حماقت

Image result for ‫حماقت‬‎

حماقت کی ایک قسم یہ بھی ہے (اور خاصی عام ہے!) کہ
* آدمی کے ایک چیز کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو سوائے اس ایک بات کے کہ وہ پرانے دور کی ہے!
* اور ایک چیز پر مر مٹنے کی کوئی وجہ نہ ہو سوائے اس ایک بات کے کہ وہ جدید دور کی ہے!
یعنی چیز کی اپنی فائدہ مندی یا ضرر رسانی نہیں دیکھنی بلکہ ’زمانہ‘ دیکھنا ہے!

یوسف القرضاوی

بے قابو کار

Image result for un controlled car

بے قابو کار
ڈاکٹر محمد عقیل

“اگر میں تمہیں ایک شاندار کار تحفے کا طور پر پیش کروں تو کیسا ہے؟”۔ سائنس دان نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا۔ یہ سن کر بیٹے کی بانچھیں کھل اٹھیں۔
” یہ کار دنیا کی جدید ترین کاروں میں سے ایک ہے ۔لیکن اس میں ایک خامی ہے “۔ باپ نے کہا۔
” وہ کیا ؟”۔ بیٹے نے تشویش بھرے لہجے میں استفسار کیا۔
” یہ کار اپنی مرضی سے چلتی اور اپنی مرضی سے رکتی ہے۔ اس کے چلنے اور رکنے کا سسٹم ڈرائیور کے ہاتھ میں نہیں۔ نیز یہ کہ اس کی یہ خامی دور نہیں ہوسکتی”۔ باپ نے کہا۔
یہ خبر سن کر بیٹے کی امیدوں پر اوس پڑ گئی اور اس نے کہا !
“ابا جان! ایسی سواری کس کام کی کہ جب اسےروکیں تو چلے، اور جب چلائیں تو وہ رکے۔ ایسی کار بدمستی میں کسی راہ گیر کو کچل سکتی ، کسی اونچائی سے گر سکتی اور کسی مکان کو گرا سکتی ہے۔ یہ کار منزل تک پہنچانے کی بجائے منزل سے دور کرنے کا سبب ہے۔ اس سے تو بہتر یہی ہے کہ میں بے کار ہی رہوں”۔
میرے خیال میں اگر میں اور آپ بھی اس فرزند رشید کی جگہ ہوتے تو یہی کرتے۔ لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہم ایسی کار کو تو ناکارہ سمجھتے ہیں جو اپنے مالک کے قابو میں نہ ہو لیکن اس شخصیت کو کچھ نہیں کہتے جو نفس کو قابو کرنے کی بجائے اسی کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہو۔
انسانی نفس جب قابو سے باہر ہوجاتا ہے تو پھر جسم کا ہر عضو اس کی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کبھی آنکھیں فحش مناظردیکھنے پر مجبو ر ہوجاتی ہیں تو کبھی زبان بدکلامی کرتی ہے۔ کبھی ہاتھ دوسروں کے گریبان تک پہنچتے تو کبھی پاؤں بدی کی راہ پر نکل پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ حواس خمسہ کے ساتھ دیگر اعضاء،دل اور دماغ سب سفلی خواہشات کے قابو میں آجاتے ہیں اور بندہ شیطان کے بنائے ہوئے نقش قدم پر چلتا ہوا اپنے رب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
روزہ اسی منہ زور گھوڑے کو قابو کرنے کا نام ہے۔ یہ مہینہ تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ ٹریننگ بھوک ، پیاس اور جنسی ضروریات سے اجتناب کے ذریعے انسانی نفس کے سفلی تقاضوں کو کمزور کرتی اور بالآخر اس کا کنٹرول انسان کے ہاتھ میں دے دیتی ہے۔ اس ایک ماہ کی تربیت سے انسان کا پورا وجود اللہ کی بندگی میں رہنے کی مہارت حاصل کرلیتا ہے ۔ پھر رمضان کے بعد وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اگلے گیارہ ماہ منہ زور نفس کی خواہشات کو اپنے قابو میں کرسکے۔
اگر کوئی اس تربیت سے بھی اپنے آپ پر قابو نہ پا سکے تو وہ نفس اسی ناکارہ کار کی مانند ہے جو کسی کام کی نہیں اور جس کا استعمال پر خطر بھی ہے اور منزل گریز بھی۔

پیغام قرآن

Image may contain: text

#پیغام_قرآن

Quran Lesson – Surah Al-Kahf 18, Verse 77, Part 16

چناچہ پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس آئے۔ اور ان سے کھانا مانگا۔ مگر ان لوگوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ (خضر نے) اس دیوار کو پھر سے قائم کردیا۔ موسیٰ نے (خضر سے) کہا: اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔

#Quran #DailyQuran #Darussalam