زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر

حرم کی مقدس فضاؤں میں گم ہوں
میں جنت کی ٹھنڈی ہواؤں میں گم ہوں

میں بے گانہ ہوکر ہر اک ماسوا سے
بس اک آشنا کی وفاؤں میں گم ہوں

زبانیں جہاں گنگ ہیں ، لفظ ششدر
تحیر کی ایسی فضاؤں میں گم ہوں

میں کعبے کے بے آب و رنگ پتھروں سے
کرم کی امڈتی گھٹاؤں میں گم ہوں

کبھی سنگِ اسود کی کرنوں سے حیراں
کبھی ملتزم کی دعاؤں میں گم ہوں

مقفل ہے در ، لٹ رہے ہیں خزانے
عطا کی نرالی اداؤں میں گم ہوں

ہر اک دل سے ظلمت کے دل چھٹ رہے ہیں
غلافِ سیہ کی ضیاؤں میں گم ہوں

جو میرے گناہوں کو بھی دھو رہی ہے
میں رحمت کی ان انتہاؤں میں گم ہوں

یہ میزابِ رحمت پہ پُر درد نالے
فلک سے برستی عطاؤں میں گم ہوں

یہ زمزم کے چشمے ، یہ پیاسوں کے جمگھٹ
زمیں سے ابلتی شفاؤں میں گم ہوں

جو اس آستاں کے لگاتے ہیں پھیرے
میں ان کے جنوں کی اداؤں میں گم ہوں

کھڑے ہیں بھکاری ترے در کو تھامے
میں ان کی بلکتی صداؤں میں گم ہوں

یہ سینے سے اٹھتی ندامت کی آہیں
میں ان دردِ دل کی دواؤں میں گم ہوں

یہ کعبے کے درباں ، یہ نازوں کے پالے
میں ان کی پیاری جفاؤں میں گم ہوں

تصور میں یادوں کی محفل سجی ہے
تخیل کی دلکش خلاؤں میں گم ہوں

ابھی شرحِ الفت کی منزل کہاں ہے
ابھی تو تقی! ابتداؤں میں گم ہوں

کلام
مفتی تقی عثمانی ​
Advertisements

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ
آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا

سرگشتہ و درماندہ ۔۔۔ بے ہمت و ناکارہ
وارفتہ و سرگرداں۔۔ بے مایہ و بے چارہ
شیطاں کا ستم خوردہ ۔۔ اس نفس کا دکھیارا
ہر سمت سے غفلت کا ۔۔۔ گھیرے ہوئے اندھیارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

جذبات کی موجوں میں ۔۔۔ لفظوں کی زباں گم ہے
عالم ہے تحیر کا ۔۔۔ یارائے بیاں گم ہے
مضمون جو سوچا تھا ۔۔۔ کیا جانے کہاں گم ہے
آنکھوں میں بھی اشکوں کا ۔۔۔ اب نام و نشاں گم ہے
سینے میں سلگتا ہے ۔۔۔ رہ رہ کے اک انگارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ


آیا ہوں ترے در پر ۔۔۔ خاموش نوا لے کر
نیکی سے تہی دامن ۔۔۔ انبارِ خطا لے کر
لیکن تری چوکھٹ سے ۔۔۔ امیدِ سخا لے کر
اعمال کی ظلمت میں ۔۔۔ توبہ کی ضیا لے کر
سینے میں تلاطم ہے ۔۔۔ دل شرم سے صدپارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

امید کا مرگز ہے ۔۔۔ رحمت سے بھرا گھر ہے
اس گھر کا ہر اک ذرہ ۔۔۔ رشکِ مہ و اختر ہے
محروم نہیں کوئی ۔۔۔ جس در سے یہ وہ در ہے
جو اس کا بھکاری ہے ۔۔۔ قسمت کا سکندر ہے
یہ نور کا قلزم ہے ۔۔۔ یہ امن کا فوّارہ

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یہ کعبہ کرشمہ ہے ۔۔۔ یارب تری قدرت کا
ہر لمحہ یہاں جاری ۔۔۔ میزاب ہے رحمت کا
ہر آن برستا ہے ۔۔۔ دھن تیری سخاوت کا
مظہر ہے یہ بندوں سے ۔۔۔ خالق کی محبت کا
اس عالم پستی میں ۔۔۔ عظمت کا یہ چوبارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یارب! مجھے دنیا میں ۔۔۔ جینے کا قرینہ دے
میرے دلِ ویراں کو ۔۔۔ الفت کا خزینہ دے
سیلابِ معاصی میں ۔۔۔ طاعت کا سفینہ دے
ہستی کے اندھیروں کو ۔۔۔ انوارِ مدینہ دے
پھر دہر میں پھیلادے ۔۔۔ ایمان کا اجیارا

دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

یارب میری ہستی پر ۔۔۔ کچھ خاص کرم فرما
بخشے ہوئے بندوں میں ۔۔۔ مجھ کو بھی رقم فرما
بھٹکے ہوئے راہی کا ۔۔۔ رخ سوئے حرم فرما
دنیا کو اطاعت سے ۔۔۔ گلزارِ ارم فرما
کردے میرے ماضی کے ۔۔۔ ہر سانس کا کفارہ

آج اپنی خطاؤں کا ۔۔۔ لادے ہوئے پشتارا
دربار میں حاضر ہے ۔۔۔ اک بندۂ آوارہ

کلام: مفتی تقی عثمانی

کوا چلا ہنس کی چال


نومبر کے شروع میں فیس بک پر ایک اشتہار پر نظر پڑی کہ ” بلیک فرائیڈے پر شاپنگ کریں حیرت انگیز کم قیمت پر“ ۔۔۔ میں نے سوچا کہ یہ بلیک فرائیڈے کیا نئی بلا آگئی اب کس قسم کا یوم سیاہ ہے ۔۔ گوگل سے مدد لی تو معلوم ہوا اس بلا کا ۔۔۔ سو سب سے پہلے مجھے جو پتا چلا اس بارے میں وہ گوش گذار کردوں:
 

اس کے بعد اتفاق سے میرے پاس آج ایک ای میل آئی جس میں اس دن کی پرزور مذمت کی گئی تھی تو میں نے سوچا کہ کچھ اظہار خیال میں بھی کرلوں اس پر۔

تو جیسا کے اس کی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ دن خاص طور پر امریکہ اور کینیڈا میں منایا جاتا ہے بلکہ ان کا “قومی” اور “ثقافتی” تہوار ہے ۔۔۔ مگر نہ جانے ہم کیوں اتنے عقل کے اندھے ہوئے جا رہے ہیں کہ اندھا دھند تقلید کیے جا رہے ہیں ترقی یافتہ کہلانے کے شوق میں ۔۔۔ یہ جانے بغیر کہ ترقی یافتہ بننے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، مخلص ہونا پڑتا ہے اپنے مذہب سے، اپنے ملک سے اور اپنے کام سے مگر ہم صرف ان کے تہواروں کو اپنے معاشرے میں پیوست کرتے جا رہے ہیں ان کا پس منظر جانے بغیراپریل فول ڈے، ویلنٹائین ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے، اور نہ جانے کون کون سے ڈے ۔۔۔ اور کچھ عرصے سے ہالووین (Halloween) ڈے بھی منایا جانے لگا ہے ۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
 
آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا ۔۔۔ ہمارا تو وہ حساب ہو گیا ہے کہ  “کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا”
 
پھر ہم کہتے ہیں اللہ ہم سے ناراض کیوں ہے؟ ذرا سوچئیے!!!
 
سیما آفتاب