خدا بول رہا ہے ۔۔۔قسط نمبر-5

No automatic alt text available.

قسط نمبر ۵

یہ سب لوگ محل کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ محل کی شان و شوکت دیکھ کر اسریٰ اور وقار بہت خوش ہورہے تھے۔انھیں دلی خوشی تھی کہ ان کی بہو بھی بڑی شان والی تھی۔ آخر کار ایک کھلی جگہ پہنچ کر عبداللہ رک گیا اور شاہانہ انداز کی نشستوں پر بیٹھنے کی دعوت دی۔
اسریٰ نے اپنی نشست پر بیٹھتے ہی کہا۔
ناعمہ بیٹا تمہارے گھر آکر میں تو خوش ہوگئی۔ تم تو میری توقع سے بڑھ کر اللہ کے انعام کو پانے والی ہو۔
امی میں کس قابل ہوں۔ اصل مقام و مرتبہ تو اللہ تعالیٰ نے عبداللہ کو دیا ہے۔
ناعمہ نے پرستائش انداز میں عبداللہ کو دیکھتے ہوئے۔
ہاں بھئی میرے بیٹے کی کیا بات ہے۔
وقار نے تحسین آمیز انداز میں عبداللہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اسریٰ نے بھی اپنے شوہر کی تائید کرتے ہوئے عبداللہ سے کہا۔
عبداللہ!تم پیدا ہوئے تھے تو میں نے اور تمہارے بابا نے عزم کیا تھا کہ ہم تمہیں اپنے رب کے کاموں کے لیے وقف کریں گے۔ مگر زندگی نے ہمیں مہلت نہ دی۔ مگر ہمارے رب نے ہماری لاج رکھ لی۔ میں کس منہ سے اس کا شکریہ ادا کروں۔
اسریٰ نے آسمان کی طرف نظر اٹھاکر کہا۔
امی ! میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ آپ ہی لوگوں کی وجہ سے ہوں۔ مجھے آج خدمت اقدس میں حاضری کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے خود بتایا کہ مجھے زندگی میں جو مواقع ملے اور جو رہنمائی کی گئی اس کی ایک بڑی وجہ آپ لوگ تھے۔ خاص طور پر انہوں نے باباجان کا نام لیا تھا۔
عبداللہ کی بات پر وقار نے اپنا سر جھکادیا۔ وہ کچھ دیر اسی طرح رہا اور پھر سر اٹھاکر عبداللہ سے بولا:
بیٹا میں تو جہنم کی راہ کا مسافر تھا۔ یہ میرے رب کا مجھ پر خصوصی احسا ن ہے کہ اس نے مجھے راستہ دکھایا۔پھر مجھے زندگی ہی میں اسریٰ جیسی غیر معمولی بیوی دی۔ اور پھر تمہارے جیسی اولاد دی۔
باباجان میں یہی چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنے بارے میں بتائیں، آپ نے ایسا کیا کیا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے اتنے قریب ہوگئے تھے۔
عبداللہ کی بات پر ناعمہ نے بھی اسریٰ سے پوچھا۔
امی ! میں بھی جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کی باباجان سے شادی کیسے ہوئی تھی؟آپ کی شادی آپ کے والدین نے کی تھی یا پسند کی شادی تھی؟
اس کی بات پر وقار ہنستے ہوئے بولا:
تمھیں یہ جان کر حیرت ہوگی کہ تمہاری ماں نے مجھ سے زبردستی شادی کی تھی۔
یہ سن کر ناعمہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ وہ حیرت سے بولی
زبردستی شادی۔ مگر یہ کیسے ہوا؟
اس کی بات پر اسریٰ بھی ہنسنے لگی۔
ہاں میں نے ان سے زبردستی شادی کی تھی۔ یہ تونہیں کرنا چاہتے تھے۔
ارے واہ۔ یہ تو بڑی دلچسپ بات ہے۔ ابھی باباجان سے میرا سوال باقی تھا کہ یہ زیادہ دلچسپ بات سامنے آگئی۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ پہلے کیا پوچھیں۔
