⁦❤️ 30 دن 30 آیات ⁩⁦❤️⁩

جو بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کرجاتے ہیں۔

(الشوری- 37)

جنت میں جانا ہے تو کبیرہ گناہ چھوڑنے ہونگے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، الزام تراشی، دوسروں کو اذیتیں دینا، اور فواحش بےحیائی کے کام جس میں زبان کی، قول کی، ایکشن کی، لباس کی، ساری چیزیں شامل ہیں۔ اور کیا ہے ان کے اندر خوبی؟

“اور جب انکو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں”
یہ نہیں کہا کہ انہیں غصہ آتا ہی نہیں، اور کوئی بھی انسان یہ دعوی کر ہی نہیں سکتا کہ اسے غصہ نہیں آتا۔ تھوڑا بہت غصہ ہر ایک کو ہی آتا ہے، لیکن غصے کے بعد معاف کرنا ہر ایک کو نہیں آتا۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو غصے کے بعد یعنی کسی پر غصہ کیا یا غصہ کسی کا اپنے اوپر برداشت کیا اور پھر اسکو معاف کردیا کیونکہ جب آپ کسی پہ غصہ ڈھا رہے ہوتے ہیں تو اسکا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ دوسرا سہہ رہا ہوتا ہے۔ اب آپ کا فرض ہے کہ اس سے معافی مانگیں اور دوسرا جس کے دل کو چوٹ لگی اس کا کیا فرض ہے؟ کہ وہ معاف کردے۔ یہ سوچ کر کے کوئی بات نہیں انسان ہے، کمزور ہے جانے دے اسکو۔ تب ہی زندگی کی گاڑی چل سکتی ہے ورنہ اگر انسان چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بنالے اور گرہ باندھ لے کہ اس انسان نے میرے ساتھ ایسا کیا تو کیوں کیا؟ میں تو اسکو کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ تو جو کبھی معاف نہیں کرسکتے وہ کبھی معاف کیے بھی نہیں جاتے پھر۔
اس لیے انکو اپنی بھی فکر کرنی چاہیے ہے کیونکہ وہ بھی کسی نہ کسی کے ساتھ غصہ کرچکے ہوتے ہیں۔
یاد رکھیے کہ غصہ آئے گا جائے گا معاف کرتے رہیں گے پھر غلطیاں ہونگی پھر معاف کریں گے اس طرح زندگی کی گاڑی چلتی رہے گی۔
آپ دیکھیں کہ جن پر آپ غصہ کرتے ہیں وہ سہہ سہہ کر پھر عادی ہوجاتے ہیں۔ اچھا ان کا حال کیا ہوتا ہے؟ وہ سنی ان سنی کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ وہ کان میں روئی لے لیتے ہیں۔ انکو پتا ہوتا ہے کہ یہ تو انکی عادت ہے۔ لیکن سوچیے کہ بلڈ پریشر کس کا ہائی ہوتا ہے غصہ کرنے والے کا یا جس پر کیا جارہا ہو؟ کرنے والے کا۔ کس کی ہارٹ بیٹ تیز ہورہی ہوتی ہے؟ کون تلملا رہا ہوتا ہے؟ کون ایک شاک میں جارہا ہوتا ہے؟ جو غصہ کر رہا ہوتا ہے۔ سننے والے کو بھی تکلیف ہوتی ہے لیکن کم ہوتی ہے، اس کے دل میں رہ جاتی ہے وہ اور اللہ چاہے تو وہ بھی نکل جاتی ہے، اور جب وہ عادی اور ڈھیٹ ہوجاتا ہے تو وہ بھی نہیں رہتی اسکو۔ وہ اسکو ایسے ہی ہوتی ہے جیسے ہوا کا ایک جھونکا ہو یا ایک آندھی یا طوفان آئے دروازے بجیں اور اسکے بعد ٹھنڈک ہوجائے اور بات ختم ہوجائے۔
تو یاد رکھیے غصہ تو آئے گا لیکن غصے کے بعد کرنے والا اور سہنے والا دونوں ایک دوسرے کو معاف کردیں تب جنت میں جائیں گے۔ یہ غصے کو لے کر تو قنطرہ پر روک دیے جائیں گے اور ایک دوسرے سے بدلے لے لیے جائیں گے اور جو غصہ نہ کرے کوشش کرے کنٹرول کرے کے غصہ کرنا ہی نہیں ۔ تو اسکا انعام کیا ہے؟

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کرو، تمہارے لیے جنت ہے۔

سیدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ کے غضب سے مجھے کونسی چیز بچا سکتی ہے؟ کہ اللہ مجھ پر ناراض نہ ہو، مجھ پر غضب ناک نہ ہو۔ آپ نے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔

