خدا بول رہا ہے ۔۔۔ قسط نمبر-4

4

قسط نمبر 4
ناعمہ۔۔۔۔۔۔
عبداللہ نے آواز دی تو ناعمہ نے پلٹ کر دیکھا۔اس کے لیے عبداللہ کی اس طرح اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ یہ دونوں گرچہ میاں بیوی تھے، مگرالگ الگ اپنے گھروں میں رہا کرتے تھے۔ جنت میں ہر شخص کو اپنا الگ گھر ملا تھا۔
وہ ماضی کی دنیا تھی جب بیویاں شوہروں کے گھر وں میں رہا کرتیں اور شوہر پر ان کی تمام مالی ذمہ داریاں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں تو ہر شخص نے اپنا بدلہ خود پایا تھا۔ اس لیے میاں بیوی ساتھ نہیں رہا کرتے تھے۔البتہ جب ملنا چاہتے اور جہاں ملنا چاہتے تھے، مل لیا کرتے تھے۔ کبھی ایک کے گھر کبھی دوسرے کے گھر اورکبھی ان حسین سیر گاہوں میں جو زمین وآسمان میں ہر جگہ بے شمار پھیلی ہوئی تھیں۔
اس وقت عبداللہ ناعمہ کے محل میں آیا تھا۔اس نے آتے ہی ناعمہ کے خدام کو منع کردیا تھا کہ ناعمہ کو اس کی آمد کی اطلاع نہ دی جائے۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔اور واقعی اس طرح اچانک عبداللہ کا آنا اس کے لیے ایک خوشگوار سرپرائز تھا۔
آپ کب آئے؟
مجھے چھوڑو یہ بتاؤ کہ تم کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہو؟
عبداللہ نے دور سے دیکھ لیا تھا کہ ناعمہ نجانے کن خیالوں میں گم تھی۔
عبداللہ مجھے جنت میں آئے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا۔ میں روزِ حشر کے اثرات سے باہر نہیں نکل پارہی ہوں۔انسانیت نے اپنی غفلت کا جو انجام بھگتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس کی بات پر عبداللہ نے اسے محبت سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
ناعمہ! ہمارے رب نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے۔ قرآن مجید کی ہدایت سب لوگوں کو معلوم تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتادیا تھا۔ اس کے بعد بھی لوگوں نے مانا نہ قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالا۔ اس کے بعدجو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ اسی کے مستحق تھے۔
اس کی بات کی تائید میں ناعمہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
دوسروں سے زیادہ مجھے مسلمانوں کا افسوس ہے۔ قرآن تو ان کی اپنی کتاب تھی۔ مگر انھوں نے بھی اسے اٹھاکر پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔اس کی دعوت ایمان کو بس رسمی عقیدہ سمجھ لیا۔ ان کا ایمان کبھی معرفت اور یقین میں نہ ڈھلا۔ لوگوں نے نجات کے ہزار راستے خود بنالیے۔ جو راستہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں بتایا تھا، اس کو مان کر نہیں دیا۔
تم ٹھیک کہتی ہو ناعمہ۔ قرآ ن کا بیان کردہ عمل صالح کا راستہ اور عمل صالح کے اعمال جن میں سے ایک ایک کو نام لے کر قرآن میں بیان کیا گیا تھا، لوگوں نے اس راستے اور ان اعمال کو کوئی اہمیت نہیں دی۔حالانکہ یہ راستہ تواعلیٰ اخلاقی رویے کا دوسرا نام تھا۔یہ راستہ خدا کی عبادت، بندوں کی خدمت اور صبر ، پاکدامنی اور احسان کی زندگی کا نام تھا۔ لوگوں نے اس کو اپنی زندگی نہیں بنایا اور اس کا نتیجہ بھگت لیا۔
