Image

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)
ہمارے ملک میں سیاست عوام کی دلچسپی کا ایک بہت اہم موضوع ہے۔ شام سات سے رات بارہ تک جس طرح ہمارے ہاں ٹالک شو دیکھے جاتے ہیں ، دنیا میں کم ہی کہیں دیکھے جاتے ہوں گے۔ یہی معاملہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سیاسی امور کا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کی برطرفی جیسے واقعات کے ساتھ عوام کی دلچسپی سیاسی امور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
سیاست اور سیاستدانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احتسابِ غیر میں زندہ رہتے ہیں۔ دوسروں کی ہر خامی کو نمایاں کرنا اور اپنی ہر خرابی کو دوسروں کی کمزوری کی آڑ میں چھپانا سیاست میں ایک فن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر فکری رہنما جن کا کام قوم کے مزاج کی اصلاح ہوتا ہے، عملی یا نظری سیاست سے پوری طرح وابستہ رہے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بھی قوم میں اسی مزاج کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ خود دین اسلام کی حقیقت ہمارے ہاں احتساب کائنات قرار پائی ہے۔ جبکہ قرآ ن مجید دین کا مقصد اپنی ذات کا تزکیہ بیان کرتا ہے جو احتساب ذات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر سے۔
سیاسی اور فکری قائدین کا پیداکردہ یہی وہ مزاج ہے جس میں ہمارے ہاں افراد میں احتساب ذات یعنی اپنی غلطی کے اعتراف اور اپنی اصلاح کا مزاج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص دوسرے کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی سولی پر چڑھانا پسند کرتا ہے، مگر خود کبھی اس کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ دوسروں کی صداقت اور امانت کو چیلنج کرتے ہیں، مگر اپنے کذب و خیانت سے ہمیشہ بے پروا رہتے ہیں۔
یہ رویہ کچھ چالاک، چرب زبان اور طاقتور لوگوں کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی طور پر قوم اور انفرادی طور پر فرد کی آخرت کے لیے یہ رویہ تباہ کن ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں غلطی کا اعتراف کرکے اصلاح کا جذبہ عام ہو ۔ قیامت کی نجات انھی لوگوں کا مقدر ہے جو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں نواز شریف صاحب کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بنیاد پر عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس فیصلے کی صحت و عدم صحت پر بحث چھڑگئی۔ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ باقی لوگ کون سے دودھ سے دھلے ہیں۔ مگر کتنے لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد اس احساس سے تڑپ اٹھے ہوں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کا احتساب شروع کریں گے۔ ان کے دل کا ہر خیال، تنہائی میں کیا گیا ہر کام، خفیہ طور پر کی گئی ہر گفتگو، رائی کے دانے کے برابر کیاگیا ہر کام، خلوت وجلوت کی ہر مشغولیت دن کی روشنی کی طرح سب کے سامنے آجائے گی۔
لوگوں کو اگر لازمی طور پر ہونے والے اس احتساب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی رسوائی اور سزا کا معمولی اندازہ بھی ہوجائے تو ان کا سکون ختم ہوجائے گا۔ وہ دوسرا کا احتساب کرنا بھول جائیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ بن جائے گا کہ وہ روزِقیامت عالم الغیب رب کی پکڑ سے بچ جائیں۔ ان کا پورا وجود سراپا توبہ و استغفار بن جائے گا۔
یہی وہ لوگ ہیں جو کسی معاشرے میں پیدا ہونے لگیں تو پھر صداقت و امانت عام ہوجاتی ہے۔ لوگ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم سے دور رہتے ہیں۔ لوگ اپنی زبان، نگاہ اور ہاتھ پاؤں کو خدا کی امانت سمجھ کران کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور اختیار کو ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پیدا ہواجائیں تو پھرآئین میں کسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر شخص اپنا محتسب خود بن جاتا ہے۔
مگر جب احتساب غیر کا مزاج پیدا ہوجائے تو پھر ہر شخص دوسروں کا احتساب کرتا ہے اور اپنے احتساب کا کبھی موقع نہیں آنے دیتا۔ ہر شخص دوسروں کی آنکھ کا تنکا ڈھونڈتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اسے نظر نہیں آتا۔ ایسے معاشرے میں صادق و امین تو کوئی نہیں ہوتا، مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے جو کسی طاقتورکے نیچے آجائے۔باقی لوگ اپنی زندگی منافقت کے ساتھ گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی پکڑ آتی ہے اور قوم کی دنیا اور فرد کی آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔

