تعلیم یا کردار؟

grading_curve_360x240

 روحانیت اور تعلق باللہ کو باقاعدہ نصاب کا بلکہ عملی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ بچوں کو یہ باور کرایا جائے کہ بیٹا! تمھاری زندگی، موت، خوشی غمی اور رزق دنیا کے کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ خوشی، سکون، اطمینان اللہ تعالی نے مادی چیزوں میں نہیں رکھا ہے۔ اچھی تنخواہ، اچھی گاڑی اور شاندار بنگلے سے کہیں زیادہ ضروری تمھارا کردار ہے۔ یہاں کے امتحان میں فیل بھی ہوگئے تو خیر ہے لیکن اگر وہاں کے امتحان میں ناکام ہوئے تو انجام بہت برا ہے۔ یہاں کے زبانی مضامین میں پاس نہ ہوسکے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر تمھارا کردار “فیل” ہے تو پھر تم واقعی ناکام ہو۔ نمبروں میں پیچھے رہ گئے تو کوئی بات نہیں ہاں مگر نیکی اور بھلائی کے کاموں میں سب سے آگے رہنا ہے۔ بچوں کو ترجیحات متعین کر کے دیں۔ اسکول میں نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مقابلے کی فضا پیدا کریں۔ گریڈز، پوزیشنز اور رینکنگ کو حسن اخلاق، خوش مزاجی، ملنساری، دوسروں کا خیال رکھنا، ڈسپلن، دوسروں کی مدد، تخلیقیت اور روحانیت سے جوڑیں۔ تاکہ بچے نیکی، بھلائی، مغفرت اور جنت کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر کریں نہ کہ ایک دوسرے کو گرانے اور نیچا دکھانے کی۔

مکمل تحریر: https://daleel.pk/2018/10/29/88631

Advertisements

2 thoughts on “تعلیم یا کردار؟

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s