پھر اس نے ایک مثبت رخ ناعمہ کو دکھاتے ہوئے کہا۔
مگرتم یہ تو دیکھو کہ سب لوگ تو ایسے نہیں تھے نا۔تم ان لوگوں کے بارے میں سوچو جنھوں نے قرآن مجید کی دعوت کو اپنی زندگی اور اپنا کردار بنالیا۔ایسے بے گنتی لوگ تمھیں یہاں جنت میں ملیں گے۔ تم لوگوں سے ملنا شروع کرو۔ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔
آپ ٹھیک کہتے ہیں۔مگر آپ یوں اچانک آگئے۔ بتاکر آتے تو میں آپ کی راہ میں تارے بچھاکر آپ کا استقبال کرتی۔
ناعمہ نے بہت محبت سے مسکراتے ہوئے عبداللہ سے کہا۔
تارے ضرور بچھانا، مگر کل ۔ کیونکہ کل میں تمھیں دو ایسے لوگوں سے ملوارہا ہوں جن کے بارے میں سن کر تم واقعی خوش ہوجاؤگی۔
ناعمہ نے عبداللہ کی بات پر حیرت سے پوچھا۔
کون ہیں وہ لوگ؟
کون ہیں وہ؟
تمھارے ساس سسر اور میرے والدین۔
ارے مگر آپ نے مجھے پہلے ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔
میں بھی آج ہی ان سے ملا ہوں۔ اور وہ شدت سے تم سے ملنا چاہتے ہیں۔کل وہ میرے گھر آرہے ہیں، تم سے ملنے کے لیے ۔
پھر تو میں آج ہی سے ان کے لیے اہتمام شروع کردیتی ہوں۔ میں پچھلی دنیا میں تو ان سے نہیں ملی، لیکن چاہتی ہوں کہ آج جب وہ مجھے دیکھیں تو مان جائیں کہ آپ کا انتخاب زبردست تھا۔ بلکہ ایسا کریں کہ آپ ان کو میرے محل لے آئیں، انھیں بہو سے ملنے اس کے گھر آنا چاہیے۔
عبداللہ اس کی بات کے آخری حصے کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔
تم پہلے بھی لاجواب تھیں۔ یہاں بھی لاجواب ہو۔
عبداللہ کی بات بالکل درست تھی۔ ناعمہ گرچہ دنیا میں بھی ایک خوش شکل خاتون تھی، مگر جنت کی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اسے بدل کر کچھ سے کچھ کردیا تھا۔اس کی شکل ، قد و قامت، رنگ و روپ اور شخصیت کا ہر پہلو اتنا غیر معمولی ہوچکا تھا کہ اسے دیکھنا ہی عبداللہ کے لیے ایک عظیم نعمت تھی۔
عبداللہ کی بات پر ناعمہ کچھ شرماسی گئی۔ اسے شرماتا دیکھ کر عبداللہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ وہ محبت آمیز انداز میں اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔
پتہ ہے تم ساتھ ہوتی ہو تو کسی اورمنظر کو دیکھنا بھی ایک گناہ بن جاتا ہے۔
آپ بھی نا بات بدلنے کے ماہر ہیں۔میں کہہ رہی ہوں کہ آپ ان کو میرے محل لائیں۔
چلو جیسی تمہاری خوشی۔
عبداللہ فوراً مان گیا۔ ناعمہ کے چہرے پر خوشی بکھرگئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسریٰ اور وقار ناعمہ کے گھر کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔
اسریٰ بہت خوش تھی۔جنت میں آنے کے بعد ہر لمحہ اس کے لیے ایک نیا اور منفرد تجربہ لے کر آتا تھا۔ناعمہ کے گھر کا یہ سفر بھی ایسا ہی ایک تجربہ تھا۔