میں بتاتا ہوں۔ ان دونوں سوالوں کا جواب آپس میں جڑا ہوا ہے۔میں خدا سے کیسے قریب ہوا۔ میری زندگی کیسے بدلی اور تمہاری امی نے زبردستی مجھ سے کیسے شادی کی۔ میں سب کچھ بتاتا ہوں۔
لیکن بابا شروع یہاں سے کیجیے گا کہ آپ کی امی سے پہلی ملاقات کہاں اور کب ہوئی۔
ناعمہ نے اپنی دلچسپی کا سوال سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
چلو ٹھیک ہے۔ میں اپنی داستان اپنی اور اسریٰ کی پہلی ملاقات سے کرتا ہوں۔ گرچہ یہ ایک برائے نام ملاقات تھی۔
وقار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔پھر اس نے اپنی داستان سنانا شروع کی۔
ہماری کہانی کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب۔۔۔۔۔۔
وقار نے بولنا شروع کیا۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ فضا سے گزر کر ان کی سماعتوں سے ٹکرانے لگے۔مگر معمول کے برعکس وقار کے الفاظ جیسے ہی ان کی سماعتوں سےٹکرائے ، ان کے ذہن کے پردے پر ایک فلم کی شکل میں واقعات کی صورت گری کرنے لگے۔جس کے نتیجے میں گویا ذہنی طور پر وہ سب ایک حقیقی جیتی جاگتی فلم دیکھنے لگے۔یہ بات بڑی عجیب تھی کہ وہ بظاہر سن رہے تھے، مگر دراصل دیکھ رہے تھے۔ مگر اس سے انھیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ یہ جنت تھی جہاں ہر وقت ایسی ہی عجیب و غریب چیزیں ان کے سامنے آتی رہتی تھیں۔وقار کی زندگی کی کہانی بھی ایک حیرت انگیز شکل میں ان کے سامنے آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کی قابلیت تو زبردست ہے۔اس کا تو حق بنتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔ دیکھو اس نے تو ہر سبجیکٹ میں نوے فیصد سے زیادہ نمبر لے رکھے ہیں۔
وقار نے مارکس شیٹ کوسونیا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔سونیا نے اس کے ہاتھ سے مارکس شیٹ لی اورقدرے بے پروائی سے اس پر سرسری نگاہ ڈالی، مگرکوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وقارسونیا کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اسے دوسروں کے اعتراف کی عادت نہیں تھی۔ وہ ہر چیز کو اپنی ذات کے زاویے سے دیکھنے کی عادی تھی۔اس لیے اس نے ایک دوسرے پہلو سے اپنی بات کو دہرایا۔
اس نے تو تمہاری اسٹوڈنٹ لائف کی یاد تازہ کردی۔
وقار کی اس بات سے سونیا کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی۔اس نے سرہلاتے ہوئے وقار سے کہا:
بظاہر تو ذہین لگتی ہے۔ چلو اسے بلاؤ۔ دیکھتے ہیں کہ واقعی کچھ آتابھی ہے یا صرف رٹا لگاکر یہ نمبر لے لیے ہیں۔ آج کل تو ایسے ہی نمبر آتے ہیں۔
سونیا ابھی بھی پوری طرح اس کے اعتراف کے لیے تیار نہیں تھی۔
اس کی بات پر وقار نے فون اٹھایااور اپنے مینیجر کوملایا۔
عظمت صاحب!اگلی کینڈیڈیٹ اسریٰ احمد کو اندرلے کر آئیں۔
وقار نے فون رکھا توسونیا نے اپنی ریوالونگ کرسی وقار کی سمت گھمالی اور شکایتی انداز میں اسے دیکھنے لگی۔
کیا دیکھ رہی ہو؟
سوچ رہی ہوں کہ تم سے شادی نہ ہوتی تو میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتی۔مزید تعلیم کے لیے ملک سے باہر چلی جاتی۔ ممی پپا بھی یہی چاہتے تھے۔ میں بچپن ہی سے بہت ذہین تھی۔ مواقع بھی تھے۔ ذہانت بھی تھی۔ بس تم بیچ میں آگئے۔کاش تم میرے کلاس فیلو نہ ہوتے۔