from Blogger http://ift.tt/2hgzdkU
via IFTTT

Advertisements
Image

کچھ دل سے ۔۔۔ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)
ہمارے ملک میں سیاست عوام کی دلچسپی کا ایک بہت اہم موضوع ہے۔ شام سات سے رات بارہ تک جس طرح ہمارے ہاں ٹالک شو دیکھے جاتے ہیں ، دنیا میں کم ہی کہیں دیکھے جاتے ہوں گے۔ یہی معاملہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سیاسی امور کا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کی برطرفی جیسے واقعات کے ساتھ عوام کی دلچسپی سیاسی امور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
سیاست اور سیاستدانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احتسابِ غیر میں زندہ رہتے ہیں۔ دوسروں کی ہر خامی کو نمایاں کرنا اور اپنی ہر خرابی کو دوسروں کی کمزوری کی آڑ میں چھپانا سیاست میں ایک فن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر فکری رہنما جن کا کام قوم کے مزاج کی اصلاح ہوتا ہے، عملی یا نظری سیاست سے پوری طرح وابستہ رہے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بھی قوم میں اسی مزاج کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ خود دین اسلام کی حقیقت ہمارے ہاں احتساب کائنات قرار پائی ہے۔ جبکہ قرآ ن مجید دین کا مقصد اپنی ذات کا تزکیہ بیان کرتا ہے جو احتساب ذات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر سے۔
سیاسی اور فکری قائدین کا پیداکردہ یہی وہ مزاج ہے جس میں ہمارے ہاں افراد میں احتساب ذات یعنی اپنی غلطی کے اعتراف اور اپنی اصلاح کا مزاج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص دوسرے کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی سولی پر چڑھانا پسند کرتا ہے، مگر خود کبھی اس کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ دوسروں کی صداقت اور امانت کو چیلنج کرتے ہیں، مگر اپنے کذب و خیانت سے ہمیشہ بے پروا رہتے ہیں۔
یہ رویہ کچھ چالاک، چرب زبان اور طاقتور لوگوں کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی طور پر قوم اور انفرادی طور پر فرد کی آخرت کے لیے یہ رویہ تباہ کن ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں غلطی کا اعتراف کرکے اصلاح کا جذبہ عام ہو ۔ قیامت کی نجات انھی لوگوں کا مقدر ہے جو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں نواز شریف صاحب کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بنیاد پر عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس فیصلے کی صحت و عدم صحت پر بحث چھڑگئی۔ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ باقی لوگ کون سے دودھ سے دھلے ہیں۔ مگر کتنے لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد اس احساس سے تڑپ اٹھے ہوں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کا احتساب شروع کریں گے۔ ان کے دل کا ہر خیال، تنہائی میں کیا گیا ہر کام، خفیہ طور پر کی گئی ہر گفتگو، رائی کے دانے کے برابر کیاگیا ہر کام، خلوت وجلوت کی ہر مشغولیت دن کی روشنی کی طرح سب کے سامنے آجائے گی۔
لوگوں کو اگر لازمی طور پر ہونے والے اس احتساب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی رسوائی اور سزا کا معمولی اندازہ بھی ہوجائے تو ان کا سکون ختم ہوجائے گا۔ وہ دوسرا کا احتساب کرنا بھول جائیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ بن جائے گا کہ وہ روزِقیامت عالم الغیب رب کی پکڑ سے بچ جائیں۔ ان کا پورا وجود سراپا توبہ و استغفار بن جائے گا۔
یہی وہ لوگ ہیں جو کسی معاشرے میں پیدا ہونے لگیں تو پھر صداقت و امانت عام ہوجاتی ہے۔ لوگ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم سے دور رہتے ہیں۔ لوگ اپنی زبان، نگاہ اور ہاتھ پاؤں کو خدا کی امانت سمجھ کران کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور اختیار کو ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پیدا ہواجائیں تو پھرآئین میں کسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر شخص اپنا محتسب خود بن جاتا ہے۔
مگر جب احتساب غیر کا مزاج پیدا ہوجائے تو پھر ہر شخص دوسروں کا احتساب کرتا ہے اور اپنے احتساب کا کبھی موقع نہیں آنے دیتا۔ ہر شخص دوسروں کی آنکھ کا تنکا ڈھونڈتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اسے نظر نہیں آتا۔ ایسے معاشرے میں صادق و امین تو کوئی نہیں ہوتا، مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے جو کسی طاقتورکے نیچے آجائے۔باقی لوگ اپنی زندگی منافقت کے ساتھ گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی پکڑ آتی ہے اور قوم کی دنیا اور فرد کی آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔

via Blogger http://ift.tt/2hgzdkU

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ (62-63)
ہمارے ملک میں سیاست عوام کی دلچسپی کا ایک بہت اہم موضوع ہے۔ شام سات سے رات بارہ تک جس طرح ہمارے ہاں ٹالک شو دیکھے جاتے ہیں ، دنیا میں کم ہی کہیں دیکھے جاتے ہوں گے۔ یہی معاملہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر سیاسی امور کا ہے۔ ایسے میں نواز شریف صاحب کی برطرفی جیسے واقعات کے ساتھ عوام کی دلچسپی سیاسی امور میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
سیاست اور سیاستدانوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احتسابِ غیر میں زندہ رہتے ہیں۔ دوسروں کی ہر خامی کو نمایاں کرنا اور اپنی ہر خرابی کو دوسروں کی کمزوری کی آڑ میں چھپانا سیاست میں ایک فن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر فکری رہنما جن کا کام قوم کے مزاج کی اصلاح ہوتا ہے، عملی یا نظری سیاست سے پوری طرح وابستہ رہے ہیں۔ لہٰذا انھوں نے بھی قوم میں اسی مزاج کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ خود دین اسلام کی حقیقت ہمارے ہاں احتساب کائنات قرار پائی ہے۔ جبکہ قرآ ن مجید دین کا مقصد اپنی ذات کا تزکیہ بیان کرتا ہے جو احتساب ذات سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر سے۔
سیاسی اور فکری قائدین کا پیداکردہ یہی وہ مزاج ہے جس میں ہمارے ہاں افراد میں احتساب ذات یعنی اپنی غلطی کے اعتراف اور اپنی اصلاح کا مزاج نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص دوسرے کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی سولی پر چڑھانا پسند کرتا ہے، مگر خود کبھی اس کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ دوسروں کی صداقت اور امانت کو چیلنج کرتے ہیں، مگر اپنے کذب و خیانت سے ہمیشہ بے پروا رہتے ہیں۔
یہ رویہ کچھ چالاک، چرب زبان اور طاقتور لوگوں کو عارضی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، مگر اجتماعی طور پر قوم اور انفرادی طور پر فرد کی آخرت کے لیے یہ رویہ تباہ کن ہے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں غلطی کا اعتراف کرکے اصلاح کا جذبہ عام ہو ۔ قیامت کی نجات انھی لوگوں کا مقدر ہے جو دوسروں کے بجائے اپنا احتساب کرتے رہتے ہیں۔
حال ہی میں نواز شریف صاحب کو آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی بنیاد پر عہدے سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اس فیصلے کی صحت و عدم صحت پر بحث چھڑگئی۔ اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ باقی لوگ کون سے دودھ سے دھلے ہیں۔ مگر کتنے لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد اس احساس سے تڑپ اٹھے ہوں کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کا احتساب شروع کریں گے۔ ان کے دل کا ہر خیال، تنہائی میں کیا گیا ہر کام، خفیہ طور پر کی گئی ہر گفتگو، رائی کے دانے کے برابر کیاگیا ہر کام، خلوت وجلوت کی ہر مشغولیت دن کی روشنی کی طرح سب کے سامنے آجائے گی۔
لوگوں کو اگر لازمی طور پر ہونے والے اس احتساب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی رسوائی اور سزا کا معمولی اندازہ بھی ہوجائے تو ان کا سکون ختم ہوجائے گا۔ وہ دوسرا کا احتساب کرنا بھول جائیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ بن جائے گا کہ وہ روزِقیامت عالم الغیب رب کی پکڑ سے بچ جائیں۔ ان کا پورا وجود سراپا توبہ و استغفار بن جائے گا۔
یہی وہ لوگ ہیں جو کسی معاشرے میں پیدا ہونے لگیں تو پھر صداقت و امانت عام ہوجاتی ہے۔ لوگ کرپشن اور ظلم کی ہر قسم سے دور رہتے ہیں۔ لوگ اپنی زبان، نگاہ اور ہاتھ پاؤں کو خدا کی امانت سمجھ کران کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور اختیار کو ایک اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ جب ایسے لوگ پیدا ہواجائیں تو پھرآئین میں کسی آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر شخص اپنا محتسب خود بن جاتا ہے۔
مگر جب احتساب غیر کا مزاج پیدا ہوجائے تو پھر ہر شخص دوسروں کا احتساب کرتا ہے اور اپنے احتساب کا کبھی موقع نہیں آنے دیتا۔ ہر شخص دوسروں کی آنکھ کا تنکا ڈھونڈتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اسے نظر نہیں آتا۔ ایسے معاشرے میں صادق و امین تو کوئی نہیں ہوتا، مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے جو کسی طاقتورکے نیچے آجائے۔باقی لوگ اپنی زندگی منافقت کے ساتھ گزارتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کی پکڑ آتی ہے اور قوم کی دنیا اور فرد کی آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہے۔
Image