اسریٰ کو سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہ کس قسم کی سواری پر بیٹھے ہوئے تھے، مگر اسے جو نظر آرہا تھا وہ یہ تھاکہ یہ بظاہر ایک بہت بڑے بحری جہاز جیساتھا جو سمندر کے بجائے خلا میں تیررہا تھا۔ تیرنے کا لفظ اس لیے موزوں تھا کہ اس کے چلنے سے کسی قسم کی آواز یا شورنہیں پیدا ہورہا تھا۔ وہ دونوں اس کے عرشے پر اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
ان کے ہر طرف بیکراں خلا بکھرا ہوا تھا جس نے سیاہی کی مہیب چادر اوڑھ رکھی تھی۔ مگر اس چادر میں جڑے اربوں کھربوں جگمگ جگمگ کرتے ستاروں نے اس منظر کو بیک وقت نظر نواز اور دلنواز بنارکھا تھا۔ ان کے راستے کی ہر منزل پر روشنی اوررنگ، نور اور ظلمت کا عجیب امتزاج تھا۔کہیں ستاروں کی کثرت سیاہ پس منظر پر دودھیا روشنی بکھیر رہی تھی۔ کہیں اندھیروں کی قبا پر دمکتے تاروں کی چمکتی روشنی اور جگمگاہٹ نگاہوں کو خیرہ کررہی تھی۔کہیں روشنی سفید رنگ کی تھی۔ کہیں ہر رنگ کی تھی۔ کہیں جامد تھی۔ کہیں مسلسل حرکت میں تھی۔ کہیں ایک ہی منظر بناتی تھی اور کہیں ہزارہا زاویے، تصاویر اور مناظر خلا کے کینوس(Canvas)پر بکھیرکر خود بکھر جاتی تھی۔ ان سارے مناظر میں اتنا حسن تھا جو الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتا تھا۔
وقار آپ دیکھ رہے ہیں یہ کتنا خوبصورت راستہ ہے۔
جنت کا ہر راستہ اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے۔
پتہ ہے وقار! جب سے جنت میں آئی ہوں سب کچھ بدل گیا ہے۔ پچھلی دنیااور اس دنیا میں اتنا فرق ہے کہ سمجھ میں نہیں آتاکہ خدا کی صناعی کی کیسے داد دوں۔ باہر کی دنیا کو تو چھوڑیں خود میرے اندر اتنی تبدیلی آگئی ہے کہ کچھ حد نہیں۔جنت میں آنے کے بعدجب میں چلتی ہوں اور پسینہ آتا ہے تو جسم سے بو آنے کے بجائے پورا وجود مہک اٹھتا ہے۔کچھ کھاؤں تومنہ کی صفائی کی ضرورت پیش آنے کے بجائے ہر دفعہ ایک نئی خوشبو منہ میں پیدا ہوجاتی ہے۔
مجھے اب غسل کی ضرورت رہی ہے نہ طہارت کی۔ پسینہ رہاہے نہ بدبوآتی ہے ،نہ کسی اور طرح کی نجاست ہی رہی ہے۔ میں جب چاہتی ہوں بالوں اور آنکھوں کا رنگ بدل جاتا ہے۔ میں جو چاہتی ہوں مل جاتا ہے۔ جو سوچتی ہوں ہوجاتا ہے۔ مزاج کا عالم یہ ہے کہ بوریت محسوس ہوتی ہے نہ کسی چیز سے بیزارہوتی ہوں۔ تھکتی ہوں نہ نڈھال ہوتی ہوں۔ ہر وقت انتہائی فریش رہتی ہوں۔ہر وقت خوش رہتی ہوں۔یہ جنت کیسی عجیب جگہ ہے۔
وقار اس کی بات پر ہنسنے لگا۔
جنت خدا کے انعام کی جگہ ہے۔یہاں ہر جگہ اس کا فضل ہے۔ اور ابھی تو اس فضل کا آغاز ہے۔یہ جنت خدا کی بنائی ہوئی جگہ ہے۔یہ خدا کی بے پناہ طاقت کا اظہار ہے۔ تم جانتی ہو ہم اس وقت کتنی دور جارہے ہیں؟
نہیں تو۔
پچھلی دنیا کی تیز رفتار ترین سواری یعنی راکٹ میں بھی یہ سفر لاکھوں برس میں طے ہوتا۔ لیکن ہم یہ سفر تھوڑی ہی دیر میں پورا کرلیں گے اور اس وقت ہمیں محسوس بھی نہیں ہورہا کہ ہم حرکت کررہے ہیں۔
واقعی ۔ اسریٰ نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔
مجھے توہر طرف خاموشی محسوس ہوتی ہے۔ لگ ہی نہیں رہا کہ ہم حرکت کررہے ہیں۔
لیکن اب ہمارا سفر ختم ہورہا ہے۔
وقار نے ایک روشنی کو دیکھتے ہوئے کہا جو مسلسل بڑی ہوتی جارہی تھی۔کیونکہ وہ ا س کے قریب پہنچ رہے تھے۔
