Image

Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

سلسلہ “فہم القرآن ”

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

“کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے؟ اچھا قرض ’ پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لئے بڑھاتا چلا جائے (تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے) اور اس کے لئے عمدہ صلہ /پسندیدہ اجر (یعنی جنت) ہے”

سورة الحدید : 11

یہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے کہ آدمی اگر اس کے بخشے ہوئے مال کو اسی کی راہ میں صرف کرے تو اسے وہ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے ، بشرطیکہ وہ قرض حسن(اچھا قرض)ہو، یعنی خالص نیت کے ساتھ کسی ذاتی غرض کے بغیر دیا جائے، کسی قسم کی ریا کاری اور شہرت و ناموری کی طلب اس میں شامل نہ ہو، اسے دے کر کسی پر احسان نہ جتا یا جائے، اس کا دینے والا صرف اللہ کی رضا کے لیے دے اور اس کے سوا کسی کے اجر اور کسی کی خوشنودی پر نگاہ نہ رکھے ۔ اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اس کو کئی بڑھا چڑھا کر واپس دے گا، دوسرے یہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا فرمائے گا۔
حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضورؐ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابو الد حداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے ؟ حضورؐ نے جواب دیا، ہاں ، اے ابو الدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھایئے۔ آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ’’ میں نے اپنے رب کو اپنا باغ قرض میں دے دیا۔ “حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھے سو درخت تھے ، اسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکارا کر کہا ‘’دحداح کی ماں ، نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے ‘‘ وہ بولیں ’’ تم نے نفع کا سودا کیا دحداح کے باپ’’، اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں ( ابی حاتم)۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخلص اہل ایمان کا طرز عمل اس وقت کیا تھا، اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ کیسا قرض حسن ہے جسے کئی گنا بڑھا کر واپس دینے اور پھر اوپر سے اجر کریم عطا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے ۔

قرآن مجید کی پانچ مختلف آیات میں اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دینے کی تاکید و ترغیب دی گئی ہے تاکہ ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری کی جاسکیں، اور اس کو اللہ تعالیٰ نے خود کو قرض حسنہ دینے سے تعبیر کیا ہے۔ اِس دفعہ رمضان المبارک میں ضروری ہے کہ ہم بھی الله کی راہ میں خرچ کریں ، اپنے غریب پڑوسیوں ، محلے داروں، رشتے داروں کی خبر گیری کریں اور ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں ،اور اس بات کو یاد رکھیں کہ جن کے پاس محدود یا کم ترین مال متاع ہے ان کی نسبت الله نے جن کوکثیر مال دیا ہے ان لوگوں کی زیادہ آزمائش ہے۔ کہ مال کی محبت میں وہ دوسروں پر بھی کچھ خرچ کرنا نہ بھول جائیں.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ” تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو، اور یہ آیت کہ ” کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے ” تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ نہ لگنے دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کر دو۔
مسند احمد ۔ جلد پنجم ۔ حدیث 1141

ذرا سوچیں کہ سحری و افطارکے اوقات میں آپ کے دسترخوان پر تو انواع و اقسام کے لوازمات ہوتے ہوں گے ، روزمرہ معمول میں مہنگے کپڑے اور پرفیوم بھی خریدتےہوں گے ، لیکن جنھیں ہمیں یاد رکھنا تھا، انھیں تو بھول گئے اور اس “مال” کی آزمائش کو ہم نے ان کی آزمائش سمجھ لیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ کے راستے میں جی بھر کر انفاق کیا جائے اور اپنی جیب سے جو کچھ دیا جاسکتا ہو، دیا جائے۔ یہ اعلان اکثر سننے میں آتا ہے کہ کرکٹ میچ ہورہا ہے یا چیریٹی شو منعقد کیا جارہا ہے تاکہ اس سے جو پیسے جمع ہوں وہ سیلاب زدہ لوگوں کو دیے جائیں۔ تو یہ میچ یا چیریٹی شو ہم اپنے اندر کیوں نہ کریں۔ ہمارا زندگی کی لذتوں کے ساتھ ایک میچ ہو، عید کے اخراجات اور نئے کپڑے بنانے کے شوق و ذوق کے ساتھ ایک میچ ہو تاکہ کچھ پیسے بچاکر ضرورت مندوں کودیے جائیں۔ آج وہ برے حالات سے گزر رہے کل ہمارے ساتھ ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں ۔

لہٰذا اس لمحے سے ڈرتے ہوئے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ہم وطنوں کے دست و بازو بنیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق رمضان ہمدردی و غمخواری، لوگوں کے دکھوں کو بٹانے اور ان کے غموں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا مہینہ ہے۔ اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنا اور مخلوق خدا کو اپنے مال سے فائدہ پہنچانا درجات کی بلندی اور اللہ کی ناراضی کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔

رسول الله صلی الله عليه وسلم سخاوت اور خیر کے معاملے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں یہ سخاوت اور بڑھ جاتی تھی جب حضرت جبرائیل (علیه السلام) رمضان میں ہر رات آپ صلی الله عليه وسلم سے ملتے اور قرآن کا دورہ کرتے. ان دنوں میں آپ صلی الله عليه وسلم تيز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے. صحیح بخاری 1902 کا کچھ حصہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنھیں اس نے اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندوں کو اپنے مال سے نفع پہنچائیں، اور جب تک وہ اللہ کے بندوں کو نفع پہنچاتے رہیں گے اللہ تعالیٰ بھی انہیں مزید نعمتوں سے نوازتا رہے گا، اور جب وہ خدا کے بندوں کو محروم کردیںگے تو اللہ بھی ان سے اپنی نعمتیں ختم فرما لے گا اور ان کی جگہ دوسرے بندوں کو عطا فرما دے گا۔ (مشکوٰة شریف)

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے. اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو پھر اپنے ہاتھ سے کچھ کما کر خود کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے. اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پھر کسی حاجت مند فریادی کی مدد کرے. اگر اس کی بھی سکت نہ ہو تو پھر اچھی بات پر عمل کرے اور بری باتوں سے باز رہے. اس کا یہی صدقہ ہے. صحیح بخاری 1445 کتاب الزکاۃ جلد 2

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سات قسم کے آدمیوں کو الله تعالی اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا، جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا. (ان میں سے ایک) وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا. صحیح بخاری 1423 کا کچھ حصہ کتاب الزکاۃ جلد 2

اگر قوم رمضان کے ان لمحات سے فائدہ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دینے اور آخرت میں بہترین اجر پانے کی نیت سے لوگوں پر خرچ کرے اور حضرت ابوالدحداحہؓ اور حضرت ابوعقیل انصاریؓ کے نقش قدم پر چلے تو ضرورت مندوں کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔

بشکریہ: Nemrah Ahmed: Official
from Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ http://ift.tt/2rer84Q
via IFTTT

Advertisements

2 thoughts on “Kuch Dil Se – کچھ دل سے ღ

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s