آج کی بات ۔۔۔ 19 اکتوبر 2017

~!~ آج کی بات ~!~
اپنی خوشیوں اور خواہشوں کو اپنے اندر رکھیں۔
ورنہ لوگ خوشیوں کو نظر اور خواہشوں کو
آگ لگانا خوب جانتے ہیں۔۔۔۔!!!!

via Blogger http://ift.tt/2hQxznl

Advertisements

انصاف کرو

ایک عورت کہتی ہے . “زن مرید ہے“ دوسری عورت بولتی ہے “ماں کا مرید ہے“.ایک عورت دوسری عورت کو اس کا پیر و مرشد بنا دیتی ہے.عورت کی فطرت بھی عجیب ہے. بیٹا کنوارہ ہوتا ہے تو دن رات اس کے سر پہ سہرا سجانے کے خواب دیکھتی ہے بہو لانے کے سپنوں میں کھوئی رہتی ہے خیالوں ہی خیالوں میں پوتے پوتیوں سے کھیلتی ہے .
مرنے سے پہلے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹے کا گھر بسائے . بیٹا شادی پر راضی نہ ہو تو ضد سے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے . بالآخر سہرا سجا دیا جاتا ہے ارمان پورے ہو جاتے ھیں۔ بہو آجاتی ہے تب اس کے اندر ایک نئی عورت جنم لیتی ہے . بیٹے کے ساتھ بہو کو بیٹھے دیکھتی ہے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، طعنے کوسنے اور زہریلے جملے تخلیق کرنے لگتی ہے پہل اکثراس کی طرف سے ہوتی ہے جو بہو کے ارمان میں پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ وہ نئی آنے والی کچھ دن تو اپنا قصور تلاش کرنے میں لگی رہتی ہے تب اسے اپنے جرم کا پتہ چلتا ہے، اسے معلوم ہوتا کہ ایک عورت ہونا ہی دوسری عورت کی نظر میں اس کا اصل جرم ہے تب وہ اپنے اس جرم پر ڈٹ جاتی ہے قانونی طور پر کیونکہ مرد اس کی ملکیت ہوچکا ہوتا ہے۔
تو وہ اپنی اس ملکیت کو اپنی ذات کی حد تک محدود کرنے کی فکر میں لگ جاتی ہے، جس نے پیدا کیا ہوتا ہے اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو صرف دو کلموں کے عوض دوسری کو سونپ دے۔ تب۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ بغیر اس بات کو سوچے کہ ملکیت کی اس جنگ میں وہ کس کرب سے گزر رہا ہے جو دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتا ، مکرو فریب کا ایسا سٹارپلس گھر میں آن ائیر ہونے لگتا ھے جس کی ہر قسط اسے ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتی ہے۔ ایک جملہ اس کے کانوں میں تواتر کے ساتھ انڈیلا جاتا ہے کہ “انصاف کرو“۔ سو موٹو ایکشن لینے کا مطالبہ بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی جانب سے کیا جانے لگتا ہے۔
ماں کی شان” سنانے والے اسے قدموں میں جنت تلاش کرنے پر لگانے کی سرتوڑ کوششیں کرنے لگتے ہیں اور بیوی کے حقوق کے “علمبردار” اس کے لیے انصاف نہ کرنے کی صورت میں آخرت کے عذابوں سے ڈرانے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ انصاف کے مطالبوں سے تنگ آکر یا تو جنت پانے کے چکر میں ایک کے ہاتھ میں طلاق تھما دیتا ہے ، یا بیوی کے حقوق کے تحفظ میں ماں کی گستاخی پر اتر آتا ہے اور اگر ان دونوں کے ساتھ “انصاف” نہ کر سکے تو گلے میں رسی ڈال کر “منصف” کا ہی انصاف کر دینے پر مجبور ہو جاتا ہے
ان تینوں انتہائی اقدام کے بعد ایک عورت کی طرف سے بغیر ضمیر کی خلش سے کہہ دیا جاتا ہے” میں نے تو ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا، میں نے تو صرف اتنا ہی کہا تھا کہ انصاف کرو
۔نوٹ : یہ تحریر ہر گھر اور ہر فرد پر لاگو نہیں ہوتی معاشرہ اچھے اور برے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے ۔ جہاں برے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں بس اپنا اپنا ضمیر زندہ ہونا چاہئیے۔

via Blogger http://ift.tt/2gleTeI

غرباء ۔۔۔ آخری قسط

غرباء (اجنبی )
آخری قسط

“حمزه بھائی آج سے پرائے ہو گئے !!!!!!!!!!!!!!!!”, گھر کے صحن سے نکلتے ہوے کسی نے حمزه کے پیچھے سے نعره بلند کیا. اور ساتھ ہی بہت ساری آوازوں سے ملا ایک زور دار قہقہہ فضا میں بلند ہوا.

پلٹ کر دیکھا تو اسکے مجاہد ساتھی – جو تھوڑی دیر پہلے اسے تنگ کرنے میں مصروف تھے اب شرارتاً اسکی جانب بڑھ رہے تھے. جیسے اسکا رستہ روکنا چاہتے ہوں.