اس کی بات پر وقار ہنسنے لگا۔ہنسی تھمی تو اس کی آواز ابھری۔
بھئی ایم بی اے کرنے کے بعد اور کتنا پڑھتیں؟ اور پڑھنے کے بعد تم نے کون سا پروفیسر بن جانا تھا۔ تم نے بزنس وومن ہی بننا تھا ۔ یہی تمھاری خواہش تھی۔ میں نے اس میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔اوریہاں بھی تم زبردست ثابت ہورہی ہو۔سچی بات یہ ہے کہ تنہا میں یہ سارا کاروبار نہیں سنبھال سکتا تھا۔ ابو کے بعد یہ ذمہ داری اچانک مجھ پر آن پڑی ۔وہ تو تم نے مجھے جوائن کرلیا تو میر ے لیے آسانی ہوگئی۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ تمھارا ساتھ ہے کہ صرف دس برسوں میں ہم نے بزنس کہاں سے کہاں پہنچادیا۔
وقار نے ایک دوسرے پہلو سے اس کی تحسین کی۔ مگر انجانے میں اس نے سونیا کی ایک دکھتی رگ کو چھیڑ دیا تھا۔
ہماری شادی کو دس برس ہوگئے۔ وقت کیسے گزرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا اور میں ابھی تک۔۔۔۔۔۔
سونیا نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ اس کے چہرے پر ایک بے نام سی اداسی تھی۔وقار نے یہ اداسی پڑھ لی ۔وہ اس کی وجہ بھی جانتا تھا۔سونیا شادی کے دس برس بعد بھی ماں نہیں بنی تھی۔ بلکہ کبھی بن بھی نہیں سکتی تھی۔اس سے قبل کہ وقار اس کو تسلی دینے کے لیے کچھ کہتا دروازے پر دستک ہوئی اور آفس مینیجر عظمت صاحب اندر داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے اسریٰ تھی جس کا تذکرہ تھوڑی دیر قبل یہ دونوں کررہے تھے۔
عظمت صاحب نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس کا تعارف کرایا:
سر!یہ اسریٰ احمد ہیں۔
اسریٰ دھیرے سے چلتے ہوئے اندر داخل ہوئی تو اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے ایک وسیع و عریض کمرہ تھا جس میں چلتے تیز اے سی نے گرمیوں کے موسم میں یخ بستہ ماحول پیدا کر رکھا تھا۔کمرے کے وسط میں ایک بڑی سی میز رکھی ہوئی تھی۔اس کے عقب میں دیوار پر کھڑکیاں تھیں جن پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ ایک دیوار کے ساتھ ایک خوبصورت صوفہ سیٹ رکھاہوا تھا جبکہ دوسری دیوار پر دفتر کی فائلیں رکھنے کے لیے الماریاں بنی ہوئی تھیں۔ فرنیچر بہت نفیس ، خوبصورت اور کمرے کے مالک کے اعلیٰ ذوق کا گواہ تھا۔جبکہ دبیز قالین سے اٹھتی ہوئی مہک یہ بتارہی تھی کہ اسے حال ہی میں بچھایا گیا تھا۔ ہر چیز سے امارت اور خوش ذوقی کا اظہار ہورہا تھا۔
اسریٰ نے اندر آتے ہوئے ایک نظر میں یہ سب کچھ دیکھ لیا تھا۔ پھر اس کی نظرمیز کے پیچھے بیٹھے ہوئے مرد اور عورت پر پڑی۔یہ وقار اورسونیا تھے۔ وقار تیس پینتیس برس کا ایک وجیہہ شخص تھا۔وہ کلین شیو تھا اور ایک سیاہ رنگ کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی سونیا بیٹھی ہوئی تھی۔سونیا وقار ہی کی ہم عمر تھی، مگردیکھنے میں وہ اس سے کافی چھوٹی لگتی تھی۔اس کا لباس مغربی طرز کا تھا۔ بال کٹے ہوئے تھے مگر ڈائی کے ذریعے سے ان کا رنگ سیاہ سے براؤن کرایا گیا تھا۔وہ بہت جاذب نظر تھی او راس کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔
وہ جھجکتے ہوئے ان کی سمت بڑھی تو وقارنے خوش دلی سے کہا۔
بیٹھیے مس اسریٰ ۔
شکریہ۔
اسریٰ کے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔اس نے مرعوب کن نظروں سے ایک نظر وقاراورسونیا پر ڈالی اور پھر اپنے سر کا دوپٹہ اور جسم پر موجود چادر سنبھالتے ہوئے ان دونوں کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔سونیا نے غور سے اس کا جائزہ لیا۔
یہ ایک سیدھی سادھی گھریلو لڑکی لگ رہی تھی۔ حلیے سے لوئر مڈل کلاس سے تعلق لگتا تھا۔نقش و نگار اچھے تھے، مگر غربت کی گرد اور سادگی کی تہہ میں یہ نقوش کچھ دبے ہوئے تھے۔
ان کے ہاں اسی پس منظر کے اسٹوڈنٹ ہی آیا کرتے تھے۔ یہ وقار کا آئیڈیا تھا کہ انھیں غریب اور ذہین طلبا و طالبات کی اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کرنی چاہیے۔سونیا کوگرچہ اس بات میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی، مگر وقار کا یہ اصرار تھا کہ یہ کام ہونا چاہیے۔وقار ایک دردمند شخص تھا جو ضرورت مندوں کی مدد کی کوشش کیا کرتا تھا۔اس کے نزدیک کسی غریب گھرانے کی مدد کا یہ بہترین طریقہ تھا کہ ان کے کسی بچے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے پورے گھرانے کا بوجھ اٹھاسکے۔چنانچہ اس نے یہ سلسلہ شروع کردیا۔پچھلے کئی برس سے وہ انٹر میڈیٹ کرنے والے ایسے طلبا وطالبات کو اسکالر شپ دیتے تھے جو قابل ہوتے تھے، مگر اپنے گھریلو پس منظر کی بنا پر اعلیٰ تعلیم خود نہیں حاصل کرسکتے تھے۔
اس دفعہ جو لوگ ان کے پاس انٹرویو کے لیے آئے تھے، ان میں یہ لڑکی اسریٰ سب سے زیادہ اچھے تعلیمی پس منظر کی تھی۔مگر ان دونوں کے سامنے بیٹھے ہوئے وہ کچھ گھبرائی ہوئی تھی۔ اس نے زندگی میں پہلی دفعہ اتنا شاندار آفس دیکھا تھا۔تیز ٹھنڈک کے باجود اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے تھے اور ہاتھ دھیرے دھیرے لرزرہے تھے۔
وقار نے اس کی کیفیت کو بھانپ لیا تھا۔چنانچہ قبل اس کے کہ سونیا اس سے کچھ پوچھتی، اس نے اسریٰ کا حوصلہ بلند کرتے ہوئے کہا۔
مس اسریٰ!آپ اطمینان سے تشریف رکھیے۔آپ کا تعلیمی ریکارڈ تو بہت عمدہ ہے۔ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ میں تو آپ نے کمال کردیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ آ پ جیسے قابل طالب علم اپنی زندگی میں کچھ مقام حاصل کریں۔آپ بتائیں گی کہ آپ آگے کیا پڑھنا چاہتی ہیں؟
وقار کی حوصلہ افزائی سے اسریٰ کا دل کچھ قابو میں آیا تھا۔مگر اس سے قبل کہ وہ اس کے سوال کا کوئی جواب دیتی سونیا نے اس سے انگریزی میں پوچھا۔
آپ نے اسکالرشپ کے لیے کیوں اپلائی کیا ہے؟آپ کے والدین آپ کے اخراجات کیوں نہیں اٹھاتے؟
اسریٰ کو اس کی بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی، مگر روانی سے انگریزی میں جواب دینا اس کے لیے مشکل تھاکہ انگریزی اس کی روزمرہ کی زبان نہ تھی۔ اس لیے اس نے اٹک اٹک کر بولنا شروع کیا۔
دراصل۔۔۔۔۔۔ میرے والد صاحب۔۔۔۔۔۔ ایک پرائیوٹ جاب کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور ان کی تنخواہ بہت کم ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی مشکل کو محسوس کرتے ہوئے وقار نے اس کی بات کاٹ کراردو میں کہا۔
