تعمیری اور تنقیدی ذہن

تعمیری اور تنقیدی ذہن

Abu yahya

ہمارے ہاں افراد اور معاشرے کی خرابیوں پر تنقید کرنا ایک عام رویہ بن گیا ہے ۔ لوگوں میں پیدا ہونے والا اخلاقی انحطاط، حکمرانوں اور سرکاری اہلکاروں کی کرپشن، تاجروں کی ملاوٹ اور ناجائز منافع خوری، عوام و خواص میں قانون کی خلاف ورزی اور ان جیسی متعدد چیزیں ہماری ہر گفتگو میں موضوعِ بحث اور باعثِ تنقید بنی رہتی ہیں ۔ یہ تنقید اکثر حالات میں اصلاح کے کسی جذبے کے ساتھ نہیں کی جاتی۔ اس کا مقصد اپنی بھڑاس نکالنا یا پھر اپنی عملی خرابیوں اور کوتاہیوں کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ ایسے لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اور ان کے برے رویے کی پیروی بھی کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی تنقید کبھی کسی بہتری کا باعث نہیں بن سکتی۔

تنقید ہمیشہ وہ مؤثر ہوتی ہے جو اصلاحی اور تعمیری ذہن کے ساتھ کی جائے ۔ ایسی تنقید کرنے والے لوگوں کی زندگی کا اصل مقصد اپنی اصلاح ہوتا ہے ۔ وہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے ہر رویے کو بے رحمانہ احتساب سے گزارتے ہیں ۔ وہ دوسروں کے عیوب پر نظر کرنے سے پہلے اپنی خرابیوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے سے قبل اپنے اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں ۔

اس سوچ کے بعد انسان کے پاس یہ موقع ہی نہیں رہتا کہ وہ دوسروں کی خرابیاں ڈھونڈنے اور ان پر تنقید کرنے میں وقت ضائع کرے ۔ اور اگر وہ یہ کرتا بھی ہے تو مکمل احساسِ ذمہ داری اور خیرخواہی کے ساتھ کرتا ہے ۔ یہ تنقید اس کے دل کا درد ہوتی ہے ، اس کے دل کی بھڑاس نہیں ہوا کرتی۔ یہ اس کے اخلاص کا اظہار ہوتی ہے ، اس کی بے عملی اور بدعملی کا نقاب نہیں ہوا کرتی۔ اس طرح کی تنقید معاشرے میں کبھی مایوسی نہیں پھیلاتی بلکہ اصلاح کا باعث ہوتی ہے ۔

لہٰذا تنقید ضرور کیجیے ، مگر اصلاح کے لیے نہ کہ معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے لیے ۔

Advertisements

2 thoughts on “تعمیری اور تنقیدی ذہن

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s