حمزه نے بچ بچا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا..

“کتنی جلدی ہے ناں جناب کو والله !!”, کسی نے ہنستے ہوے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا.

ساتھ ہی ساتھیوں کے ہنسنے کی آوازیں.

“بھائی ابھی بیٹھیں , اگلی کاروائی کی پلاننگ کرنی ہے…وه جو کل آپ بتا رہے تھے نا اے-کے 47…”, یہ کہنا تھا کہ سب کی ہنسی چھوٹ گئی.

“بہت برے ہو تم لوگ.. سچ میں”, خود حمزه بھی اب ہنس رہا تھا.
خوبرو نوجوان. گھنے سیاه بال, بھوری آنکھیں, سوخ و سفید رنگت, دل لبھاتا پرکشش چہره اور اس پر خوبصورت سنت رسولؐ کی یادیں تازه کرتی داڑھی.. مسکراتا چہره اور اس پر شرات بھری آنکھیں..
اس کے ساتھ ساتھ شخصیت بھی نہایت پر کشش. زنده دل انسان. خوش اخلاق. سب میں محبتیں بانٹنے والا. انتہائی نرم دل کا مالک. امت کے غم میں رو رو کر آنکھیں سجانے والا..
یہی غم کہاں سے کہاں لے آیا تھا.. الله کے لیے وہاں مہاجر بن کر آ گیا تھا.

“اچھا چلو اب جانے دو بھائی کو.. ایسا نہ ہو وہی اے کے 47 ہم پر ٹوٹی ہو..”

ایک زور دار قہقہہ.

یہ ابوبکر تھا جس نے آخری جملہ کہا تھا. ام خدیجہ کا شوہر.

ابو بکر اپنے کو دوست ہنستے کھلیتے, باتیں کرتے کچھ علیحدگی میں لے آیا.

“یار سنو..
چونکہ ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہے ہو تو کچھ نصیحتیں تمہیں کرنا چاہوں گا. بہت کام آئیں گی ان شاء الله”

حمزه نے جواباً سر ہلایا اور سنجیدگی سے سننے لگا.

“عورت جو ہوتی ہے نا اسکے ساتھ ڈیل کرنے کا انداز مردوں سے بالکل الگ ہے. نازک پھول کی طرح ہوتی ہے. محبت دو تو کھل اٹھے, دو لفظ برے کہه دیے تو پل بھر میں مرجھا جائے.
اس لیے اسکی کوئی بات بری بھی لگے نا تو طریقے سے, محبت سے سمجھاؤ. امید ہے محبت سے ہی کام بن جائے گا. اگر نا بنے تب سختی پر آؤ. وه بھی نبیؐ کے بتائے طریقوں کے مطابق.

اور ہاں. عورت کی محبت کرنے اور جتانے کا انداز مرد جیسا نہیں ہوتا. وه تو لفظوں سے خوش ہوتی ہے. تو دن میں دو تین بار, بلکہ ہو سکے تو کئی بار اسے احساس دلا دیا کرو کہ تمہیں اس سے کس قدر محبت ہے. ساتھ کبھی چھوٹے موٹے تحفے تحائف.

مجھے پتا ہے ہم مرد لفظوں کے معاملے میں ذرا کنجوس ہیں, یا یہ کہه لیں کہ لاپرواه ہیں, کہ محبت کے جزبات دل میں ہی رکھتے ہیں. زبان پر کم ہی لا پاتے ہیں.
لیکن عورت کے لیے یہی بات سب سے بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے. سمجھ لو تمہاری لیے اسکے دل میں جو محبت ہے نا, الفاظ اسکا کھانا ہیں. محبت کا اظہار کرنے والے الفاظ.
تو جتنے اچھے اچھے الفاظ روز بولو گے, اتنا تمہارے لیے محبت اسکے دل میں بڑھے گی. سمجھو تمہاری محبت میں گرفتار, تمہاری غلام بنتی جائے گی.

دوسری بات, اسکی پسند, ناپسند کا خیال رکھنا. اسکو عزت دینا. اسے احساس دلانا کہ اسکے خیالات اور مشوروں کی اہمیت بھی ہے.

یہ سب تھوڑی بہت باتیں ہیں جن پر چل کر ازدواجی زندگی کی گاڑی خوشگور انداز میں چلا سکو گے.
باقی تو وقت کے ساتھ ساتھ خود سیکھ جاؤ گے ان شاء الله”, ابوبکر نے محبت سے حمزه کا کاندھا تھپتھپایا.

حمزه جواباً مسکرا دیا اور دعائیں دیتا اپنے روم کی جانب چل دیا.

حمزه ابھی کمرے سے کچھ دور ہی تھا کہ عثمان (خولہ کا رضائی بھائی) اسکی جانب بڑھا. حمزه نے قدم وہیں روک لیے اور عثمان کی جانب مسکرایا.

عثمان نے حمزه کا ہاتھ پکڑا, “آپکو صرف اپنی بڑی بہن نہیں, اپنا اور دادا جان کا دل سونپ رہا ہوں.
میری بہن کا بہت خیال رکھیے گا حمزه بھائی.
آپکا زور بازو کافروں کے لیے, اور محبت بھرے بول آپی کے لیے ہوں ہمیشہ.
الله آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے”, آنکھیں آنسووں سے چمک رہی تھیں.