آپ اردو میں جواب دے دیں۔
اسریٰ نے تشکر آمیز انداز میں اسے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
میں یہ عرض کررہی تھی کہ میرے والد صاحب کی تنخواہ بہت کم ہے۔ والدہ گھر میں سلائی کرکے ہمارے اخراجات پورے کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ ہم تین بہنیں ہیں۔بھائی کوئی نہیں ہے۔ میں سب سے بڑی ہوں۔ کچھ میں بھی ٹیوشن وغیرہ پڑھالیتی ہوں۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ ایم بی اے کرکے اپنے قدموں پر کھڑی ہوجاؤں اور اپنی چھوٹی بہنوں کی ذمہ داریاں پوری کروں۔ مگر اب میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکوں۔ ایسے میں اگر آپ لوگ میری مدد کردیں تو میں یقین دلاتی ہوں کہ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گی۔آپ ایم بی اے تک میری مدد کردیں۔ میں ساری زندگی آپ کا احسان نہیں بھولوں گی۔
دیکھیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ہم آپ کے تمام تعلیمی اخراجات ادا کریں کیونکہ ہمیں دوسرے اسٹوڈنٹس کی بھی مدد کرنا ہوتی ہے۔
سونیا نے اس کے کاغذات پر نظر ڈالتے ہوئے سلسلہ کلام جاری رکھا:
آپ نے ملک کے سب سے بڑے ادارے میں اپلائی کیا ہے اور ان کا انٹری ٹیسٹ بھی پاس کرلیا ہے۔ لیکن ان کی فیس بہت زیادہ ہے۔بہتر ہے کہ آپ کسی دوسرے ادارے میں داخلہ لے لیں یا پھر کچھ فیس ہم ادا کریں گے اور باقی کا انتظام آپ کیجیے۔ہم ہر سال آپ کی پرفارمنس دیکھ کر اگلے برس کی فیس کا فیصلہ کریں گے۔
سونیا نے دوٹوک انداز میں کہا تو اسریٰ کے چہرے پر مایوسی طاری ہوگئی۔وہ دھیرے سے بولی:
میم آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ اس کی فیس بہت زیادہ ہے۔مگر دوسری جگہوں سے ایم بی اے کرنے کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔
تو پھر آپ بی کام کرلیں۔ ہم اس کی مکمل فیس دے دیں گے۔اس سے آپ کو اپنی والدہ کی مدد کرنے کا موقع بھی مل جائے گا ۔ آپ سلائی کرکے ان کی مدد کردیا کریں۔ باقی وقت میں بچوں کو ٹیوشن پڑھادیا کریں۔ آپ کے گھر کے حالات بھی اس طرح بہتر ہوجائیں گے۔
سونیا نے تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے یہ مشورہ دیا۔ وہ اور وقار اسی تعلیمی ادارے سے پڑھے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ اس تعلیمی ادارے کا انٹری ٹیسٹ پاس کرنا بہت مشکل ہے۔ اسریٰ نے یہ کرلیا تھا، مگر اس کی فیس اتنی زیادہ تھی کہ جو بجٹ انھوں نے طلباکی مدد کے لیے رکھا تھا، اس سے پوری نہیں کی جاسکتی تھی۔
ٹھیک ہے میں کسی اور ادارے میں ایم بی اے کے لیے اپلائی کرتی ہوں۔
اسریٰ نے سونیا کی بات پر جواب دیا۔ اس کا چہرہ بجھ چکا تھا۔ مگر وہ سمجھ سکتی تھی کہ سونیا کی بات غلط نہیں ہے۔پھر وہ تاسف آمیز لہجے میں بولی۔
ویسے ابھی عظمت صاحب نے میرے ڈاکومنٹس دیکھے تو بتانے لگے کہ میم نے بھی یہیں سے ایم بی اے کیا ہے۔میں نے سوچا تھا کہ شاید میں بھی میم سونیا جیسی بن سکوں۔وہاں پڑھنا میری زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا ۔ مگر شاید یہ ممکن نہیں ہے۔