مسجد اقصیٰ کی پکار – خطبہ جمعہ بیت اللہ

ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی نے مسجد اقصیٰ کے علاقے کو بابرکت بنایا ہے، اسی نے نافرمانوں کو نامراد کیا کیا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور ان گنت نوازشوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔
اے مسلمانو!
جو شخص تاریخ کے واقعات پر نظر دوڑاتا ہے اس کی آنکھ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم حکمت پر آن ٹھہرتی ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ کا چناؤ اور انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں حضرت جبریل کو چنا، انسانوں میں سے انبیاء کو چنا، انبیاء میں سید الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور جگہوں میں سے حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ کو چنا۔ اللہ رب العالمین نے مسجد اقصیٰ کو بلندی اور پاکیزگی سے متصف فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے‘‘ (مؤمنون: 50)
توحید ورسالت کی گواہی کے بعد جب اہم ترین اسلامی فریضہ، یعنی نماز، کا حکم نازل ہوا تو اس میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا کہا گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے تیرہ برس اور مدینہ منورہ کے پہلے سترہ مہینے اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔ پھر قرآن کریم میں مسجد حرام کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم نازل ہو گیا۔ ان دونوں مسجدوں کا تعلق بہت پرانا، گہرا، دینی اور تاریخی ہے۔ یہ زمین پر پہلی دو مسجدیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ
سیدنا ابو ذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام! انہوں نےپوچھا: اس کے بعد کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سیدنا ابو ذر نے دریافت کیا کہ مسجد حرام بنائے جانے کے کتنے عرصے بعد مسجد اقصیٰ بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چالیس سال بعد‘‘ (بخاری)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح فرماتے ہیں:
’’مخلوقات اور احکام الٰہیہ کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی اور بیت المقدس کو اللہ تعالیٰ نے میدان حشر بنایا۔ تمام لوگ بیت المقدس میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وہیں حشر کا میدان ہو گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حشر کی جگہ اور حشر کے بعد منتشر ہونے کی یہی جگہ ہے ۔ یہ وہ مسجد ہے جو تمام شریعتوں میں مقدس ہے، تمام انبیا نے اس کا احترام کیا ہے اور اس میں اللہ کی چاروں کتابوں کی تلاوت کی گئی ہے۔زبور، تورات، انجیل اور قرآن ‘‘
اللہ اکبر! یہ ہے ان دونوں مسجدوں کا ایمانی اور تاریخی تعلق۔ دونوں نبوت کی جگہیں ہیں اور دونوں دنیا کی افضل ترین جگہیں۔
دینِ اسلام نے اس تعلق کو مضبوط تر اور اس رشتے کو مزید طاقتور بنایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’سفر کر کے جانا صرف تین ہی مسجدوں کے لیے درست ہے۔ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی)‘‘ (بخاری)
اسی طرح فرمایا:
’’مسجد حرام میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں میں پڑھی گئی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پڑھی گئی ایک نماز دوسری جگہوں پر پڑھی گئی ایک ہزار نماز کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں پڑھی گئی ایک نماز پانچ سو نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ (طبرانی)
بھلا مسلمان اس سرزمین سے تعلق کیوں نہ جوڑیں جبکہ یہ انبیا اور رسولوں کی سرزمین ہے۔ اسی پر ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، یوسف ، لوط ، داؤد ، سلیمان ، صالح ، زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ رہے اور اسی بنی اسرائیل کے بہت سے ایسے انبیاء بھی رہے کہ جن کا ذکر ہم نہیں پاتے۔
اے امتِ اسلام!
؁05 ہجری میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ وہاں کے پادریوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس کی کنجیاں خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب کے علاوہ کسی اور کے سپرد نہ کریں گے۔ ہم اپنی کتابوں میں ان کا ذکر پاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور بیت المقدس کی کنجیاں حاصل کیں۔