حمزه عثمان کی بات پر محبت سے مسکرا دیا. عثمان سے پہلے خولہ کے دادا اور پاکستان میں موجود گھر والے بھی الگ الگ ایسی ہی نصیحتیں کر چکے تھے. یقیناً بہت سے لوگوں کا دل ہی تھی وه جو نہ چاہتے ہوئے بھی وه سب خود سے جدا کر رہے تھے..
لڑکیوں کے گھر والوں کو سلام ہے, اور اس سے بڑھ کر اس لڑکی کو جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک اجنبی کے ساتھ رہنے کو تیار ہو جاتی ہے. کتنی بڑی قربانی دیتی ہے. اگر کوئی سمجھے تو.
الله نے ایسے ہی تو جنت میں ایمان والی عورت کو حور سے بھی کہیں بڑھ کر خوبصورتی عطا کرنی ہے.

“کیوں نہیں. جس رب نے مجھے اتنی نیک زوج عطا کی, اس رب کا ہر لمحہ شکر ادا کرتا ہوں. تکلیف کیوں دوں گا.
کبھی نہیں دوں گا.
الله نے ایسی انمول نعمت عطا کر دی ہے کہ عمر بھر شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا.”
عثمان نے حمزه کا جواب سن کر فرط محبت سے اسے گلے لگا لیا.

* * * * * *

“آپ بہت کم بولتی ہیں.. ہمیشہ سے ایسی ہیں؟
یا صرف مجھ پر ظلم ہے..؟؟”، حمزه آنکھوں میں شرارت لیے , آئینے میں بال درست کرتا خولہ سے مخاطب تھا. نگاہیں اپنے بالوں کی بجائے خولہ پر ٹکی تھیں…

انکی شادی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا. خولہ بالکل حمزه کی سوچوں کے مطابق اتری تھی. خود کو بےحد خوش قسمت سمجھتا تھا. کتنے عرصے کے صبر کے بعد اسے کیا انعام ملا تھا. کیا خولہ بھی اس کے بارے میں ایسی ہی سوچ رکھتی تھی؟ دل میں کتنے ہی سوال تھے جو وه کرتے کرتے ره جاتا تھا.

خولہ, جو بستر درست کر رہی تھی حمزه کے سوال پر ایک دم چونکی.
ہیں..؟ کم بولتی تھی؟ وه تو اتنا بولتی تھی کہ کتابیں بھر دے..
لیکن یہ درست تھا کہ حمزه کے سامنے خولہ کو پتا نہیں کیا ہو جاتا تھا. الفاظ ہی کہیں گم ہو جاتے تھے.
آگے پیچھے اتنی باتیں ذہن میں آتی تھیں کہ یہ کہوں گی, وه کہوں گی..
پر جب حمزه آتا تو الفاظ حلق میں ہی پھنس جاتے تھے.

“بولتی تو ہوں..”, خولہ نے مسکرا کر جواب دیا.

“ہاں, بولتی ہیں..
چائے لے لیں..
کھانا بن گیا..
آپکے کپڑے دھل گئے.. وغیره وغیره وغیره”, حمزه نے جھوٹ موٹ کا معصوم چہره بنایا.

خولہ بےاختیار ہنس دی.

“آئنده آپکو شکایت کا موقع نہیں ملے گا”, جھکی نگاہوں سے کہہ رہی تھی.

“ہائے قربان جاؤں. کتنی فرمانبردار بیوی ہے میری”, حمزه اب خولہ کو اور بھی تنگ کرنے کے موڈ میں تھا. وه ہنستی ہوئی بہت اچھی لگتی تھی اسے. تبھی بار بار ہنسانا چاہتا تھا. کتنے غم اٹھائے تھے اسکی بیوی نے. حمزه اسکا ہر غم مٹا دینا چاہتا تھا.
بے شک وه روز روز اسکے قریب تو نہیں ره سکتا تھا. کام ہی ایسا تھا. لیکن جتنا ٹائم بھی ساتھ گزرے , کم از کم اس میں تو اسکو محبت دے.

“یہ لیں. آپکی پسٹل. بھول نہ جائیے گا”, خولہ نے حمزه کو جانے سے پہلے اسکی پستول تھمائی.

“الله آپکو دنیا و آخرت میں خوش رکھے”, خولہ نے حمزه کی جانب مسکرا کر دعا دی. وه کتنا اچھا تھا. اسکی سوچ سے بھی بڑھ کر اچھا. اس سے کس قدر محبت کرتا تھا. اسکے چہرے پر ایک مسکراہٹ کے لیے کتنے جتن کرتا تھا. حالانکہ خود کس قدر سخت ماحول کا سپاہی تھا. اپنے سامنے اپنے ہی دوستوں کی لاشییں گرتے دیکھنا آسان نہیں ہوتا. پر اس سب کے باوجود، اپنے غم سائڈ پر رکھ کر خولہ کے ساتھ گزارنے کو چند لمحے بھی ملتے تو انکو یادگار بنانے کی کوشش کرتا.

