoughts on “Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s