نہیں یہ ممکن نہیں ہے۔آپ کہیں اور اپلائی کریں اور پھر عظمت صاحب سے رابطہ کریں۔ ہم نے آپ کا کیس تو اپروو کردیا ہے، مگر اسکالرشپ کتنی ہوگی اس کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ آپ جاسکتی ہیں۔
سونیا نے دوٹوک انداز میں کہا تو اسریٰ اپنی نشست سے کھڑی ہوگئی۔مینیجر عظمت صاحب بھی اسے باہر لے جانے کے لیے اٹھنے لگے تو وقار جو اس پوری گفتگو میں خاموش رہا تھا ان سے مخاطب ہوا۔
عظمت صاحب آپ رکیے۔
اسریٰ خاموشی سے باہر چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعدوقار نے عظمت صاحب سے کہا۔
اس لڑکی کو روکیں ۔ ہم اس لڑکی کا کیس اسی ادار ے کے لیے منظور کررہے ہیں۔
وقار ! تم یہ کیا کررہے ہو؟
سونیا نے فوراًمداخلت کی۔
تم جانتے ہو کہ بجٹ اتنا نہیں ہے۔
کوئی بات نہیں میں الگ سے ارینج کردوں گا۔ عظمت صاحب آپ جائیے۔
عظمت صاحب باہر چلے گئے، مگرسونیا کا منہ بن چکا تھا۔وقار کو اس کی ناراضی کا اندازہ ہوگیا۔ وہ اسے منانے کے لیے محبت بھرے لہجے میں بولا:
میری جان ! مجھے اس میں تمھارا عکس نظر آیا تھا۔اس لیے سوچا کہ اس کی مدد کردیتے ہیں۔
تمہاری اس لڑکی پر نیت تو خراب نہیں ہوگئی ہے؟تم مردوں کا ویسے بھی کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔اچھی سے اچھی بیوی کے ہوتے ہوئے باہر کی خراب سے خراب لڑکی پر رال ٹپکنے لگتی ہے۔
یہ کہتے ہوئے سونیا کے لہجے میں غصہ تھا۔اسے واقعی اس لڑکی کی اس طرح مدد کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا تھا۔
ارے وہ تو ایک اسٹوڈنٹ ہے جس سے آج کے بعدمیری کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔پھر یہ تو دیکھو کہ وہ ایک چھوٹی سی لڑکی ہے اور کہاں میں تینتیس برس کا آدمی۔
جوان لڑکیاں جوان ہی ہوتی ہیں۔ چھوٹی بڑی نہیں ہوتی ہیں۔
سونیا نے اپنی جرح کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ ماں نہ بننے کی وجہ سے ایک نوعیت کے احساس کمتری اور عدم تحفظ کا بھی شکار تھی ۔
پاگل ہوگئی ہو تم۔ تم تو جانتی ہو کہ تمہارے سوا میں نے کبھی کسی کے متعلق سوچا بھی نہیں۔ تم یہ بھی جانتی ہو میں تم سے کتنی زیادہ محبت کرتا ہوں۔اس لیے پلیز اب یہ موضوع ختم کرو۔اور چلو جلدی سے مسکرادو۔ آج میں تمھیں باہر ڈنر پر لے جاؤں گا۔پھر ہم کوئی مووی بھی دیکھنے چلیں گے۔
وقار اسے منانے کے لیے سارے طریقے اختیار کررہا تھا۔وقار کی اس بات پر اس کا موڈ ٹھیک ہوہی گیا۔وہ مسکراکر بولی۔
چلو ٹھیک ہے۔ آج آؤٹنگ پر چلتے ہیں۔اور ہاں اب میں انٹرویومیں اورنہیں بیٹھ رہی۔ باقی جوایک دو لوگ ہیں ان کو تم ہی دیکھ لو۔
اوکے میں دیکھ لوں گا۔ تم ایک مہربانی کردو۔ اس لڑکی کو خودبتادو کہ تم نے اس کی درخواست منظور کرلی ہے۔ ہوسکتا ہے اس لڑکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے باپ بنادے۔
وقار نے سونیا کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔
ٹھیک ہے ۔ میں اسے اپنے کمرے میں بلاکربتاتی ہوں۔
ٹھیک ہے تم جاؤ۔باقی امیدوار میں خود دیکھ لوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