یعنی اگر تم خلق خدا پہ غصہ نہیں کروگے تو اللہ تم پر غصہ نہیں کرے گا، تم دوسروں کو معاف کردوگے تو اللہ تمہیں بھی معاف کردے گا۔ اسلیے جوڑنا سیکھو، کاٹنا بہت آسان ہے اور جوڑنا بہت مشکل ہے۔ جوڑنے کے لیے انا مارنی پڑتی ہے اور اگر انا کو پالنا ہے تو وہ شیطان کا راستہ ہے۔

#30Days30Ayaat

#Ramadan2018

Advertisements

خدا بول رہا ہے۔۔۔ قسط 15

قسط نمبر 15

ایک روز وقار آفس میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ عظمت صاحب اس کے کمرے میں داخل ہوئے۔انھیں دیکھتے ہی وہ ان کے استقبال کے لیے کھڑا ہوگیا۔
السلام علیکم عظمت صاحب! آپ کیسے ہیں اور کیسے تشریف لائے؟
وعلیکم السلام وقار صاحب۔ میں ذرا اسریٰ بیٹی سے ملنے آیا ہوا تھا۔سوچا آپ سے بھی ملتا چلوں۔
ضرورضرور۔ وقار نے خوش دلی سے کہا۔پھر وہ ان کو کھڑ ادیکھ کر بولا۔
لیکن آپ کھڑے کیوں ہیں، پلیز تشریف رکھیے۔
وقار نے نشست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو عظمت صاحب بیٹھ گئے۔
اس نے دریافت کیا۔
آپ کے لیے کیا منگاؤں ؟ چائے یا کافی۔
کچھ نہیں۔ ابھی اسریٰ کے ساتھ چائے پی ہے۔ ویسے وہ آپ کی پرفارمنس سے کافی مطمئن لگ رہی تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری پر آپ کو براہ راست اتنی بڑی پوزیشن پر رکھ لیاہے۔ وہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ خود ڈائریکٹر کے مقام پر ہے اور جی ایم کی نظر میں اس کی بہت اہمیت ہے، ورنہ یہ ممکن نہ ہوتا۔
ہاں اس میں کوئی شک نہیں اللہ نے بڑی مہربانی کی ہے اور اسریٰ کو اس کا ذریعہ بنایا ہے۔ میں دل سے اس کے لیے دعا گو ہوں، مگر۔۔۔۔۔۔
وقار کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
مگر کیا وقار صاحب۔ اگرآپ کا کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں میں اسریٰ سے بات کرتا ہوں۔
نہیں ! میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔مسئلہ اسریٰ کا ہے۔
اسریٰ کا مسئلہ ۔ اس کا کیا مسئلہ ہے؟
آپ کوسونیا یاد ہے۔
میڈم کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟
آپ کو اسریٰ کو دیکھ کرسونیا کا خیال نہیں آتا۔
وقار کی بات پر عظمت صاحب کچھ دیر سوچتے رہے، پھر بولے۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آپ کے توجہ دلانے سے مجھے احساس ہوا ہے۔ دراصل میں نے تو اسے چھوٹی عمر سے دیکھا اور بڑا مختلف دیکھا ہے۔میرے ذہن میں اس کا وہی تصور تھا، مگر اب واقعی وہ بالکل میڈم سونیا کی طرح لگنے لگی ہے۔
میں ظاہر کی بات نہیں کررہا۔ گرچہ ظاہری مناسبت بھی ہے۔ مگر میں زندگی کو دیکھنے کے زاویے کی بات کررہا ہوں۔
میں سمجھا نہیں۔ عظمت صاحب نے نہ سمجھنے کے انداز میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
اسریٰ کو جتنا میں سمجھا ہوں، مزاجاً ایک اچھی لڑکی ہے۔ مگرسونیا کی طرح اسے بھی غفلت کا مرض لگ گیا ہے۔
غفلت کیسی، اسریٰ تو بہت ہوشیار لڑکی ہے؟
میں اس دنیا کی ہوشیاری کی بات نہیں کررہا۔ میں جس غفلت کی بات کررہا ہوں وہ خدا اور اس کی ملاقات سے غفلت ہے۔جس شخص کو یہ مرض لگ جائے وہ جنت کے راستوں سے بہت دور نکل جاتا ہے۔ میں سونیا کے لیے کچھ نہیں کرسکا۔ کاش اس کے لیے کچھ کرسکوں۔