“آمین”, حمزه جواباً مسکرایا. “آپکے ساتھ.
یہاں بھی, اور وہاں بھی”, نگاہوں میں خالص محبت چھلکتی تھی.

“آمین..
اور الله کی راه میں شہادت ملے دونوں کو..”, خولہ نے ایک اور دعا ایڈ کی.

“شہادت ملے. اور اکٹھے ملے.. تاکہ ساتھ ساتھ جائیں. کوئی ایک پیچھے اکیلا نہ ره جائے”, حمزه لفظوں میں مزید محبت اتار رہا تھا.

خولہ مسکرا دی, “آمین”. آنکھوں میں پانی اتر آیا تھا. وه کیا تھا. الله کا دیا خوبصورت تحفہ..
اسکے دل کا سکون. آنکھوں کی ٹھنڈک.
جو قرآنی دعا وه اٹھتے بیٹھتے مانگا کرتی تھی وه اب پوری ہو چکی تھی:

* ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریاتنا قرة اعین واجعلنا للمتقین اماما *

“اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا”

(سورة الفرقان, آیت 74)

“اور کوئی دعا نہیں دیں گی؟؟ پورے پانچ دن کے لیے جا رہا ہوں میڈم. بہت اہم مشن ہے”, حمزه یقیناً خولہ کو بولتے رہتے دیکھنا چاہتا تھا.

خولہ مسکرا دی. پہچان گئی تھی کہ اسکے محبت کرنے والے شوہر کے دل میں کیا چل رہا تھا.

“خدا امان میں رکھے..
ہر کڑی دھوپ میں, ہر طوفانی بارش میں, کہیں کوئی چٹان راه نہ روکے.
ہوا کی رفتار سے جائیں اور کامرانیاں سمیٹ کر آئیں”, آنکھوں میں دیکھتے بولتے گئی. الفاظ پتا نہیں کہاں سے زبان پر اترتے گئے.

“..بس وعده کریں کہ ہوشیار رہیں گے”

“آپکی دعائیں جب حصار بن کر میری حفاظت کر رہی ہیں, تو مجھے کسی بات کا ڈر نہیں”, حمزه اپنی بیوی کے مٹھاس بھرے الفاظ پر مسرور تھا.

* * * * * *

“اوه F-16”, حمزه نے رافضی طیارے کی جانب سے برسائے گئے بموں کی آواز پر ایک دم اپنا کمنٹ دیا.

خمزه اور کچھ مجاہدین اپنے امیر کے ہمراه ایک خندک میں بیٹھے اپنی کاروائی کی پلاننگ کرنے میں مشغول تھے کہ ایک دم آسمان سے بموں کی برسات ہو گئی.
اس وقت رات کا اندھیرا سب کچھ اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا.

امیر نے جلدی جلدی سینئر کماندان کو وائرلس پر اپ-ڈیٹ کیا.

بقیہ مجاہدین کے بیچ یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ آیا یہ طیاره ایف-16 تھا یا بی-52

بی-52 انتہائی خطرناک طیاره ہوتا ہے جو کچھ لمحوں کے لیے ہوا میں معلق ہو جاتا ہے اور اپنا ٹارگٹ سینس کر کے ڈاریکٹ اٹیک کرتا ہے. اسکے سخت تباه کن رزلٹس ہوتے ہیں. وه پہچان جاتا ہے کہ کس طرف اسلحہ پڑا ہے. یعنی لوہے جو سینس کر کے.

حمزه کے گروپ سے کچھ فاصلے پر ہی رافضی شیعہ فوجیں موجود تھیں.

حمزه کے ساتھی مجاہدین میں کچھ امیر کی ہدایت کے مطابق دشمن سے نبد آزما تھے. حمزه بھی کچھ دیر پہلے وہیں تھا. اور امیر کے حکم پر خندک کی جانب آیا تھا کہ مزید کاروائی کا لائحہ سن لے اور باقیوں تک پیغام پہنچا دے.

“میں آتا ہوں ذرا..”, حمزه اٹھ کھڑا ہوا.

سب اس کی جانب متوجہ ہوئے. حیران کہ اسے کیا ہوا.

“کہاں جا رہے ہو”, ایک نے پوچھا.

“طیارے کا نظاره کرنے”, مسکراہٹ لیے جواب دیا.

“یار کبھی تو سیریئس ہو جایا کرو”, سوال کرنے والا ہنس پڑا.

“ارے سیریئس ہوں “, حمزه نے سنجیدگی سے جواب دیا.

“اچھا چلو پھر باقیوں کو بھی ترتیب دیتے آنا. ذرا الگ الگ کر دو”, امیر حمزه سے مخاطب تھا.
یقیناً ان میں الله کا ہر سپاہی ایک ایک نگینہ تھا. جانوں کا کم سے کم ضیاع ہو, اسکے لیے حکمت عملی لازمی تھی. کیونکہ جنگیں کبھی بھی صرف بہادری سے نہیں جیتی جاتیں. پرفیکٹ پلاننگ ہاری ہوئی بازی بھی جتا دیتی ہے. جس کسی نے مجاہد اعظم – رسولؐ الله – کی زندگی بطور کمانڈر پڑھی ہو وه اس بات کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو گا.