By Abu Yahya

Advertisements

⁦❤️⁩⁦30 دن 30 آیات❤️⁩

⁦❤️⁩30 دن 30 آیات ⁦❤️⁩

اور جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں (تو کہہ دیجیے) بےشک میں قریب ہی ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارے، تو انکو چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پہ ایمان رکھیں تاکہ وہ بھلائی پائیں

اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب بھی، کسی بھی وقت، رات ہو یا دن، کسی بھی لمحے مجھے پکارتا ہے تو میں اسکا جواب دیتا ہوں❤ اس دنیا میں تو جو مشہور شخصیات ہیں اگر آپ انہیں یاد کریں انکا نام لیں تو کیا وہ آپ کو جواب دیں گے؟ نہیں۔ مگر وہ رب العظیم ہم بندوں کی دعاوں کا جواب دیتا ہے، انہیں سنتا ہے۔ اور وہ فرماتا ہے کہ میں قریب ہوں❤ تم جب بھی مجھے پکارتے ہو میں جواب دیتا ہوں۔

اسلیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس سے مانگیں۔ ہم انسان بہت جلد باز ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بس یہ ابھی قبول ہوجائے۔ آپ دیکھیں کہ حضرت ابراھیم علیہ اسلام نے اولاد کی دعا مانگی تو انکی دعا چالیس سال کے بعد قبول ہوئی۔ چالیس سال۔ کیا آپ اسکا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ اور کون تھے ابراہیم علیہ اسلام؟ وہ اللہ کے دوست تھے۔ اور جب دعا قبول ہوئی تو جانتے ہیں انہوں نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا بےشک میرا رب دعا کا سننے والا ہے❤ انہوں نے ناشکری نہیں کی۔ یہ نہیں کہا کہ لو اتنے عرصے بعد سنی ہے۔ ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکلی۔ انہوں شکر ادا کیا۔ اور ہم کیا کرتے ہیں؟

اور ہماری دعائیں کیسی ہوتی ہیں؟

ہمیں خود نہیں معلوم ہوتا کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ سے دعا مانگو تو قبولیت کا یقین رکھو، اللہ غافل دل کی دعائیں قبول نہیں کرتا۔

اور ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہر انسان کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلد بازی نہ کرے۔

کسی نے پوچھا جلد بازی کیا ہے؟

آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا کہ وہ دعا کرے اور کہنے لگ جائے میں نے تو بہت دعا کی مگر وہ قبول ہی نہ ہوئی۔

کیا ہم سب ہی یہ نہیں کرتے؟

بعض اوقات ہم کوئی دعا مانگتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی. قیامت کے دن جب انسان اٹھے گا تو اس وقت وہ دیکھے گا اور حیران ہوگا کہ یہ میرے نامہ اعمال میں یہ عمل کہاں سے آگیا، یہ تو میں نے نہیں کیا ہوا.

بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے. اس وقت نہیں سنی گئیں تھیں لیکن تمہارے لیے ان کا اجر رکھ دیا گیا. اور اس کا اجر اتنا زیادہ ہوگا کہ اس کے اعمال سے بھی بڑھ جائے گا. اور اس وقت انسان تمنا کرے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا نہ سنی جاتی. اور آج ہم چھوٹی سی دعا کے نہ قبول ہونے پر اللہ سے شکوے شکایتیں کرنے لگ جاتے ہیں. اور مانگنا چھوڑدیتے ہیں. اللہ تو بادشاہ ہے اسے کیا فرق پڑتا ہے کوئی مانگتا ہے یا نہیں مانگتا. یہ مانگنا تو ہمارے اپنے فائدے کے لیے ہے. لیکن انسان کی جو دعائیں سنی نہیں جاتیں، وہ اللہ تعالی ضائع نہیں کرتے

تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے دعا کی قبولیت کے لیے؟

فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي “انہیں چاہیے کہ یہ میری بات مانا کریں

وَلْيُؤْمِنُوا بِي “مجھ پر اعتماد کریں، ایمان رکھیں،” لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ” تاکہ یہ سیدھا رستہ پالیں..

یعنی پھر بھٹکنے سے بچ جائیں گے. ورنہ ذرا سی بھی دیر ہوجائے قبولیت میں تو انسان کو شیطان بہکا لے جاتا ہے.

نوٹ: آپ سب ان دعاؤں، تسبیحات، اور اللہ کے اسماء و حسنی کو ڈھونڈیں اور انہیں اپنی دعاوں میں شامل کریں جن کے پڑھنے سے دعا قبول ہوتی ہے۔

#Ramadan2018 #30days30ayaahs #NoumanAlaiKhanUrdu