وقار صاحب آپ کی باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں، مگر میرے خیال میں ہر شخص اپنے اچھے برے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔اسریٰ کوئی بچی نہیں کہ اسے کوئی سمجھائے۔اسے اگر خدا اور آخرت کی پروا نہیں تو آپ پر بھی اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔بس نجانے کیوں کبھی خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے اس لڑکی کی دنیا بنادی، مگر اس کی آخرت کو اس طرح غفلت کی نذر ہوتا دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ اس کی غفلت قیامت کے دن اس کی سخت جوابدہی کا سبب بن جائے۔ غفلت انسان کو جہنم کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔لیکن چھوڑیے ان باتوں کو۔ اپنا حال سنائیں؟
وقار نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ جس کے بعد وہ لوگ دیگر امور پر بات کرتے رہے اور کچھ دیر بعد عظمت صاحب وہاں سے رخصت ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقار اسریٰ کو ابھی تک کے کام کی بریفنگ دے رہا تھا۔وہ خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔اس نے بات مکمل کی تو اسریٰ نے کہا۔
ٹھیک ہے۔ آپ نے سب ویسا ہی سمجھا ہے جیسا میں نے سمجھایا تھا۔ اب یہاں سے پروجیکٹ کو آپ ہی لیڈ کریں گے۔ کوئی مسئلہ ہو تو مجھ سے بات کرلیں۔مگر ہر روز مجھے پروگریس ضرور بتاتے رہیں۔
ٹھیک ہے۔ آپ بالکل مطمئن رہیں ۔ آپ کو انشاء اللہ کوئی شکایت نہیں ہوگی۔
اوکے آپ جاسکتے ہیں۔
وقار اٹھ کر جانے لگا تو اسریٰ نے اسے پیچھے سے پکار کرکہا۔
وقار صاحب!
اس کی آواز پر وقار ٹھہر گیا اور آہستگی سے مڑا۔
آپ کو یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہورہا۔
اس کی بات پر وقار دھیرے سے مسکرایا۔
خدا نے یہ دنیا اس لیے نہیں بنائی کہ یہاں کوئی مسئلہ باقی نہ رہے۔ یہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ مسائل کے باجود ہم اپنا کام کرتے رہیں۔
وقار صاحب !میں دنیا کا نہیں ، اس آفس کا پوچھ رہی ہوں۔
جی اللہ کا شکر ہے۔ یہاں سب ٹھیک ہے۔
اوکے پھر آپ جاسکتے ہیں۔
وقار چلا گیا اور اس کے جانے کے بعد اسریٰ اپنی نشست کی پشت سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی۔ اس کے پاس کام کا بہت لوڈ رہتا تھا۔ مگر وقار کے آنے کے بعد اسے قدرے ریلیف ملا تھا۔یہ ایک بہت مشکل پروجیکٹ تھا جس پر وہ کچھ عرصے سے کام کررہی تھی۔ مگر اب اس کی ساری ذمہ داری وقار پر تھی۔ اس حیثیت میں وقار اس کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا تھا۔
وہ وقار کے کام اور اہلیت کے بارے میں کوئی قطعی رائے قائم نہیں کرسکی تھی کہ ابھی اس کے کام کی فائنل رپورٹ آنی تھی، مگر وہ اس کی شخصیت سے مطمئن ہوچکی تھی۔اسریٰ ہر وقت مردوں کے بیچ میں رہتی تھی۔ وہ اندر سے مردوں سے خوفزہ تھی، اپنے خوف کو چھپانے کے لیے وہ بظاہر بہت سخت بن چکی تھی۔ مگر اس سختی کو خود پر طاری رکھنے کی وجہ سے وہ کچھ تھک جاتی تھی۔ مگر وقار کے معاملے میں نجانے کیوں ایک فرق اسے محسوس ہوا۔اسے وقار سے کبھی کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔بلکہ ایک نوعیت کا تحفظ محسوس ہوتا تھا۔
اس کا سبب شاید یہ تھا کہ مرد عورتوں کو ہمیشہ صنف مخالف سمجھ کر معاملہ کرتے تھے۔ مگر وقار نے اسے ہمیشہ عورت کے بجائے انسان سمجھ کر معاملہ کیا تھا۔اسریٰ نے نوٹ کیا کہ باقی خواتین کے ساتھ بھی اس کا رویہ یہی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ اسریٰ اور شاید باقی خواتین بھی وقار کے ساتھ کمفرٹ ایبل محسوس کرتی تھیں۔
پھر وقار کی شخصیت میں بہت ٹھہراؤ تھا۔ بہت سکون تھا۔ بہت اعتماد تھا۔گرچہ اس کی مذہبی باتیں اسریٰ کو پسند نہ تھیں۔مگر اسے یہ محسوس ہوتا تھا کہ وقار کو ملازمت دینے کا اس کا فیصلہ بڑی حد تک ٹھیک تھا اور وہ اس کے ہونے سے ہر پہلو سے اپنا فائدہ محسوس کررہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک روز وقار آفس سے گھر لوٹا تو عظمت صاحب کو گھر کے ڈرائنگ روم میں اپنا منتظر پایا۔