حمزه خندک سے نکل کر ساتھیوں کی جانب لپکا. سب کو دو, دو, تین, تین گروپس میں منتشر کر دیا اور خود قریب کی ایک پرانی عمارت میں صورت حال کا جائزه لینے داخل ہوا. خندک بھی اس کے قریب ہی کھودی گئی تھی.

“سبحان الله !!!! الله اکبر !!!!!”, حمزه کی زبان سے بے اختیار نکلا.
طیاره صاحب قریب ہی خالی میدان پر اندھا دھن بم گرا رہا تھا.
الله بھی اپنی خاطر اٹھنے والے شیروں کی کیسے کیسے مدد کرتا تھا. کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ

* فضائے بدر پیدا کر, فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے, قطار اندر قطار اب بھی *

حمزه کے خندک کے مجاہدین اسکے لیے پریشان دوڑے دوڑے باہر آئے کہ شاید حمزه شہید ہو گیا. آگے دیکھا تو جناب اسی مانوس مسکراہٹ لیے کھڑے ہیں.

“آ ها !! دیکھو کتنی فٹ لائٹننگ ہے”, حمزه کے آسمان پر طیارے کی جانب اشارے پر سب ہنس پڑے. واقعی دشمن کی آنکھیں اندھی کر دی تھیں رب نے.

*

کچھ دیر کی بمباری کے بعد خاموشی چھا گئی.
رات کا آخری پہر تھا. فجر سے کچھ پہلے کا.اور سب سے انمول وقت.
اس ٹائم دشمن پر نیند کا سخت غلبہ ہوتا تھا. جبکہ الله کے شیروں کا تو اصل وقت ہی ابھی شروع ہوتا تھا. وه تو سب وقتوں سے بڑھ کر اس وقت ہی فل انرجی میں ہوتے تھے. تہجد انکی زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکی تھی. اور اس ہی وجہ سے اس وقت دشمن کی کاروائیوں کا منہ توڑ جواب بھی دے پاتے تھے.

” اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں”

(سورة # 61, آیت # 4)

بقیہ مجاہدین بھی غازی لوٹ آئے تھے.
امیر نے سب کو بحفاظت تین جیپوں میں تقسیم کیا اور مرکز کی راه لی.

راستے میں عجیب واقعہ ہوا. طیاره دوباره آ گیا تھا. لیکن حیرت کی بات یہ کہ ایک بھی نشانہ کسی جیپ کو نہ لگ سکا. ایسا ہوتا تھا کے مجاہدین کی گاڑی چلتی جاتی تھی اور طیارے کا نشانہ آس پاس ہٹ کرتا جاتا تھا جبکہ وه سب صحیح سلامت مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے.

* دشت تو دشت, دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے *

جب ایسے بنے تھے تو الله بھی براه راست اپنے سپاہیوں کی مدد کرتے تھے.

وه تو اپنا فرض نبھا رہے تھے, لیکن سوئی امت پتا نہیں کب جاگنی تھی.

* نشیب دنیا کے اے اسیرو۔۔۔

فراز تم کو بلا رہا ھے۔۔۔

ھیں جنتیں منتظر تمھاری۔۔۔

محاذ تم کو بلا رہا ھے

صدائیں کرب و بلا کی گھاٹی۔۔۔

سے گھنگرج کی جو آ رھی ھے۔۔۔

یہ نغمہ حور جنتاں ھے۔۔۔

یہ ساز تم کو بلا رھا ھے۔۔۔

اذان دے کے ھی سو نہ جانا۔۔۔

ابھی فلسطیں تک ھے جانا۔۔۔

تمھارے مالک کا عفوے بندہ۔۔۔

نواز تم کو بلا رہا ھے۔۔۔

دلیل مجھ سے کیا مانگتے ھو۔۔۔

نبی کی امت کا حال دیکھو۔۔۔

قدم گھروں سے نکالنے کا۔۔۔

جواز تم کو بلا رھا ھے۔۔۔

نشیب دنیا کے اے اسیرو۔۔۔

فراز تم کو بلا رہا ھے۔ *

اس کاروائی میں مسلسل پانچ دن رات لگاتار لگے تھے. بہت تھکاوٹ ہو گئی تھی. اتنی کہ بستر پر پڑتے ہی نیند آ جائے. لیکن حمزه نے مرکز پہنچتے ہی شب سے پہلے اپنا سیل فون ڈھونڈا اور آن کیا. خولہ یقیناً اسکی طرف سے خبر کی منتظر ہو گی. حمزه کو معلوم تھا کہ وه بہادر تو بہت بنتی تھی پر دل ہی دل میں سخت فکرمند بھی رہتی تھی.

فون اٹھایا اور کال ملا دی.