تاریخ میں روشن لفظوں سے لکھا ہے کہ حضرت عمر نے کوئی چرچ، کلیسہ، عبادت گاہ گرائی اور نہ کوئی گھر توڑا، بلکہ دوسروں کی عبادت گاہیں سلامت رکھیں اور اہل علاقہ کے لیے عمومی امان کا عہد نامہ لکھا اور لوگوں کو اس پر گواہ بنایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان دورِ حکومت میں یہودی اور عیسائی ایسی بہترین زندگی گزارتے رہے، جس کی مثال کسی دوسرے دورِ حکومت میں نہیں ملتی۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنی عبادت سرانجام دیتے رہے۔
تاریخ زمانے کے لیے آئینہ ہے، یہ حال میں ماضی دکھانے والا دریچہ ہے اور یہی حال میں مستقبل دکھانے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں گزرا کہ جس کے بارے میں ہماری شرعی نصوص، تاریخی حقوق اور تہذیبی وابستگی یوں اکٹھی ہو گئی ہوں، جس طرح اس مسئلے میں یہ اکٹھی ہیں۔ یہ ہمارا سب سے بڑا اسلامی مسئلہ ہے۔ تازہ مسائل یا لڑائیوں میں اسے بھلانا نہیں چاہیے۔
یہ پہلا قبلہ، تیسری مقدس مسجد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے معراج کا مسئلہ ہے۔ یہ اقصیٰ مبارک کا مسئلہ ہے کہ جو ہر مسلمان کے دل میں رہنا چاہیے اور اس کے بارے میں کوئی سودا بازی یا دستبرداری کی بات نہیں ہونی جاہیے۔
گزشتہ حالات پر تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل افسوس میں ڈوب جاتا ہے۔ سنو! ہماری مقدسات کے بارے میں کوئی سودا بازی قابل قبول نہیں! ہمارے دین کے معاملے میں کوئی پیچھے ہٹنا روا نہیں۔
حالیہ حالات نے ہمارے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ کہاں ہیں خالد اور صالح؟ کیا ہمارے مقدس مقامات مسلسل چیختے رہیں گے، کیا ہمیں قدس ہمیشہ ہی بلاتی رہے گی، فلسطین مدد کا منتظر رہے گا اور اقصیٰ مدد کے لیے پکارتی رہے گی؟ اور ہم اپنی زندگی میں مگن ہی رہیں گے، ہمیں کبھی سکون بھی نصیب ہو گا یا یوں ہی بہتے بہتے ہمارے آنسو خشک ہو جائیں گے؟ 
اللہ کی قسم! کہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! مسجد اقصیٰ ظالم، جابر اور سرکش یہودیوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر ہمارے دل افسوس سے بھر جاتے ہیں اور ہماری نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے مسلمانوں کے قبضے میں واپس لوٹا کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرمائے! آج جو اس میں ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارے دل افسوس اور غم سے بھر جاتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کا مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے، مسجد اقصیٰ کی مصیبت ہماری مصیبت ہے اور مسجد اقصیٰ کی مشکل ہمارے دلوں مشکل ہے۔
امت کے احوال درست کرنا اور اسے مشکلات سے نکالنا ساری امت اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور علم، عقل اور حکمت کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ ہو جائے جو اس نے ہم سے کیا ہے۔
ہم پر امید ہیں کہ امت کی مصیبتیں گرما کے بادلوں کی طرح جلد ہی بکھر جائیں گی۔ نصرت تو اسلام اور اہل اسلام ہی کے لیے ہے۔ اہل اسلام اس خوشخبری سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر لیں۔ ہم اللہ تعالیٰ ہی سے نصرت اور عزت کا سوال کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدے کی، قیادت کی اور مقدس مقامات کی دشمنان اسلام سے حفاظت فرمائے! میرا رب دعا سننے والا اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے‘‘ (حج: 40-41)۔
تمام اہل اسلام کا فرض ہے کہ مسجد اقصیٰ اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کی کوشش کریں اور ان کے لیے نصرت اور ثابت قدمی کی دعا کریں۔
’’یہ اس نبی کا پہلا قبلہ ہے کہ جس کے دین کے بعد پچھلے تمام ادیان ختم ہو گئے۔ اس میں سرکش شیر بن گیا ہے۔ وہ اپنے دل میں دشمنی اور عداوت لیے ہوئے ہے اور اس کا سینہ حسد سے کھول رہا ہے۔ جبکہ اقصیٰ درد بھری نظریں لیے ادھر اُدھر دیکھ رہی ہے۔ اس کا صحن جھلس رہا ہے۔ اے قدس! صبر کر! آپ کی نصرت آنے والی ہے! اے قربانیوں کے شہر! چور ہمیشہ بزدل ہی ہوتا ہے‘‘
اے اہلِ قدس! اللہ تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو بابرکت بنائے! آپ کی مرادیں پوری فرمائے! میرا رب رحیم اور بڑا نرم ہے۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
نظر ثانی: حافظ یوسف سراج
بشکریہ، پیغام ٹی وی۔

from Blogger http://ift.tt/2uMPF14
via IFTTT