سر ! آج میں نے سوچا کہ دفتر سے گھر جاتے ہوئے بیگم صاحبہ کی خیریت معلوم کرلوں۔اسی بہانے آپ سے بھی ملاقات ہوجائے گی۔
اسے دیکھتے ہی عظمت صاحب نے کہا ۔
آپ کا بہت شکریہ۔بس ان کاعلاج جاری ہے۔اللہ تعالیٰ اگر کچھ کرم کردیتے ہیں تو پھر علاج کے لیے ان کو ملک سے باہر لے جانے کی کوشش کروں گا۔ ابھی تک ملازمت کاابتدائی مہینہ ہے۔یہ پروجیکٹ مکمل ہوجائے تو امید ہے کہ آگے کوئی بات کی جاسکے گی۔
ہاں مجھے اندازہ ہے کہ ملازمت ملتے ہی آپ والدہ کے علاج کی بات نہیں کرسکتے۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ آفس میں آپ کی جگہ بن جائے تو میں بھی اسریٰ سے بات کروں ۔
ہاں میں بھی اسی وقت کا انتظار کررہا ہوں۔ اسی لیے ملازمت کے اس بوجھ کر ڈھورہا ہوں۔
مجھے اندازہ ہے سر۔ آپ کے لیے یہ ایک مشکل کام ہے۔
ہاں ملازمت میرے مزاج کے بھی خلاف ہے اور شاید اس سے زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ اب مطالعے کے لیے بالکل وقت نہیں ملتا۔مگر کیا کروں والدہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔
سر مطالعہ کیا آپ کے لیے بہت ضروری ہے ؟
نہیں ضروری تو نہیں بس اب عادت بن گئی ہے۔لیکن پہلے میں مطالعہ ایک ضرورت کے تحت کرتا تھا۔
وہ کیا ضرورت تھی سر؟
دراصل میں برسہا برس سے مسلسل مطالعے کے ذریعے سے اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہا ہوں کہ قرآن مجید مسلمانوں کی مذہبی فکر اور عملی زندگی سے خارج کیوں ہوچکا ہے۔
جی مجھے یاد ہے کہ کئی برس پہلے بھی آپ نے یہ بات کہی تھی۔ تو یہ بتائیں کہ اتنے بر س میں آپ کو اپنی تلاش کا کوئی جواب ملا؟
ہاں بڑی حد تک مجھے جواب مل گیا ہے۔میں نے متعدد اہل علم کو پڑھا اور سنا ہے۔ بے گنتی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ سابقہ امتوں کی تاریخ اور پچھلے نبیوں کی جدوجہد کو پڑھا ہے۔اس سے بڑھ کر قرآن مجید کو اپنی زندگی بنا کر اس کے لفظ لفظ پر غور کیا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اپنے ذہن میں میں موجود تصورات کے دلائل اس سے تلاش کروں۔ بلکہ یہ جاننے کے لیے کہ میرا رب کیا کہہ رہا ہے۔ان سارے مراحل کے بعد میں اس مسئلے کی بنیادی وجہ د ریافت کرسکا ہوں۔
آپ کے نزدیک اس کی کیا وجہ ہے ؟
دیکھیے یہ ایک بہت مشکل بات ہے جس کے بڑے علمی پہلو ہیں۔ لیکن آ پ چونکہ ایک عام آدمی ہیں اس لیے میں بہت سادہ انداز میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
ضرور، عظمت صاحب نے بڑے اشتیاق سے کہا۔
وقار نے قریب میز پر رکھا ایک رائٹنگ پیڈ اٹھایا اور پھر اپنے قلم سے رائٹنگ پیڈ کے ایک خالی صفحے پر بڑی سی لکیر کھینچ کر ان سے پوچھا۔
یہ کیا ہے؟
ایک لمبی لکیر ہے۔
اچھا اب میں یہ کہتا ہوں کہ اس کو چھوئے بغیر آپ اسے چھوٹا کردیں۔
نہیں یہ تو نہیں ہوسکتا۔ ا س کے لیے تو اسے کاٹنا یا مٹانا پڑے گا۔
قرآن ایسی ہی ایک بڑی لکیر ہے۔ کوئی کاٹ نہیں سکتا۔ کوئی اسے مٹا نہیں سکتا۔ اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ تحریف نہیں ہوسکتی۔ کمی نہیں ہوسکتی۔ اضافہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ قرآن وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے کررکھا ہے۔
جی بالکل یہ تو مجھے معلوم ہے۔
لیکن یہ ہوسکتا ہے۔