*

خولہ ابھی ابھی تہجد پڑھ کر فارغ ہوئی تھی.
اپنے شوہر کے لیے دعائیں کر رہی تھی. دشمن کو شکست دینے کی. مجاہدین کے خیر و عافیت سے لوٹ آنے کی. اپنی اور اپنے زوج کی اکٹھے شہادت پانے کی.
گڑا گڑا کر سجدے میں روتی رہی کہ یا الله یہ سفر تیرے لیے شروع کیا تھا. اس ظلم کی دنیا میں صرف تیری راه میں شہادت کی آس سے جی رہی ہوں. الله پلیز شہادت ہی دینا, عام موت نہیں.
یا رب جب بھی عام موت کا سوچتی ہوں سانس رکنے لگتی ہے. دل بند ہونے لگتا ہے. یا الله مرنا تو ہے ہی اک دن , اس دن کو شہادت کے اعزاز سے خوشگوار بنا دے…

روتے روتے ہچکی بندھ گئی. دعا مکمل کر کے اٹھی اور ایک بار بھر فون دیکھا.
پانچ دنوں میں کروڑ دفعہ تو سیل فون دیکھتی تھی. پتا بھی تھا کہ هانچ دن کہا ہے تا پانچ ہی لگیں گے. پھر بھی جانے کیوں بار بار قدم فون تک لے آتے تھے.
خولہ سوچتی تھی شہیداء کی بیواؤں کا حال ہوتا ہو گا. شہید تو جنتوں میں چلا جاتا ہے. خوشگوار زندگی جی رہا ہوتا ہے, پر اصل امتحان تو عورت جھیل رہی ہوتی ہے. اسکے بچے ایک ماں اور باپ دونوں بن کر پالنے کو دوڑ دھوپ کر رہی ہوتی ہے. اسکے درجات کتنے بلند ہوں گے. کس قدر صبر و استقامت !!
اور دنیا والے کہتے تھے عورت کمزور ہوتی ہے. کتنا غلط تھی یہ دنیا.

خولہ سوچ میں گم تھی کہ فون کی گھنٹی بجی.

دل بیٹھ سا گیا. الله پلیز خیر کی خبر ہو, پلیز ابھی ٹھیک ہوں وه. ہمیں ساتھ شہید کرنا.

کال اٹینڈ کی.
حمزه کی وہی مانوس سی, زندگی سے بھرپور آواز, “السلام علیکم

خولہ کی روح کو سکون پہنچا. بمشکل زبان سے سلام کا جواب نکالا, “وعلیکم السلام..
کیسے ہیں آپ..؟”

الفاظ ادھورے چھوڑ دیے. پوچھنے کی ہمت نہ تھی کہ گولی شولی تو نہیں لگی..
الله نے محبت اس قدر دل میں ڈال دی تھی کہ درد حمزه کو ہو تا تکلیف خولہ کو ہوتی تھی. دوسری جانب بھی یہی حال تھے.

جواب حمزه نے شاعری کی صورت دیا,
” کوئی دیوانہ کہتا ہے ,کوئی پاگل سمجھتا ہے

مگر دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے

میں تجھ سے دور کیسا ہوں, تو مجھ سے دور کیسی ہے

یہ میرا دل سمجھتا ہے ,یا تیرا دل سمجھتا ہے

یہاں سب لوگ کہتے ہیں, میری آنکھوں میں آنسو ہیں

جو تُو سمجھے تو موتی ہیں, جو نہ سمجھے تو پانی ہے”

خولہ شرماتے ہوے مسکرا دی. کچھ کہنے کی ہمت ہی نہ ہوئی. لفظ ہی گم ہو گئے تھے. وه ہمیشہ اسے لاجواب کر دیتا تھا.

“کیوں میڈم.. آپ کچھ نہیں کہیں گی؟؟
ہائے یہ یک طرفہ محبت !!

“کتابوں سے دلیلیں دوں, یا خود کو سامنے رکھ دوں

وه مجھ سے پوچھ بیٹھا ہے محبت کس کو کہتے ہیں”, خولہ نے بھی شاعری کا جواب شاعری سے ہی دیا.

“واه جی, آپ تو بڑی چھپی رستم نکلیں”, حمزه خولہ کے جواب پر محضوظ ہوا تھا. اسے بلوانا ہی تو چاہتا تھا. لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ خولہ کو اسکی یہ عادت کس قدر پسند تھی.

* * * * *

سب جانب افراتفری پھیلی ہوئی تھی. عراق و شام پر دشمن نے پہلے سے بھی زیاده زور و شور سے حملہ شروع کر دیا تھا. امریکہ , روس اور کتنے ہی اور ممالک بھی انکا ساتھ دیے بمباری پر بمباری کر رہے تھے. عام شہریوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا. ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا تھا.
گھروں کے گھر تباه ہو گئے تھے.
اوپر سے یہ رافضی شیعہ..
جو علاقہ بھی ہاتھ آتا, تباه و برباد کر کے رکھ دیتے. ان کی جیلوں میں قید مسلم مرد و عورتیں ان کے ظلم و تشدد کا وه نشانہ بنتے کہ شاید شیطان بھی دیکھے تو پناه مانگے.

کوئی غم گسار نہ تھا. اپنی مدد آپ والا ہی کام تھا. امت تو غیروں کی طرح تماشائی بن کر بیٹھی تھی.