وقار نے روشنی کی سمت دیکھتے ہوئے کہا۔
یہ تمھاری بہو کا گھر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ ناعمہ کے محل میں اپنے والدین کاانتظار کررہا تھا جوکسی وقت بھی یہاں پہنچنے والے تھے۔
ناعمہ بہت اہتمام سے تیار ہوئی تھی۔ یہاں چہرے پر کسی سرخی پاؤڈر کی ضرورت تو کسی جنتی خاتون کو نہیں پڑتی تھی کہ خدا نے ان کے حسن عمل ہی کو ان کا حسن بنادیا تھا۔ لیکن لباس اور زیورات کا انتخاب شخصیت کے تاثر کو اعلیٰ سے اعلیٰ کرہی دیتا ہے۔یہی اس وقت ناعمہ کے معاملے میں ہوا تھا۔
عبداللہ ا سے دیکھتے ہوئے بولا۔
اللہ کا شکر ہے کہ تم میری بیوی ہو اور اتنی خوبصورت ہو۔
نہیں عبداللہ شکر تو مجھے ادا کرناچاہیے کہ آپ میرے شوہر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا بلند مقام دیا ہے کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ماضی کی تکلیفیں ، دکھ اور غم تو ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے۔ اب تو صرف ہمیشہ رہنے والاسکون، چین اور سرور بچا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں نا ہم لوگ۔
ہاں ہم واقعی خوش نصیب ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے۔
عبداللہ کے لہجے میں محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
بے شک ۔ ناعمہ نے دل سے اس کی تائید کی، پھراس نے ایک دوسرا موضوع چھیڑتے ہوئے کہا۔
میں سوچ رہی تھی کہ ہم اپنے بچوں کو بھی آج بلالیتے۔ بابا اور امی ان سے بھی مل لیتے۔
ان کو کسی اور موقع پر ملوادیں گے۔ آج ان کو اپنی بہو سے ملنے دو۔ ابھی تو جنت کے ابتدائی دن ہیں۔ ابھی یہی ہوتا رہے گا۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے رہیں گے اور تعارف حاصل کرتے رہیں گے۔
یہ دونوں اسی گفتگو میں تھے کہ ایک خادم نے قریب آکر ناعمہ سے کہا۔
میری مالکن! آقا عبداللہ کے والد گرامی وقار صاحب اور ان کی اہلیہ اسریٰ صا حبہ آپ سے ملنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔
خادم کی اطلاع پرعبداللہ اور ناعمہ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔ناعمہ نے عبداللہ سے کہا۔
آپ آگے بڑھ کر استقبال کیجیے۔مجھے کچھ شرم آرہی ہے۔
عبداللہ اس کی بات پر ہنستا ہواآگے بڑھ گیا، ناعمہ اس کے پیچھے پیچھے آہستگی سے چلنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں خادم کے ہمراہ عبداللہ کے والد اور والدہ محل کے اس حصے میں داخل ہوئے جہاں وہ لوگ موجود تھے۔ انھیں اندر آتا دیکھ کر عبداللہ بے اختیار آگے بڑھا۔ ناعمہ کچھ جھجکتی شرماتی پیچھے کھڑی رہ گئی۔ اس نے پچھلی زندگی میں اپنے ساس سسر کو نہیں دیکھا تھا۔ عبداللہ نے اسے بتایا تھا کہ اس کے بچپن ہی میں ان کا انتقال ہوچکا تھا۔
عبداللہ آگے بڑھ کر اپنے والد وقار کے گلے لگ گیا۔باپ بیٹا دونوں دیر تک ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔وقار سے مل کر عبداللہ نے اپنی ماں اسریٰ کو دیکھا اور اس کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔وہ کھڑا ہونے لگاتو اسریٰ نے اس کے سرکو چومتے ہوئے کہا۔