یہ جملے کہتے ہوئے وقارنے اپنے قلم سے پہلی لکیر کے برابر میں چند لکیریں اور کھینچ لیں۔ کچھ پہلی والی کے برابر کی تھیں اور کچھ اس سے بڑی تھیں۔پھر عظمت صاحب کو مخا طب ہوکر کہا۔
دیکھیے اب میں نے پہلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا بھی کردیا اور غیر اہم بھی کردیا۔ اب یہ بہت سی لکیروں کے درمیان بنی ہوئی ایک لکیر ہے۔ اس سے پہلی لکیر ہونے کا اعزاز تو آپ نہیں چھین سکتے۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے اس میں کوئی تبدیلی ، تحریف یا ترمیم کی گئی ہے۔مگر عملاً اس کے ساتھ کیا ہوا ہے، یہ صاف نظر آرہا ہے۔اب اس لکیر کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی۔
انٹرسٹنگ، ویری انٹرسٹنگ۔ عظمت صاحب بس اتنا ہی کہہ سکے۔
یہ ہے جو قرآن کے ساتھ ہوا ہے۔ قرآن میں موجود ایمان و اخلاق کی دعوت کے ساتھ ہوا ہے۔ کوئی قرآن کا نہ انکار کرتا ہے، نہ اس کی اہمیت کا منکر ہے۔ کسی کو قرآن کی دعوت ایمان واخلاق سے اختلاف بھی نہیں ہے۔ مگر عملاً کوئی اس کو دین کی اصل اور نجات کی بنیاد سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
آئی سی۔ عظمت صاحب بڑبڑائے۔
تو یہ ہے اس سوال کا جواب۔ یعنی قرآن مجید اور اس کا اصل پیغام عملی طور پر مسلمانوں کی علمی اور عملی روایت سے غیر متعلق کیوں ہوگئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے نظریاتی طور پر تو اس اصول کو مانا کہ قرآن مجید دین کی بنیادی اور اہم ترین کتاب ہے۔ مگر عملی طور پر دوسری کئی چیزوں کو قرآن مجید کے برابر یا اس سے بھی زیادہ اہمیت دینا شروع کردی۔
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ مذہب کے نام پر دنیا میں جو کچھ بھی پایا جاتا ہے اس میں کوئی چیز قرآن کے مقابلے کی نہیں۔ کون سی چیز ہے جس کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے کررکھا ہے۔ کون سی چیز ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے۔کون سی چیز ہے جسے انسانیت اور اہل ایمان کے لیے ہدایت کہا گیا ہے۔ کون سی چیز ہے جسے دوسری مذہبی چیزوں کو تولنے کا میزان یعنی ترازو اور ان کو پرکھنے کی کسوٹی کہا گیا ہے۔ کون سی چیز ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کون سی چیز ہے جس کے متعلق آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی شکل میں خدا بول رہا ہے۔کوئی ہے؟ کوئی نہیں ہے۔
وقار بول رہا تھا اور اس کے لہجے میں جوش تھا۔
چنانچہ جس روز مسلمان یہ اصول عملی طور پر مان لیں گے کہ قرآن مجید ہر چیز پر حاکم ہے،یہ خدا اور اس کے رسول کے قائم مقام ہے،کوئی چیز اس سے برتر نہیں ہے، اس روز قرآن مجید مسلمانوں کی مذہبی فکر اور عملی زندگی میں دوبارہ اپنی حیثیت حاصل کرلے گا۔ اور جس روز یہ ہوگیا مسلمان دنیا میں غالب اور آخرت میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ کی اتنے برسوں کی محنت بے کار نہیں گئی۔ آپ نے تو بڑے کام کی اور اہم بات بتائی ہے۔
عظمت صاحب میں نے برسہا برس میں مطالعہ کرکے یہی بات سمجھی ہے کہ قرآن مجید اصل روشنی ہے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کا کوئی اہتمام نہ کرتے۔ چنانچہ میرے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی انسان نہیں آئے گا جس کی طرف ہم رہنمائی کے لیے دیکھیں۔ اب صرف قرآن ہی ہے۔ قرآن خدا کی صفت کلام کا ظہور ہے۔ گویاخدا بولتا ہوا ہمارے درمیان موجود ہے۔ اس کے الفاظ بھی خدا کے منتخب کردہ ہیں۔ یہ کلام محفوظ ہے۔یہ منزل بھی بتاتا ہے اور اس تک پہنچنے کا راستہ بھی اور سب سے اہم بات یہ بتاتا ہے کہ جس طرح خد ا کے مقابلے میں کوئی اہم نہیں اسی طرح کلام الٰہی کے مقابلے میں کوئی دوسری چیز اہم نہیں۔یہ بات جگہ جگہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوئی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں اس طرح بیان کی ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھلائیں۔