کوئی اس سوئی مسلم قوم سے بھی یہ سوال کرتا:

* تُو ادھر ادھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں. تیری رہبری کا سوال ہے *

الله کے نبیؐ کی حدیث آج کتنی سچ ثابت ہو رہی تھی:

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

” قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں “ تو ایک کہنے والے نے کہا : کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے ، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے ، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا ، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا “ تو ایک کہنے والے نے کہا : اللہ کے رسول ! «وہن» کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے “ ۔

(ابو داؤد)

*

خولہ زخمی مجاہدین اور عام مسلمان شہریوں کی مرہم پٹی کر رہی تھی. ساتھ ساتھ زبان پر ذکر.
عجیب افراتفری تھی. قیامت کا سماں.

مجاہدین کی ایک فوج وہیں موجود تھی. دشمن کے اٹیک پر جوابی کاروائی کرتے. یہ تھا بھی مجاہدین کی اکثریت کا علاقہ..
حمزه , عثمان اور خولہ کے دادا بھی مجاہدین کے گروپ میں کہیں قریب ہی لڑ رہے تھے. پر خولہ کو صحیح اندازا نہیں تھا کہ وه تینوں کس طرف تھے.

بھاگ بھاگ کر سڑکوں پر ہی ہسپتال کے عملے کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ دے رہی تھی کہ اچانک ایک نوجوان پر نظر پڑی جو کچھ دور درد سے کراه رہا تھا. اور باآواز بلند الله کا ذکر کر رہا تھا.
شرٹ خون و خون.
شاید چند لمحوں کا مہمان تھا.
خولہ نے ذرا غور سے دیکھا تو پیروں تلے زمین نہ رہی. “حمزه.. !!”, بے اختیار دل درد سے پکار اٹھا.
دوڑتی ہوئی گرتی پڑتی اپنے شوہر کے پاس پہنچی. راستے میں کتنے دھکے اور ٹھوکریں لگیں خولہ کو کچھ خبر نہ تھی.

“حمزه..”, خولہ لرزتے جسم سے روئے جا رہی تھی. اپنے شوہر کا چہره ہاتھوں میں لیے..
بس اسکا نام پکارے جا رہی تھی. آنکھیں دریا بہا رہی تھیں لیکن لب پر چیخ و پکار نہیں تھی. بس لرزتی آواز سے اسکا نام.. ہلکا ہلکا. خولہ کے ہاتھ اور کپڑے حمزه کے خون سے رنگ چکے تھے, پر اس وقت اسے کوئی پرواه نہیں تھی.

حمزه نے ڈوبتی آنکھوں سے اپنی محبت کرنے والی بیوی, اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کی جانب دیکھا اور کمزور سا مسکرایا, “خولہ..”. اور اپنے ہاتھ خولہ کی ہتھیلیوں پر رکھ دیے, جو کہ پہلے ہی حمزه کے چہرے کو پیار سے تھامے ہوے تھیں.

“آپ نے تو کہا تھا ہم اکٹھے جائیں گے..”, خولہ اب سمندر بہانے لگی تھی. آواز نہیں نکل رہی تھی. جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی…

“ان شاء الله , اکٹھے ہی جائیں گے خولہ, الله سے اچھی امید رکھتے ہیں..”, حمزه ٹوٹتی ہمت سے بمشکل بولا.

کس قدر توکل تھا اسے اپنے رب پر. اس کمزور لمحے میں بھی کتنی ایمان افروز گفتگو کر رہا تھا..

خولہ نے اثبات میں سر ہلایا اور روتے روتے حمزه کے سینے پر سر ٹکا دیا.
خون اب خولہ کے چہرے پر بھی لگ گیا تھا. وه اسی کے ساتھ شہید ہونا چاہتی تھی. الله اکٹھے شہادت دینا, تجھ سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوئی. آج بھی سن لے , جیسے ہمیشہ سنتا آیا ہے.

حمزه اب کلمۂ شہادت پڑھ رہا تھا. خولہ بھی ساتھ ساتھ دہرانے لگی.
اسے آخری لمحے تک اپنے رب سے اچھی امید ہی رکھنی تھی.

پلک جھپکنے میں ایک بم آ کر گرا اور وہاں موجود سب کو اپنی لپیٹ میں لیا.

حمزه, خولہ, عثمان, خولہ کے دادا جی — سب شہید ہو گئے تھے.

فضا میں اس قدر تیز خوشبو پھیلی کہ گویا کسی نے جنت سے کوئی بہت بڑی عطر کی شیشی کھول کر الٹا دی ہو.
خولہ , حمزه اور سب شہداء کے لیے جنت کے فرشتے آئے ہوے تھے..
جنت کا خوبصورت لباس لیے..
نگاہوں کے سامنے جنت کا بڑا سا انتہائی درجے کا خوبصورت محل, انکا گھر انھیں دکھایا جا رہا تھا. ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں دکھ رہی تھیں. وه کہاں تھی. یہ کیا ہو رہا تھا. کیا کوئی خواب تھا یا واقعی حقیقت. اف وه آزاد ہو گئی تھی. آزاد. .دنیا کے غموں سے آزاد..
اور وه بھی ہمیشہ کے لیے؟؟
سبحان الله, خولہ اور سب کو اب الله سے سپیشل ملاقات کے لیے آسمان کی جانب لے جایا جا رہا تھا. اعزاز میں فرشتے اس قدر احترام سے دیکھ رہے تھے. اس دنیا میں جیسے وه تو کسی کو نہیں جانتے تھے, پر سب انکو جانتے تھے.

