Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

سورۃ کہف

اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔

۲۷۔پوری زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی

تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اس بات کا نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، وہ محض جھُوٹ بکتے ہیں ۔اچھا، تو اے نبیﷺ ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرکار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں ۔ (الکھف۔۔۔ ۸)

۲۸۔ اصحابِ کہف غار میں لمبی نیند سُلا دیے گئے

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری کوئی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ’’اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے‘‘، تو ہم نے انہیں اسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا، پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں ان کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔ (الکھف۔۔۔ ۱۲)

۲۹۔ اصحابِ کہف کا اصل قصہ

ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں ۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیئے جب وہ اٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ’’ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے‘‘۔ (پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ’’یہ ہماری قوم تو ربّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر و سامان مہیا کر دے گا‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۱۶)

۳۰۔ سورج غار کو چھوڑ کر طلوع و غروب ہوتا رہا

تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سُورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ (الکھف۔۔۔ ۱۷)

۳۱۔ کتا غار کے دہانے پر بیٹھا رہا

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں ، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کُتاّ غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر انہیں دیکھتے تو اُلٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔ (الکھف۔۔۔ ۱۸)

۳۲۔ اصحابِ کہف کا طویل نیند سے بیدار ہونا

اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا، ’’کہو، کتنی دیر اس حالت میں رہے؟‘‘ دوسروں نے کہا ’’شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے‘‘۔ پھر وہ بولے ’’اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا۔ چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے کچھ کھانے کے لیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے‘‘۔۔۔ اس طرح ہم نے اہل شہر کو اُن کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آ کر رہے گی۔ (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا ’’ان پر ایک دیوار چُن دو، ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے‘‘۔ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ’’ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۲۱)

۳۳۔ اصحابِ کہف: صحیح تعداد اللہ ہی جانتا ہے

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتاّ تھا۔ اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتاّ تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں ۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتاّ تھا۔ کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں ۔ پس سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی
سے کچھ پوچھو۔(الکھف۔۔۔ ۲۲)

۳۴۔وہ غار میں تین سو سال تک سوتے رہے

اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔ (تم کچھ نہیں کر سکتے) الاّ یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو ’’امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا‘‘۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ مدت کے شمار میں ) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں ۔ تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتا ہے،آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا! (زمین و آسمان کی مخلوقات کا) کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں ، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (الکھف۔۔۔ ۲۶)

۳۵۔ افراط و تفریط پر مبنی طریقِ کار والے

اے نبیﷺ ، تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں ) سُنا دو،کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے۔ اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں ، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں ۔ وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہو گا اور اُن کے منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ! (الکھف۔۔۔ ۲۹)

۳۶۔جنتی ،سونے کے کنگن، اور ریشمی لباس

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں ،تو یقیناً ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ان کے لیے سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!(الکھف۔۔۔ ۳۱)

۳۷۔انگور کے باغ پر گھمنڈ کرنے والے کا حشر

اے نبیﷺ ، ان کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ دو شخص تھے۔ ان میں سے کو ہم نے انگور کے دو باغ دیئے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔ دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی اور اُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا ’’میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں ‘‘۔ پھر وہ اپنی جنت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی، اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا‘‘۔ اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا ’’کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟ رہا میں ، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ، لا قوۃ الا باللہ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے، یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے‘‘ آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیّوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ ’’کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا‘‘ نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھاّ کہ اس کی مدد کرتا ، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ اس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔ (الکھف۔۔۔ ۴۴)

۳۸۔مال و اولاد محض دنیوی ہنگامی آرائش ہیں

اور اے نبیﷺ ، انہیں حیاتِ دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھاؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں ۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔ فکر اس دن کی ہونی چاہیے جبکہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاؤ گے ، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چھُوٹے گا، اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے ۔۔۔ لو دیکھ لو، آ گئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے۔۔۔ اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو‘‘۔ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔ (الکھف۔۔۔ ۴۹)

۳۹۔ ابلیس انسان کا دشمن ہے

یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔ اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی ذُریت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ بڑا ہی بُرا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں ۔ میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت ان کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ میرا کام یہ نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا کروں ۔ پھر کیا کریں گے یہ لوگ اس روز جبکہ ان کا رب ان سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔ سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ (الکھف۔۔۔ ۵۳)

۴۰۔انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ ان کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر ان کو کس چیز نے روک دیا؟ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہو چکا ہے،یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں ! (الکھف۔۔۔ ۵۵)

۴۱۔رسولوں کا کام بشارت و تنبیہ دینا ہے

رسولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں ۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور ان تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سر و سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیئے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے اور ان کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاؤ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں ۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔(الکھف۔۔۔ ۵۹)

۴۲۔ سفرِ موسیٰؑ اور مچھلی کا دریا میں گرنا

(ذرا ان کو وہ قصہ سناؤ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ’’میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا‘‘۔ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہو گئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا ’’ لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں ‘‘۔ خادم نے کہا ’’آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی‘‘۔ موسیٰؑ نے کہا، ’’اسی کی تو ہمیں تلاش تھی‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۶۴)

۴۳۔صاحبِ دانش سے موسیٰؑ کی ملاقات

چنانچہ و ہ دونوں اپنے نقش قدم پر پھر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔موسیٰؑ نے اس سے کہا ’’کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں ؟‘‘ موسیٰؑ نے کہا ’’انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا‘‘۔ اس نے کہا ’’اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں ۔(الکھف۔۔۔ ۷۰)

۴۴۔کشتی میں شگاف اور لڑکے کا قتل

اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اُس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰؑ نے کہا ’’آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں ؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی‘‘۔ اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟‘‘ موسیٰؑ نے کہا ’’بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے۔ میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں ‘‘۔پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اُس شخص نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا ’’آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۷۴)

۱۔ موسیٰ ؑ کو خضر کی وضاحت

اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تُم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے‘‘؟ موسیٰؑ نے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا‘‘۔پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا ’’اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے‘‘۔ اس نے کہا ’’بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔ اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں ۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۸۲)

۲۔ ذوالقرنین کا کالے پانی تک پہنچنا

اور اے نبیﷺ ، یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں ۔ہم نے اُس کو زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے۔ اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سر و سامان کیا۔ حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا، ’’اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے‘‘۔ اس نے کہا، ’’جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، اس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اُس کو نرم احکام دیں گے‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۸۸)

۳۔یاجوج ماجوج سے بچاؤ کے لیے آہنی بند

پھر اُس نے (ایک دوسری مہم کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لیے دھُوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔پھر اُس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ ’’اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کا م کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟‘‘اس نے کہا، ’’جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔تم بس محنت سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں ۔ مجھے لوہے کی چادریں لادو‘‘۔ آخر جب دونوں کے درمیان خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا اب آگ دہکاؤ۔ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ کر دی تو اس نے کہا ’’لاؤ اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا‘‘۔ (یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آ سکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔ ذوالقرنین نے کہا ’’یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے‘‘۔ (الکھف۔۔۔ ۹۸)

۴۔جب صور پھونکا جائے گا

اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے اور وہ دن ہو گا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔(الکھف۔۔۔ ۱۰۱)

۵۔ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟

تو کیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں ؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ اے نبیﷺ ! ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزا جہنم ہے اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے۔ البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ (الکھف۔۔۔ ۱۰۸)

۶۔سمندر بھر روشنائی بھی ناکافی ہے

اے نبیﷺ ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں ، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔ اے نبی ﷺ ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ (الکھف۔۔۔ ۱۱۰)

Paigham-e-Quran o Hadis
http://ift.tt/2t1ethU
from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2s2SUjN
via IFTTT

Advertisements

8 thoughts on “Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s