اس کی بات پر عظمت صاحب نے ایک سوال کیا۔
مگر سر یہ بات ہم کسی منبر، کسی مذہبی پروگرام ، کسی مذہبی کتاب میں کیوں نہیں پڑھتے؟
آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ اکثر لوگ یہ بات نہیں بیان کرتے۔ مگر ایسا نہیں کہ کوئی بیان نہیں کرتا۔ کچھ نہ کچھ لوگ بتارہے ہوتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے عام لوگ ان کی باتوں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ دیکھیے خدا کی دنیا میں اگر غلط سمت میں بلانے والے ہیں تو صحیح راہ کی طرف بلانے والے بھی ہیں۔ مگر لوگ صرف انھی کی سنتے ہیں جو دنیا کے مفاد کے لیے بلاتے ہیں یا سطحی چیزوں کی طرف بلاتے ہیں۔
عظمت صاحب اثبات میں سر ہلانے لگے۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جس راستے کی طرف قرآن بلاتا ہے اس میں کوئی تھرل نہیں، کوئی انٹلکچول ڈسکوری نہیں، بلکہ الٹا قربانی، صبر،احسان کا مطالبہ اور وہ دیگر اخلاقی مطالبات ہیں جن پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔جبکہ لوگ ہمیشہ آسان راستہ ڈھونڈتے ہیں۔چنانچہ وہ اس دعوت کو کونے میں رکھ کر دنیا بدلنے کے پیچھے لگے رہتے ہیں، یا چلوں وظیفوں، ظاہری حلیے کی تبدیلی یا کچھ سطحی اعمال کی طرف بلاتے ہیں۔جبکہ قرآن کا مطلوب انسان جن اخلاقی تقاضوں کا مطالبہ کرتا ہے وہ عملاً بہت مشکل ہیں ۔ان کو پورا کرنا جلتے ہوئے انگارے کو ہاتھ میں اٹھانا ہے۔ مگر ایک دفعہ انسان ہمت کرلے تو پھر اسے مزہ آنے لگتا ہے۔ انسان میں اچھے اعمال کا ذوق پیدا ہوجاتا ہے اور کوئی مشکل اسے اس راہ سے نہیں پھیر سکتی۔ چاہے اسے آروں سے چیر دیا جائے۔
وقار خاموش ہوا تو عظمت صاحب نے کہا۔
آپ درست کہتے ہیںسر!میں نے تو آپ کو یہ ساری نیکیاں کرتے ہوئے دیکھا ہے، سوچتاہوں کہ آپ کی جگہ ہوتا تو کبھی اس طرح نہیں کرسکتا تھا۔ لوگوں پر اتنا خرچ کرنا، بندوں کی اتنی خدمت، اتنا صبر، اتنا اعلیٰ اخلاق بہت مشکل ہے۔ یہ بہت مشکل ہے سر۔
ان کی بات پر وقارنے کچھ دیر تک کچھ نہ کہا۔ پھر باہر دور خلاؤں میں دیکھتا ہوا بولا۔
پتہ نہیں میں کس حد تک قرآن کا مطلوب انسان بن سکا ہوں۔ مگر اب میری ساری زندگی اسی جدوجہد میں گزرتی ہے۔ میرے سامنے اللہ کی کتاب ہے اور اس کے نبی کا اسوہ حسنہ ہے جو قرآن مجیدہی کی عملی شکل ہے۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میں کس حد تک کامیاب ہوا ہوں، مگر میری زندگی کا اس کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہیں رہا ہے۔
اس کی بات پر عظمت صاحب اپنی جگہ سے اٹھے اور وقار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
میں گواہی دیتا ہوں وقار صاحب کہ آپ ہر پہلو سے اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ انشاء اللہ میرا رب آپ کو قیامت کے دن بھی سرخرو کرے گا اور دنیا میں بھی ہر امتحان سے کامیابی سے گزارے گا۔
وقار نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
خبرنہیں ابھی کتنے امتحان اورباقی ہیں۔
یہ کہتے ہوئے اسے نہیں معلوم تھا کہ ایک کمر توڑدینے والا امتحان اس کے سر پر آکھڑا ہوا ہے۔