میں نے اپنے بیٹے کو بہت چھوٹا دیکھا تھا۔ مگر اب اللہ نے مجھے میرے بیٹے کو ویسا ہی جوان دکھادیا جیسے ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے۔عبداللہ تمھیں جب دیکھتی ہوں ، دل رب کریم کی عنایات کے احساس سے سرشار ہوجاتا ہے۔
اس کی بات پوری ہوئی تو وقار نے پیچھے کھڑی ناعمہ کو دیکھ کر کہا۔
تو یہ ہے وہ پری چہرہ جس نے میرے بیٹے کے دل کو چرایا تھا۔
وقار کی بات پر ناعمہ مسکراتے ، شرماتے ہوئے ان دونوں کی سمت بڑھی۔ اسریٰ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور بے اختیار ماشاء اللہ کہا۔
تم کتنی خوبصورت ہو ناعمہ۔اللہ نے تمھاری شکل میں میرے بیٹے کو کتنا خوبصورت جیون ساتھی دیا ہے۔
امی حضور !یہ پچھلی دنیا کی اس کی وہ سیرت ہے جو آج اس کی صورت بن کر ظاہر ہوئی ہے۔ اس نے میری خاطر بڑی قربانیاں دی تھیں۔ بڑی محبت اور وفا سے میرا ساتھ دیاتھا۔
اسریٰ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اس کی شکل کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
بے شک ناعمہ !تمھاری خوبصورت شکل تمھاری اس بے مثال سیرت کی آئینہ دار ہے جو پچھلی زندگی میں تم نے اختیار کی تھی۔
عبداللہ نے اپنی ماں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
امی یہ پچھلی زندگی میں بھی بہت خوبصورت تھی۔
اس کی بات پر وقار نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا۔
عبداللہ بیٹا!لوگوں کی بری بھلی شکل جیسی بھی تھی پچھلی دنیا میں رہ گئی۔ اب تو ہر انسان کی وہی صورت ہے جو پچھلی دنیا میں سیرت تھی۔ مگر میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ اس پہلو سے میری بہو ، بیوی اور بیٹا سب بہت حسین ہیں۔ لیکن میرے بیٹے عبداللہ جیسا کوئی نہیں ہے۔
یہ کہہ کر وقار نے دوبارہ عبداللہ کو اپنے گلے لگالیا۔ پھر اسے پرے ہٹاتے ہوئے کہا۔
ارے مجھے اپنی بیٹی سے تو ملنے دو۔
بابا میں تو خود آپ سے ملنے کی بہت خواہش مند تھی۔ عبداللہ نے آپ کی اتنی تعریف کی ہے کہ آ پ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔
یہ کہتے ہوئے ناعمہ وقار کے سامنے جاکھڑی ہوئی اور اپنا سر جھکادیا۔ وقار نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعا دی ۔
میری بیٹی ! اللہ تم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرے۔
شکریہ بابا۔ آپ تشریف لائیں۔ ہم آپ دونوں سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے ناعمہ نے محل کے اندرونی حصے کی طرف اشارہ کیا اور وہ سب آگے بڑھنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

By Abu Yahya

Advertisements

2 thoughts on “خدا بول رہا ہے ۔۔۔ قسط نمبر-4

  1. “When a human being dies, all of his deeds are terminated except for three types: an ongoing sadaqah, a knowledge (of Islam) from which others benefit, and a righteous child who makes du’a for him.”

    (Muslim)

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s