آخر کار ان سعید روحوں نے اپنے رب سے اپنا وعده سچ کر دکھایا تھا. اب ان کی رہائش گاه ہمیشہ کی جنت تھی. جس میں وه زنده ره کر, قیامت سے پہلے ہی عیش کرنے والے تھے. جہاں انکا رب ان سے راضی تھا اور وه اپنے محبت کرنے والے رب سے.

* دنیا سے جی چُرا کر، عقبٰی سے دل لگا کر
اپنوں سے دور جاکر، خونِ جگر جلا کر
ہم دے چلے جہاں میں ،توحید کی گواہی
ہم آخرت کے راہی

طارق کی پیروی میں، پس قدمیاں بھلا کر
کودے تھے ساحلوں پر، ہم کشتیاں جلا کر
بےنور گھاٹیوں کی ہم سے چھَٹی سیاہی
ہم آخر ت کے راہی

رب سے کیا تھا وعدہ، جنت کا تھا ارادہ
مرنے کی جستجو تھی، جینے سے بھی زیادہ
تثلیث کی صفوں میں ہم سے مچی تباہی
ہم آخرت کے راہی

حاصل جمہوریت کا ، انسان کی ترقی
ارواح کا تنزل، ابدان کی ترقی
ہم چاہ تو سکتے تھے، لیکن ہم نے نہ چاہی
ہم آخرت کے راہی

اک شہرِ بے امان میں مسکن رہا ہمارا
بے خانماں سہی پر، ہم ناں تھے بے سہارا
ہوتے نہیں ہیں تنہا اللہ کے سپاہی
ہم آخرت کے راہی

پہلے بھی اُٹھے طوفاں ان یورپی ندیوں سے
جنگِ صلیب جاری ہے آج بھی صدیوں سے
افغان سے بھی لیکن جُھوٹی نہ کج کلاہی
ہم آخرت کے راہی

عشرت سے کیسے گزرے، جب دیں پہ آنچ آئے
یہ سر ہوں دوش پر ہوں، یہ جان کیو ں نہ جائے
حق جانچتا ہے کس نے وفا نبھائی
ہم آخرت کے راہی

ہم رحمتِ جہاں ﷺ کے پیروہوں، نرم خو ہوں
نفرت کے دشت وبن میں اُلفت کی جستجو میں
ہم، اُمتِ نبیﷺ پر ہوں رحمتِ الہٰی
ہم آخرت کے راہی

جس جا کہے شریعت ہم سر بکف وہاں ہوں
حق روک دے جو لیکن رک جائیں ہم جہاں ہوں
ہم کو نہ ہو گوارا، اسلام کی تباہی
ہم آخرت کے راہی *

🔴 ختم شد 🔴

حقیقی دھوکہ

question-mark-post-it-730x456

دھوکہ ہوتا کیا ہے ؟ یہ کہ دنیاوی فائدے کے لیے کسی کو عارضی طور پر پریشان کرنا اور اپنا فائدہ کر لینا ۔
یا یہ کہ کسی کو تھوڑی اور عارضی سے پریشانی مں مبتلا کر کے خود ہمیشہ کا عذاب بھگتنا ۔
اب دھوکہ دینے والا خود ہی فیصلہ کرے کہ حقیقی دھوکہ کون کھا رہا ہے ۔
 
اور کسی کی خیر کا طالب ہو کر اللہ سے خیر پانا کیا گھاٹے کا سودا ہے ۔
فیصلہ ہم پر ہے ۔
 
جو بوؤگے وہی کاٹو گے ۔
جو دوسروں کے لیے خیر مانگے گا خود بھی خیر پائے گا جو دوسروں کا نقصان چاہے گا ازلی نقصان کا سزا وار ہوگا۔
 
اللہ تعالیٰ ہم سب کو آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین
منقول

کمال

22539973_1558501790839134_809332515498464246_n

فرشتے وہ مخلوق جن کے اندر برائی کی صلاحیت ہی نہیں ،وہ اگر تقوی اختیار کریں تو کمال نہیں،کمال تو یہ ہے کہ برائی کی صلاحیت ہو اور اللہ کے ڈر سے رک جائیں۔آنکھیں ہی نا ہوں، اور اگر کسی غیر محرم کی طرف وہ نہیں دیکھتا تو کمال نہیں، کمال یہ ہے کہ آنکھیں بھی ہیں سامنے دیکھنے کے لئے ناجائز منظر بھی ہے،لیکن اللہ کے خوف سے آنکھوں کو جھکا لیتا ہے۔
 
مولانا اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ
(آڈیو درسِ قرآن سے لیا گیا ہے)