ابو یحیی

پیغام قرآن

#پیغام_قرآن

Quran Lesson – Surah Al-Kahf 18, Verse 86, Part 16

حتیٰ کہ وہ سورج غروب ہونے کی حد تک پہنچ گیا اسے یوں معلوم ہوا جیسے سورج سیاہ کیچڑ والے چشمہ میں ڈوب رہا ہے وہاں اس نے ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا: اے ذوالقرنین ! تجھے اختیار ہے خواہ ان کو تو سزا دے یا ان سے نیک رویہ اختیار کرے۔

Quran Lesson – Surah Al-Kahf 18, Verse 87, Part 16

ذوالقرنین نے کہا: جو شخص ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی سزا دیں گے پھر جب وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اور بھی سخت عذاب دے گا۔

#Quran #DailyQuran #Darussalam

⁦❤️ 30 دن 30 آیات ⁩⁦❤️⁩

⁦❤️ 30 دن 30 آیات ⁩⁦❤️⁩

مرد عورت پر قوام ہیں، اس بناء پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کہ حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاوں خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خوامخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کروں یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے۔

(النساء-34)

مرد عورتوں پر قوام ہیں، یعنی انکے منتظم ہیں، انکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ قوام یا قیم وہ شخص ہوتا ہے جو کسی فرد یا کسی آرگنائزیشن کے نظام کو درست حالت میں رکھے، اسکو مینج کرے، اسکی حفاظت کرے، اسکی نگرانی کرے، اسکی ضروریات پوری کرے۔ عورتوں کی ضروریات پوری کرنا مردوں کا کام ہے، یہ مرد کی ذمہ داری ہے اس لیے اللہ نے اسے قوام بنایا ہے۔

“اس وجہ سے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے”
اور یہ فضیلت جسمانی طاقت اور مال خرچ کرنے کی بنا پر ہے۔
“اور اس وجہ سے کہ وہ مال خرچ کرتے ہیں”
یہ ایک فطری نظام ہے کہ جہاں بھی چند لوگ مل کر کام کریں وہاں ایک ڈسپلن ہو۔ ایک آرگنائزیشن ہو چاہے تین لوگ کہیں سفر پہ جارہے ہوں یا ایک ہزار لوگ کسی آرگنائزیشن میں کام کر رہے ہوں تو وہاں پر ڈسپلن قائم کرنے کے لیے اپنے امور کے ایک شخص کو ذمہ دار بنانا ضروری ہے، تو گھر بھی ایک چھوٹی سی آرگنائزیشن ہے جس میں کسی ایک کو اس کا سربراہ ہونا ہوگا، قوام ہونا ہوگا۔ اور یہ ذمہ داری اللہ نے مردوں کو دی ہے عورت کو اس بوجھ سے فارغ کردیا تاکہ جو اسکی ذمہ داریاں ہیں وہ اسکو احسن طریقے سے سرانجام دے سکے۔
یہ اللہ کا حکم ہے، اور ہمیں کیا کرنا ہے؟ اس کو ماننا ہے، قبول کرنا ہے۔ مرد کی برتری اللہ نے رکھی ہے، دنیا کا کوئی کام اور کوئی طریقہ اس کو ختم نہیں کرسکتا کیونکہ وہ فطرت کے خلاف ہے۔
اگر مردوں سے یہی جنگ رہی کہ ہم آپ کے برابر یا آپ سے بڑے ہیں تو اسکا نتیجہ کچھ نہ نکلے گا۔ اس لیے عورتوں کا رول کیا بتایا گیا ہے؟
“تو جو نیک بیویاں ہیں وہ مرد کے حکم پر چلتی ہیں”

نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، وہ مردوں کی برتری کو تسلیم کرلیتی ہیں، مرد کے اس حکم کو مانتی ہیں جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہو، پر اگر وہ اللہ کی مرضی کے خلاف کچھ کہہ رہا ہے تو پھر تب نہیں ماننی۔ گھریلو زندگی کے جو معاملات ہیں اس میں الٹیمیٹ فیصلہ مرد کو دے دیا گیا اور اس میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچے پالنے کے لیے عورت کو جذبات کی زیادہ ضرورت تھی، عورت کو مرد کے مقابلے میں غصہ بھی زیادہ جلدی آتا ہے، محبت بھی زیادہ کرتی ہیں، خیال بھی زیادہ رکھتی ہیں، ایموشنل ہوتی ہیں، اور بعض اوقات جلد باز بھی ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں کچھ ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو ان سب چیزوں سے بالاتر ہو کر کرنے ہوتے ہیں تو اس کی صلاحیت پھر عورت میں نہیں ہوتی، فطری طور پہ نہیں ہوتی، یہ نہیں کہ اسکا عیب ہے۔ وہ ایک بہت عظیم کام کر رہی ہوتی ہے ایک نسل انسان کی پرورش کا، اسے فارغ کردیا گیا کہ تم اپنے گھر اور اپنے بچوں میں اپنا وقت لگاو اور انہیں اپنی آخرت کے لیے سرمایا بناو اور باقی کام دوسروں پر ڈال دو۔
اللہ کی نظر میں عورت کا حسن اس کی خوبی کب ہے؟
اس وقت ہے جب وہ شوہر کی فرمانبردار ہو، ماننے والے معاملات میں اس کی مخالفت نہ کرتی ہو۔

بہترین بیوی ہو ہے جس کی طرف تم دیکھو تو تمہیں خوش کردے اور جب تم کسی بات کا حکم دو تو بجا لائے اور تمہاری عدم موجودگی میں تمہارے مال اور اپنی ذات کی حفاظت کرے۔

(صحیح الجامع الصغیر: 3299)

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس عورت کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو اپنے خاوند کی شکرگزار نہیں ہوتی، حالانکہ وہ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔

السلسلہ الصحیحہ: 289

اسکے بغیر وہ رہ بھی نہیں سکتی لیکن جب وہ ہوتا ہے تو صرف اس سے لڑائی کرتی رہتی ہے۔ گلے شکوے کرتی رہتی ہے، تو شوہر بھی چاہے اسکے پاس جتنی بھی مالی یا جسمانی طاقت ہو ، ہے تو وہ بھی انسان۔ وہ بھولتا ہے، غلطی کرتا ہے، تو ایسی چیزوں کو اگنور کرنا چاہیے۔ ہمیشہ گنتی کر کے رکھیں کہ اسکے احسانات کتنے ہیں اور غلطیاں کتنی ہیں تو اگر وہ برابر ہوں تو بھی شکرگزار رہیں اور اگر اسکی نیکیاں اور احسانات زیادہ ہوں اور غلطیاں کم ہوں تو غلطیوں کی بنا پر اسکی ناشکری نہیں کریں۔

اسماء بنت زید انصاریہ کہتی ہیں
کہ ایک دفعہ نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے پاس بیٹھی تھی آپ نے ہمیں سلام کیا، اور فرمایا احسان کرنے والوں کی ناشکری کرنے سے اپنے آپ کو بچا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد؟ آپ نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک (بے شوہر) زندگی گزارتی ہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا فرمادے اور اسکے ذریعے اسے اولاد بھی دے اور پھر وہ کسی دن غصے میں آکر ناشکری کرے اور یوں کہہ دے کہ میں نے تجھ سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں نے عورتوں کی اکثریت کو جہنم میں دیکھا ہے اور اسکی دو وجوہات بتائیں، ایک زبان کا غلط استعمال، اور دوسرا شوہر کی ناشکری۔

شکرگزاری تب ہوگی جب آپ انکے اچھے پوائنٹ دیکھیں گی، نہ کے عیب پہ نظر رکھیں گی۔ جو انکی کمزوریاں ہیں وہ تو انکے ساتھ ہی رہیں گی ان کے ساتھ صبر کرنا ہوگا۔

جب مسائل آئیں تو انہیں اگنور کریں اس عقت جواب نہ دیں، جب غصہ آرہا ہو، جب جلد بازی ہو جذبات میں ہوں، بس خاموشی اختیار کرلیں جگہ چھوڑدیں چاہے چہرے پر غصہ آجائے، چاہے رویے میں آجائے، لیکن زبان کو کنٹرول کرنا ہے۔ جو لوگ زبان کو کنٹرول کرجاتے ہیں وہ بڑے بڑے مسائل سے بچ جاتے ہیں۔

“پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں، اور جب عورتوں سے تم کو سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاو، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو۔۔

لیکن مار ایسی نہ ہو جن سے ان کا حلیہ بگڑ جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا اس سے مراد ہے جیسے ایک مسواک ہوتی ہے۔ عورت کو راہ راست پر لانے کے لیے مردوں کو طریقے بتائیں ہیں اللہ تعالی نے انہوں نے یہ خود نہیں گھڑے اس لیے ناراض نہیں ہونا۔ اس آیت پر ناراض ہونے کا مطلب ہے کہ ہم اللہ سے ناراض ہورہے ہیں۔

“پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خوامخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے۔ جو بڑا اور بالاتر ہے۔

اب یہ مردوں سے کہا گیا ہے کہ انکے حقوق دو، ان پہ ظلم نہ کرو جان رکھو کہ اللہ موجود ہے، وہ دیکھ رہا ہے۔ تمہیں یہ رتبہ اس نے دیا ہے، اس کا ناجائز فائدہ اٹھاوگے تو یاد رکھو اللہ کو وہ بہت بڑا اور بالاتر ہے۔

#30Days30Ayaat

#Ramadan2018

#NoumanAliKhanUrdu